Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qamar Akash
  4. LGBT Kyun?

LGBT Kyun?

ایل جی بی ٹی کیوں؟

جس کو نظر آتا ہو، وہ نہ دیکھ پانے والے کا دکھ کیسے سمجھ سکتا ہے؟ میں سوشل سائنسز کا طالبعلم علم ہونے کی وجہ سے یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم جنسیت سماجی سے زیادہ جنسی اور نجی مسئلہ ہے۔ جن ریاستوں کی بنیادوں کو خالص انسانی مفاد کے نقطہ نظر سے چلایا جا رہا ہے وہاں ہم جنسیت کو قانونی تحفظ ملنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ میرے خیال سے ایل جی بی ٹی کیو بھی اس مدعہ کی امین تحریک ہے۔

یہ آرٹیکل لکھنے سے قبل میں نے جنس اور جینڈر پر کچھ کتب اور ڈاکومنٹری مشاہدہ کیں تو معلوم ہوا کہ یہ رجحان محض ہوموسیپینز(انسان) میں ہی نہیں پایا جاتا گوریلا، شیر اور دیگر کئے میملز (دودھ پلانے والے جانداروں) میں اس رجحان کو نوٹ کیا گیا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایسے میں ہم اسے غیر فطری رجحان کہہ سکیں گے؟ جو لوگ جنسی پیچیدگیاں لے کر پیدا ہوئے ان لوگوں کے حقوق پر کسی مذہب نے بات نہیں کی جس سے اس بات کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ زیادہ تر مذاہب کا ہدف مرد تھے۔ شائد مذاہب کی تخلیق زیادہ تر مردوں کے ہاتھوں پدر سری نظام کے زیر اثر ہوئی اس لئے غلبے، جنگ و جدل، خواتین اور وراثت جیسے معاملات پر ہمیں احکام تو ملتے ہیں مگر کہیں یہ لکھا نہیں ملتا کہ پیدائشی خواجہ سرا اپنی زندگی میں جنسی معاملات کو کیسے انجام دیں؟

حقارت سے نوازنے کی بجائے ہم جنسوں کی نفسیات پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان جنسی کشش کا نظام نارمل نہیں ہوتا مخالف جنس میں انہیں کوئی قدرتی رغبت نہیں ہوتی۔ ٹھیک ویسے جیسے نارمل شخصیت میں ہم جنسوں کے لئے جنسی رغبت نہیں ہوتی۔ ایک لیسبین لڑکی نے اپنا احساس بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی مرد کے ساتھ خود کو ایسے محسوس کرتی ہوں جیسے کوئی سانپ مجھ پر رینگ رہا ہو۔

لہذا بات یہ ہے کہ ہم اس طرح محسوس کرنے والوں کے جذبات سمجھ نہیں پا رہے اور اس معاملے کو مذہبی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور مذاہب بھی وہ جو ان پر قدغن کا جواز تو فراہم کرتے ہیں مگر ان کے جنسی جذبات کی نکاسی کے لئے حقوق متعین کرنے پر خاموش ہیں۔

جس کو نظر آتا ہو وہ نہ دیکھ پانے والے کا دکھ کیسے سمجھ سکتا ہے؟

Check Also

Saudi Arab Mein Bike Delivery Ki Nokariyan

By Mansoor Nadeem