Thursday, 08 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Mere Ilm Mein Na Aane Wali Meri Agenti

Mere Ilm Mein Na Aane Wali Meri Agenti

میرے علم میں نہ آنے والی میری "ایجنٹی"

رنگ میں بھنگ ڈالنے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ ویسے بھی حکمران خواہ وہ کسی بھی دور کے ہوں صحافیوں سے توقع باندھتے ہیں کہ وہ اچھی خبریں دیں۔ توقع کا لفظ میں نے احتیاطاََ لکھا ہے۔ توقع کو حکم کا متبادل تصور کریں۔ خواہش یہ بھی ہوتی ہے کہ عوام میں مایوسی نہ پھیلائی جائے۔ مایوسی پھیلانا ویسے بھی اسلام میں کفر کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران دیگر شعائر پر عمل نہ کریں تب بھی عوام میں مایوسی پھیلانے والوں کا مکو ٹھپنے سے باز نہیں آتے اور مجھے زندہ رہنے کے لئے لکھنا ضروری ہے اور لکھنا بھی حکومت کے دئیے ڈیکلریشن سے نکالے اخبار میں ہے۔ ایسے اخبار کو اشتہار ملتے ہیں اور اشتہاروں کی بدولت میری تنخواہ کا حصول یقینی ہوجاتا ہے۔

میرا اگرچہ بس چلے تو اخباروں میں "اچھی" خبریں شائع کروانے کو بے چین طاقتوروں سے تنہائی میں چند گھنٹے ملاقات کروں۔ صحافت کو پچاس برس دے چکا ہوں۔ نصف صدی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں آج تک کوئی حکومت اخبار میں شائع ہوئی کسی خبر یا کالم کی وجہ سے زوال کا شکار نہیں ہوئی۔ اس کے اندر ہی سے کسی نے کام دکھایا تو ہم بے وقوفوں کو "عوامی جدوجہد" کے ذریعے "تبدیلی" کا گمان ہوا۔

اخباروں میں لکھنے والوں کے علاوہ شاعر خواتین وحضرات بھی خواہ مخواہ "انقلاب" برپا ہونے کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کے پہلے دیدہ ور اور فوجی آمر کے دئیے دستور کو "میں نہیں مانتا"والے مصرعہ کے ساتھ ٹھکرانے والے دیوانے -حبیب جالب- نے "بیس روپیے من آٹا اور اس پہ بھی ہے سناٹا" کے بارے میں پریشان کن حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ جس سناٹے کا انہوں نے فکر مندی سے مشاہدہ کیا وہ 1968ء کے اواخر تک مگر برقرار رہا۔

بالآخر دیدہ ور جنرل ایوب خان کے ایک نابغے "ماہر ابلاغیات" -الطاف گوہر- نے تعلق جن کا "سول سروس" سے تھا بطور سیکرٹری اطلاعات یہ فیصلہ کیا کہ اکتوبر1968ء کے دس دنوں کو 1958ء میں دیدہ ور کے لائے "انقلاب" کی وجہ سے "عشرہ ترقی" کی صورت منایا جائے۔ ان دنوں کراچی میں ایک طلبہ تنظیم ہواکرتی تھی۔ نام تھا اس کا نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن۔ پیپلز پارٹی کے ایک بانی رکن اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوئے معراج محمد خان اس کے صدر ہوا کرتے تھے۔ ان کے بعد اس تنظیم کی صدارت رشید حسن خان کے سپرد ہوئی۔ وہ ڈائو میڈیکل کالج کے طالب علم تھے۔

اس تنظیم نے فیصلہ کیا کہ "عشرہ ترقی" کو ناکام بنانے کے لئے عوام کے دُکھوں کا ذکر ہو۔ دُکھوں کے ذکرکے لئے تحریک کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات لاہور بھی پہنچ گئے۔ اس کے اثرات لاہور پہنچے تو میں گورنمنٹ کالج کے فرسٹ ایئرمیں داخل ہوچکا تھا۔ اس تنظیم میں شامل ہوا تو پورے پنجاب کا سیکرٹری جنرل ہوگیا۔ ہم نے لاہور میں اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے موچی دروازے کے عین سامنے واقع برکت علی محمڈن ہال میں ایک کنونشن کا اہتمام کیا۔ وہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ پر رونق رہا۔ ہمارے دور کے مشہور شاعر احمد ندیم قاسمی اس کے مہمانِ خصوصی تھے۔

کنونشن کے بعد ہم روزانہ کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے ایوب خان کے خلاف نکالے جلوسوں میں گھس کر اپنی ترجیح کے مطابق پھیپھڑوں کا زور لگاتے ہوئے "سوشلزم آوئے ای آوئے" کے نعرے لگاتے۔ ہمارے لگائے نعروں کی بدولت سوشلزم تو نہ آیا مگر مارچ 1969ء میں یحییٰ خان نے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد خود کو صدر بنانے کا اعلان کردیا۔ الطاف گوہر نے اس واقعہ کے کئی برس گزرجانے کے بعد جو کتابیں اور مضامین لکھے اس میں دعویٰ کرتے رہے کہ ایوب خان کے خلاف جو "عوامی تحریک" چلائی گئی تھی اس کے حتمی سرپرست جنرل یحییٰ خان تھے۔ انہیں گلہ تھا کہ 1958ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ایوب خان اسے چھوڑنے کو آمادہ ہی نہ ہورہا تھا جبکہ موصوف کا دل بھی کمزور ہوچکا ہے۔ 1968ء سے 2025ء گزرجانے کے بعد بھی میں بے وقوف ابھی تک یہ طے نہیں کرپایا کہ ایوب خان کی حکومت الٹانے میں میرا کردار یحییٰ خان کے ایجنٹ کا تھا یا اس کا زوال میرے جیسے سینکڑوں کارکنوں کی جدوجہد کی بدولت ہوا۔

1968ء میں تو عمر اور سوچ کے اعتبار سے مجھے نابالغ کہا جاسکتا ہے۔ 2007ء میں لیکن جب افتخار چودھری کے "انکار" کے بعد عدلیہ بحالی کی تحریک چلی تو میں خود کو مقامی ہی نہیں بلکہ عالمی امور کا بھی ذہین ترین ماہر سمجھنا شروع ہوگیا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے لاہور میں ہوئے ایک انٹرویو کے دوران افتخار چودھری کے "انکار" کی ٹی وی پر تصویر دیکھتے ہوئے چودھری اعتزاز احسن نے فوراََ اسلام آباد پہنچ کر چودھری صاحب کی "ڈرائیوری" کا ارادہ باندھ لیا تھا۔ میرا وسوسوں بھرا دل مگر افتخار چودھری کی معطلی کی وجہ سے چلائی تحریک کے بارے میں شکوک وشبہات کے بوجھ تلے دبا رہا۔

عوامی جذبات کے خوف سے میں ان شبہات کا اظہار اشاروں کنایوں میں کر دیا کرتا۔ پرنٹ صحافت سے تھک کر مگر پہلی بار لاکھوں میں تنخواہ دینے والی ٹی وی صحافت میں آچکا تھا اور وہاں ریٹنگز کے حصول کے لئے ضروری تھا کہ افتخار چودھری کی حمایت میں چلائی تحریک کی ڈٹ کر حمایت کی جائے۔ ریٹنگز، اچھی تنخواہ اور مشہوری کے لالچ میں "آزاد عدلیہ" کا بلند آہنگ حامی ہوگیا۔ بلند آہنگی نے مشرف حکومت کو نومبر 2007ء میں "ایمرجنسی پلس" کے نام سے ایک اور مارشل لاء لگانے کو مجبور کردیا۔

اس مارشل لاء نے میری کئی مہینوں تک صحافت سے چھٹی کروادی۔ یہ "چھٹی" مگر قابل رشک تعطیلات کی طرح تھی۔ عوام میں منہ پھٹ ہیرو مشہور ہونے کے علاوہ ہر مہینے کوئی کام کئے بغیر چھ مہینے تنخواہ بھی ملتی رہی۔ دل کو اس کے باوجود قلق رہا کہ "تاریخ کے اہم موڑ" پر میں عوام کے روربرو اپنے گرانقدر خیالات کے اظہار سے محروم ہوں۔ وقت گزرگیا تو مشرف کے دور میں اہم ترین ریاستی اداروں سے تعلق ر کھنے والے چند مہربان اور قابل اعتبار لوگ مختلف تاریخوں میں ہوئے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سمجھاتے رہے کہ مشرف کو اقتدار سے ہٹانے کی گیم تو اس دورکے جنرل یحییٰ یعنی جنرل کیانی نے لگائی تھی اور مجھ جیسے طرم خان خود کو خواہ مخواہ "ہیرو" تصور کرتے رہے۔

عمر کے آخری حصے میں گھنٹوں تنہا بیٹھے "غم جہاں کا حساب" کرتے ہوئے مستقل اسی شش وپنج میں مبتلا رہتا ہوں کہ واقعتا میں نے دو طاقتور آمروں کی حکومتیں گرانے میں اپنے شعور اور حیثیت کے مطابق کوئی کردار ادا کیا تھا یا ہمیشہ کسی آمر کو ہٹانے کے لئے ریاست کے اندر ہی سے ابھرے کسی یحییٰ یا کیانی کی "ایجنٹی" کی۔ "ایجنٹی" اگر حقیقت تھی تو مجھے اس کا علم کیوں نہ ہوا اور ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے میں اس کا معاوضہ کیوں نہ وصول کرپایا۔ ہوسکتا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں سکرین سے فارغ کئے جانے کے بعد مجھے جو تنخواہ چھ مہینے تک ملتی رہی وہ میری "ایجنٹی" کا معاوضہ تھی۔

عمران حکومت کے "سیم پیج" دور میں لیکن ساڑھے تین برس تک مجھے ٹی وی سکرین پر شکل دکھانے کی اجازت نہیں ملی۔ اس دوران جس ادارے کے لئے کام کرتا تھا اس نے ملازمت سے فارغ کردیا۔ کہیں سے بھی بے روزگاری کے دنوں میں معاضہ نہ ملا۔ عمران دور میں تنخواہ کے بغیر نازل ہوئی بے روزگاری سے پیغام ملتا ہے کہ ریاست جان چکی ہے کہ صحافی اپنی وقعت کھوبیٹھے ہیں۔ وہ منہ کھول بھی لیں تو اس کا کیا بگاڑ لیں گے۔ یہ سبق سیکھنے کے باوجود ہمیں "اچھی خبریں " دینے کو کیوں مائل کیا جارہا ہے؟

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

IMF Ke Tashkhees Karda Karve Ghoont

By Nusrat Javed