Thursday, 26 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Ramzan Transmission Aur Riyasti Zimmedari

Ramzan Transmission Aur Riyasti Zimmedari

رمضان ٹرانسمیشنز اور ریاستی ذمہ داری

رمضان المبارک برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ محض عبادات کا تسلسل نہیں بلکہ کردار سازی، ضبطِ نفس اور معاشرتی تطہیر کا عملی مظہر ہے۔ اس مہینے کی اصل روح انسان کو اپنی ذات کے احتساب اور اپنے رب سے تعلق کی مضبوطی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے ایک سوال شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ کیا ہمارا الیکٹرانک میڈیا اس روح کو تقویت دے رہا ہے یا اسے تجارتی تقاضوں کی نذر کر رہا ہے؟

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ پروگرام مذہبی رنگ لیے ہوتے ہیں، مگر ان کا مجموعی تاثر اکثر تفریح، مسابقت اور اشتہارات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ سحر و افطار ٹرانسمیشنز میں سنجیدہ علمی گفتگو کے بجائے ہلکے پھلکے مقابلے، انعامی سلسلے اور جذباتی مناظر نمایاں ہوتے ہیں۔ دین کی تعلیمات کو بعض اوقات ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے جو زیادہ تر ریٹنگ کے حصول سے ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے۔

رمضان کا پیغام سادگی اور انکسار ہے، لیکن اسکرین پر دکھائی دینے والی چمک دمک اور پرتعیش ماحول اس پیغام سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ افطار کے دسترخوانوں کی نمائش ایک ایسے معاشرے میں سوالات کو جنم دیتی ہے جہاں ایک بڑی تعداد بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ اسی طرح آخری عشرے میں، جو عبادت اور اعتکاف کا خصوصی زمانہ ہے، عید کی خریداری اور فیشن کے موضوعات کو نمایاں کرنا روحِ رمضان سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہاں مسئلہ پروگرام کرنے یا نہ کرنے کا نہیں، بلکہ ترجیحات اور معیار کا ہے۔ میڈیا ایک طاقتور ذریعۂ ابلاغ ہے جو معاشرتی رجحانات کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم کو سنجیدہ اہلِ علم، مستند علماء اور فکری رہنماؤں کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ رمضان کے حقیقی پیغام کو عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 31 کے مطابق ریاست اس امر کی پابند ہے کہ مسلمانوں کو ایسا ماحول فراہم کرے جس میں وہ قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ اس تناظر میں پیمرا اور متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری محض تکنیکی نگرانی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اخلاقی اور سماجی حدود کا تعین بھی ان کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔

تاہم اس بحث کا ایک پہلو ناظرین کی ترجیحات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ میڈیا وہی پیش کرتا ہے جس کی طلب موجود ہو۔ اگر معاشرہ سنجیدہ، مدلل اور باوقار مذہبی گفتگو کو ترجیح دے تو نشریاتی رجحانات میں تبدیلی بعید نہیں۔

رمضان ہمیں اپنی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مہینہ محض ظاہری تبدیلی کا نہیں بلکہ داخلی انقلاب کا تقاضا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا، ریاست اور معاشرہ، تینوں، اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں تاکہ رمضان کی اصل روح محض اسکرین کی زینت بننے کے بجائے عملی زندگی کا حصہ بن سکے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ پیمرا کہاں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ کس سمت کا انتخاب کر رہے ہیں۔

Check Also

Beti Ki Izzat

By Ashfaq Inayat Kahlon