Basant Ke Mazhabi o Tehzeebi Pehlu Aur Hum
بسنت کے مذہبی و تہذیبی پہلو اور ہم

لاہور کی بسنت محض ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک جنون، ایک خواب اور اس شہرِ زندہ دلاں کی روح کا وہ نغمہ ہے جو فضاؤں میں لہراتی ڈور کے ساتھ گایا جاتا ہے۔ اگر میں ایک لاہوری بسنت کی آنکھوں سے خود دیکھا حال بیان کروں تو فروری کی یخ بستہ ہواؤں میں جب بہار کی ہلکی سی تپش گھلنے لگتی ہے تب لاہور کی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی رقص کرنے لگتی ہے۔ یہ بے چینی کسی خوف کی نہیں، بلکہ اس "بو کاٹا" کے شور کی دستک ہوتی ہے جو صدیوں سے اس شہر کا مقدر رہا ہے۔
اندرون لاہور کی وہ تنگ و تاریک گلیاں اور بوسیدہ دیواریں، جن میں تاریخ سانس لیتی ہے، بسنت کے آتے ہی ایک نئے روپ میں ڈھل جاتی ہیں۔ بھاٹی ہو یا لوہاری، موچی گیٹ ہو یا ٹیکسالی، ہر حویلی کی چھت ایک نیا میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔ وہ قدیم جھروکے اور لکڑی کے نقش و نگار والے دروازے گواہ ہیں کہ یہاں مہمان نوازی صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ اجنبی بھی چھت پہ آ جائے تو اسے تکے کباب اور لسی کے بغیر جانے نہیں دیا جاتا۔
رات کے پچھلے پہر جب آسمان سیاہ چادر اوڑھتا ہے، تو لاہور کی چھتیں فلڈ لائٹس کی روشنی سے نہا جاتی ہیں۔ وہ سفید پتنگیں جو رات کے اندھیرے میں کسی بگلے کی طرح تیرتی نظر آتی ہیں، ایک جادوئی منظر پیش کرتی ہیں۔ کہیں کہیں لائٹوں والی پتنگیں (ٹکل) ستارے بن کر آسمان پر ٹانک دی جاتی ہیں، جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کہکشاں زمین پر اتر آئی ہے۔
بسنت کے مزے پکوانوں کے بغیر ادھورے ہیں۔ چھت کے ایک کونے میں انگیٹھی پر سلگتے کوئلے، ان سے اٹھتا تکے کباب کا اشتہا انگیز دھواں اور ساتھ میں گرما گرم نان، یہ وہ ذائقہ ہے جو صرف ایک لاہوری ہی بیان کر سکتا ہے۔ اسپیکرز پر گونجتے لوک نغمے فضا میں ایک ایسا ارتعاش پیدا کرتے ہیں کہ چھوٹے بچے ہوں یا بوڑھے، سب کے قدم خود بخود تھرکنے لگتے ہیں۔
بسنت میں سب سے اہم ہوا کا رخ ہوتا ہے۔ پینچ لڑاتے ہوئے انگلیاں ڈور کی تھرکن سے بتا دیتی ہیں کہ مخالف کا پلہ بھاری ہے یا آپ کا۔ وہ جو ایک لمحے کی کشمکش ہوتی ہے، وہی اصل زندگی ہے۔
جہاں یہ جشن خوشیوں کا پیغام لاتا ہے، وہیں کچھ تلخ یادیں بھی اس سے وابستہ رہی ہیں۔ آج جب ہم اس ثقافت کو یاد کرتے ہیں تو کچھ بچھڑے چہرے بھی سامنے رہنے چاہیئں جو ماؤں کے لال ہوا کرتے تھے۔
اگر اس سارے منظر نامے میں ایک جان بھی جانے کا خدشہ و اندیشہ ہو سب تفریح و تاویلیں فضول ہوں گی کیونکہ انسانی جان کی حرمت کے آگے کسی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ انتظامیہ اور ادارے الرٹ ہیں تاکہ اس قدیم میلے کو خونی کھیل بننے سے بچایا جا سکے۔
ان سب باتوں کے ساتھ اس روایت اور ثقافت کا اہم پہلو مذہبی بھی ہے کہ اسے شاتمِ رسول حقیقت رائے کی یاد میں ہندو مناتے تھے اور ہمیں اس غیروں کے تہوار سے بچنا چاہیے۔
میرے خیال سے یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی کمزور ہے کہ جنریشن زی اس کی تاریخ و حساسیت سے آگاہ نہیں ہے اور اس تین دن کے تہوار کو فقط "تفریح" کے طور پہ مناتی ہے اور کسی بھی معاملے میں اصل حیثیت "نیت" کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف کی پہلی حدیث کے الفاظ ہیں "اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے"۔
تو اس تفریحی تہوار کا تعلق بھی منانے والوں کی نیتوں کو محسوس کرتے ہوئے سمجھا جائے نہ کہ ماضی کے کسی فضول واقعے سے۔۔
وگرنہ اگر دوسروں سے مشابہت اور حرام، حرام کا یہ بازار جاری رہا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا اس لیے کہ بہت سارے معمولات چاہتے نہ چاہتے ہوئے ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں جن کی مذہبی تاریخ و تہذیب کسی دوسرے مذہب اور علاقے کی روایت و ثقافت جا ملتی ہے۔
مثلاً ہفتے کے دنوں کے کچھ ناموں کو ہی لے لیجیے تو یہ رومیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کے مذہبی دیوتاؤں اور سیاروں سے مستعار لیے گئے ہیں۔ لیکن ہم ان دیوتاؤں کے نام ہر روز اپنی ضرورت اور عمومِ بلوٰی کے تحت لیتے ہیں نہ کہ کسی دیوتا کی تعظیم کے لئے۔
اس لیے ہر معاملے میں مذہبی قدغنیں لگانے سے نہ صرف ہم آنے والوں کو مذہب سے متنفر کرنے کا سبب بنیں گے بلکہ ہماری فطرت جو کہ اصلاً لبرل ہے اس پہ بھی بند باندھیں گے اور جب یہ فکری، تہذیبی و مذہبی بند اپنے اندر گھٹن اور دباؤ محسوس کرتے ہیں تو سارے حصار اور پابندیاں توڑ کر خود ہی اپنا رستہ بنا لیتے ہیں۔
ھذا ما عندی، واللہ اعلم باالصواب

