Friday, 20 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Corruption Ke Khilaf Faisla Kun Jang

Corruption Ke Khilaf Faisla Kun Jang

کرپشن کے خلاف فیصلہ کن جنگ

کرپشن محض مالی بے ضابطگی کا نام نہیں بلکہ یہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کھوکھلا کرنے والا زہر ہے۔ جب کوئی شخص اپنے اختیار، عہدے یا طاقت کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے، کسی مستحق کو اس کے حق سے محروم کرتا ہے یا ناجائز فائدہ پہنچاتا ہے تو یہ عمل صرف ایک فرد کا جرم نہیں رہتا بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کو دنیا بھر میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان سمیت بیشتر ترقی پذیر ممالک میں کرپشن کی شکایات عام ہیں۔ سروے رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ عوامی تاثر اور ذاتی تجربے میں خاصا فرق ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ بدعنوانی کی بات سنتے ضرور ہیں لیکن براہِ راست اس کا سامنا کم افراد کو ہوتا ہے۔ اس کے باوجود عمومی فضا میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ سرکاری دفاتر میں رشوت، اقربا پروری اور ناانصافی موجود ہے۔ یہی تاثر ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کرپشن کیسے روکی جائے؟ اس کا جواب کسی ایک اقدام میں پوشیدہ نہیں بلکہ مربوط اور مسلسل اصلاحات میں ہے۔ سب سے پہلی ضرورت اداروں کو مضبوط اور خود مختار بنانے کی ہے۔ جب احتسابی ادارے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر کام کریں گے اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا تو بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے۔ سزا کا خوف اور قانون کی یقینی عملداری کرپشن کے سدباب میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

دوسرا اہم پہلو شفافیت ہے۔ سرکاری ٹھیکوں، بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے تمام مراحل کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور ای گورننس اس ضمن میں مؤثر ہتھیار ثابت ہوسکتے ہیں۔ جب خدمات آن لائن فراہم ہوں، فائلوں کی نقل و حرکت کمپیوٹرائزڈ ہو اور ادائیگیاں بینکنگ نظام کے ذریعے ہوں تو انسانی مداخلت کم ہو جاتی ہے اور رشوت کے مواقع محدود ہوجاتے ہیں۔ کئی ممالک نے اسی حکمت عملی سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

تیسرا عنصر معاشی انصاف ہے۔ کم تنخواہیں، مہنگائی اور بے روزگاری بعض اوقات افراد کو غیر قانونی راستہ اختیار کرنے پر مائل کرتی ہیں۔ اگر سرکاری ملازمین کو مناسب معاوضہ، تحفظ اور مراعات ملیں تو وہ بدعنوانی کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔ سنگاپور کی مثال اکثر دی جاتی ہے جہاں اعلیٰ تنخواہوں اور سخت احتساب کے امتزاج نے نظام کو شفاف بنانے میں مدد دی۔

تعلیم اور اخلاقی تربیت بھی نہایت اہم ہیں۔ اگر معاشرے میں دیانت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور کرپشن کو سماجی برائی سمجھا جائے تو اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے جب بدعنوانی کو معمول کی بات سمجھ لیا جائے تو نئی نسل بھی اسی روش کو اختیار کرتی ہے۔ لہٰذا تعلیمی نصاب اور سماجی مکالمے میں دیانت، امانت اور قانون پسندی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی کلیدی ہے۔ آزاد اور ذمہ دار میڈیا کرپشن کو بے نقاب کرتا ہے جبکہ باشعور شہری احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم احتساب کا عمل غیر جانبدار اور شفاف ہونا چاہئے تاکہ اسے سیاسی انتقام نہ سمجھا جائے۔

پاکستان کا عالمی درجہ بندی میں کم اسکور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کئے جائیں۔ پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام اور اجتماعی عزم کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد ہے جس میں حکومت، اداروں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان کو اب رسمی بیانات اور نمائشی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ کرپشن کے خلاف جنگ نعروں سے نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم، شفاف نظام اور بے لاگ احتساب سے جیتی جاتی ہے۔ جب تک قانون طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق کئے بغیر یکساں طور پر نافذ نہیں ہوگا، جب تک ریاستی ادارے سیاسی مداخلت سے آزاد ہو کر کام نہیں کریں گے اور جب تک دیانت داری کو قومی قدر کے طور پر فروغ نہیں دیا جائے گا، اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ طے کریں کہ بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہی فیصلہ کن موڑ پاکستان کو ایک مضبوط، بااعتماد اور ترقی یافتہ ریاست بنا سکتا ہے۔

Check Also

Servers Ka Maalik, Mustaqbil Ka Maalik

By Imran Ismail