Thursday, 26 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Maah e Muqadas Mein Mehangai Ka Jin Be Qabu

Maah e Muqadas Mein Mehangai Ka Jin Be Qabu

ماہ مقدس میں مہنگائی کا جن بےقابو

رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ کہلاتا ہے۔ یہ وہ بابرکت ایام ہوتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں پر رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور خاص طور پر روزہ داروں پر بے شمار انعامات و برکتیں نازل کی جاتی ہیں۔ یہ عشرہ انسان کے لیے ایک قیمتی متاع کی حیثیت رکھتا ہے، مگر افسوس کہ یہ رحمتوں بھرا عشرہ اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے واقعی ان رحمتوں سے کوئی فائدہ حاصل کیا، کیا اللہ کی نازل کردہ ان برکتوں کا ہماری زندگیوں پر کوئی اثر پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم اس قدر لاپروا اور دین سے دور ہو چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والی رحمتوں کو بھی اپنے حق میں مفید بنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دینی اعمال، بالخصوص معاملات کے باب میں، خطرناک حد تک غفلت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ رمضان المبارک میں ہم کسی نہ کسی حد تک عبادات کا اہتمام کر لیتے ہیں نمازیں پڑھ لیں، روزے رکھ لیے، کبھی تہجد ادا کر لی، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن بھی کر لی لیکن دین کا اصل حسن صرف عبادات تک محدود نہیں۔

جس طرح عبادات ایک مسلمان کے لیے نہایت اہم ہیں، اسی طرح معاملات کا درست ہونا بھی دین میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، بلکہ بعض پہلوؤں سے اس پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ عبادات کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے اور ان میں کمی بیشی پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دیتے ہیں، لیکن معاملات چونکہ بندوں کے حقوق سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ان پر گرفت نہایت سخت ہے۔ حقوق العباد کے معاملے میں اللہ تعالیٰ بھی اس وقت تک معافی عطا نہیں فرماتے جب تک بندہ خود معاف نہ کرے۔

رمضان المبارک ایک مقدس اور بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نہ صرف روحانی اعتبار سے سہولت عطا فرماتے ہیں بلکہ اجر و ثواب کو بھی کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ عبادات، زکوٰۃ، صدقات اور دیگر نیکیوں پر دو چند اجر دیا جاتا ہے۔ دنیاوی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو بہت سے غیر مسلم ممالک میں بھی رمضان کے موقع پر مسلمانوں کو خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں، خصوصاً اشیائے خورد و نوش اور سحری و افطاری میں استعمال ہونے والی چیزوں پر قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں، بلکہ کہیں کہیں یہ اشیا مفت بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

لیکن اگر ہم اپنے ملک پاکستان پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالیں تو صورتحال انتہائی افسوسناک دکھائی دیتی ہے۔ یہاں عام دنوں میں بھی ہمارے معاملات خراب ہوتے ہیں، جہاں ہم دین کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ دھوکہ دہی، فراڈ، ناپ تول میں کمی اور ذخیرہ اندوزی گویا ہماری پہچان بنتی جا رہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں یہ برائیاں کم ہونے کے بجائے دو چند بلکہ چار گنا بڑھ جاتی ہیں، جو یقیناً اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ایک بڑا سبب ہیں۔

گران فروشی نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کی جو پہچان تھی، وہ اب غیر مسلموں نے اپنا لی ہے اور ہم اس حد تک زوال کا شکار ہو چکے ہیں کہ غیروں کی منفی روشیں خود اختیار کر چکے ہیں۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی سحری اور افطاری میں استعمال ہونے والی اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ وہی چیزیں جو رمضان المبارک سے صرف ایک دن پہلے معمولی داموں دستیاب ہوتی ہیں، صرف ایک دن کے فرق سے سونے کے بھاؤ بکنے لگتی ہیں۔

مثال کے طور پر رمضان سے ایک دن قبل کیلے 100روپے میں تین درجن تک دستیاب تھے، مگر رمضان شروع ہوتے ہی وہی کیلے 250 سے 300 روپے فی درجن فروخت ہونے لگے۔ اسی طرح امرود جو پہلے 100 روپے کلو یا کہیں کہیں 100روپے میں ڈیڑھ کلو مل جاتا تھا، رمضان کے آتے ہی 200 روپے کلو تک جا پہنچا۔ ٹماٹر جو روزمرہ استعمال اور افطاری دونوں میں شامل ہوتا ہے، پہلے 100 روپے میں تین سے چار کلو دستیاب تھا، لیکن اب 70 اور 80 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ کینو جو 200 سے 250 روپے درجن ملتا تھا، رمضان شروع ہوتے ہی 350 سے 400 روپے فی درجن بکنے لگا۔ تربوز اور خربوزے کا حال بھی مختلف نہیں، جو پہلے 50 سے100 روپے میں پورادانہ دستیاب تھا، اب صرف رمضان کی وجہ سے 100 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

سونے پر سہاگا یہ کہ اس گراں فروشی اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر کوئی مؤثر کنٹرول موجود نہیں۔ نہ کوئی فوڈ اتھارٹی حرکت میں نظر آتی ہے، نہ پرائس لسٹ کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا محکمہ دکھائی دیتا ہے جو ان معاملات کو قابو میں رکھ سکے۔ ہر شخص اپنی مرضی کا بادشاہ بنا ہوا ہے، جو چاہے، جس قیمت پر چاہے فروخت کر رہا ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں گویارمضان المبارک میں مہنگائی کاجن بےقاہوچکاہے۔

یہ صورتحال عمومی طور پر بھی نہایت تشویشناک اور نقصان دہ ہے اور پھر رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں ایسی حرکات ہمیں ہرگز زیب نہیں دیتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح ہم رمضان میں عبادات کی طرف دوڑ لگاتے ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہمیں اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ناپ تول، قیمتوں کا تعین اور معیاری و درست مال کی فراہمی ن سب معاملات میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔

یہی وہ مہینہ ہے جس میں ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔ پہلا عشرہ جو رحمت کا تھا، تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اب مغفرت کا دوسرا عشرہ شروع ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ مغفرت اسی وقت نصیب ہوگی جب ہمارے اعمال درست ہوں گے اور جب ہم عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے معاملات کو بھی دین کے مطابق ڈھالنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔

Check Also

Social Security Mein Jadeed Islahat

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi