Saturday, 10 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Khamosh Hath

Khamosh Hath

خاموش ہاتھ

گذشتہ دنوں ایک عزیز کی وفات پر لاہور جانا پڑا تو معلوم ہواکہ اب زندہ رہنا ہی نہیں مرنا بھی بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ کیونکہ بڑے شہروں میں قبرستان میں جگہ بہت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ جس سے دفنانے کے لیے چند فٹ زمین کی دستیابی بھی مشکل ہو چکی ہے۔ اس لیے قبرستانوں کے گورکن، مافیا اور نجی افراد بھی من مانی قیمت وصول کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ایک قبر کا خرچہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ اپنے عزیزوں کو دور دراز کے قبرستانوں میں دفنانے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں یہ قبر کے اخراجات کم ازکم پچاس ہزار تک جا پہنچے ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ تدفین صرف قبر کا خرچہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ کئی دیگر خرچ بھی تدفین میں شامل ہوتے ہیں جیسے متعلقہ خدمات، غسل و کفن کا سامان، میت کی ٹرانسپورٹ کا خرچہ، پھول، رسوم، سوئم وغیرہ یہ سب مل کر ہماری معیشت میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ بڑھ رہے ہیں جس سے عام خاندانوں پر بڑا مالی بوجھ پڑتا ہے۔ جو ایک غریب انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی باتیں سنکر مجھے اپنا شہر ڈیرہ نواب صاحب یاد آگیا۔ جہاں یہ خدمات بلا معاوضہ انجام دینے والی ٹیمیں موجود رہتی ہیں۔ یہ خوف خدا ہی ہے جو ان لوگوں کو ایسی خدمات کے لیے آمادہ اور تیار رکھتا ہے۔

ڈیرہ نواب صاحب کی ایک چھوٹی سی آبادی زیادہ تر نواب امیرآف بہاولپور کے ملازمین پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ چند ہزار باشندوں کی آبادی میں ہر قوم، رنگ ونسل، زبان، مذہب اور روایات کے حامل افرادبڑی دور دور سے یہاں اپنے خوبصورت مستقبل اور اچھی زندگی کے لیے آتے اور پھر یہاں مٹی کی محبت میں ایسےاسیر ہوتے کہ گھل مل کر یہیں کے ہو کر رہ جاتے جیسے وہ صدیوں سے یہیں کے باشندے ہیں۔ سرائیکی، بنگالی، پنجابی، مہاجر، پشتون، بلوچ، سندھی غرض کونسی قوم ایسی تھی جو یہاں نوکری کی غرض سے آئی اور پھر یہی کی ہوکر رہ گئی۔ مسلمان، ہندو، عیسائی سب آپس میں یوں شیروشکر شاید ہی دنیا میں کہیں آباد ہونگے۔ یہاں ہر تہوار، عیدیں، کرسمس، دیوالی اور ہولی سب مل کر مناتے تھے۔ ہر مسلک کی آبادی کا باہمی اور مثالی پیار یہاں کی پہچان بن کر لوگوں کو یہاں آنے اور رہنے کی دعوت دیتا تھا۔

یہاں محرم، عید میلاد النبی اور مذہبی اجتماعات سب کے سانجے اور مشترکہ ہوا کرتے تھے۔ یہاں کی زبان میں محبت، مٹھاس اور لہجے میں اپنائت سب کا دل موہ لیتی تھی۔ یہاں کی خوشیاں اور غم بھی سب مشترکہ ہوتے تھے۔ شادی میں جھومر ڈالنے کے لیے کسی کو بلانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور خدانخواستہ ہر موت کا دکھ آج بھی مل جل کر برداشت کیا جاتا ہے۔ یہاں کے قبرستانوں میں کوئی مستقل گورکن نہیں ہوتا یہاں کے گھروں کی طرح قبرستان بھی سب کے سانجے ہوتے ہیں اور ان کی خبر گیری بھی مل جل کی جاتی ہے۔ یہاں ہندوں کا قبرستان اور مسلمانوں کا قبرستان ہم دیوار آج بھی موجود ہیں۔ محرم کی نو اور دس تاریخ کو پورے قبرستان کی صفائی اور دیکھ بھال بلا تفریق کیجاتی ہے۔ دور دراز سے آنے والے لوگ صرف اپنوں کی قبروں کی لپائی نہیں کرتے بلکہ ہر قبر کی درستگی اور لپائی کو اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ ایک دوسروں کے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کو ثواب سمجھا جاتا ہے۔ ہر قبر پر پھول اور سبزہ ڈالنا روایت بن چکی ہے۔

میرے اباجی جو پاکستان سوشل ایسوسی ایشن پاکستان کے تاحیات صدر بھی تھے۔ ہر سال فلاحی کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بہت سے لوگوں کو ایوارڈز، اسناد اور میڈلز دیا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک فنکشن میں جب انہوں نے ہمارئے ایک غریب محلے دار اور میونسپلٹی کے ملازم منور حسین کو بھی ان کی انسانی، سماجی خدمات کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دیا تو میں نے پوچھا کہ اباجی یہ بھائی منور حسین نے ایسا کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ منورحسین اور اسکی ٹیم کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ یہ اور اسکے ساتھی بلا معاوضہ مرنے والوں کی قبریں ناصرف کھودتے اور بناتے ہیں بلکہ تدفین کرنے کے فرائض بھی خود ادا کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ بڑے عرصے سے چلا آرہا ہے۔

مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ایک ساتھی اور ہمارے محلے دار محمد حیات بھی ان کا ساتھ دیتے چلے آئے ہیں۔ منور حسین کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ سانپ کاٹے اور بچھو کاٹے کا دم بھی کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے بھتیجے توصیف کو بچھو نے کاٹ لیا تو وہ درد سے بے حال ہوگیا۔ درد کی شدت سے چیختے چلاتے بچے کو منور حسین کے پاس لے گئے۔ جس نے ہمارے سامنے دم کیا تو بچہ رونے کی بجائے ہنسنا شروع ہوگیا اور درد ختم ہوگیا۔ منور حسین محلے بھر کا فلاحی ورکر ہے۔ کہیں کوئی خوشی غمی ہو سب سے آگے آگے دکھائی دیتا ہے۔

زندگی کی دوڑ میں کچھ چہرئے ایسے ہوتے ہیں۔ جو نمائیاں نہیں ہوتے مگر ان کا کردار معاشرئے کی بنیادوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ کسی اشتہار کا حصہ بنتے ہیں اور نہ کسی تقریب کے مہمان خصوصی مگر انسان کے سب سے نازک لمحے میں سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے محلوں کے یہ بلامعاوضہ قبریں تیار کرنے والے رضاکار انہی خاموش مگر عظیم انسانوں میں شامل ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ موت کسی بھی گھر میں داخل ہو تو سب کچھ بدل دیتی ہے۔ لفظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ حوصلے جواب دینے لگتے ہیں اور انتظامی الجھنیں دکھ میں اضافہ کردیتی ہیں۔ ایسے میں یہ رضاکار خاموشی سے آگے بڑھتے ہیں۔ نہ وقت دیکھتے اور نہ کچھ پوچھتے ہیں اور نہ موسم کی پرواہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ اور کدال مٹی میں اترتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے انسان کو اس کی آخری منزل تک احترام کے ساتھ پہنچا رہے ہوں۔ قبر تیار کرنا محض ایک عملی کام نہیں یہ انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلانے والا عمل ہے۔

یہ رضاکار ہر قبر ایسے بناتے ہیں کہ جیسے وہ اپنے کسی عزیز کے لیے بنا رہے ہوں۔ ان کے چہرئے پر نہ تھکن کی شکایت ہوتی ہے نہ اجرت کی امید یا طلب۔۔ بس ایک خاموش خدمت کا جذبہ۔ ایک صدقہ جاریہ اور بلامعاوضہ خدمت کی خواہش لیے یہ نوجوانوں کی ٹیم بنا بلائے اور بلا کچھ کہے سنے اپنا کام انجام دیتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایسی ہی ایک نوجوانوں کی ٹیم احمدپور شرقیہ کے چبوترہ بازار میں بھی ہوا کرتی تھی۔ جو عبدالستار کمبوہ، خلیل احمد اور اسکے چند ساتھیوں پر مشتمل تھی اور وہ بھی یہ نیک کام ہمیشہ بلامعاوضہ کیا کرتے تھے۔

آئیے ایسے لوگوں کو سلام پیش کریں۔ اگر زبان سے نہیں تو دل سے اور اگر دل سےبھی نہیں تو کم ازکم دعاوں سے ضرور کیونکہ جو دوسروں کے لیے آخری سفر آسان بناتے ہیں وہ خود کبھی تنہا نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدمت انسانیت کے یہ ہاتھ اور سوچ سدا سلامت رہیں کیونکہ یہ آسانیاں بانٹنے والے خاموش ہاتھ بہت قیمتی ہیں۔

Check Also

Islami Tareekh Mein Khwateen Hukumran

By Muhammad Riaz