Sura e Mulk: Malik Hone Ka Weham
سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم
قرآنِ مجید کی بعض سورتیں ایسی ہیں جو محض معلومات فراہم نہیں کرتیں، بلکہ انسان کی پوری فکری عمارت کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ سورۃُ الملک انہی سورتوں میں سے ایک ہے۔ یہ سورت کسی ایک جزوی مسئلے پر گفتگو نہیں کرتی، بلکہ انسان کے اندر بیٹھے ہوئے سب سے بڑے فریب کو نشانہ بناتی ہے: یہ احساس کہ میں کنٹرول میں ہوں۔
سورۃُ الملک کی عظمت اور فضیلت کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی کتاب میں ایک سورت ہے جس میں صرف تیس آیات ہیں، وہ اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے گی"۔ (ترمذی: 2891، ابوداؤد: 1400، مسند احمد: 2/299)
ایک اور روایت میں آتا ہے: "قرآنِ مجید میں ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرے گی، یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کروا دے گی"۔ (مجمع الزوائد: 7/172، صحیح الجامع الصغیر: 3644)
سننِ ترمذی کی روایت کے مطابق نبی ﷺ سونے سے قبل سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (ترمذی: 2892)
شیخ البانیؒ نے السلسلۃ الصحیحہ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سورۃ الملک عذابِ قبر سے بچانے والی ہے یعنی اس کا اہتمام کرنے والا، اگر احکامِ اسلام کا پابند ہو، تو امید ہے کہ عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
یہ فضائل اس بات کا اعلان ہیں کہ سورۃُ الملک محض پڑھی جانے والی سورت نہیں، بلکہ جینے والی سورت ہے۔
الملک: ایک لفظ، ایک اعلان، ایک چیلنج
عربی زبان میں "الملک" صرف بادشاہت کا نام نہیں۔ یہ لفظ تین گہرے دائروں پر مشتمل ہے:
مِلک (Ownership) کامل ملکیت، مُلک (Dominion) مکمل اقتدار و اختیار، مَلِک (King) حکم چلانے والا، فیصلہ کرنے والا اور سورۃُ الملک ان تینوں مفاہیم کو ایک ہی سانس میں ثابت کرتی ہے۔
سورت کا آغاز ایک کلی اور حتمی اعلان سے ہوتا ہے: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الُمُلُكُ، یعنی: ساری بادشاہت، سارا اختیار، ہر فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
یہاں انسان کو صاف صاف بتایا جاتا ہے: تم نگران نہیں، مملوک ہو۔ تم مالک نہیں، محکوم ہو۔ تم مرکز نہیں، عبد ہو۔ یہ ایک فکری زلزلہ ہے۔
انسان اپنی روزمرہ زندگی میں مسلسل "میرا" کہتا ہے: میرا گھر، میرا وقت، میری اولاد، میرا جسم، میرا مستقبل۔۔ یہ "میرا" آہستہ آہستہ مالک ہونے کے احساس میں بدل جاتا ہے۔ سورۃُ الملک اسی احساس کو توڑنے آئی ہے۔ یہ سورت انسان کو یاد دلاتی ہے: تم جس زمین پر چل رہے ہو، وہ بھی تمہاری نہیں۔ تم جس سانس پر زندہ ہو، وہ بھی تمہاری نہیں۔ تم جس لمحے میں کھڑے ہو، وہ بھی تمہارا نہیں۔
یہ سورت ایک نہایت منظم فکری سفر ہے: سب سے پہلے الملک کا اعلان، پھر زندگی اور موت کو آزمائش قرار دینا، پھر آسمان کی مضبوطی دکھا کر انسان کی نظر کو تھکانا، پھر زمین کی ناپائیداری کا احساس دلانا، پھر رزق کے باب میں انسان کی بے بسی اور آخر میں۔۔ پانی۔
یہ ترتیب ہرگز اتفاقی نہیں۔ یہ سورت انسان کو اقتدار کے تصور سے اٹھا کر انحصار کی حقیقت پر لا کھڑا کرتی ہے۔
سورۃ کے آخر میں ایک سادہ مگر ہلا دینے والا سوال کیا جاتا ہے: اگر تمہارا پانی زمین میں اتر جائے، تو کون ہے جو تمہیں بہتا ہوا پانی لا دے؟ یہاں نہ سلطنت کی بات ہے، نہ طاقت کی، نہ علم کی۔ صرف پانی۔ کیوں؟ کیونکہ پانی وہ نعمت ہے جس کے بغیر بادشاہ بھی مر جاتا ہے، فلسفی بھی بے بس ہے اور سائنس بھی خاموش ہو جاتی ہے۔ یہ ایک سادہ مگر قاتل سوال ہے: اگر بنیادی ترین نعمت چھن جائے، تو تمہارا اختیار کہاں گیا؟
کیونکہ یہ سورت انسان سے اس کا سب سے بڑا جھوٹ چھیننے آئی ہے۔ وہ جھوٹ یہ ہے: میں کنٹرول میں ہوں۔ سورۃُ الملک کا پورا اسٹرکچر ایک گہرا نفسیاتی نیٹ ورک ہے۔ قرآن چاہتا تو اس سورت کا نام "الخضوع"، "الموت" یا "الماء" بھی رکھ سکتا تھا۔ لیکن نہیں۔ نام رکھا: الُمُلُك تاکہ انسان پہلے سوچے: ہاں، طاقت، اختیار، سلطنت۔۔ یہ بات میرے لیے ہے اور پھر سورت آہستہ آہستہ اس کی سوچ کو بے نقاب کر دے۔ یہ سورت "ملک" کو define نہیں کرتی یہ انسان کے لیے deny کرتی ہے۔ انسان ملک کا مالک نہیں۔ انسان زمین کا مالک نہیں۔ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں۔ انسان اپنے وقت کا مالک نہیں۔ حتیٰ کہ انسان اپنی موت کے لمحے کا بھی مالک نہیں۔
پھر سوال اٹھتا ہے: تو ملک کس کا ہے؟ اور جواب ہر آیت میں ایک ہی ہے: الَّذِي بِيَدِهِ الُمُلُكُ۔
یہ نام ایک طعنہ بھی ہے سورۃ کا نام گویا انسان سے کہتا ہے: اچھا؟ تم خود کو مالک سمجھتے ہو؟ چلو، ذرا آسمان کو دیکھو۔۔ پھر زمین کو دیکھو۔۔ پھر قبر کو دیکھو۔۔ پھر پانی کو دیکھو اور آخر میں سوال: اب بتاؤ، مالک کون؟
سورۃُ الملک یہ نہیں کہتی: "اللہ طاقتور ہے" یہ کہتی ہے: تم powerless ہواور تم نے یہ مانا نہیں اور یہی انکار انسان کو ہلاک کرتا ہے۔ اسی لیے یہ سورت قبر میں روشنی بنے گی۔ کیونکہ قبر میں انسان کے پاس نہ اختیار ہوتا ہے، نہ دفاع، نہ "میرا"۔ وہاں صرف یہ دیکھا جاتا ہے: تم نے دنیا میں کس کو مالک مانا تھا؟ سورۃُ الملک گواہی دے گی: یہ وہ شخص تھا جس نے زندگی میں بھی خود کو مالک نہیں سمجھا۔
سورۃُ الملک کا اصل مقصد انسان کے جھوٹے اختیار کو توڑنا، اس کے غرور کو بے نقاب کرنا اور اسے اس کی اصل حیثیت یاد دلانا ہے۔ یہ سورت انسان کو تخت سے اتارتی ہے اور بندگی پر بٹھا دیتی ہے اور یہی قرآن کا مقصد ہے۔

