Main Kar Ke Dikhaunga
میں کرکے دکھاؤں گا

کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ سنہ 1839، جرمنی کا ایک چھوٹا سا گاؤں، ایک لڑکا تھا جس کا نام فریڈرش آوگست کیکولے تھا۔ گھر کچا، والد معمولی ملازم اور فریڈرش اکثر اسکول کے اخراجات کے لیے استاد کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا۔ دوست کلاس فیلوز اسے حقارت سے دیکھتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، جوتے اکثر پھٹے ہوئے۔ لیکن اس لڑکے کی آنکھوں میں عزم کا وہ چراغ جل رہا تھا جسے غربت کی آندھیاں بجھا نہ سکیں۔
ایک دن اس نے گاؤں کے ایک کونے میں بیٹھ کر پرانی کتابوں میں کیمیا کے خاکے دیکھے۔ وہ گھنٹوں تصویروں میں کھو جاتا اور خواب دیکھتا کہ ایک دن وہ ضرور کوئی بڑا کام کرے گا۔ استاد نے کہا، "تمہارے جیسے غریب بچے بڑے خواب نہیں دیکھتے"۔ مگر اس نے یہ بات سنی ان سنی کر دی۔ مزدوری کی، لکڑیاں کاٹیں، رات کے اندھیرے میں لالٹین جلا کر پڑھا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود اس نے پڑھائی جاری رکھی۔ پھر ایک دن اس کے ذہن میں ایک نیا سائنسی نظریہ آیا جس نے کیمیا کی دنیا بدل دی۔۔ بینزین کی ساخت کا ماڈل۔ یہ دریافت آج بھی کیمیا کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔
کیکولے کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ غربت کبھی انسان کا مقدر نہیں بنتی، اگر وہ خود اسے نہ مانے۔ دنیا میں غربت سے نکلنے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ تھامس اسٹینلی اور ولیم ڈینکو نے اپنی مشہور کتاب The Millionaire Next Door میں لکھا کہ امریکا کے 80 فیصد کروڑ پتی وراثت میں دولت نہیں لیتے، بلکہ اپنی محنت سے بناتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، تعلیم، مہارت اور مثبت رویہ غربت سے نکلنے کے تین بڑے ستون ہیں۔
ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ غربت سے نکلنے کا پہلا قدم ذہنی رویہ بدلنا ہے۔ "میں نہیں کر سکتا" کو "میں کرکے دکھاؤں گا" میں بدلنا۔ دوسری چیز ہے فوری خواہشات کو روک کر مستقبل کے لیے بچت اور سرمایہ کاری کرنا۔ تیسرے نمبر پر نیٹ ورکنگ۔۔ کامیاب لوگوں کے ساتھ تعلقات بنانا کیونکہ مواقع ہمیشہ لوگوں کے ذریعے آتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں غربت صرف پیسوں کی کمی کا نام نہیں، یہ سوچ کی کمی کا نام بھی ہے۔ ٹائم مینجمنٹ اور منی مینجمنٹ نام کی کوئی سکل پاکستان کے فرسودہ تعلیمی نظام میں کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ ہمارے دیہات میں ایک نوجوان روزانہ پانچ گھنٹے چائے کے ڈھابوں پر بیٹھ سکتا ہے، ریلز اور ٹک ٹاک پر فضولیات دیکھ سکتا ہے مگر وہی وقت کوئی ہنر سیکھنے میں نہیں لگا سکتا۔ شہروں میں بے شمار لوگ مہینے کا آدھا بجٹ موبائل قسطوں، فضول آؤٹنگز یا برانڈڈ کپڑوں پر خرچ کر دیتے ہیں مگر چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے بچت نہیں کر پاتے۔
اس کا حل صرف حکومت یا اسکیمیں نہیں بلکہ انفرادی رویہ ہے۔ دنیا کے بڑے ماہرِ معاشیات گریگری مینکیو کے مطابق "معاشی ترقی کی بنیاد ذاتی پیداواریت ہے، نہ کہ حکومتی سبسڈی"۔
تاریخ کے صفحات میں ایسی درجنوں کہانیاں ہیں جہاں غربت نے لوگوں کو مایوس کرنے کے بجائے ان میں آگ بھڑکا دی۔ قسطنطنیہ کے سلطان محمد فاتح نے کم عمری میں محاصرے اور بھوک کے دن دیکھے، مگر یہی تجربہ اسے فتح کرنے والے عزم میں ڈھل گیا۔
تقریباً تمام ماہرینِ نفسیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ غربت میں پیدا ہونے والے لوگ اگر محنت، مہارت اور تعلیم کے ذریعے آگے بڑھیں تو وہ اوسط درجے سے زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، غربت کا شکار مگر محنتی بچوں میں "resilience" یعنی لچک عام بچوں سے زیادہ ہوتی ہے جو انہیں کاروبار اور ملازمت دونوں میں برتری دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے اس کہانی میں ایک سبق ہے۔ ہم نے 77 سال میں کئی حکومتیں بدلیں، کئی تجربات کئے، کئی منصوبے شروع کیے لیکن قوم کے رویے میں تبدیلی نہ آئی۔ ہمارے دیہات اور شہروں میں آج بھی یہ سوچ عام ہے کہ "ہم غریب پیدا ہوئے ہیں، غریب مریں گے"۔ یہ سوچ دراصل غربت کی جڑ ہے۔
اگر ہر نوجوان روزانہ چار سے پانچ گھنٹے فوکس ہو کر کسی ہنر میں لگائے، ہر گھر اپنی آمدن کا کم از کم 10 فیصد بچائے اور ہر شخص کامیاب لوگوں سے تعلقات بڑھائے، تو پانچ سے سات سال میں غربت کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، سنگاپور، ویتنام اور ملائیشیا اس کا عملی ثبوت ہیں۔
کیکولے کی طرح ہر انسان کے پاس انتخاب ہے: یا تو حالات کا غلام بنا رہے، یا ان کا مالک بن جائے۔ غربت مقدر نہیں، یہ صرف ایک حال ہے اور حال ہمیشہ بدل سکتا ہے۔ آخر میں صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ "آپ کی غربت آپ کی قسمت نہیں، آپ کا رویہ ہے"۔

