Chaddi Kas Lein
چڈی کس لیں

پاکستان کی پٹرول کی روزانہ کھپت 32.4 ملین لیٹر اور ڈیزل کی پانچ اعشاریہ چار ملین لیٹر ہے۔ عالمی مارکیٹ کے حساب سے دیکھیں تو کروڈ آئل فوری طور پر آپ کو نہیں ملتا بلکہ آپ کے پرانے آرڈر کلئیر ہوتے ہیں پھر نیا آرڈر دیا جاتا ہے۔
اور اگر اس دوران نیا آرڈر نا دیا جاسکے یا اس میں کوئی وقفہ آ جائے یا پھر آپ کے پاس اخلاقی اور قانونی دونوں جواز ہوتے ہیں کہ جب تک پرانے ریٹ والا تیل ختم نہیں ہونے والا ہوگا آپ قیمت بڑھا سکتے ہیں۔
ہر ملک کے پاس تیل کے دو ذرائع ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مارکیٹ میں پہلے سے چل رہا ہے اور دوسرا اس کے ختم ہونے کے بعد وہ ذخیرہ ہے جو آپ کی حکومت ایمرجنسی کے لئے رکھتی ہے۔ یہ ذخیرہ پاکستان کے لئے تیس دن کا ہے جبکہ بھارت کے لئے چوبیس دن کا ہے۔
لیکن مارکیٹ میں چلنے والا تیل، جس میں ابھی وہ کنٹینر بھی شامل ہیں جو ہرموز سے نکل کر پاکستان پہنچنے کے قریب ہیں وہ بھی کم سے کم اگلے دس دن چلیں گے۔ پھر جا کر آج کے ریٹ پر لئے جانے والے کنٹینر وہاں سے نکل کر پاکستان پہنچیں گے۔
یعنی کہ اس سپلائی چین میں ابھی پندرہ سے بیس دن کا وقت تھا جب حکومت آج کے ریٹ والا تیل خرید کر آپ کو بیچے گی اور تیل بھی فوری نہیں بکنا تھا بلکہ ریفائن ہونا تھا اور پھر، مطلب مہینے بعد تک، لیکن جونہی عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا ہے فوری طور پر قیمت بڑھا دی گئی ہے۔
اس بات کا سادہ سا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس نئے آرڈر لگانے کے لئے ایک آنا کیا دھیلا بھی نہیں ہے بلکہ اس وقت حکومت فقط پیٹرولیم کی لیوی پر چل رہی ہے۔ جو کہ فی لیٹر آپ سو سے ایک سو دس روپے کے درمیان دے رہے ہیں۔ مطلب آپ ہر مہینے دس ہزار کا پٹرول ڈلوائیں گے تو اس میں سے چار سوا چار ہزار ٹیکس دیں گے۔
ورنہ یوں بٹ کوائن کے ساتھ جڑے میم کوائنز کے ریٹ کی طرح ایک دم سے پٹرولیم کا ریٹ بڑھانا دنیا کی سب سے عجیب ترین بات ہے اور اس بات کی نشانی بھی ہے کہ حکومت سٹرٹیجک ریزرو کو بالکل بھی نہیں چھیڑنا چاہتی ہے بلکہ سیدھا صارف کو اپنی قیمت خرید کی بجائے مارکیٹ کے تازہ ریٹ (وہ بھی صرف تب جب قیمت بڑھ رہی ہے) پر تیل بیچنا چاہتی ہے۔
جبکہ عام ممالک میں ایسے حالات میں حکومت سب سے پہلے اپنے خرچے کم کرتی ہے اور پھر پیٹرولیم پر ٹیکس یا جسے پاکستان میں لیوی کہا جاتا ہے وہ کم کرتی ہیں اور اگر پھر بھی سپلائی چین متاثر ہو تو سٹریٹیجک ریزرو سے تیل استعمال کرکے ریلیف دیتی ہیں اور ایسا ہی عمران خان نے دسمبر 2021 کے بعد سے پیٹرولیم لیوی صفر کرکے کیا تھا۔
جبکہ دو ہفتے پہلے اسی حکومت نے تقریباََ چالیس سے پچاس ملین ڈالر کے جہاز خریدے ہیں۔ اگر یہ اُتنے کی بھی لیوی پر سبسڈی دے دیتے تو تیل کی قیمت تقریباََ دس دن بڑھانا نا پڑتی جبکہ مہینے کے لئے تقریباََ تین سو چالیس ملین ڈالر چاہیں تھے جو کہ خرچے کم کرکے مینج ہو سکتا ہے۔
دعا کریں کہ دو ہزار بائیس کے کرائسسز کی طرح کروڈ کی قیمت ایک سو ڈالر کراس نا کریں ورنہ ہزار روپے تک بھی قیمت جائے گی۔
اب آپ کو بس اتنا ہی کہوں گا کہ چڈی کس لیں۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ وہی ہونا ہے کہ اس حکومت نے آپ کو چھت سے گرا کر کہنا ہے کہ سب کچھ پھٹ سکتا ہے لیکن چڈی نہیں پھٹی ہے۔

