Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Noor Khan, Folad Mein Dhala Hua Quaid

Noor Khan, Folad Mein Dhala Hua Quaid

نور خان، فولاد میں ڈھلا ہوا قائد

وہ لمحہ بھر کھڑکی سے لگ کر خاموشی سے دور فضا میں نیلے آسمان پر روئی کے گالوں کی طرح تیرتے بادلوں کو دیکھتے رہے۔ پھر پیچھے ہٹے، مُڑے اور کافی اور ہیمبرگر کا آرڈر دے کر اُس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کی وسعتوں میں ایک لمحے کے لیے سکوت طاری ہوگیا ہو، کہ ایک غیر معمولی شہابِ ثاقب پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے ابدی مسکن کی طرف لوٹ رہا ہے۔ ایئر مارشل نور خان میرے مربی تھے۔ ایسے رہنما جن کا جسم بھی فولاد میں ڈھلا ہوا تھا اور روح بھی۔

بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اتنی جرات اور اتنے یقین کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ وہ پاکستان کے دوسرے سربراہِ فضائیہ ضرور تھے، مگر مقام میں کسی سے دوسرے نہ تھے۔ ان کے لیے اعلیٰ کارکردگی کوئی اختیار نہیں تھی، ایک جبلّت تھی اور انہوں نے یہ جبلّت اس وقت بھی ثابت کی جب پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئر لائنز کی صف میں لا کھڑا کیا۔ جولائی 1965 میں وہ اصغر خان کے بعد فضائیہ کے سربراہ بنے اور اسی سال کی جنگ میں پاک فضائیہ کی ایسی قیادت کی جو حیران کن کامیابیوں سے عبارت ہے۔ حالانکہ وہ خود اس جنگ کو ہمیشہ غیر پیشہ ور قیادت کی مسلط کردہ ایک بے معنی لڑائی قرار دیتے رہے۔

میں انہیں اس وقت سے جانتا تھا جب وہ ماڑی پور (مسرور) ائیر بیس کے بیس کمانڈر تھے اور 23 مارچ کو سو ایف۔ 86 لڑاکا طیاروں کی فلائی پاسٹ کی قیادت کی۔ ان کی خواہش تھی کہ پاک فضائیہ کا ہر لڑاکا طیارہ فضا میں ہو۔ جو قریب قریب ناممکن تھا۔ مگر انہوں نے سبز ہرے لباس والوں میں ایسی انگیخت پیدا کی کہ ناممکن ممکن ہوگیا۔ پچاس کی دہائی کے وسط میں کراچی کے لاکھوں شہریوں نے وہ منظر دیکھا جب نور خان قیادت کر رہے تھے، اس سے پہلے کہ وہ پی آئی اے کی کمان سنبھالنے روانہ ہوتے۔

نور خان نے جس ادارے میں قدم رکھا وہ ادارہ انٹرنیشنل ادارہ بن گیا۔ پی آئی اے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ان کی کامیابیاں صرف ایک ایئر لائن تک محدود نہ رہیں۔ پاکستان کے کھیلوں میں ان کی خدمات تاریخ ساز تھیں۔ انہوں نے اسکواش اور ہاکی کو متوسط درجے سے اٹھا کر عالمی معیار تک پہنچایا۔ ترقی پذیر دنیا سے ابھرنے والا پاکستان طاقتور ترقی یافتہ دنیا کو للکارنے لگا اور عالمی چیمپئن بن کر ابھرا۔ اسی دوران ان کی ذاتی جرات کی ایک ایسی مثال سامنے آئی جو کم ہی دیکھی جاتی ہے، جب ایک فوکر فرینڈشپ طیارہ اغوا ہوا اور لاہور اتارا گیا۔ مذاکرات ناکام ہوئے تو نور خان خود لاہور پہنچے اور معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ سب کی حیرت اور تحسین کے لیے وہ چھوٹے سے کیبن میں داخل ہوئے اور عین اس لمحے جب اغوا کار نے گولی چلائی، جو ایئر مارشل کو زخمی کر گئی، نور خان نے اسے قابو میں لے لیا۔ زخم کھا کر بھی وہ حاوی رہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قیادت محض عہدے کا نام نہیں، دلیرانہ اقدام کا نام ہے۔

جولائی 1965 میں جب انہوں نے پاک فضائیہ کی کمان سنبھالی تو انہیں سخت صدمہ ہوا کہ نہ انہیں اور نہ ہی اصغر خان کو صدر ایوب خان یا جنرل موسیٰ نے یہ بتایا تھا کہ ہزاروں مجاہدین، جن میں پاک فوج کے کمانڈوز بھی شامل تھے، کشمیر میں اتارے جا چکے ہیں۔ وہ فوراً جی ایچ کیو گئے اور جنرل موسیٰ سے پوچھا کہ پاک فضائیہ کو اندھیرے میں کیوں رکھا گیا۔ جواب ملا کہ صدر اس محدود کارروائی کو وسیع جنگ میں بدلنا نہیں چاہتے تھے، اس لیے فضائیہ کو الگ رکھا گیا۔ نور خان جانتے تھے کہ یہ بدتدبیر اقدام لازماً آگ بھڑکائے گا۔ اگر بھارتی فضائیہ پیش قدمی کرکے پاک فضائیہ کو زمین پر ہی نشانہ بنا لیتی تو قوم کو کیا جواب دیا جاتا؟ تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کی مستعدی اور اسٹریٹجک بصیرت نہ ہوتی تو عددی برتری رکھنے والی بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں پاک فضائیہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا۔ یکم ستمبر کو انہوں نے پاک فضائیہ کو ریڈ الرٹ کر دیا جب آپریشن جبرالٹر دم توڑ رہا تھا اور بھارت نے پاکستان کے خلاف بڑے حملے شروع کر دیے تھے۔ ان لمحوں میں ان کی سب سے بڑی فکر وادیٔ کشمیر میں موجود مجاہدین کی بقا تھی، جن کے لیے رسد کی کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔

انہوں نے بارہویں ڈویژن کی کمان سے مشورہ کرکے سی۔ 130 طیاروں کے ذریعے وادی میں رسد پہنچانے کا حکم دیا اور خود خراب موسم، معمولی ریڈار اور گھپ اندھیرے میں پہلی پرواز پر سوار ہوئے۔ گروپ کیپٹن زاہد بٹ جب دونوں طرف بلند پہاڑوں کے درمیان قائم خطرناک ڈراپ زون سے آگے نکل گئے تو انہوں نے مشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نور خان نے ان کے کندھے پر جھک کر کہا کہ ایک بار پھر کوشش کریں۔ اس مرتبہ رسد عین نشانے پر گری۔ یہی وہ جرات تھی جس نے پاک فضائیہ کے حوصلے کو ناقابلِ یقین بلندیوں تک پہنچایا اور 1965 کی جنگ میں اس کی کارکردگی سنہری حروف میں لکھی گئی۔

مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں پشاور میں قائم اپنے اسکواڈرن کے ساتھ کئی مشنز میں ان کے ہمراہ بطور اسکارٹ فائٹر اُڑا۔ وہ سیدھے اپنی رہائش گاہ سے اسکواڈرن پہنچتے، فلائنگ گیئر پہنتے، کافی اور ہیمبرگر کا آرڈر دیتے، بالکل کسی نوجوان فائٹر پائلٹ کی طرح اور ہم جمرود کے فائرنگ رینج کی طرف روانہ ہو جاتے۔ روزانہ وہ ایسے ناقابلِ یقین اسکور کے ساتھ لوٹتے کہ مکمل فارم میں موجود بہترین پائلٹ بھی مشکل سے وہ کارکردگی دکھا پاتے۔ جب میں انہیں کہتا کہ آپ حملوں میں بہت نیچے جا رہے ہیں تو مسکرا کر کہتے، "جنگ میں دشمن پر اسی طرح حملہ کرنا پڑتا ہے"۔

جنگ جاری نہ تھی، مگر وہ بے قابو جذبے کے مالک تھے اور ہر مشن کے بعد ہٹ کاؤنٹ اور راکٹ نتائج کا انتظار کرتے۔ ایک دن جب میری پرواز تکنیکی خرابی کے باعث منسوخ ہوئی تو میرے فلائٹ کمانڈر انہیں رینج تک لے گئے۔ واپسی پر رینج آفیسر پہلے ہی انہیں بتا چکا تھا کہ انہوں نے ہدف پر کتنے نشانے لگائے ہیں۔ سیبر جیٹ کے ونگ پر کھڑے ہو کر وہ مسکرائے اور بولے، "اب تم اس کمبخت اسکور کو توڑ کر دکھاؤ، حیدر"۔ انہوں نے ہدف پر سو فی صد نشانے لگائے تھے، میرا ریکارڈ توڑ دیا تھا اور میری دانست میں یہ ریکارڈ آج تک کہیں بھی نہیں ٹوٹا۔

یہ تھے میرے بصیرت افروز رہبر و رہنما۔ ایسا انسان جو کسی چیز کو ناممکن نہیں سمجھتا تھا اور اپنی قابلیت، دیانت اور بے خوفی سے اسے ممکن بنا دکھاتا تھا۔ ایسی میراث کم ہی فضائی افواج کے حصے میں آتی ہے۔ الوداع، میرے چیف! مجھے معلوم ہے کہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ میں نے اپنی کتاب میں آپ کو ماورک، کہا، مگر آپ جانتے تھے کہ میرا مطلب یہ تھا کہ آپ بے مثال اور برق رفتار تھے اور یہ بات آپ کو اچھی لگتی تھی۔ پاکستان کی تاریخ آپ کو عسکری قیادت کے بلند ترین منصب پر جگہ دے گی۔ دعا ہے کہ آپ کی بہادر اور نجیب روح ابدی سکون پائے۔

کچھ نام وقت کی دھول میں گم نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے ماتھے پر چراغ کی طرح روشن رہتے ہیں۔ ایئر مارشل نور خان بھی انہی ناموں میں سے ہیں، ایسے انسان جن کی زندگی صرف عہدوں کی کہانی نہیں بلکہ کردار، جرات اور وقار کی مثال ہے۔ وہ قوت کے استعارے تھے مگر ان کی اصل پہچان انکساری تھی، وہ نظم و ضبط کے پیکر تھے مگر دل میں انسان دوستی کی حرارت رکھتے تھے۔ آج ان کی یاد میں لکھی جانے والی ہر سطر دراصل اس یقین کی تجدید ہے کہ اصل قیادت وہی ہوتی ہے جو دلوں کو فتح کرے اور اصل عظمت وہی ہے جو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھائے۔

فولاد سا بدن تھا، مگر دل میں نور تھا
جو طوفانوں میں بھی چراغوں کا دستور تھا

وہ جس نے خوف کو ہمت کی آنچ میں ڈھالا
ہر اک محاذ پہ اس کی جرات کا ظہور تھا

نہ تخت کا نشہ، نہ طاقت کا کوئی گھمنڈ
وقار اس کا ہتھیار، سادگی اس کا غرور تھا

فلک پہ نام اس کا ستاروں نے لکھ دیا
زمیں پہ اس کی مثال کردار کا منشور تھا

جہاں بھی راہ ملی، وہاں روشنی بکھیر دی
وہ رہبرِ وقت تھا، ہر دل کا سرور تھا

وہ آگ میں بھی اترا تو مسکرا کے اترا
یہی تو مردِ حق کی پہچان کا دستور تھا

نور خان! تری یادیں ہیں آج بھی زندہ
تو صرف ایک سپاہی نہیں، اک پورا عہدِ نور تھا

Check Also

Islami Tareekh Mein Khwateen Hukumran

By Muhammad Riaz