Wali Ullah (13)
ولی اللہ (13)

جناح ہسپتال کا بورڈ نظر آیا تو جیسے آخری امید کی لکیر دکھائی دی۔ میں نے اپنی بچی کھچی طاقت سمیٹی اور تقریباً دوڑتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ ایمرجنسی وارڈ، سفید دیواریں، تیز لائٹس، بے چین آوازیں۔ میں نے نرس سے پوچھا، آواز گلوگیر تھی، سانس اکھڑی ہوئی:
"زہرہ، میری بیوی، وہ کہاں ہے؟"
نرس نے سر اُٹھا کر دیکھا، جیسے میری حالت کو پرکھ رہی ہو۔
"کون سی زہرہ؟ آپ نے کدھر جانا ہے؟"
"میری بیوی یہاں ایمرجنسی میں لائی گئی ہے!" میں تقریباً چیخ پڑا۔
"رکیں، میں چیک کرتی ہوں۔ کیا نام بتایا؟ زہرہ؟ زہرہ جی کہاں ہیں؟ صبر تو کریں، اب کمپیوٹر سے دیکھ کر ہی بتاؤں گی"۔
وہ چند لمحے، جیسے صدیوں پر بھاری تھے۔ پھر اُس نے سر ہلا کر کہا: "یہاں زہرہ نام کا کوئی مریض نہیں آیا"۔
میں اس بھاگم بھاگ میں موبائل بھی کہیں گرا آیا تھا، مگر مجھے زہرہ کا نمبر یاد تھا۔ میں نے وہاں کسی سے درخواست کی: "میری ایک کال کروانے کی، میرا موبائل گر گیا ہے"۔
دو تین بندوں نے تو سنا ہی نہیں، اوپر سے میری حالت ایسی تھی۔ لیکن ایک بندے کو شاید میری بات سچی لگی، اُس نے کال کروا دی۔ دو تین بار کال کی، کال جاتی تھی، کوئی اُٹھاتا نہیں تھا۔ شرجیل کا نمبر بھی یاد نہیں تھا۔ آخر پانچویں مرتبہ فون اُٹھا لیا۔
"شرجیل بھائی، آپ کدھر ہیں؟"
"وہ کہہ رہے ہیں، جناح تو کوئی زہرہ نام کا مریض نہیں آئی!"
"وہ۔۔ میں نام غلط بتا بیٹھا۔ یہ ڈاکٹر ہسپتال ہے۔ ادھر آجاؤ۔ تمہارا موبائل کدھر ہے؟ اِسے کیوں بند کیا ہوا ہے؟"
"میرا موبائل گر گیا ہے، شرجیل بھائی"۔
"جلدی تشریف لے آئیں۔ کتنا ابھی اور ذلیل کرنا ہے ہمیں؟"
شرجیل کے لہجے میں کاٹ نے جیسے مجھے بے وقعت کر دیا تھا۔
میں وہاں سے نکلا۔ تھوڑا ٹھہراؤ سا آ گیا تھا، دل جیسے رُک سا گیا تھا۔ رکشہ نظر آیا۔
"ڈاکٹر ہسپتال جانا ہے"۔
"دو سو لوں گا"۔
شاید میری حالت سے اُسے یقین تھا کہ میں دے نہیں پاؤں گا۔ میری جیب میں پانچ سو تھے، فوراً دے دیے۔
رکشے میں بیٹھے اپنے آپ کو دیکھا تو ہوش آیا۔ یہ کیا حالت بَن گئی تھی! پاؤں ننگے تھے، تھوڑی خراشیں۔ ایسی بھی کیا دیوانگی، ضرغام؟ ہوش کر! صبر کر! تو اللہ کا پیغام دنیا کو سنانے نکلا ہے اور تُجھ میں ہی صبر نہیں۔ صبر اور اللہ سے مدد مانگ! میں اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا۔
ڈاکٹر ہسپتال آیا جا چُکا تھا۔ میں جلدی، لیکن اطمینان سے نکلا۔ رکشے والے کو پتہ نہیں کیا سوجھی۔ "صاحب، بات سنیں!" جاتے مُڑ کر دیکھا۔ "یہ جوتا پہن لیں"۔ اُس نے اپنا جوتا نکال کر مجھے دے دیا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ "صبر کرو بھائی، اللہ آپ کے مریض کو شفا دے گا"۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں گنگ زبان، تیز چل پڑا۔ ہسپتال کے اندر داخل ہی نہیں ہوا تھا کہ شرجیل نظر آ گیا۔ تیزی سے میری طرف آیا، میرا کالر پکڑتے ہوئے، بہن کی گالی دیتے بولا:
"تیری وجہ سے میری بہن مر گئی ہے! ظالم انسان! تیری ضد نے ہماری بہن چھین لی ہے!"
میں تو اپنے آپ سے بیگانہ ہوگیا تھا، جیسے لُٹ گیا تھا۔ زہرہ فوت ہوگئی؟ کیسے ہوگیا؟ اے اللہ! مجھے صبر دے۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
"یہ پکڑ، بچہ! یہ تیرے لیے چھوڑ گئی ہے"۔
ایک خوبصورت سا بچہ۔ نرس نے آگے بڑھ کر مجھے پکڑا دیا۔ یہ بچہ نرم پھول، جو دیکھے بھی میلا ہوتا تھا۔ یہ ابراہیم ہے، زہرہ کا۔ زہرہ تو ہمیں چھوڑ گئی۔ ابھی تو تم سے معافیاں مانگنی تھیں، ابھی تو وعدے کرنے تھے، ابھی تو ساتھ نبھانا تھا۔ اب تو میں نے سدھرنا تھا۔ میں کچھ نہ کر سکا۔ یہ کیسی خوشی تھی، جہاں کوئی خوش ہی نہ تھا۔
"اب اس بچے کو لے کر یہاں سے دفع ہو جا۔ اگر تو ہمیں کہیں نظر بھی آیا تو انجام اچھا نہیں ہوگا"۔
"میں زہرہ کا چہرہ دیکھوں گا۔ تم مجھے روک نہیں سکتے"۔
اتنے میں ایک ایمبولینس آ کر رکی۔ میرے پاس سٹریچر پر ایک لاش لائی جا رہی تھی۔ ابھی اندر رکھنے لگے تھے، شرجیل بولا: "ایک بار چہرہ کھول دو، دیکھنے دے اِسے"۔
وہ زہرہ تھی۔ جیسے سوئی ہو۔
"بس، اب اُدھر رہو۔ یہاں تماشہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہم بہت ذلیل ہو چکے تیری وجہ سے۔ اب ہماری روحوں کو سکون کرنے دو"۔
چہرہ کیا بند ہوا، جیسے دنیا ہی بند ہوگئی۔
میں ابراہیم کو لے کر ساتھ پڑی لوہے کی انتظار والی چیئر پر بیٹھک گیا۔ شرجیل بھی وہاں سے نکل گیا تھا۔ میں وہاں ایک گھنٹہ سے زیادہ بیٹھا رہا، دنیا سے گم۔ نہ جانے کیا کچھ میرے اوپر گزر گیا اِس عرصے میں۔ ابراہیم۔۔ یہ نام زہرہ اور میں نے سوچا تھا۔ ہم نے کیا کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا تھا۔ سوچا، اب کیا بچا؟ گھر جاتا ہوں۔
باہر گیٹ تک آتے ہوئے میں بچے کو دیکھتا تو سکون آتا تھا، مگر دکھ بھی۔ آنسو تو رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ یہ تو نہیں سوچا تھا، زہرہ۔ بچہ تو آپ نے اُٹھانا تھا، میں نے تو ساتھ چلنا تھا۔
باہر ایک کار کرائے پر لی اور بابا گھر کا پتہ دیا کار والے کو۔ اب اِس کرائے کی اینٹوں میں کیا تھا، جب وہاں کا میکن ہی گزر گیا۔ راستے میں ابراہیم نے رونا شروع کر دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی، اِسے کیسے چپ کرواؤں۔ پتہ نہیں، بھوک لگی تھی۔ نرس نے پاس کچھ رکھا تھا، میرے خیال میں دودھ تھا۔ میں وہیں بھول آیا تھا۔ خیر، میرا محلہ آ گیا۔ گاڑی ہماری گلی میں مڑی تو جیسے سب کچھ ہی لُٹ گیا ہو۔ سارا بچپن گزر گیا آنکھوں کے سامنے۔ گلیاں جیسے پوچھتی ہوں: لوٹ آئے ہو، اے بچھڑے مسافر؟ ہاں، لوٹ آیا ہوں، مگر سب کچھ لُٹا کر۔
گاڑی گھر کے سامنے رکی تو ایسے لگا، میں انجان مسافر، راستہ ہی بھول آیا ہوں۔
"ضرغام چاچو!"میرا بھتیجا جلدی گاڑی کے پاس آیا، پھر گھر کی طرف بھاگا۔ میں نے اتر کر گاڑی والے کو پیسے دیے۔ تو فوراً طاہر بھائی اور ابو-امی نکلے۔ بھابھی گیٹ کے اندر کھڑی، باہر دیکھ رہی تھی، جیسے میرے انتظار میں ہوں۔ جیسے وہ تو سب جانتے تھے۔
امی نے جلدی ابراہیم کو مجھ سے لیا۔ "بیٹا، ہم نے تجھے اتنے فون کیے، تیرا موبائل کدھر ہے؟"
ابو بولے۔۔ میں تو ابو کے گلے لگ گیا۔ آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی تو رکی ہی نہیں تھی۔ بابا مجھے پکڑ کر گھر لے آئے۔ امی بھی رو رہی تھیں۔ ابراہیم نے رونا شروع کر دیا تھا، سب کو اُس کی پڑ گئی۔ بھابھی اور امی اُس کے دودھ کا دیکھنے لگیں۔ طاہر بھائی نے ایک بچوں کے ڈاکٹر سے نومولود کے دودھ کا پتہ کیا اور لینے چلے گئے۔ ساتھ احسان بھائی اور اُن کی بیوی بھی آ گئیں۔
بابا بولے: "زہرہ کے بھائی شرجیل کا فون آیا تھا، بہت غصے میں کال تھا۔ کہہ رہا تھا، میری بہن کا قاتل ضرغام ہے۔ اگر تم لوگ ہمارے گھر آئے تو لڑائی ہو جائے گی۔ کوئی زہرہ کا منہ دیکھنے نہ آئے اور نہ جنازے پر"۔
احسان کا غصہ آسمانوں پر پہنچ چکا تھا۔ "وہ ہوتا کون ہے ایسے بولنے والا؟ ہم جائیں گے، دیکھتے ہیں کیسے روکتا ہے! وہ آیا بڑا بدمعاش!"
ابو بولے: "صبر سے کام لو۔ طاہر آتا ہے تو بات کرتے ہیں۔ قصور ہمارا ہے، اُن کا نہیں۔ بچی حمل میں گھر اکیلی تھی، اللہ جانے کس تکلیف سے گزری ہوگی۔ پھر دو تین سال اِس کی زندگی ضرغام نے اجیرن بنائے رکھی۔ بیٹی دھکے کھانے کو تھوڑی دی تھی ہمیں۔ میاں عظیم ایک اچھا انسان ہے، پر ضرغام کی ضد نے میری دوستی بھی کھالی"۔
میں سر جھکائے شرمندہ بیٹھا تھا۔ "بابا، قصور میرا ہے۔ مجھے آپ لوگوں کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ زہرہ کو اُس گھر رکھنا چاہیے تھا، جہاں ہر وقت کوئی اُس کے پاس ہوتا"۔
"نہیں بیٹا، ہم تو بیوقوف ہیں، آپ تو سمجھدار ہو"۔
"بابا، ایسی بات نہیں"۔
"اور کیسی بات ہے؟ تمہیں میاں عظیم نے بھی کہا، زہرہ کو ہمارے پاس بھیج دو، تو وہاں بھی تمہاری انا اڑی آئی"۔
"زہرہ میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی، وہاں جانے سے میں نے نہیں روکا تھا"۔
"وہ تو بچی تھی۔ عقل کے سردار تو تم تھے"۔
"اچھا قاسم صاحب، اب کیوں پریشان کر رہے ہو ضرغام کو؟ میرا بیٹا پہلے ہی کس کرب سے گزرا ہے"۔ امی بولی
اتنے میں طاہر بھائی آ گئے، دودھ لینے گئے تھے ابراہیم کا۔ طاہر بھائی سے شرجیل کے متعلق بات کی ابو نے۔ تو وہ بولے: "ہمیں پہلے ہسپتال سے تصدیق کر لینی چاہیے۔ اگر واقعی اُس کی موت ہوئی ہے تو خاموشی سے گھر ہی آ جانا چاہیے۔ اُن کے جذبات واقعی بہت گرم ہوں گے۔ اگر وہ صرف زہرہ کو ضرغام سے دور کرنا چاہتے، تو وہ تو ممکن نہیں ہے۔ اتنی بھی اندھیر نگری نہیں"۔
یہ بات تو میرے ذہن میں نہیں آئی تھی۔ میں فوراً کھڑا ہوگیا۔ "چلیں طاہر بھائی، ہسپتال چلتے ہیں"۔ جیسے مجھ سے انتظار اب زندگی کا مشکل کام تھا۔
"رکو، میں پہلے ہسپتال کے ایک مینجر سے بات کر لوں۔ وہ انتظامیہ میں ہے، دوست کا بھائی ہے۔ اُس کے ذریعے ملتے ہیں"۔
ہم ہسپتال پہنچے۔ عاقب صاحب وہاں مینجر تھے۔ اُن کے ساتھ ہم نے سارا ڈیٹا دیکھا۔ ڈیٹا میں تو موت لکھی تھی: خون زیادہ بہنے کی وجہ سے۔ آپریٹ کرنے والی نرس اور ڈاکٹر سے ملاقات بھی کروائی۔ ڈاکٹر نے بتایا: "خاتون جب لائی گئیں تھیں تو وہ بہت مشکل حالت میں تھیں۔ پتہ چلا، گھر کی صفائی کرتے فرش پر گر گئی تھیں، لیکن سائیڈ پر گری تھیں تو بچ گئیں۔ لیکن آپریشن کے دوران خون بہت ضائع ہوگیا۔ خون تو اُن کے بھائی نے مینج کر لیا تھا۔ بچہ تو سلامت تھا، مگر اُن کو ہم بچا نہیں سکے"۔
"کیا جب وہ لائی گئیں، خون نکل رہا تھا؟" طاہر بھائی نے پوچھا۔
"نہیں، اُن کی رحم کے اندر شریان پھٹی تھی، جس کی وجہ سے خون اندر بہہ گیا تھا۔ جب وہ لائی گئیں تو ہم نے فوراً خون لگایا، لیکن ایسے موقعوں پر اکثر دل، دماغ اور خون جمنے کا نظام کام نہیں کرتا۔ سپورٹنگ سسٹم اچانک بِریک ڈاؤن ہو جاتا ہے۔ لیکن بچہ تو محفوظ ہے"۔
عاقب صاحب بولے: "بچے کا سپورٹ سسٹم ماں سے الگ ہوتا ہے اور ماں کا جسم بھی بچے کو سپورٹ کر رہا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی ہے، اِس لیے بچہ کچھ دیر سروائیو کر جاتا ہے۔ ہم نے بچہ فوراً نکال لیا تھا"۔
"عاقب صاحب، اللہ کے کام ہیں۔ جب وقت آ جائے تو بس بہانہ بنتا ہے"۔ ڈاکٹر صاحب بولے۔
میرے اندر تو اب سکت ہی نہیں تھی۔
***
بابا میں اپنا سارا کاروبار اب کینیڈا شفٹ کررہا ہوں پاکستان کے حالات نہیں سدھرنے والے بلکہ دن بدن تباہی کی طرف ہی جائیں گے۔ شرجیل بیٹا بات تو تمہاری ٹھیک ہے بابا بولے زہرہ کا فون آرہا ہے ہیلو کیا میں آتا ہے امی زہرہ بلا رہی میں آتا ہوں خیریت بیٹا کوئی خوشخبری تو نہیں۔ بیٹا ہمیں بتا دینا جاتے ہم فوراََ آجائیں گے۔ مجھے گاڑی کی طرف جاتے امی کی آواز آئی۔ جی ٹھیک ہے۔ جو بھی بچہ آئے گا ضرغام کی طرح شدت پسند ہوگا۔ جو اس مشکل وقت میں اپنی سیاست کے چکر خوار ہورہا ہے، میں نے گاڑی نکالتے ہوئے سوچا۔
میں نے جیسے دروازہ کھٹکھٹایا دروازہ خود ہی کھل گیا تھا دروازے کے ساتھ والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے زہرہ مشکل سے سانس لے رہی تھی۔ او میری بہن او میری پیاری بہن۔ زہرہ کی بیچارگی کی یہ حالت دیکھ کر اگر ضرغام میرے سامنے ہوتا تو شاید جان سے مار دیتا اسے۔ بہرحال زہرہ کو سہارا دے کر گاڑی بٹھایا زہرہ رستے میں بھی اسی دماغی مریض کو کالز کرے جا رہے تھی جو کہہ رہا تھا میں بس آ رہا ہوں پہنچ رہا ہوں۔ میں نے زہرہ سے موبائل پکڑ لیا۔ زہرہ ایسا بھی کیا ہے اپنا آپ ہی برباد کرلیا۔ ایسا نہیں شرجیل میں صبح ٹھیک تھی ضرغام نے آنا تھا ہم نے شام کو ڈاکٹر کے پاس جانا تھا مگر میں فرش صاف کرتے ہوئے گر گئی تھی۔
میں جانتا ہوں میری جان لیکن وہ نہیں آئے گا تمہیں بتایا نہ کہ ان رستوں کے مسافر کبھی لوٹ کر نہیں آتے یہ عقیدہ کی جنگیں ہیں تمہارا مقدر اس میں رلنا ہے۔ نکل آو اس کیفیت سے دنیا میں بہت کچھ ہے زہرہ کا چہرہ دیکھ دیکھ کر مجھے غصے کے ابال آ رہے تھے ہسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹر نے خون کا انتظام کرلو۔ فوراََ آپریٹ کرنا پڑے گا آپکی بہن کی طبیعت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر صاحب میرے پاس بہت خون ہے۔ مجھے میری بہن کا خون لگے گا ہمارا ایک ہی گروپ ہے آپ آپریٹ کریں۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ اب میں نے کیا کرنا تھا۔
جاری ہے۔۔

