Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Buzurg e Sahafat, Altaf Hassan Qureshi, Aik Ehad Ka Ikhtitam

Buzurg e Sahafat, Altaf Hassan Qureshi, Aik Ehad Ka Ikhtitam

بزرگِ صحافت، الطاف حسن قریشی، ایک عہد کا اختتام

پاکستان میں صحافت، ادب اور اردو زبان کی خدمت کرنے والی چند شخصیات ایسی ہیں جنہیں محض فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ کہا جاتا ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے جن کے انتقال سے صحافت کا ایک سنہرا باب اختتام کو پہنچا۔ 16 مئی 2026 کو 94 برس کی عمر میں اُن کی وفات نے علمی و ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔

ہمارے بچپن میں گھروں میں مطالعے کا ایک خاص ماحول ہوا کرتا تھا۔ والدِ گرامی باقاعدگی سے "اردو ڈائجسٹ" منگوایا کرتے تھے۔ اُس کے اداریے، تحقیقی مضامین اور فکری تحریریں محض رسالہ نہیں بلکہ ایک درسگاہ محسوس ہوتی تھیں۔ اسی دوران والدِ گرامی "ریڈرز ڈائجسٹ" پڑھتے تھے جس ہم بھی کبھی کبھی پڑھ لیتے۔ مگر جب اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ شروع کیا تو احساس ہوا کہ یہ رسالہ نہ صرف عالمی معیار کا حامل ہے بلکہ اردو زبان، تہذیب اور فکری تربیت کا بھی ایک مضبوط ذریعہ ہے اور ریڈرز ڈائجسٹ کے مقابل ہے۔

جناب اعجاز حسن قریشی نے 1960 میں "اردو ڈائجسٹ" کی بنیاد رکھی جبکہ الطاف حسن قریشی نے بطور مدیرِ اعلیٰ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے اسے پاکستان کا معتبر ترین فکری و صحافتی جریدہ بنا دیا۔ اُن کا اندازِ تحریر مدلل، شائستہ اور فکری گہرائی سے بھرپور تھا۔ وہ اختلافِ رائے کو بھی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔

الطاف حسن قریشی 3 مارچ 1932 کو بھارتی شہر حصار میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد صرف پندرہ برس کی عمر میں لاہور آئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا اور پھر صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اُنہوں نے نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت، تاریخ، سیاست، زبان و ادب اور سفرناموں کے ذریعے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کو جِلا بخشی۔ اردو ڈائجسٹ کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ قریشی صاحب معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔

60 اور 70 کی دہائی کے سیاسی اور نظریاتی مباحث کو جس جرات، توازن اور تحقیق کے ساتھ انہوں نے پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کے نظریات، قومی مسائل اور عالمی سیاست پر اُن کی نگاہ نہایت گہری تھی۔ یہی بے باکی کئی مرتبہ حکومتی ناراضی اور جبر کا سبب بھی بنی۔ اردو ڈائجسٹ اور ہفت روزہ "زندگی" نے کئی سخت ادوار دیکھے مگر الطاف حسن قریشی نے قلم کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی۔

الطاف حسن قریشی صرف ایک مدیر یا کالم نگار نہیں تھے بلکہ وہ فکری رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُنہوں نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھا۔ اُن کے اداریے پڑھ کر محسوس ہوتا تھا کہ لکھنے والا شخص محض حالات بیان نہیں کر رہا بلکہ قوم کی فکری رہنمائی بھی کر رہا ہے۔ اُن کے الفاظ میں درد بھی ہوتا تھا، دلیل بھی اور تہذیب بھی۔ یہی امتزاج اُنہیں اپنے معاصرین سے ممتاز کرتا تھا۔ اُن کی تحریروں میں پاکستان کی نظریاتی اساس، اسلامی اقدار، قومی وحدت اور اخلاقی تربیت کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ نوجوان نسل کو اپنی تاریخ، تہذیب اور قومی تشخص سے جوڑنے کے خواہاں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ڈائجسٹ صرف ایک رسالہ نہیں بلکہ کئی نسلوں کی فکری تربیت کا ذریعہ بن گیا۔ گھروں، لائبریریوں اور تعلیمی اداروں میں اس کا انتظار کیا جاتا تھا۔

الطاف حسن قریشی کی شخصیت میں عاجزی، وقار اور علمی متانت نمایاں تھی۔ وہ شہرت کے باوجود سادگی کو ترجیح دیتے تھے۔ اُنہوں نے صحافت میں سنسنی، ذاتی حملوں اور غیر ضروری شور شرابے کی ہمیشہ مخالفت کی۔ اُن کے نزدیک قلم ایک امانت تھا جسے سچائی، دیانت اور قومی مفاد کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

قریشی صاحب کی خدمات صرف صحافت تک محدود نہیں رہیں بلکہ اُنہوں نے اردو زبان کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایسے وقت میں جب مغربی تہذیب اور انگریزی زبان کا اثر بڑھ رہا تھا، انہوں نے اردو زبان میں معیاری صحافت اور علمی مواد پیش کرکے ثابت کیا کہ اردو کسی بھی بڑے فکری اور تحقیقی موضوع کو بیان کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ اپنے عہد کے اُن چند صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں کے بجائے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ اُن کی تحریریں آج بھی پڑھی جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت سے آگے کی سوچ رکھتے تھے۔ قومی مسائل پر اُن کی دور اندیشی اور تجزیاتی صلاحیت قابلِ رشک تھی۔

آج جب سوشل میڈیا کے شور میں سنجیدہ صحافت اور معیاری تحریر کم ہوتی جا رہی ہے ایسے میں الطاف حسن قریشی جیسے اہلِ قلم کی یاد اور بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اُن کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ قوموں کی فکری تعمیر کا نام بھی ہے۔

بلاشبہ الطاف حسن قریشی کے انتقال سے ایک عہد ختم ہوا مگر اُن کی تحریریں، افکار اور صحافتی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اردو صحافت کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی اُن کا نام سنہرے حروف میں درج ہوگا۔ نئی نسل کے لیے اُن کی زندگی ایک مثال ہے کہ اصول، علم اور کردار کے ساتھ بھی صحافت کی جا سکتی ہے اور یہی صحافت دراصل معاشروں کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

Check Also

Khudara Kaptan Ko Chor Dein

By Umar Khan Jozvi