Friday, 20 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Bandagi Ka Matlab Rab Ki Manna Hai

Bandagi Ka Matlab Rab Ki Manna Hai

بندگی کا مطلب رب کی ماننا ہے

رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ شکر ہے اُس ذاتِ کریم کا جس نے ہمیں ایک بار پھر مہلت دی کہ ہم اس مقدس مہینے کی رحمتوں سے وابستہ ہوں اور قربِ خداوندی کے سفر پر قدم رکھ سکیں۔ تمام تعریفیں اُس ربِّ دو جہاں کے لیے جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے جو ستر ماؤں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے جو کسی جان پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

ہم اُس خالق کی حمد کیسے بیان کریں جس نے ہمیں زبان دی سماعت دی، شعور دیا ہمارے لفظ محدود ہماری عقل ناقص مگر اُس کی عطائیں بے شمار دعا ہے کہ وہ ہمیں اتنا فہم و علم عطا فرمائے کہ کم از کم ہم اُس کی حمد و ثنا کو سمجھ کر ادا کر سکیں۔ آج کی یہ تحریر کیا ہم واقعی عبادت اللہ کے لیے کرتے ہیں اگر کرتے ہیں تو اس کے ثمرات ہماری زندگیوں میں کیوں ظاہر نہیں ہوتے۔

یہ سوال صرف ذہن کا نہیں ضمیر کا سوال ہے آج ہر شخص پریشان ہے دل بے سکون گھر بے برکت معاشرہ بے چین زبان پر دعا ہے مگر کردار میں دھوکہ سجدہ بھی ہے اور تکبر بھی تسبیح بھی ہے اور حسد بھی اگر عبادت حقیقتاً اللہ کے لیے ہوتی تو اس کا پہلا اثر ہمارے اخلاق پر ظاہر ہوتا دوسرا ہمارے معاملات پر اور تیسرا ہمارے دل کے اطمینان پر عبادت کا مقصد کیا ہے؟

عبادت صرف رکوع و سجود کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر گوشے میں اللہ کے حکم کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ اگر نماز ہمیں برائی سے نہ روکے تو وہ حرکات کی مشق تو ہو سکتی ہے روح کی تربیت نہیں اگر روزہ ہمیں جھوٹ غیبت اور فریب سے نہ بچائے تو وہ بھوک تو ہو سکتی ہے تقویٰ نہیں پھر ہم شکوہ کیوں کرتے ہیں کہ دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

قبولیت کا دروازہ اخلاص اطاعت اور عمل سے کھلتا ہے محض الفاظ سے نہیں آج کا انسان خود کو اللہ کا بندہ کہتا ہے مگر اُس کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنے سے گریزاں ہے۔

کاروبار میں بے ایمانی تعلقات میں خود غرضی سیاست میں مفاد اور عبادت میں نمائش یہ کیسی بندگی ہے؟

ہم رب کو مانتے ہیں مگر اُس کی ایک نہیں مانتے ہم کہتے ہیں اللہ اکبر مگر عملی زندگی میں اپنے مفاد کو اکبر مانتے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض ڈاکٹر پر ایمان بھی رکھے مگر دوا نہ کھائے اور پھر شفا نہ ملنے کا شکوہ کرے۔ یہ بھی یاد رہے کہ رب کے سامنے گڑ گڑانے والے کبھی آزمائش سے مبرا نہیں ہوتے آزمائش زندگی کا حصہ ہےمگر فرق یہ ہے کہ مخلص بندہ آزمائش میں بھی ٹوٹتا نہیں بکھرتا نہیں۔ اُس کے دل میں سکون ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا رب حکیم ہے پریشانی کا نہ ہونا عبادت کی دلیل نہیں بلکہ پریشانی میں ثابت قدم رہنا عبادت کا ثمر ہے اصل کمی کہاں ہے؟

کمی عبادت میں نہیں، نیت میں ہے
کمی سجدے میں نہیں کردار میں ہے

کمی دعا میں نہیں عمل میں ہے
جب تک عبادت ہماری عملی زندگی کو نہ بدلے

جب تک ہمارا دل نرم نہ ہو جب تک ہماری زبان سچ پر قائم نہ ہو تب تک ہماری عبادت صرف ایک رسم رہ جائے گی روح نہیں بنے گی خود سے سوال کریں آج ہمیں خود سے پوچھنے کی ضرورت ہےکیا ہم اللہ کو مان کر اُس کی نافرمانی کرتے ہیں؟

کیا ہم سجدہ کرکے بھی غرور میں جیتے ہیں؟
کیا ہم دعائیں مانگتے ہیں مگر حقوق العباد ادا نہیں کرتے؟

اگر جواب ہاں ہے تو ہمیں عبادت پر نہیں اپنی نیت اور عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے آخرکار بندگی کا مطلب رب کو ماننا ہی نہیں بلکہ اُس کی ماننا ہے جب ایمان زبان سے اتر کر دل میں اور دل سے نکل کر کردار میں آ جائے۔ تب عبادت کے ثمرات دکھائی دیتے ہیں تب پریشانیاں بھی سکون بن جاتی ہیں اور آزمائشیں بھی قرب کا ذریعہ۔

اللہ ہمیں وہ بندگی عطا فرمائے جو لفظوں کی نہیں عمل کی ہو۔ وہ سجدہ دے جو دل کو جھکا دے اور وہ ایمان دے جو تضاد سے پاک ہو۔ آمین اگر اللہ کو مانتے ہو تو اسکی مانو اللہ کو ماننے سے کچھ فائدہ نہیں جب تک اسکی مانی جائے۔

Check Also

Ilm Ka Mojud, Faqr Ka Mojud

By Asif Masood