Tanzeem Ul Madaris, Jamia Nizamia Rizvia Aur Kuch Yaadein
تنظیم المدارس، جامعہ نظامیہ رضویہ اور کچھ یادیں

ان دنوں اہلسنت کے سب سے بڑے، قدیم، مضبوط دینی تعلیمی بورڈ "تنظیم المدارس" کے سالانہ امتحانات چل رہے ہیں۔ چار لاکھ کے قریب طلبہ، جبکہ ملک بھر میں 23 ہزار کے لگ بھگ اساتذہ نگرانی و معاونت کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔
اس ماحول سے جڑی میری یادوں کی بات کی جائے تو دو چیزوں کے متعلق میرے جذبات اور احساسات کبھی الفاظ کا روپ نہ لے سکے، لیکن ان کی چھاپ اور تاثیر مجھے ہر لحظہ محسوس ہوتی۔۔!
جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ، اہلسنت کی قدیم اور فنون کے اعتبار مضبوط و مستند دینی درسگاہ۔ تقریباً میرے تمام اساتذہ بالواسطہ یا بلا واسطہ اسی ادارے کے فضلاء میں سے ہیں لیکن میں کبھی اس ادارے میں حاضر نہ ہوسکا اور آج جب حاضر ہوا تو تنظیم المدارس کے سالانہ امتحانات کے سلسلے میں بطور ناظم (سپرٹنڈنٹ) ڈیوٹی کی خدمت و سعادت کے ساتھ جامعہ کی دل آویز بلڈنگ، یہاں کی رونق، طلبہ کا ادب و آداب کا سلیقہ اور سب سے بڑھ کر یہ خوبصورت درخت!
(یاد رہے درختوں کے انسانی مزاج پہ اثرات تو ہوتے ہیں لیکن خاص قسم کے درختوں کے اثرات بھی خاص ہوتے ہیں اور یہ نیم کا درخت ہے)۔
حصولِ برکت کی خاطر طلبہ کے لئے تیار شدہ کھانا بھی تناول کیا تاکہ سند رہے کہ ہم بھی کسی نہ کسی طرح نظامیہ کے فیض یافتگان اور معتقدین میں سے ہیں۔
واللہ کیا سکون اور اطمینان ہے اندرون لاہور کے اس احاطے میں۔۔!
دوسری اس ادارے کی روحِ رواں شخصیت اور پوری اہلسنت کے لئے قابلِ فخر و تعظیم "استاذ الحدیث حافظ عبد الستار سعیدی صاحب" حفظہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ 2011ء میں پہلی دفعہ زیارت اپنے گاؤں کی جامع مسجد میں ہوئی جب اسی ادارے کی برانچ جامعہ نظامیہ فخر العلوم کا افتتاح تھا۔
اس دن فجر کے بعد حسبِ روایت اسکول کا یونیفارم پہنے ہوئے "یسرنا القرآن" قاعدہ تھامے ناظرۃ کی تعلیم کے لئے مسجد پہنچا تو اس افتتاحی تقریب میں خصوصی بیان استاذ حافظ صاحب کا تھا اور فرطِ شوق میں حفظِ قرآن کے لئے میں نے بھی ہاتھ کھڑا کردیا۔
والدین اور اسکول کے اساتذہ عارضی طور پہ ناراض بھی ہوئے لیکن یہ سفر پھر انہی شخصیات کی شفقت و برکت سے شروع ہوا۔ حفظ کے بعد متوسطہ (فارسی) میں تنظیم المدارس بورڈ میں ملکی سطح پہ پوزیشن حاصل ہوئی اور اللہ کے فضل سے پھر عالمیہ (ایم اے عربی و اسلامیات) تک بورڈ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کا منفرد ریکارڈ بھی میرے حصے آیا۔
لیپ ٹاپ وصول کرتے نظر آنے والی تصویر حکومتِ پنجاب کی اسی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے اور میں ٹھیک 4 سال بعد جب پہلی دفعہ لاہور آیا تو اسی شخصیت سے انعام وصول کرنا بھی خوبصورت اتفاق ٹھہرا جبکہ ساتھ کھڑی دوسری شخصیت استاذی الکریم "مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ" جو بعد میں میرے لیے ایک سائبانِ شفقت اور ہمیشہ ہر معاملے میں اخلاص و محبت کا وجود ثابت ہوئی، انکی زیارت پہلی بار ہوئی۔
انکو دیکھنے سے جو خیال پہلی بار ذہن میں آیا تھا کہ ماشاءاللہ کوئی دین کا عالم اتنا خوش لباس، خوش گفتار اور خوبصورت بھی ہوسکتا ہے! جبکہ حالیہ تصویر جس میں حضرت گرامی قدر استاذ حافظ صاحب امتحان کے دوران تشریف لائے اور نظم و نسق کے متعلق دریافت کیا۔۔!
اس سارے منظر نامے میں میرے اپنے تجربات کا خلاصہ یہ ہے کہ طلبہ کی تیاری بہت اچھی ہوتی ہے لیکن املاء کی درستی، پیپر کو حل کرنے کا طریقہ، خوبصورت لکھائی کے ساتھ پیشکش اور سب سے بڑھ کر پیپر چیک کرنے والے کی نفسیات کو سامنے رکھا جائے تو ہر طالب علم ہی پوزیشن حاصل کرسکتا ہے!
(میں اس سلسلے میں امتحانات سے قبل اکثر دینی اداروں میں حاضر ہوکے اللہ کی رضا اور طلبہ سے دعاؤں کے حصول کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کرتا چلا آرہا ہوں، وللہ الحمد)
پھر اپنے امتحان کے ایام کے خوبصورت احساسات اور ماضی کے جھروکوں کی بات کی جائے تو وہ بھی پیشِ خدمت ہیں۔۔!
وقت کی گرد اُڑتی ہے تو کچھ دھندلے سے نقش پھر سے نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ آج جب میں اپنے سامنے ان معصوم چہروں پر امتحان کی فکر، کتابوں کا بوجھ اور آنکھوں میں جگ رتوں کے سائے دیکھتا ہوں، تو میرا دل ایک لمحے کے لیے تھم ساجاتا ہے۔ میں خود کو آج کے "متعلم و معلم" کے لبادے سے نکال کر برسوں پرانے اس "طالبِ علم" کے روپ میں دیکھتا ہوں جو بالکل اسی بے چینی اور امید کے درمیان کھڑا تھا۔
امتحانات کے وہ دن بھی کیا عجیب دن تھے۔ وہ خاموش صبحیں جب پرندوں کی چہچہاہٹ سے پہلے ہی چراغ جل اٹھتے تھے اور وہ طویل راتیں جب چائے کی پیالی اور کتاب کا ساتھ ہی کُل کائنات ہوا کرتا تھا۔ ہاتھ میں پکڑی ہوئی پنسل کبھی سر کے بالوں میں الجھتی تو کبھی حاشیوں پر بے معنی لکیریں کھینچتی۔ وہ خوف نہیں تھا، بلکہ ایک خوشگوار اضطراب تھا، کچھ کردکھانے کا جذبہ اور اپنی محنت کو کاغذ پر اتارنے کی لگن۔
یادوں کے کچھ اوراق سامنے آتے ہیں تو کمرہ امتحان میں داخل ہونے سے پہلے وہ آخری بار کتاب کے صفحات پلٹنا، جیسے تمام علم کو ایک ہی نظر میں سمیٹ لینے کی تگ و دو۔
دعاوں کا سہارا، لبوں پر مسلسل درود و سلام اور دل میں ماں کی اس دعا کا یقین کہ "بیٹا، تم کامیاب ہو گے"۔
جب سوالیہ پرچہ سامنے آتا، تو دھڑکنوں کا ایک لمحے کے لیے رکنا اور پھر پہلے آسان سوال کو دیکھ کر سکون کا وہ لمبا سانس لینا جسے آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اور پھر اس سب کے بعد آج کا احساس، آج میں میز کے اس پار بیٹھا ہوں۔ قلم میرے ہاتھ میں ہے، لیکن اب میں لکھتا نہیں، بلکہ دوسروں کے لکھے ہوئے جذبوں کو پرکھتا ہوں۔ میرے سامنے بیٹھا ہر بچہ مجھے اپنی ہی کہانی کا ایک کردار لگتا ہے۔ مجھے ان کی پیشانیوں پر لکھی تھکن میں اپنی وہ پرانی تھکن نظر آتی ہے اور ان کی چمکتی آنکھوں میں وہی خواب دکھائی دیتے ہیں جو کبھی میری نیندیں اڑایا کرتے تھے۔
"تعلیم صرف کتابوں کو حفظ کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ان لمحات سے گزر کر خود کو کندن بنانے کا ایک عمل ہے جس کا تجربہ ہرنسل کو ایک نئے رنگ میں ہوتا ہے"۔
پیارے طلبہ! یہ دن لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ امتحان صرف آپکی یادداشت کا نہیں، بلکہ صبر اور استقامت کا بھی ہے۔ میں آپکی جگہ نہیں لےسکتا، لیکن میں ہر لفظ کے پیچھے چھپی محنت کو محسوس ضرور کرسکتا ہوں، کیونکہ اس راستے سے میں بھی کبھی گزرا تھا۔
شاعر اختر عباس صاحب سے معذرت کرتے ہوئے۔۔
یادِ ماضی کمال ہے یارب
عطا ہو مضبوط حافظہ میرا

