Deal Nahi Karun Ga
ڈیل نہیں کروں گا

مر جاؤں گا مگر ڈیل نہیں کروں گا یہ جملہ سیاست کے شور میں ایک للکار کی طرح سنائی دیتا ہے یہ محض الفاظ نہیں ایک اعلانِ مزاحمت ہے ایک ایسی سیاست کا دعویٰ جو سمجھتی ہے کہ سمجھوتہ وقتی نجات تو دے سکتا ہے مگر تاریخ میں ایک مستقل سوالیہ نشان بھی چھوڑ جاتا ہے۔
تین برس کی آزمائش دو سو سے زائد مقدمات تحقیقات، پیشیاں، گرفتاریوں کا تسلسل اور پھر بھی وہی جملہ نہ جھکنے کا نہ بکھرنے کا لیکن سوال یہ ہے کہ یہ انکار صرف ایک فرد کا ہے یا ایک نظام کی کہانی بھی بیان کرتا ہے؟
پاکستان کی تاریخ دو واضح تصویریں دکھاتی ہے۔ ایک جب جنرل ضیاءالحق نے براہِ راست مارشل لا نافذ کیا دوسری جب پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور آئینی ڈھانچہ معطل کر دیا اُس وقت طاقت پردے کے پیچھے نہیں سامنے کھڑی تھی۔ آج اگر کوئی کہتا ہے کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کھلے عام اقتدار سنبھال کیوں نہیں لیا جاتا مارشل لا کیوں نہیں لگا دیا جاتا چھپ کر وار کیوں کیا جاتا ہے چھپ کر جمہوریت کا گلہ کیوں کاٹا جاتا ہے شاید اس لیے کہ دنیا بدل چکی ہے براہِ راست آمریت آج کے دور میں بین الاقوامی تنہائی۔
معاشی دباؤ اور داخلی بحران کو دعوت دیتی ہے اس لیے اگر طاقت کا جھکاؤ بڑھ بھی جائے تو وہ آئینی لبادہ اوڑھ لیتا ہے پارلیمنٹ قائم رہتی ہے عدالتیں فیصلے دیتی ہیں انتخابات بھی ہوتے ہیں مگر بحث یہ جاری رہتی ہے کہ اصل سمت کون طے کر رہا ہے ایسے ماحول میں "ڈیل نہ کرنے" کا بیانیہ قوت پکڑتا ہےاگر مقدمات دباؤ کا ذریعہ سمجھے جائیں تو انکار اخلاقی برتری فراہم کرتا ہے لیکن سیاست میں صرف اخلاقی برتری کافی نہیں ہوتی مستقل مزاجی بھی درکار ہوتی ہے۔
پارٹیوں کے اندر بھی دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو پریس کانفرنسوں میں وفاداری دہراتے ہیں اور ایک وہ جو مشکل وقت میں عملی قیمت ادا کرتے ہیں۔ کبھی خاندان کی خواتین ڈھال بن جاتی ہیں، کبھی کارکن جیلوں میں آزمائش جھیلتے ہیں۔ مزاحمت جب شخصی حدود سے نکل کر علامت بن جائے تو وہ سیاسی سے زیادہ نفسیاتی قوت حاصل کر لیتی ہے مگر اصل سوال فرد سے بڑا ہے کیا مسئلہ صرف ایک جرنیل ایک رہنما یا ایک جماعت کا ہے یا یہ طاقت کے توازن کا پرانا مسئلہ ہے جو بار بار سر اٹھاتا ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں یہ اداروں کی حد بندی آئین کی بالادستی اور سیاسی برداشت کا نام ہے جب پارلیمنٹ کمزور ہو جماعتیں تقسیم ہوں اور عدلیہ تنازعات میں گھری ہو تو خلا پیدا ہوتا ہے اور سیاست میں خلا خالی نہیں رہتا
معیشت خراب ہو تو براہِ راست سوال حکمران سے ہوتا ہے لیکن نیم جمہوری فضا میں الزام اکثر سویلین چہرے پر آتا ہے اور طاقت کی اصل لکیر دھندلی رہتی ہے یہی دھند ہماری سیاست کا مستقل منظرنامہ ہے۔ آخرکار فیصلہ وقت نے کرنا ہے کیا یہ جملہ مر جاؤں گا مگر ڈیل نہیں کروں گا تاریخ میں استقامت کے عنوان سے لکھا جائے گا؟ یا وقت کے ساتھ یہ بھی ایک سیاسی باب بن کر رہ جائے گا؟
سیاست میں سب سے مہنگی چیز اصول ہے، جو بیچ دے وہ فوری سکون پا لیتا ہے جو بچا لے وہ طویل آزمائش میں داخل ہو جاتا ہے۔ وقت خاموش بھی ہے اور بے لاگ بھی وہ نعروں سے متاثر نہیں ہوتا وہ نتیجے محفوظ کرتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیجہ اصول کا نکلتا ہے یا مفاہمت کا۔

