1.  Home/
  2. Blog/
  3. Syed Mehdi Bukhari/
  4. Aik Muhabbat So Afsane

Aik Muhabbat So Afsane

اشفاق احمد مرحوم نے "ایک محبت سو افسانے" میں محبت کی مختلف شکلوں کو کہانیوں کی صورت لکھا ہے۔ محبت تو ایک جذبہ ہے جو انسانوں کے مابین کسی بھی شکل میں جنم لے سکتا ہے صرف مرد و زن کے درمیاں ہی محبت نہیں ہوا کرتی۔ یہ ایسا جذبہ ہے جو زمان و مکان کی قید سے ماورا ہوا کرتا ہے۔ میں نے ایک ایسا کردار بھی دیکھا جو ریٹائرڈ فوجی تھا اور اسے اپنی بھینس سے شدید محبت تھی۔

اس کا نام پیار سے "کالو" پکارا کرتا۔ ہیڈ مرالہ سیالکوٹ میں چناب کنارے ایک ٹھٹھرتی دھند بھری صبح میں وہ مجھے ملا تھا۔ وہ کردار کسی افسانے کا نہیں جیتا جاگتا انسان تھا۔ ایسے ہی سرما کی ایک صبح میں، دھند بھرے دنوں میں میرے گھر کے سامنے ایک شخص بطور چوکیدار آیا۔ سنہ 2019 کے اوائل کے دن تھے۔ گھر کے سامنے خالی پلاٹ پر ایک ٹھیکیدار نے تعمیر شروع کروائی۔

ڈھانچہ کھڑا ہونے لگا اور ایک دن اس گھر کی نگرانی کو ایک درمیانی عمر کا چالیس، پنتالیس سالہ شخص چوکیدار معین کیا گیا۔ وہ شخص دن میں گھر کے باہر چارپائی ڈالے جنوری کی دھوپ سینکتا رہتا اور شام ہوتے ہی چارپائی اس ادھورے گھر کے اندر منتقل ہو جایا کرتی۔ میں گھر سے باہر نکلتے یا کام بھگتا کے گھر آتے اسے ایک نظر دیکھتا۔ وہ دور سے ہی ہاتھ اٹھا کر سلام کرتا۔ اکثر اوقات دن میں وہ نئی کھڑی گھر کی دیواروں کو پانی دیتا نظر آتا۔

میرا اکلوتا بیٹا جو اب بارہ سال کا ہونے کو آیا اس کا معمول تھا کہ وہ شام کو اپنی سائیکل لئے گھر کے آگے چکر لگاتا رہتا۔ اس کے ہم عمر محلے دار دوست بھی اپنی سائیکلز لئے آ جاتے۔ نجانے کیسے میرے بیٹے کی اس شخص کے ساتھ علیک سلیک ہوئی۔ وہ اکثر گھر آ کر میری بیگم کو کہتا "ماما چائے بنا دیں وہ سامنے والے انکل کو دینی ہے"۔ کبھی گھر سے کوئی فروٹ، کبھی بسکٹ، کبھی کچھ لے جاتا۔

ایک روز میں گھر آیا تو بیگم نے مجھے کہا کہ حسن کو سمجھائیں وہ جو سامنے گھر والا چوکیدار ہے یہ اس کی چارپائی پر بیٹھا اس سے باتیں کرتا ہے۔ اسے چائے، پانی پہنچانے تک تو بات ٹھیک تھی مگر آپ سمجھدار ہیں آج کے دور میں بچے کا اس طرح کسی اجنبی کے قریب ہونا اچھا نہیں۔ وہ مزدور پیشہ انسان ہے نجانے کس فطرت کا ہو؟ میں نے آج سے حسن کا باہر جانا منع کر دیا ہے، آپ بھی اسے سختی سے سمجھائیں کیونکہ آپ کی بات وہ سمجھ جاتا ہے۔

یہ سن کر مجھے سمجھ آ گئی کہ بیگم کیا کہنا چاہ رہی ہے اور اس کی بات بھی بالکل مناسب تھی۔ میں اس شخص کو جانتا تک نہیں اور یوں بچے سے قربت بڑھانا آج کے دور میں مناسب بھی نہیں۔ میرا اکلوتا بیٹا تھا یہ سوچ کر مجھے ڈر لگنے لگا۔ میں نے بیٹے کو بلایا اسے سمجھایا تو وہ بولا " بابا، انکل تو مجھ سے کھیلنے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں، وہ تو اپنا بتاتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو بنٹے کھیلتے تھے، وہ بہت اچھے انکل ہیں۔

میرے لئے وہ سپیشل دکان سے چاکلیٹ اور کینڈیز لے کر آتے ہیں"۔ یہ سن کر مجھے انجان سے خدشے آنے لگے کہ آخر یہ سب وہ شخص کیوں کر رہا ہے؟ میں نے بھی اس کے سائیکل چلانے پر پابندی لگا دی اور اگلے دن اس شخص کو بغور دیکھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اسے مل کر کہوں کہ آئندہ میرے بیٹے کے قریب نہیں آنا مگر نجانے کیوں جب اسے غور سے دیکھا مجھے یہ بات کہنے کی ہمت نہ ہو سکی۔

شکل و صورت سے وہ بڑا مسکین سا انسان تھا۔ میں نے اس سے بات نہیں کی۔ آتے جاتے وہ معمول کے مطابق ہاتھ اٹھا کر دور سے سلام کرتا رہتا میں بھی ہاتھ ہلا کر جواب دے دیتا۔ دو دن گزرے، میں گھر پر نہیں تھا، اس نے گھر کی بیل بجائی، بیگم نے دیکھا تو پوچھا کہ کیا بات ہے؟ وہ بولا " آپ کا بیٹا دو دن سے نظر نہیں آیا میں نے پوچھنا تھا کہ سب خیریت ہے ناں بیٹی؟ کہیں وہ بیمار تو نہیں پڑ گیا؟"

بیگم نے اسے اندر سے ہی جواب دے دیا کہ سب خیر ہے بس وہ سکول کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے، آپ فکر نہ کریں اس کی۔ اس دن کے بعد شاید میری بیگم کے جواب سے اس کو بھی کچھ سمجھ آ گئی کہ ان کو میرا بچے کے ساتھ باتیں کرنا پسند نہیں۔ وہ پھر کبھی نہیں آیا۔ دو چار بار یوں ہوا کہ ہم گھر سے نکلنے لگتے تو وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے میرے بیٹے کو دور سے دیکھ کر ہاتھ ہلا دیتا اور کہتا " حسن کیا حال ہے"؟ حسن جواب دیتا " انکل میں ٹھیک ہوں "۔

اس کا جواب آتا " مولا پنجتن پاک کے صدقے بیٹے کو ہمیشہ ٹھیک رکھے"۔ اتنی سی گفتگو جو ہمارے سامنے ہوتی یہ اکثر مجھے اس سوچ میں ڈال دیتی کہ بظاہر وہ شخص خیرخواہ اور بے ضرر ہی لگتا ہے مگر پھر خیال آتا کہ دل کی نیت کسے معلوم؟ اگلے دو ماہ ایسے ہی گزرے۔ گھر مکمل ہو گیا تو اس شخص کو جانا پڑا۔ مالک مکان کو اب چوکیدار کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ گھر کے باہر "فار سیل" کا بینر لگ گیا۔ گھر بکا اور اس میں ایک فیملی رہنے کو آ گئی۔ اس شخص کو سب بھول گئے۔ میرے ذہن سے بھی محو ہو گیا۔

2019 کی جاتی گرمیوں کے دن تھے۔ شاید اکتوبر کا آغاز تھا۔ دروازے پر بیل ہوئی۔ میں نے نکل کر دیکھا تو وہی شخص کھڑا تھا۔ قریب ہی اس کی سائیکل سٹینڈ پر لگی ہوئی تھی۔ جیسے ہی میں باہر نکلا اس نے مجھے دیکھتے ہی سلام کیا اور پنجابی میں بولا " صاحب جی، آپ کے بیٹے کا کیا حال ہے؟ میں یہاں سے کام ختم کر کے گزر رہا تھا تو سوچا اس کا پتا کرتا چلوں۔

مجھے وہ اپنے بیٹے جیسا لگتا ہے صاحب جی اور کوئی ایسی بات نہیں۔ اگر وہ گھر ہے تو اسے یہ چاکلیٹ دے دیں"۔ اس نے جیب سے ڈیری ملک نکالی اور میرے سامنے کر دی۔ اس دن مجھے اس پر عجیب سا پیار آیا۔ میں نے سر سے پاؤں تک اسے دیکھا وہ شاید کہیں سے مزدوری کر کے آ رہا تھا۔ کپڑوں پر اینٹ کا برادہ لگا تھا جس کی وجہ سے اس کی قمیض سرخ دھبوں سے بھری ہوئی تھی۔

میں نے اس سے چاکلیٹ لی اور کہا کہ ٹھہرو میں ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولتا ہوں اندر آ کر پانی وغیرہ پی جاؤ اور حسن کو بلا لیتا ہوں۔ وہ بولا " نہیں اندر آنے کی ضرورت نہیں آپ تکلف نہ کریں صاحب جی اگر کاکے کو یہیں بلا لیں تو کافی ہے"۔ میں نے اندر آ کر دروازہ کھول کر اسے بٹھایا۔ بیگم کو کہا کہ کوئی ٹھنڈی شے بنا لاؤ۔ بیگم اسے دیکھ کر ٹھٹکی اور پھر مجھے دیکھ کر کچن میں چلی گئی۔ میں نے اپنے بیٹے کو بلایا۔

وہ اپنے بالائی کمرے سے سیڑھیاں اتر کر نیچے ڈرائنگ روم میں آیا۔ اس نے جیسے ہی اس شخص کو دیکھا پاس آ کر سلام کیا اور ہینڈ شیک کرنے کو ہاتھ بڑھایا۔ اس شخص نے ہینڈ شیک کر کے حسن کو پاس بٹھایا اور بولا " آپ تو مجھے بھول گئے ہو گے مگر میں تو آپ کو نہیں بھولا۔ میں آپ کے لئے چاکلیٹ لایا ہوں "۔ بیٹے نے سن کر کہا " انکل آپ اب کہاں کام کرتے ہیں؟" بولا " یہیں کچھ دور ایک مکان بن رہا ہے میں وہاں کام کر رہا ہوں"۔

وہ دونوں ایسے ہی عام باتیں کرتے رہے تو میں دیکھتا رہا۔ پھر اس نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا "صاحب جی بات یہ ہے کہ مجھے حسن اپنے بیٹے جیسا لگتا ہے۔ یہ بہت پیارا بچہ ہے خدا اسے اور آپ سب کو سلامت رکھے۔ میری کوئی اولاد نہیں ہوئی بس مجھے یہ اچھا لگا۔ مجھے پتا تھا کہ آپ لوگوں کو یہ پسند نہیں کہ بچہ گلی میں جا کر مجھ سے باتیں کرے۔ آج یہاں سے گزر ہوا تو یاد آ گئی، میں رہ نہیں پایا تو سوچا آپ سے ملاقات کر کے بتا دوں۔ "

اس دن مجھے اس کا نام معلوم ہوا۔ میں نے اس کا موبائل نمبر بھی لے لیا۔ جب وہ سائیکل پر رخصت ہوا تو نجانے کیوں اسے جاتا دیکھ کر آنکھ نم ہو گئی۔ وقت گزرا، وہ پھر واپس نہیں آیا۔ لاک ڈاون ہوا، اپریل کے وسط میں مجھے ایک بار خیال آیا کہ دیہاڑی پیشہ لوگوں کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں تو منور حسین کا معلوم کروں کہ کیسا ہے؟ اگر ضرورت ہو تو کچھ راشن کے سلسلے میں مدد کر دوں۔

اس وقت پھر ذہن کہیں اور بھٹک گیا اور بات ذہن سے نکل گئی۔ میں نے وہ ساری امداد کچھ بیواؤں میں تقسیم کر دی۔ رمضان کے آخری عشرے میں ایک دوست نے پچاس ہزار بھجوائے کہ عید سے پہلے ان کو مستحقین میں تقسیم کر دیں۔ میں وہ رقم اور کچھ اپنے سے ڈال کر نکلا۔ میرا ارادہ 5 ہزار فی گھر بطور عیدی دینے کا تھا۔ یہ بال بچوں والی بیوائیں تھیں جن کا والی وارث کوئی نہیں رہا۔

اس دن میں نے اپنے بیٹے کو ساتھ لے لیا تا کہ یہ بھی سیکھ سکے یا معاشرے کے المیوں کو دیکھ سکے۔ کل کو بڑا ہو کر یہ بھی کچھ تو درد دل رکھے۔ اس دن حسن پورہ لاہور میں اعوان ٹاؤن کے اطراف میں پھرتے یکدم مجھے منور حسین کی یاد آئی۔ میں نے فون نکالا اور اسے ملا دیا۔ اس نے کال اٹھائی۔ میں نے خیریت معلوم کی اور پوچھا کہ کسی شے کی ضرورت ہو تو بلا تکلف بتاؤ۔

اس نے شکریے کے ساتھ انکار کر دیا تو میں نے کہا اچھا مجھے اپنا گھر بتاؤ کہاں رہتے ہو؟ میں باہر ہی نکلا ہوا ہوں شاید چکر لگا لوں اور بیٹا بھی ساتھ ہے۔ اس نے خوش ہو کر مجھے پتا بتایا۔ وہ کاہنہ کا کچا سا علاقہ تھا۔ میں نے گاڑی کاہنہ کی سمت موڑ دی۔ سڑک کے اوپر کاہنہ روڈ پر الیاس دمبہ کڑاہی کی برانچ ہے۔ وہ وہیں سائیکل پر مجھے ملنے پہنچا ہوا تھا۔ اس کا گھر اندر کہیں گلیوں میں واقع تھا۔

میں وہیں سڑک پر اسے ملا۔ وہ میرے بیٹے کو ملا اور پھر اس نے جیب سے ٹافیز نکال کر اسے دے دیں۔ میں نے چلتے ہوئے اس کی ہتھیلی پر پانچ ہزار کا نوٹ رکھنا چاہا۔ اس نے مجھے کاندھے سے تھاما اور پیسے میری شرٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے بولا " صاحب جی مزدور ہوں مگر خیرات نہیں لی کبھی۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی طرف سے احساس کیا مگر قسم ہے ربّ سوہنے کی کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں"۔

میں یہ سن کر اس کا چہرہ دیکھتا رہا جس پر صدیوں کا سکون ٹھہرا تھا۔ ایسا مطمئن اور ہلکا سا مسکراتا چہرہ میں نے غربت کا شکار لوگوں میں بہت کم دیکھا ہے۔ منور حسین دل کا آدمی ہے۔ دل والے لوگ اگر محبت کریں تو خالص کیا کرتے ہیں۔ یہ ہم ہی ہیں جو ملاوٹ زدہ ماحول میں رہتے سوچ بھی ملاوٹی بنا بیٹھے ہیں۔ محبت کی کئی شکلیں ہیں۔

یہ کئی بھیس بدلتی ہے۔ احساس محرومی بھی ایک محبت کی شکل ہے۔ منور حسین کی اولاد نہیں مگر اس کی وراثت خالص محبت ہے۔ میرا بچہ جب شعور کی منزل کو پہنچے گا وہ اپنے باپ کی کہانی پڑھ کر اس شخص کو یاد کرے گا جو اس کے لئے چاکلیٹ لایا کرتا تھا۔ اس وقت تک شاید وہ اور میں مٹی اوڑھے سو چکے ہوں گے۔

Check Also

Phir Bhi Hum Chup Hi Rahe

By Asifa Ambreen Qazi