Mera Kutta Tommy
میرا کتا ٹومی

پٹرول کتنا مہنگا ہے اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عقل کتنی سستی ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ٹائیگر قیدی نمبر 804 کے نعرے لگاتا رہے گا اور نونی آپ کو اورنج لائن، میٹرو بس، ترقیاتی پراجیکٹس اور سڑکوں کی تصویریں دکھاتا رہے گا۔ دراصل اس ملک میں عاقل پیدا نہیں ہوتے بلکہ عقیدت مند پیدا ہوتے ہیں۔
سنہ 2022 کے عدم اعتماد سے پہلے پٹرول 150 روپے لیٹر تھا تو نونیوں کو لگتا تھا قیامت آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی دردناک ٹویٹس کی جاتی تھیں جیسے ابھی ابھی کسی نے غریب کے چولہے سے آخری روٹی اٹھا لی ہو۔ مگر آج وہی پٹرول 323 ہوگیا ہے اور نونی ایسے دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے سب نارمل ہے۔ جو صاحب پہلے مہنگائی پر روز ماتم کیا کرتے تھے آج وہی مہنگائی کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ یعنی جو کل مہنگائی کا مریض تھا آج وہی ڈاکٹر بن کر نسخے لکھ رہا ہے۔
تبدیلی والوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے ہوئے مگر جب بے روزگاری بڑھنے لگی تو بے روزگاری کا سروے ہی بند کر دیا گیا۔ گویا مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ نکلا کہ آئینہ ہی توڑ دو تاکہ چہرہ صاف نظر نہ آئے۔ مہنگائی بڑھی تو علاج معاشی پالیسی نہیں بلکہ جذباتی تقریریں تھیں۔ کبھی سازش، کبھی بارودی سرنگیں، کبھی عالمی حالات۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے عوام کو سمجھایا کہ مسئلہ حکومت نہیں آپ کے ذرائع آمدن ہیں وہ بڑھا لیں۔
دونوں سیاسی دھڑوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اس حد تک تقسیم کر دیا ہے کہ اب ان کے لیے سچ اور جھوٹ کا معیار بھی پارٹی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔ اگر مہنگائی ان کے مخالف کے دور میں ہو تو قیامت ہے اور اگر اپنے دور میں ہو تو مجبوری۔ آج کی حکومت سے پہلے حکومت میں مہنگائی آج کے دور سے کم تھی۔ خان صاحب سے پہلے دور میں ان سے کم۔ نواز شریف صاحب کے دور سے قبل اور کم اور مشرف کا دور مہنگائی کے لحاظ سے کافی بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پیچھے چلتے جائیں آخر کار آپ ڈیڑھ روپے فی لیٹر پٹرول تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہر دور میں مہنگائی کا شور کم و بیش یکساں ہی رہا۔ حکومت مخالف سراپا احتجاج ہی رہے اور ہر دور میں ایک عوامی گروہ اپنی حکومت کا دفاع ہی کرتا رہا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں سیاستدانوں سے زیادہ وفادار ان کے اندھے حمایتی ہیں۔ لیڈر کچھ بھی کر لے دلیل ہمیشہ تیار ہوتی ہے۔ نعرے تیار، ہیش ٹیگز تیار، سب تیار ہوتا ہے۔ ماضی اچھا اور حال قیامت لگتا ہے۔ مہنگائی ہر حکومت میں بڑھتی ہے مگر دفاع کرنے والے بدل جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ عوام ہیں۔ جب تک عوام پارٹیوں کے نہیں بلکہ اپنے مفاد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے تب تک پٹرول بھی مہنگا ہوتا رہے گا اور عقل بھی سستی ہی رہے گی۔ تاحال تو یہی ضابطہ حیات ہے "میرا کتا ٹومی، تیرا کتا کتا"۔

