Ye Ramzan Bhi Guzar Jaye Ga, Magar Hum?
یہ رمضان بھی گزر جائے گا، مگر ہم؟
ہر سال کی طرح یہ رمضان بھی تیزی سے گزر رہا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اکثر مسلمان، جن میں ہم خود بھی شامل ہیں، اس مقدس مہینے کو محض چند ظاہری اعمال تک محدود کر چکے ہیں۔ سحری کرنا، چند گھنٹے بھوکا رہنا، افطاری کرنا اور پھر سو جانا، کیا واقعی یہی رمضان کا مقصد ہے، یا ہم اس کی روح کو کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں؟
کیا اس رمضان میں ہم نے کبھی سچے دل سے اللہ سے ہدایت مانگی؟ کیا ہم نے ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچا کہ ہماری زندگی کس سمت جا رہی ہے اور کیا ہمیں اپنے راستے کو درست کرنے کی ضرورت ہے؟ اور اگر یہ احساس جاگا بھی، تو کیا ہم نے اس کے ساتھ عملی کوشش اور اخلاص کے ساتھ دعا کی، یا پھر سب کچھ وہیں کا وہیں رہ گیا؟
اگر ہمیں واقعی اللہ پر یقین ہے تو پھر ہم اس سے اپنی زندگی کے لیے صحیح راستہ کیوں نہیں مانگتے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم غفلت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ہمیں اللہ کی قربت کی طلب ہی باقی نہیں رہی۔ ہم لوگوں کے خوف سے کبھی نیکی کر لیتے ہیں اور کبھی نیکی کے دکھاوے سے بچنے کے لیے نیکی کو ترک کر دیتے ہیں، حالانکہ نیت کا حساب تو صرف اللہ کے پاس ہے۔
کہا جاتا ہے کہ انسان کی ایک غلط نظر اس کی چالیس دن کی عبادت ضائع کر دیتی ہے، مگر افسوس کہ آج ہم نگاہ کی پاکیزگی کو ہی بھول چکے ہیں۔ ہمیں گناہ صرف وہی محسوس ہوتے ہیں جو دوسرے لوگ کرتے ہیں، جبکہ جو غلطیاں ہم خود کرتے ہیں ان کے لیے ہمارے پاس بے شمار تاویلیں اور جواز موجود ہوتے ہیں، جن سے ہم خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
آج ہم مسلمانوں کو آخر ہو کیا گیا ہے کہ ہم اللہ سے اس قدر دور ہو چکے ہیں؟ ہمیں صرف دنیاوی زندگی کی فکر لاحق ہے اور رب سے ملاقات کی کوئی تڑپ باقی نہیں رہی۔ ہماری سوچ اور ہماری پریشانیاں صرف اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنے نفس کو خوش کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جبکہ اللہ کے لیے ہم نے کبھی حقیقی بے چینی محسوس ہی نہیں کی۔
ہمیں اللہ سے دوری کا کبھی احساس نہیں ہوا، کیونکہ ہمارا اس سے تعلق بس اتنا رہ گیا ہے کہ جب کہیں پھنس جاتے ہیں تو اسی کو پکارتے ہیں۔ اس کی رحمت اور کرم کی انتہا دیکھیے کہ وہ پھر بھی ہماری مدد کرتا ہے، مگر مدد ملتے ہی ہم دوبارہ اپنی دنیا میں کھو جاتے ہیں اور اللہ سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔
اگر یہ رمضان ہمیں نصیب ہو رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اس میں اللہ سے اپنا تعلق اتنا مضبوط کر لیں کہ اس کی رحمت کو محسوس کریں تو آنکھیں نم ہو جائیں، اس کے کرم کا ذکر ہو تو چہرے پر مسکراہٹ آ جائے اور جب مشکل میں اس سے مدد مانگیں تو ضمیر یہ ملامت نہ کرے کہ اللہ صرف مصیبت کے وقت ہی یاد آتا ہے۔
یاد رکھیے، اللہ کوشش کرنے والوں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اخلاص کے ساتھ پہلا قدم اٹھائیں اور اس رمضان کو صرف عبادت کی ایک رسم نہیں بلکہ اپنی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنا لیں۔

