Jadeed Daur Ki Aik Mohlik Bimari
جدید دور کی ایک مہلک بیماری

یہ ایک ایسی انسانی بیماری ہے جسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہ پوری دنیا میں پائی جاتی ہے، متعدی ہے اور اس کا علاج کسی اور کے پاس نہیں، سوائے ہمارے اپنے۔
اس بیماری کا نام ہے، کاہلی۔
یہ ہمیں کسی وبائی مرض کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، تاوقتیکہ ہم اس کے خلاف اپنے اندر مزاحمت پیدا کریں۔ یہ مزاحمت پیدا ہوتی ہے حرکت سے اور اپنے سوچے سمجھے خود مختارانہ فیصلوں سے۔
کاہلی، امنگ اور صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے۔
اگر ہم اپنے معاملات، طرزِ معاشرت یا حکومت کے معاملے میں سست پڑ جائیں تو یہ کئی نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا باعث بن جاتی ہے۔ جب ہم کوشش کرنا، سوال اٹھانا، تنقیدی اور خودمختار سوچ اپنانا اور عقل و ضمیر کے مطابق جینا چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ایک ڈھلان پر لُڑھکتے چلے جاتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی نے آسائش کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ اب آپ کو خوراک، توانائی، دوا یا اخلاقیات کے بارے میں خود سوچنے کی ضرورت نہیں، اب جدید معاشی و معاشرتی نظام کے کارندے آدمی کو سمجھا کر یقین دلا دیتے ہیں کہ کیا کھانا بہتر ہے، کس سے ڈرنا ہے، کیا ماننا ہے، کیا درست ہے اور کیا خریدنا ہے۔
ہم پڑھنے اور سیکھنے (اور سب سے بڑھ کر آزادانہ غور و فکر) کے بجائے صرف اسکرول کرتے رہتے ہیں۔
ہم تفکرکے بجائے محض ردِعمل دیتے ہیں۔
ہم دلیل کے ماننے والے نہیں، اندھی پیروی کے پُجاری ہیں۔
ضمیر بھی ہم نے گویا دوسروں کے حوالے کر دیا ہے۔ اب یہ بات اہم نہیں رہی کہ ہم فطری طور پر کیا درست سمجھتے ہیں، اہم یہ ہے کہ اختیار رکھنے والے لوگ کن عقائد کو درست اور جائز سمجھتے ہیں۔
ہر بار جب ہم ان کارندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، موبائل فون تھامے یا ٹی وی کے سامنے رکھے صوفے پر ڈھلک جاتے ہیں اور کوشش نہیں کرتے، تو ہم اپنی ذات کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں۔
تہذیب کا ہر قدم اس شخص کی وجہ سے آگے بڑھا جس نے سستی کو قبول کرنے اور ہجوم کے ساتھ چلنے سے انکار کیا۔ حق کے متلاشی، موجد، فنکار اور مصلح، سب نے اپنے زمانے کے رائج دستور کے خلاف بے پناہ مزاحمت کی۔
کاہلی اور تن آسانی کا مقابلہ دواؤں یا سماج کے مروجہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا پڑتا ہے، عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے، تنہائی میں بیٹھ کر جدید کھلونوں (موبائل فون، ٹیبلیٹ وغیرہ) سے دور رہ کر تفکر وتدبر کے زینے پر قدم رکھنا پڑتا ہے۔
دنیا چند درندہ صفت آدمیوں کی وجہ سے برباد نہیں ہوتی۔ دنیا اس لیے زوال پذیر ہوتی ہے کہ ہم کاہلی، آسانی اور مروجہ (غلط)عقائد کو چن لیتے ہیں۔
آج کے آدمی (اور اپنے آپ کو آئینے میں) دیکھ کر مُجھے بچپن میں دیکھی ایک فلم یاد آجاتی ہے جس میں بندر کھلونوں سے کھیلتے ہوئے اور مختلف کھلونا سواریوں پر اٹکھیلیاں کرتے ہوئے جنگل میں درپیش بڑے خطرات سے غافل ہو کر معدوم ہو جاتے ہیں۔
آج کا آدمی موبائل فون، ٹی وی، چمکتی گاڑیوں جیسے کھلونوں میں منہمک ہو کر بڑے مسائل سے غافل ہو جاتا ہے۔ آدمی ابتدائے آفرینش سے کھلونوں سے کھیلتا آیا ہے، ان میں قدیم ظروف، بیل گاڑیاں وغیرہ عجائب گھروں میں سجی ہیں، دیدہِ عبرت نگاہ کے لیے۔ البتہ آدم و حوا کو وہی پہلے سے مسائل درپیش ہیں، طمع، نفرت، ذخیرہ کرنے کی خواہشِ لامختتم، حسد وغیرہ۔
آدمی کا کمال یہ نہیں کہ ہر آنے والے دور میں پہلے سے بہتر کھلونے ایجاد کر لے اور ان کو دیکھ کر بن مانسوں کی طرح حیران آنکھوں سے مسرت کے قہقہے لگائے۔ آدمی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی جبلت کے منفی عناصر پر قابو پا لے، حسد کو اپنے اندر سے نکال پھینکے، انتقام کی آگ کو بُجھا ڈالے!
سو بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں ختم ہوتی ہے۔ زرعی دور شکاری دور کی بہ نسبت سُستی کا دور تھا، صنعتی دور اس سے بھی بڑھ کر آدمی کو ایک مقام پر گاڑ گیا اور جدید دور نے تو آدمی کو گھر سے نکلنے کے تکلف سے بھی آزاد کر دیا ہے۔ ہر دور نئے کھلونے لے کر آتا ہے۔ آج کا دور خیرہ کُن چمک والے کھلونوں کا ہے، البتہ اس نے آدمی کو ایک مردود بیماری تحفہ کی ہے، کاہلی!

