Ilm Ka Mojud, Faqr Ka Mojud
علم کا موجود، فقر کا موجود

اقبال کے اس شعر میں جو بظاہر چند سادہ الفاظ پر مشتمل ہے، دراصل فکرِ انسانی کی صدیوں پر پھیلی ہوئی کشمکش سمٹ آئی ہے۔ "علم کا موجود" اور "فقر کا موجود" دو الگ الگ نہیں بلکہ دو متوازی دعوے ہیں، دو مختلف زاویے ہیں جن سے انسان نے ہمیشہ حقیقتِ مطلق کو سمجھنے کی کوشش کی۔ علم کہتا ہے کہ کائنات کو جاننے، پرکھنے اور قابو میں لانے کی طاقت میرے پاس ہے، میں مشاہدہ ہوں، تجربہ ہوں، دلیل ہوں۔
فقر کہتا ہے کہ اصل طاقت ترک میں ہے، بے نیازی میں ہے، اس یقین میں ہے جو سوالات سے ماورا ہو جاتا ہے اور ان دونوں دعووں کے بیچ "اشہد ان لا الٰہ الا اللہ" ایک ایسی صدا بن کر ابھرتا ہے جو علم کی غرور آمیز خود اعتمادی اور فقر کی خاموش عاجزی، دونوں کو ایک مرکز پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اقبال یہاں نہ علم کو رد کرتے ہیں نہ فقر کو، بلکہ دونوں کو ان کی اصل حیثیت یاد دلاتے ہیں: علم راستہ ہے، منزل نہیں، فقر کیفیت ہے، نعرہ نہیں۔
علم جب "موجود" بن جاتا ہے تو وہ صرف جاننے کا عمل نہیں رہتا، وہ ایک اقتدار میں ڈھل جاتا ہے۔ جدید دنیا میں علم نے مشینیں بنائیں، ایٹم توڑا، خلا کو مسخر کیا، مگر اسی کے ساتھ اس نے انسان کو یہ گمان بھی دیا کہ اب کسی اور مرکز کی ضرورت نہیں۔ عقل خود قبلہ بن گئی، تجربہ خود میزان اور فائدہ خود اخلاق۔ اقبال اس علم کے منکر نہیں، وہ اس علم کے ناقد ہیں جو خدا کو ایک مفروضہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتا ہے۔ ان کے نزدیک ایسا علم جو "لا الٰہ" تو کہتا ہو مگر "الا اللہ" تک نہ پہنچے، وہ ادھورا ہی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسان کو چیزوں کا مالک تو بنا دیتا ہے مگر خود انسان کو بے مقصد کر دیتا ہے۔ اقبال کے ہاں علم اگر عشق سے خالی ہو تو وہ محض چالاکی ہے اور چالاکی قوموں کو وقتی برتری تو دے سکتی ہے، دائمی سمت نہیں۔
دوسری طرف فقر ہے، جو بظاہر دنیا سے بے نیازی کا نام ہے، مگر اقبال کے ہاں یہ فقر گداگری نہیں، یہ خودی کی بلند ترین صورت ہے۔ فقر کا موجود وہ خدا ہے جو دل میں بستا ہے، جسے نہ دلیل کی بیساکھی چاہیے نہ تجربے کی تصدیق۔ یہ وہ یقین ہے جو انسان کو دنیا کے بازار میں رہتے ہوئے بھی آزاد رکھتا ہے۔ اقبال کا فقیر تاج و تخت کو ٹھکرا کر جنگل میں چھپ نہیں جاتا، بلکہ وہ بازار کے بیچ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ میرا انحصار کسی اور پر نہیں، سوائے اُس ایک کے۔ یہی فقر اگر اپنی روح کھو دے تو تصوف رسم بن جاتا ہے، خانقاہ عادت اور ذکر محض آواز۔ اقبال کا فقر حرکت چاہتا ہے، خطرہ چاہتا ہے اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری چاہتا ہے۔
"اشہد ان لا الٰہ الا اللہ" اس پوری فکر کا محور ہے۔ یہ محض ایک جملہ نہیں، ایک مسلسل اعلان ہے۔ یہ اعلان ہر اس بت کے خلاف ہے جو انسان اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے، کبھی علم کا بت، کبھی دولت کا، کبھی قوم کا، کبھی اپنی ذات کا۔ اقبال کے نزدیک اصل توحید یہ نہیں کہ زبان سے ایک خدا مان لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں کسی اور طاقت کو حتمی نہ سمجھا جائے۔ علم اگر خدا بن جائے تو توحید ٹوٹ جاتی ہے، فقر اگر خود نمائی بن جائے تو توحید زخمی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اقبال بار بار اس کلمے کی طرف لوٹتے ہیں، کیونکہ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ مرکز ایک ہے اور اس مرکز سے ہٹ کر ہر دعویٰ عارضی اور ہر اقتدار فانی ہے۔
آج کے انسان کا المیہ یہی ہے کہ وہ علم اور فقر دونوں کو ٹکڑوں میں بانٹ چکا ہے۔ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے جو مذہب کو نجی معاملہ سمجھ کر اجتماعی زندگی سے خارج کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف وہ مذہبی ذہن ہے جو علم کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اقبال اس تقسیم کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک علم بغیر روح کے اندھا ہے اور روح بغیر علم کے کمزور۔ وہ ایسی امت دیکھنا چاہتے تھے جو سائنس کی لیبارٹری میں بھی "اشہد ان لا الٰہ" کہے اور عبادت گاہ میں بھی "الا اللہ" کو زندگی کے تقاضوں سے جوڑے۔ یہی امت تاریخ بناتی ہے، باقی صرف تاریخ پڑھتی ہے۔
آخرکار اقبال ہمیں ایک سوال پر لا کھڑا کرتے ہیں: تمہارا موجود کون سا ہے؟ وہ خدا جسے تم جانتے ہو، ناپتے ہو، تعریفوں میں قید کرتے ہو؟ یا وہ خدا جس پر تم بھروسا کرتے ہو، جس کے سامنے تمہاری عقل بھی سر جھکا دیتی ہے؟ علم کا موجود اور فقر کا موجود بظاہر دو ہیں، مگر اقبال کی نگاہ میں جب "اشہد ان لا الٰہ الا اللہ" دل کی گہرائی سے ادا ہو جائے تو یہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ تب علم عبادت بن جاتا ہے اور فقر طاقت اور انسان اپنی اصل پہچان پا لیتا ہے، ایک ایسے بندے کی پہچان جو جانتا بھی ہے، مانتا بھی ہے اور اسی ماننے میں آزاد ہو جاتا ہے۔
علم اور فقر دونوں روشنی کے دو رخ ہیں، مگر اصل روشنی اس وقت نمودار ہوتی ہے جب انسان دل و جان سے کہے: اشہد ان لا الٰہ الا اللہ۔ تب علم کی طاقت اور فقر کی عاجزی ایک دوسرے میں گھل مل کر انسان کو حقیقت کے قریب لے جاتی ہیں۔
علم کی روشنی، فقر کی صدا
اشہد ان لا الٰہ، الا اللہ کی صدا
دل کی دنیا میں وہی ہے حاکم
جہاں عقل اور عشق کی ہے صدا
چشمِ فکر جب ہو روشن کامل
نظر آئے سب سے بالاتر صدا

