Hajoom e Qaum Ka Safar Shaoor Se Zawal Tak
ہجوم قوم کا سفر شعور سے زوال تک

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ جھوٹ بولنے والے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سچ سننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں ہم ایک ایسی قوم بنتے جا رہے ہیں جہاں حق واضح ہونے کے باوجود باطل کے قافلے میں شامل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جھوٹ ہمارے سامنے کھلی کتاب کی مانند پڑا ہوتا ہے کردار سب کے عیاں ہوتے ہیں مفاد پرستوں کے چہرے پہچانے جاتے ہیں مگر پھر بھی لوگ انہی کے نعروں میں اپنی عقل، ضمیر اور شعور دفن کر دیتے ہیں آخر کیوں؟
یہ سوال اب ہر باشعور انسان کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ ہماری عوام آخر کس سمت جا رہی ہے وہ قوم جو کبھی اصولوں غیرت، حق گوئی اور شعور کی بات کیا کرتی تھی آج وقتی مفاد، لالچ، برادری، تعصب اور اندھی تقلید کے اندھیروں میں کیوں بھٹک رہی ہے کیوں ہر پانچ سال بعد وہی چہرے، وہی جھوٹ، وہی وعدے اور وہی مفاد پرست کردار نئے نعروں کے ساتھ عوام کے کندھوں پر سوار ہو جاتے ہیں۔ سیاستدان اگر اقتدار کے لیے نظریات بیچ رہے ہیں تو یہ ان کا کردار ہے مگر سوال یہ ہے کہ عوام کیوں ہر بار خود کو فروخت ہونے دیتی ہے کیوں حق اور سچ کو جاننے کے باوجود جھوٹ کے جلوس میں شامل ہو جاتی ہے آخر کس لالچ نے ہماری سوچ کو اس قدر مفلوج کر دیا ہے کہ ہم کردار نہیں دیکھتے صرف نعرے دیکھتے ہیں ہم سچ نہیں دیکھتے صرف اپنا وقتی فائدہ دیکھتے ہیں۔
ہم خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں مگر ہمارے اعمال کہیں نہ کہیں ہمیں ہجوم میں بدل چکے ہیں ایسا ہجوم جو سوچتا نہیں صرف چلتا ہے جس سمت شور زیادہ ہو جس طرف مفاد کی بو زیادہ ہو، اسی طرف دوڑ پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج معاشرہ اصولوں سے خالی اور مفاد سے بھرا ہوا نظر آتا ہے یہاں ضمیر خاموش ہیں، سچ تنہا کھڑا ہے اور جھوٹ کے گرد ہزاروں کا ہجوم ہے۔
ہمارا سیاسی نظام بھی ایک اندھی نگری میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں نظریات کی کوئی قیمت نہیں رہی امیدوار ہر الیکشن میں پارٹی بدلتا ہے کل جس کو چور کہتا تھا آج اسی کے قدموں میں بیٹھا نظر آتا ہے اور افسوس یہ ہے کہ عوام بھی اسے قبول کر لیتی ہے نہ سوال نہ احتساب، نہ شرمندگی گویا ہم نے اجتماعی طور پر سچ سے منہ موڑ لیا ہے قومیں صرف دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب لوگ حق پہچاننے کے باوجود خاموش رہیں جب ضمیر مفاد کے ہاتھوں بک جائیں اور جب جھوٹ کو سہولت کے لیے قبول کر لیا جائے۔
آج ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ ہم آخر کہاں کھڑے ہیں؟ ہم اپنے بچوں کو کیسا معاشرہ دے رہے ہیں وہ معاشرہ جہاں کردار سے زیادہ چاپلوسی اہم ہو جہاں حق بولنے والا پاگل اور جھوٹ بولنے والا لیڈر سمجھا جائے اگر اب بھی ہم نے شعور سچ اور اصولوں کی طرف واپسی نہ کی تو آنے والا وقت صرف سیاستدانوں کا نہیں پوری قوم کے زوال کا نوحہ لکھے گا۔ کیونکہ جب قومیں سوچنا چھوڑ دیتی ہیں تو پھر ان کے فیصلے ضمیر نہیں ہجوم کیا کرتا ہے اور پھر یہ فیصلے تباہی کے راستے کیطرف لے جاتے ہیں جہاں سوائے ندامت کے کچھ نہیں۔

