Amma Aur Papa, Jab Mohlat Tamam Ho Gai
اماں اور پاپا، جب مہلت تمام ہوگئی

شوکت خانم میموریل اسپتال کی گہری ہوتی ہوئی رات اُن چند راتوں میں سے ایک تھی جب مجھے نیند کا ایک لمحہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ وہ اماں کی اور میری زندگی کی وہ آخری رات تھی جو ہم نے اکٹھے گزاری۔ وہ بے ہوشی کی حالت میں تھیں اور بہت تیز بخار تھا۔ جس وقت مجھے مکمل اندازہ ہوا کہ اب جانے کا وقت آ رہا ہے تو اُن کو سمیٹ کر گلے سے لگا لیا۔ آج بھی میں اُن کے جسم کی حدت محسوس کر سکتا ہوں۔ اگلے چوبیس گھنٹوں میں وفات سے لے کر دفن ہونے تک کا وقت بہت تکلیف دہ تو ضرور تھا لیکن پاپا مرحوم حیات تھے اور اُس زمانے میں لاہور دوست رشتہ داروں سے بھرا ہوا تھا۔
قبر میں اتارنے والے آخری ہاتھوں میں دو ہاتھ میرے ہی تھے۔ دو ایک دن بعد میں ظہر پڑھنے مسجد گیا اور ایک کمزور لمحے میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں مانگیں کہ پاپا کی خدمت کر سکوں، جب آخری وقت آئے تو اُن کے پاس موجود ہوں اور اُن کو اپنے ہاتھوں سے دفن کروں۔ اشک آلود آنکھوں سے مانگتے ہوئے ایک دعا کے لفظ آج بھی یاد ہیں "اے اللہ مہلت دیجئیے" خدمت کی مہلت اور وقت گزارنے کی مہلت، کون جانے دعائیں کون سے لمحے میں قبولیت کی گھڑی پا جائیں اسی لئیے رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ انہوں نے فرمایا: "تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے"۔ کم و بیش مفہوم
اوماہا میں پاپا پہلی مرتبہ ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد یعنی اماں کی وفات کے بعد پاپا پاکستان سے آتے جاتے رہے لیکن ہم پہلی مرتبہ کئی مہینوں بعد سکون کی نیند سوئے جب وہ ہمارے پاس پہلی مرتبہ آئے۔ پاپا نے فیضان کو اوماہا میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا اور میرے بچوں سے تو وہ ویسے بھی بہت محبت کرتے تھے۔ آنے والے چھ یا سات سالوں میں وہ زیادہ تر میرے پاس ہی رہے۔ محبت تو یقیناََ مجھ سے زیادہ کرتے تھے لیکن تعریف امبر کی زیادہ کرتے تھے۔ ایک دن پاکستان آئے ہوئے تھے اور ایک عزیز نے چمک کر پوچھا کہ کیا آپ کا بیٹا آپ کا خیال نہیں کرتا جو آپ صرف اپنی بہو کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کا جواب روپہلے حرفوں سے لکھنے والا تھا۔ کہنے لگے کہ وہ میرا بیٹا ہے اور یہ میرا حق ہے کہ وہ میرا خیال کرے۔ وہ مجھ پر کوئی احسان نہیں کرتا لیکن میری بہو پر میرا کوئی حق نہیں اور اس کا مجھ پر احسان ہے۔
شینن ڈووا کو خیرباد کہا اور منسی کو اپنا گھر بنایا۔ آئیووا کی انتہائی شدید سردی سے انڈیانا کی کم شدید سردی والی ریاست میں آ گئے۔ ہم نے اپنا پہلا گھر خریدا اور پاپا مرحوم کے لئیے اُن کا کمرہ سجا سنوار کر تیار کیا۔ اس مرتبہ اُن کو لانا بہت آسان تھا کیونکہ شکاگو کے اوہئیر ائیرپورٹ سے منسی انڈیانا ساڑھے تین یا چار گھنٹے کی ڈرائیو تھی لیکن ہم اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ہمارا آخری ائیرپورٹ کا سفر ہے۔ آخری مرتبہ اُن کا سامان اٹھایا اور آخری ہی مرتبہ ملتے ہوئے معانقہ ہوا۔۔
پاپا نمازوں اور روزوں میں تو بہت پابند تھے ہی لیکن جمعہ پڑھنے جلد مسجد چلے جاتے تھے۔ اس مرتبہ واپسی پر بہت تھکے ہوئے لگے۔ چند دن بعد پہلا جمعہ آیا اور میں نے جمعہ کا کہا تو ہماری چالیس سالہ رفاقت میں پہلی مرتبہ کہنے لگے کہ مجھ میں ہمت نہیں ہے اور آپ چلے جاؤ۔ طبیعت آہستہ آہستہ سنبھل گئی۔ میرے کمرے سے مجھے اُن کے کمرے کا دروازہ دکھائی دیتا تھا اور وہ بہت خوبصورت آواز میں صبح سویرے قران کی تلاوت کرتے تھے اور یہ اُن کا ساری عمر کا معمول تھا۔ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے اور آمنہ اس وقت چند ماہ کی تھی جس پر تو جان چھڑکتے تھے۔
انڈیانا میں نبراسکا جیسی سردی تو نہیں ہے لیکن نبراسکا میں اگر ٹمپریچر منفی تیس بھی ہوتا تھا تو بھی سورج چمکتا رہتا تھا۔ انڈیانا کچھ ابر آلود ہے اور شاید اس کا تعلق لیک مشی گن سے ہے جو دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر ہے اور دنیا کے میٹھے پانی کی چھ عظیم ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔ ایک صبح میں فجر کے لئیے اٹھ ہی رہا تھا اور ابھی غنودگی کے عالم میں تھا کہ جیسے خواب اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں کسی نے مجھے کہا ہو کہ مہلت ختم ہوئی۔ یقین جانئیے ایک لمحے میں نیند ہوا ہوگئی اور میں اٹھ بیٹھا۔ میں نے گھبرا کر امبر کو بیدار کیا اور کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پاپا کا آخری وقت آن پہنچا کیونکہ سات سال پہلے کہے ہوئے بعینیہ یہی لفظ مجھے یاد پڑتے ہیں۔ امبر نے بڑی تسلی تشفی دی اور کہا کہ ایسے نہیں ہوتا۔ گھبرا کر پاپا کے کمرے میں جا کر جھانکا تو وہ انہیں محو خواب پایا اور وہ پُرسکون دکھائی دیتے تھے۔
واقعہ ذہن سے تو نکل کیا لیکن کچھ پریشانی رہی۔ اس مرتبہ اُن کو شکاگو دکھانے کا ارادہ کیا اور ہم لیک مشی گن دیکھنے جانے لگے تو پاپا مرحوم نے کہا کہ میں تھکا ہوا ہوں اور آتے ہوئے کھانا لے آنا۔ اُس وقت بھی اور آج بھی پاکستانی کھانوں میں شکاگو کا جواب نہیں ہے۔ عثمانیہ، بندو خان، صابری نہاری اور غریب نواز کی طرح کے بے شمار ریستوران موجود ہیں۔ رات کا کھانا کھا کر ہم سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ صبح اٹھے تو ہشاش بشاش تھے لیکن میرا بڑا بیٹا محمد پاپا کے کمرے میں سویا تھا اور کہنے لگا کہ رات دادا کو بخار ہوا تھا۔ پاپا کی طبیعت کچھ گری ہوئی ضرور تھی لیکن ہمت میں تھے۔ آنے والے دو دنوں میں طبیعت بہت تیزی سے بگڑی اور ہم نے واپس گھر کا قصد کیا۔ وہ بہت کمزوری کی شکایت کرتے تھے۔ ناچار وہیل چئیر منگا کر اُن کو کار میں بٹھایا اور منسی کا قصد کیا۔
ساڑھے تین چار گھنٹے کا سفر بہت مشکل سے گزرا اور ہم بمشکل گھر پہنچے۔ پاپا جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گئے لیکن طبیعت بحال نہیں ہو پا رہی تھی۔ چاروناچار اُن کو ایک ارجنٹ کئیر (فوری علاج کے کلینک) میں لے کر گئے تو ڈاکٹر بہت مدد گار تھے اور کہنے لگے کہ ان کو اسپتال لے جائیے۔ وہاں سے بال میموریل اسپتال کے ایمرجنسی روم میں پہنچے اور معاملہ نمونیہ اور ہارٹ فیلئیر کے بیچ میں دکھائی دیا۔ خوش شکل اور خوش وضع ماہر امراض دل میرے ہم عصر تھے اور بعد میں میرے بیٹے کے استاد بھی رہے، وہ کہنے لگے کہ ہارٹ فیلئیر CCF ہے لیکن حیران کُن طور پر دل کے ٹیسٹ بالکل نارمل آئے۔
اگلے تین ھفتوں تک اسپتال کے چکر لگتے رہے اور وہ داخل ہی رہے۔ درمیان میں صرف ایک مرتبہ ایک دن کیلئے ڈسچارج ہوئے لیکن فوراََ ہی واپس داخل ہو گئے۔ ڈسچارج ہونے سے بالکل پہلے ایک نیک دل نرس جو اُن کے کاغذات تیار کر رہی تھیں، اُن سے میں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔ میں نے کہا کہ یہ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے۔ کہنے لگیں کہ اس وقت کو اُن کے ساتھ گزارو گویا عندیہ دیا کہ مزید کچھ نہیں کیا جا سکتا اور حیران کُن طور پر امریکہ کے اس جدید ترین اسپتالوں میں سے ایک اسپتال میں ہر ٹیسٹ بشمول سی ٹی اسکین اور ایکوکارڈیوگرام کے باوجود ابھی تک کچھ تشخیص نہیں ہو پایا تھا۔
گھر پہنچے اور چند ہی گھنٹوں میں ایمرجنسی روم میں واپسی ہوگئی اور اس مرتبہ طبیعت واضح طور پر بگڑ چُکی تھی اور خون کے نمونوں میں گراوٹ دکھائی دے رہی تھی لیکن اب بھی ہماری تشخیص کچھ نہیں تھی۔ یہ کوئی بیماری نہیں تھی بلکہ یہ موت تھی جو دبے پاؤں ان کی جانب بڑھ رہی تھی اور ہم اللہ تعالیٰ کے آگے بے بس تھے۔
وفات سے ایک آدھ دن پہلے مکمل ہوش میں آگئے اور ہم دونوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ دو دوستوں کی طرح گفتگو کی۔ باپ اور بیٹے کا وہ رشتہ جو ساری عمر کچھ فاصلے اور احترام کے بیچ رہا آخری گھنٹوں میں اسی بے انتہا محبت کی طرف لوٹ آیا جو وہ ساری عمر مجھ سے کرتے رہے لیکن کبھی کہہ نہیں پائے۔ گویا اپنی ساری زندگی کھول کر رکھ دی۔ آخر میں کہنے لگے کہ گھر سے کھانا لے آؤ اور ہم اکٹھے کھائیں گے۔ میں نے امبر کو فون کیا اور کھانے کا کہا۔ اسپتال میرے گھر سے صرف آٹھ منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ امبر نے کھانا تیار کیا لیکن میں جب تک کھانا لے کر واپس آیا، وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھے۔ شمع کی لو آخری روشنی دے چُکی تھی اور گل ہونے کو تھی۔ ایک دعا نے قبولیت کا شرف پایا۔ مہلت بھی ملی اور مہلت تمام بھی ہوگئی۔
آخری چند سالوں میں وہ میرے پاس ہی رہے۔ میرے بچوں نے اُن کی وہ محبت دیکھی کہ دونوں بچے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو لے کر پاپا کی قبر پر گئے۔ میں نے ہی اُن کو غسل دیا تھا اور میں نے ہی کفن پہنایا تھا۔ اپنے سامنے قبر میں اترتے دیکھا۔ جس بیٹے سے وہ ساری عمر محبت کرتے رہے، اس کے گھر سے چند ہی میل پر دفن ہیں۔ عصر کی نماز پڑھ کر گھر آتے ہوئے مسجد اور گھر کے بیچ اُن کی قیامت تک کی آرام گاہ ہے۔ رُکنا کبھی دل پر گراں نہیں ہوا اور اب بھی قبرستان گھر ہی لگتا ہے بالکل ایسا ہی لگتا ہے کہ اُن کے بیڈروم میں داخل ہو رہے ہیں۔
مہلت واقعی تمام ہوگئی تھی۔
منسی جہاں میرے دو بچوں نے آنکھ کھولی اور جہاں پاپا آسودۂ خاک ہیں۔۔

