Sunday, 08 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Dabbu Ne Billi Maar Di

Dabbu Ne Billi Maar Di

ڈبو نے بلی مار دی

لینن ہوسٹل کوئی عام رہائش گاہ نہیں تھی بلکہ کرداروں کی ایسی نمائش گاہ تھی کہ آج بھی یادوں کی گیلری میں سب سے نمایاں فریم وہیں کا ہے، ہر کمرے میں ایک کہانی، ہر کہانی میں ایک کردار اور ہر کردار اپنی جگہ مکمل ڈرامہ، انہی زندہ جاوید کرداروں میں ایک نہایت دلچسپ اور دل کے قریب شخصیت میرے پیارے دوست (درحقیقت دردِ سر) علی سہیل عرف ڈبو موٹا کا تعلق ملتان سے تھا، والدین کے اکلوتے سپوت جسے گھر والے شیشے کے گلاس کی طرح سنبھالتے تھے مگر موصوف نے ضد ایسی لگائی کہ بیرونِ ملک پڑھائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے، ضد بھی وہ جس میں آنسو، جذبات اور مستقبل تینوں شامل ہوں، نتیجہ یہ نکلا کہ والدین نے دل پر پتھر رکھ کر اجازت دے دی اور لینن ہوسٹل کو ایک نیا کردار مل گیا۔

ہمارے کمرے سے صرف دو کمرے چھوڑ کر ڈبو موٹا اور چوہدری غلام مصطفے آرائیں فرام ننکانہ حال مقیم لاہور رہائش پذیر تھے، دونوں ہی قد و قامت میں ایسے کہ دروازہ پہلے سلام کرتا، پھر راستہ دیتا، کھانے کے شوقین بھی ایسے کہ اگر کچن میں خوشبو آ جائے تو سمجھ لیں دونوں میں سے ایک نے کھانا سونگھ لیا ہے، کھانے کو وہ کھانا نہیں بلکہ چیلنج سمجھتے تھے اور اکثر یہ چیلنج پلیٹ خالی کرکے جیت بھی لیتے تھے، سچ کہوں تو لینن ہوسٹل کی یادیں، اس کے ڈرامے اور ایسے کردار زندگی کے وہ اثاثے ہیں جو نہ بینک میں رکھے جاتے ہیں، نہ وزن میں تولے جاتے ہیں، مگر دل کے سب سے محفوظ خانے میں ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔

علی سہیل ملتانی پیدائشی ہیوی ویٹ تھے، اس لیے کھانے میں بھی دل کھول کر انصاف کرتے اور سونے کے لیے سنگل بیڈ کو ویسے ہی مسترد کر چکے تھے جیسے عام لوگ بس میں آخری سیٹ، ڈبل میٹریس ان کی بنیادی ضرورت تھی، لگژری نہیں، ان کا ماننا تھا کہ جسم اگر فُل سائز ہو تو آرام بھی فُل سائز ہونا چاہیے۔

ایک دن موصوف کہیں سے رشین بلی کا ننھا سا بچہ خرید لائے اور باقاعدہ ابّا جان کے فرائض سنبھال لیے، بلی کی پرورش شاہی خاندان کی شہزادی کی مانند ہونے لگی، روز اس کا منہ صابن سے دھوتے، کنگھی کرتے، خوشبو لگاتے، صفائی کا ایسا اہتمام کہ بلی کم اور اینکر پرسن زیادہ لگنے لگتی، دلچسپ بات یہ کہ وہی صابن لگے ہاتھ اپنے چہرے پر بھی پھیر لیتے، گویا دونوں کی اسکن کیئر ایک ہی لیول پر تھی، بلی کا پروٹوکول ایسا سخت اور نفیس تھا کہ کسی نازک اندام محبوبہ کو بھی اتنی توجہ نصیب نہ ہوئی ہوگی، وقت پر کھانا، وقت پر صفائی اور ذرا سی لاپرواہی پر خود ہی شرمندگی، سچ پوچھیں تو لینن ہوسٹل میں اگر کسی کو شاہانہ زندگی نصیب تھی تو وہ وہی رشین بلی تھی اور اس کا فخر سے پھولا ہوا مالک، علی سہیل ملتانی۔

ایک دن قیامت خیز واقعہ پیش آیا کہ علی سہیل ملتانی کی زندگی سے خوشی اور پلیٹ سے کھانا، دونوں غائب ہو گئے، بلی کا بچہ لاپتہ تھا، موصوف نے فوراً احتجاجی تحریک شروع کر دی: کھانا پینا بند، چہرہ اُداس اور آنکھوں میں وہ کیفیت جیسے محبوب سرحد پار چلا گیا ہو، دوستوں نے سمجھایا کہ ہوسٹل ہے، جنگل نہیں، بلی مل ہی جائے گی، مگر علی سہیل پر سوگ طاری تھا۔

اگلے دن بریک کے وقت ہم ناشتے کے ارادے سے کمرے کی طرف لوٹے تو کوریڈور میں ایک دلکش منظر ہمارا منتظر تھا، میڈم شنارا ہاتھ میں وہی ننھا سا بلی کا بچہ تھامے، وقار اور اعتماد کے ساتھ چلتی پھر رہی تھیں اور پوچھ رہی تھیں:

"یہ بلی کس کی ملکیت ہے؟"

اب حسن کا عالم یہ تھا کہ میڈم شنارا کی خوبصورتی کے پہلے سے ہی متاثرین، سرگوشیوں میں ایک نیا سوال اچھال رہے تھے:

"دونوں میں سے بلی کون ہے؟"

کوئی بلی کو دیکھ رہا تھا، کوئی میڈم کو اور کوئی دونوں کو دیکھ کر خود کو، خیر، بلی کا بچہ واپس آ گیا، علی سہیل کے چہرے پر پھر سے جان آئی، مگر خوشی دیرپا ثابت نہ ہوئی، کیونکہ ہوسٹل کمانڈنٹ نے باقاعدہ سرکاری لہجے میں اعلان فرما دیا:

"بلی پالنے کے لیے لائسنس لازمی ہوگا"

یوں لینن ہوسٹل میں ایک بلی نے نہ صرف دل جیتے، بلکہ قوانین بھی بنوا دیے اور علی سہیل ملتانی تاریخ کے پہلے طالبعلم ٹھہرے جو بغیر ویزا کے بلی تو لے آئے، مگر لائسنس بھول گئے۔

چند دن سکون سے گزرے ہی تھے کہ بلی کا بچہ ایک بار پھر لاپتہ ہوگیا، علی سہیل نے پوری سنجیدگی سے تلاش شروع کی، کمرہ، کوریڈور، سیڑھیاں، حتیٰ کہ وہ جگہیں بھی جہاں بلی کا جانا سائنسی طور پر ممکن نہ تھا مگر نتیجہ صفر، تین دن گزرے تو کمرے میں ایسی مہک پھیلنے لگی جس نے سب کو سوچ میں ڈال دیا کہ یہ ہوسٹل ہے یا تجربہ گاہ، چوتھے دن صفائی کے دوران جب میٹریس اٹھایا گیا تو راز فاش ہوا، بلی کا بچہ نیچے دبا ہوا، خاموشی سے دنیا چھوڑ چکا تھا، ایک لمحے کو سب سنجیدہ ہو گئے اور اگلے ہی لمحے ہوسٹل کی روایت کے مطابق سنجیدگی نے اعلان کی شکل اختیار کر لی۔

پوری عمارت میں نعرہ گونجنے لگا:

"کجّو نے بلی مار دی!"
"کجّو نے بلی مار دی!"

یہ وہ الزام تھا جو علی سہیل عمر بھر نہ دھو سکا، حالانکہ قصور بلی کی معصوم تجسس پسندی اور میٹریس کی بے خبری کا تھا، مگر ہوسٹل میں منطق کم اور مشہوری زیادہ چلتی ہے، کمانڈنٹ صاحبہ نے بھی موقع غنیمت جانا اور نہایت سرکاری رعب کے ساتھ فیصلہ صادر فرمایا کہ بغیر لائسنس بلی رکھنے کے جرم میں جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، بلی دنیا سے گئی، علی سہیل کی جیب ہلکی ہوئی اور لینن ہوسٹل کو ایک اور لازوال قصہ مل گیا، یوں ایک ننھے سے بلی کے بچے نے ہمیں سکھایا کہ ہوسٹل میں ہر چیز کا لائسنس ہوتا ہے سوائے افواہوں کے، وہ بغیر اجازت بھی پوری عمارت میں پھیل جاتی ہیں۔

Check Also

Waqt Ki Achi Baat

By Ayesha Batool