Qalb e Saleem
قلبِ سلیم

کہتے ہیں ایک درویش کے پاس ایک نوجوان آیا اور بولا: "حضرت! میں علم بھی حاصل کر رہا ہوں، عبادت بھی کرتا ہوں، مگر دل کو سکون نہیں ملتا۔ آخر کیا کمی رہ گئی ہے؟" درویش مسکرایا، اس نے ایک پیالہ پانی سے بھر کر نوجوان کے ہاتھ میں دیا اور کہا، "اسے لے کر بازار کے بیچ سے گزرو، مگر شرط یہ ہے کہ ایک قطرہ بھی نہ گرے"۔ نوجوان پوری توجہ سے بازار سے گزرا اور پانی بچا کر واپس آگیا۔ درویش نے پوچھا، "راستے میں لوگوں کی آوازیں سنیں؟ دکانیں دیکھیں؟ کسی سے بات ہوئی؟" نوجوان نے کہا، "نہیں، میری ساری توجہ پانی پر تھی"۔ درویش نے کہا، "بس یہی راز ہے۔ جب دل ایک مقصد پر قائم ہو جائے تو دنیا کا شور اس پر اثر نہیں کرتا۔ اسی دل کو قرآن، قلبِ سلیم کہتا ہے"۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کے حضور "قلبِ سلیم" لے کر آئے۔ قلبِ سلیم دراصل وہ دل ہے جو سلامت ہو، صاف ہو اور اپنے رب کے ساتھ خالص تعلق رکھتا ہو۔ یہ سلامتی صرف جسمانی یا وقتی سکون کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی باطنی کیفیت ہے جس میں انسان کا دل شرک، کفر، حسد، تکبر اور بغض جیسے اخلاقی امراض سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایسا دل شکوک و شبہات کے طوفان میں بھی یقین کی روشنی کو تھامے رکھتا ہے۔ دنیا کی رنگینیاں اسے اندھا نہیں کرتیں اور مصیبتوں کے اندھیرے اسے مایوسی میں نہیں دھکیلتے۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی کا اصل مرکز اس کا رب ہے اور اسی طرف لوٹ جانا اس کی آخری منزل ہے۔
انسانی تاریخ دراصل دلوں کی تاریخ ہے۔ قومیں تلواروں سے کم اور دلوں کی کیفیت سے زیادہ بنتی اور بگڑتی ہیں۔ جب دل بیمار ہو جائیں تو علم بھی تکبر بن جاتا ہے، دولت بھی غرور بن جاتی ہے اور طاقت بھی ظلم میں بدل جاتی ہے۔ لیکن جب دل سلامت ہوں تو معمولی وسائل بھی عظیم کارناموں میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی سب سے بڑی جدوجہد انسان کے دل کو درست کرنے کی رہی۔ انہوں نے صرف قوانین نہیں دیے بلکہ دلوں کی دنیا کو روشن کیا۔ کیونکہ جب دل درست ہو جائے تو کردار خود بخود درست ہو جاتا ہے۔ قلبِ سلیم دراصل وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنے رب کی نشانیوں کو صاف دیکھنے لگتا ہے۔
آج کے انسان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس نے دل کی بیماریوں کو بیماری سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ حسد کو مسابقت کا نام دے دیا گیا ہے، تکبر کو خود اعتمادی کہہ دیا گیا ہے اور دنیا کی بے لگام خواہشات کو ترقی کا عنوان دے دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ باہر کی دنیا جتنی ترقی کر رہی ہے، اندر کی دنیا اتنی ہی ویران ہوتی جا رہی ہے۔ قلبِ سلیم کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو خواہشات کی غلامی سے آزاد کرے اور اسے اللہ کی رضا کے تابع بنا دے۔ ایسا دل کسی کے لیے نفرت نہیں رکھتا، کسی کی کامیابی پر جلتا نہیں اور کسی کے نقصان پر خوش نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا ایک امتحان ہے اور اصل کامیابی آخرت میں ہے۔
قلبِ سلیم دراصل ایک روحانی توازن کا نام ہے۔ اس میں خوف بھی ہے مگر مایوسی نہیں، امید بھی ہے مگر غرور نہیں۔ ایسا دل انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کا اسیر نہیں ہونے دیتا۔ وہ دولت رکھتا ہے مگر دولت اس کے دل میں نہیں رہتی۔ وہ شہرت پاتا ہے مگر شہرت اس کی روح کو آلودہ نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ قلبِ سلیم رکھنے والے لوگ دنیا میں بھی سکون کے سفیر ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی کامیابی کے وارث۔ ان کی موجودگی سے معاشرے میں محبت پیدا ہوتی ہے، اعتماد بڑھتا ہے اور انسانیت کو ایک نئی روشنی ملتی ہے۔ دراصل قلبِ سلیم وہ چراغ ہے جو ایک دل میں روشن ہو جائے تو اس کی روشنی بہت سے دلوں تک پہنچتی ہے۔
انسان اگر اپنے دل کی طرف سچائی سے دیکھے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اصل معرکہ باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ اندر کی دنیا میں برپا ہے۔ شیطان اور نفس کی کشمکش دراصل اسی دل کے میدان میں لڑی جاتی ہے۔ جو شخص اس میدان میں کامیاب ہو جاتا ہے وہی حقیقی کامیاب انسان ہے۔ قلبِ سلیم کی راہ عبادت، ذکر، عاجزی اور خدمتِ خلق سے گزرتی ہے۔ جب انسان اپنے رب کے سامنے جھکنا سیکھ لیتا ہے تو اس کا دل نرم ہو جاتا ہے اور جب دل نرم ہو جائے تو اس میں رحمت کا چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔ یہی وہ دل ہے جسے قرآن نے کامیابی کی اصل ضمانت قرار دیا ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کے چہرے سے نہیں بلکہ اس کے دل سے ہوتی ہے۔ چہرہ وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے مگر دل کی کیفیت انسان کی تقدیر لکھتی ہے۔ جو دل نفرتوں سے بھرا ہو وہ دنیا کو بھی نفرت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور جو دل محبت سے روشن ہو وہ اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتا ہے۔ قلبِ سلیم دراصل اسی روشن دل کا نام ہے، ایک ایسا دل جو اپنے رب کے سامنے جھکا ہوا اور انسانوں کے لیے محبت سے بھرا ہوا ہو۔
دل کو اگر صفا کی ضیا مل گئی کہیں
راہوں کو روشنی کی دعا مل گئی کہیں
نفرت کے سب چراغ بجھانے لگا ہوں میں
شاید دلوں کو صلحِ نوا مل گئی کہیں
یہ بھی کرم ہے رب کا کہ طوفانِ وقت میں
کشتی کو ایک سمتِ ہَوا مل گئی کہیں
دنیا کے شور میں بھی سکوں کی صدا سنوں
دل کو اگر تری ہی صدا مل گئی کہیں
اک دل جو پاک ہو تو جہاں پاک ہوگیا
انساں کو اپنی اصلِ بقا مل گئی کہیں
پاکستان کے لیے بھی اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ اس کے شہری اور اس کی محافظ مسلح افواج قلبِ سلیم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ایسا دل جو اخلاص، حکمت، تحمل اور وسعتِ نظر سے روشن ہو، جو نفرتوں اور تعصبات سے پاک ہو اور جس میں وطن اور انسانیت دونوں کے لیے خیر خواہی موجزن ہو۔ اگر پاکستانی قوم اور اس کی بہادر افواج اپنے فیصلوں اور کردار کی بنیاد اسی سلیم و سعید دل پر رکھیں تو وہ نہ صرف اپنے وطن کو استحکام، امن اور وقار کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ پوری دنیا کے سامنے ایک ایسی زریں مثال بھی قائم کر سکتے ہیں جس میں طاقت کے ساتھ حکمت، جرات کے ساتھ اخلاق اور قومی مفاد کے ساتھ انسانی بھلائی کا حسین امتزاج نظر آئے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قومیں عزت بھی پاتی ہیں اور تاریخ میں قابلِ تقلید بھی بن جاتی ہیں۔

