Ijtemai Mashghala
اجتماعی مشغلہ

شادی کے بندھن میں بندھتے وقت دو چہروں پر جو مسکراہٹ ہوتی ہے، وہ محض خوشی کی نہیں ہوتی، اس میں مستقبل کے خواب بھی جھلملاتے ہیں۔ انہی خوابوں میں سب سے پہلا، سب سے نرم اور سب سے مقدس خواب اولاد کا ہوتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی نیا جوڑا رخصت ہوتا ہے تو میرے دل سے بے ساختہ یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صاحبِ اولاد کرے۔ یہ دعا کسی رسم کا حصہ نہیں، یہ اس معاشرتی حقیقت کا اعتراف ہے جس میں ہم سب سانس لے رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد نہ ہونا محض ایک ذاتی مسئلہ نہیں رہتا، یہ پورے خاندان، محلے اور عزیز و اقارب کا "اجتماعی مشغلہ" بن جاتا ہے۔
اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو کسی ایسے جوڑے کے پاس بیٹھ کر دیکھ لیجیے جن کی شادی کو ایک، دو برس گزر چکے ہوں اور جن کی جھولی ابھی خالی ہو۔ وہ صرف اپنی محرومی کا غم نہیں اٹھا رہے ہوتے، وہ لوگوں کے جملوں، سوالوں اور نظروں کے نیچے بھی دبے ہوتے ہیں۔ "شادی کو کتنا عرصہ ہوگیا؟" یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اس کے پیچھے چھپا تجسس زخم بن کر لگتا ہے۔ "ابھی تک بچہ نہیں ہوا؟" یہ جملہ یوں دل پر گرتا ہے جیسے کسی نے دُکھتے زخم پر نمک چھڑک دیا ہو اور پھر ہمدردی کے نام پر وہ آہیں، وہ افسوس، وہ سر ہلانا۔۔ جو انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔
روزمرہ کی محفلوں میں یہ منظر عام ہے۔ شادی کی کسی تقریب میں، کسی دعوت میں، کسی فیملی گیدرنگ میں، وہ جوڑا کسی کونے میں بیٹھا ہوتا ہے اور سوالوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ کسی کو ڈاکٹر یاد آ جاتا ہے، کسی کو کسی عامل کا تعویذ، کسی کو فلاں حکیم کا نسخہ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اولاد دینا اللہ کے اختیار میں ہے اور جو سب سے زیادہ فکر مند ہیں، وہ یہی دو لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی پر یہ سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہوتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ پوچھتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے نہیں۔ پوچھنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ سامنے والا خود کو کٹہرے میں کھڑا محسوس کرتا ہے۔ بعض خواتین و حضرات تو اس قدر بے رحمی سے سوال داغتے ہیں کہ انسان کا دل چاہتا ہے زمین میں دھنس جائے یا دیوار میں سر دے مارے۔ نہ لہجے میں نرمی، نہ بات میں لحاظ۔ جیسے انھیں سامنے والے کے دکھ سے نہیں، اپنی تجسس کی تسکین سے غرض ہو۔
حالانکہ اگر واقعی کسی کو رہنمائی کرنی ہے تو اس کا طریقہ سوال نہیں، دلجوئی ہے۔ پہلے ایک لمحہ رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ یہ بات سامنے والے کے دل پر کیا اثر ڈالے گی۔ خلوص سے دی گئی ہمدردی، خاموش دعا اور احترام بھرا رویہ کہیں زیادہ شفا بخش ہوتا ہے بنسبت ان سوالوں کے جو تیر بن کر لگتے ہیں۔ دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے، مگر دکھ جتانے سے نہیں۔۔ وہ تو بلکہ اور بڑھ جاتا ہے۔
خدارا، بے اولادی کو تماشا نہ بنائیں۔ ہر خالی گود کے پیچھے ایک خاموش دعا، ایک ٹوٹا ہوا خواب اور ایک زخمی دل ہوتا ہے۔ لوگوں کو تھوڑا مارجن دیجیے، انہیں سانس لینے دیجیے۔ ہر وقت اپنا لچ فرائی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کسی کی اولاد ہے یا نہیں، اس سے آپ کو آخر کون سی تکلیف لاحق ہو رہی ہے؟ اگر کچھ نہیں تو کم از کم یہ ضرور کیجیے کہ ان کے زخموں پر نمک نہ چھڑکیے۔ کبھی کبھی سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ ہم خاموش رہنا سیکھ لیں۔

