Sunday, 08 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sadiq Anwar Mian
  4. Pakistan Rehne Ke Qabil Hai Lekin

Pakistan Rehne Ke Qabil Hai Lekin

پاکستان رہنے کے قابل ہے لیکن

اکثر اوقات آپ نے سنا ہوگا، ہم میں سے زیادہ تر لوگ یہی کہتے آرہے ہیں کہ یہ ملک پاکستان رہنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ بات سو فیصد غلط ہے۔ میں اس بات کو سرے سے تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وہ ملک ہے جو کہ رہنے کیلئے بہترین ملک ہے۔ یہاں مسائل ہمارے حکمرانوں نے پیدا کردییے ہیں۔ حکمرانوں نے اس ملک کو جہنم بنایا ہے۔ حکمرانوں نے ہم عوام سے اس ملک کی وہ تمام خوبیاں لی ہیں، جوکہ اس ملک میں موجود ہیں۔

حکمرانوں نے اس ملک کے خزانوں کے چابیاں اپنے قبضہ میں لی ہیں۔ عوام کو کچھ نہیں دے رہے۔ یہ مسئلہ حکمران میں نہیں ہم عوام میں ہیں۔ ہم نے ہی یہ تمام اختیارات ان بے حس حکمرانوں کو دیئے ہیں، جو کہ ہم سے سب کچھ چھین رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بہت سے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ہمارے ملک میں دنیا کے وہ تمام ذخائر موجود ہیں جو کہ دیگر ممالک میں نہیں ہیں۔

پاکستان میں ہر دوسرا شخص یہی کہتا آرہا ہے کہ میں باہر جا رہا ہوں یہ ملک رہنے کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ خاص طور پر نوجوان یہی کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بڑی تباہی کا سبب ہے۔ آج کل ہمارے زیادہ تر نوجوان بیرون ملک محنت مزدوری کر رہے ہیں اور دیگر ممالک میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بادشاہت کچھ خاندانوں تک محدود ہے اور وہ اس ملک کو کھا رہے ہیں۔ اس ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہم عوام خود ہیں۔ ہم نے آپنے آپ کو اور اس ملک کو برباد کردیا۔ اگر ہم اپنے حقوق کیلئے ان بے حس حکمرانوں سے وقت پر پوچھ لیتے تو آج یہ ملک اس موڑ پر کھڑا نہ ہوتا۔

آج خبریں دیکھ رہا تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کردیا گیا۔ یعنی صرف ایک لیٹر پہ 55 روپے اور جواز یہ پیش کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے ہم نے یہی کردیا۔ ہم مانتے ہیں، کہ پوری دنیا پر اس کے اثرات ہیں، لیکن دیگر ممالک اپنے عوام کو ریلیف بھی دے رہے ہیں۔ ہم تو پہلے سے تباہ و برباد ہیں۔ حکمرانوں نے تو پہلے سے اس ملک کو تباہ کردیا ہے۔ اس میں مزید گنجائش باقی نہیں ہے۔

زرا روشنی پاکستان کی سرکاری افسران کے فری پٹرول پر ڈالتے ہیں کہ وہ اس ملک کو کیسے کھا رہے ہیں۔ زیادہ تر سرکاری گاڑیوں کو عموماً 150 سے 250 لیٹر ماہانہ پٹرول دیا جاتا ہے۔ اگر اوسط 200 لیٹر فی گاڑی ماہانہ مان لیا جائے: 1,50,000 گاڑیاں × 200 لیٹر = 30,000,000 لیٹر تقریباً 3 کروڑ لیٹر پٹرول ہر ماہ سرکاری گاڑیوں اور افسران کے استعمال میں آ سکتا ہے (اندازاً)۔ اگر قیمت مثلاً 275 روپے فی لیٹر ہو تو: تقریباً 825 کروڑ روپے ماہانہ صرف پٹرول پر خرچ ہو سکتے ہیں۔ یعنی سال میں یہ خرچ 9 سے 10 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے (اندازہ)۔

اب آپ مجھے بتائیں اگر یہ خرچے کم ہو جائے تو کیا یہ ملک ترقی نہیں کر سکے گا؟ اسی طرح دیگر اخراجات کو اگر دیکھا جائے۔ تو اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کو اس ملک کے حکمرانوں نے تہس نہس کردیا ہے۔ اب ہم عوام پر ان باتوں کا انحصار ہے کہ ہم مزید ان حکمرانوں کو یہ عیاشیاں فراہم کریں گے یا آپنے بہتر مستقبل کیلئے ان سے پوچھیں گے۔

Check Also

Mukhbari Ka Aalmi Siasat Mein Kirdar Aur Aaj Ka Iran

By Amir Mohammad Kalwar