Naseeb
نصیب

"دیکھو۔۔ یہ کوئی زبردستی نہیں ہے۔۔ تم آ رام سکون سے۔۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔۔ یہ تو۔۔ بس ہماری خواہش ہے۔۔ حکم نہیں ہے۔۔"
وحید نے نور کے سر پر شفقت سےہاتھ رکھ کر کہا
"جی پاپا۔۔"
نور باپ کے لہجے کی نرمی کے سامنے کچھ کہہ ہی نہ سکی مگر اندر ہی کچھ تھا جو اس کو روک رہا تھا۔
***
نور اسپین میں رہتی تھی۔ کئی سال پہلے جب اس کے والد وحید اسپین آئے تھے تو دنیا کے حالات مختلف تھے۔ دہشتگردی مذہبی منافرت اس درجے کو نہیں پہنچی تھی۔ روزگار کے مواقعے ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ وحید بھی ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش میں اسپین آیا تھا۔ کچھ عرصہ سخت محنت کے بعد وہ یہاں سیٹل ہوگیا اور پاکستان سے اپنی بیوی سمیرا اور بیٹے کو بھی بلا لیا۔ علی اور نورکے علاوہ ان کی ایک بیٹی دعا اور ایک بیٹا احمد بھی تھے۔ بچوں نے اسپین میں ہی آنکھ کھولی اور یہیں کے ماحول میں پلے بڑھے۔ سمیرا ایک کم پڑھی لکھی عورت تھی مگر اس کا خمیر مذہبی و ثقافتی اقدار سے گندھا ہوا تھا لہذا وطن سے دور ہونے کے باوجود اس نے اپنے بچوں کو مذہب اور روایات سے دور نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے اندر ہمیشہ پاکستانی ماحول کو زندہ رکھا تھا جہاں شوہر اور باپ گھر کا سربراہ اور فیصلے کرنے کا حق دار ہوتا ہے۔ دوسری طرف وحید بھی بچوں پر اپنی مرضی ٹھونسے کا قائل نہ تھا یوں ان کے گھر کا ماحول ایک مثالی گھر انے کو جنم دے چکا تھا جہاں سب ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کے اٹوٹ دھاگوں سے بندھے تھے۔
***
"دعا۔۔ میرا دل نہیں مان رہا۔۔ مگر امی اور بابا کی خواہش۔۔"
سوچ سوچ کر نور کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔"نور۔۔ امی بہت مشکل سے اپنے ڈپریشن سے نکل پائی ہیں۔۔ یہ ان کی دلی خواہش ہے۔۔ بس۔۔ مجھے اس کے علاوہ اور کچھ یاد نہیں۔۔" آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔
نور کا بھی دل بھر آیا دونوں بہنیں بے ساختہ گلے لگ کر رونے لگیں۔
***
سمیرا کو ڈپریشن ہوگیا ہے۔۔
یہ خبر وحید اور بچے سب ہی حیران رہ گئے۔
"ہم ایک آئیڈیل لائف گزار رہے ہیں۔۔ لوگ اس زندگی کی تمنا کرتے ہیں اور امی کو ڈپریشن ہوگیا ہے۔۔"
وحید بچوں کی بات سن کر رنجیدہ ہوگیا
"ہاں ہم ایک آئیڈیل لائف گزار رہے ہیں اور اس آئیڈیل لائف کو مینٹین رکھنے میں ہم اتنے مصروف ہیں کہ ہمارے پاس سمیرا کے لئے وقت نہیں ہے۔۔ وہ سارا دن ہماری واپسی کی راہ دیکھتی ہے۔۔ ایک بھرے پرے گھر میں رہنے والی ماں کے لئے۔۔ تنہائی سے بڑا دکھ کیا ہوگا۔۔"
وحید سمیرا سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ اس کی زندگی بھر کی ساتھی تھی۔ ایک نہایت خدمت گزار اور اطاعت شعار بیوی تھی۔ بچوں کی تربیت میں بھی سمیرا نے اس عنصر کو سب سے مقدم رکھا۔ دکھ یا سکھ کسی موقعے پر سمیرا نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا اور اب۔۔ اس کو پل پل کمزور ہوتے۔۔ اداس و رنجیدہ دیکھنا۔۔ وحید کے لئے بہت بڑی آزمائش تھی۔ بچے بھی ماں کی حالت پر دل گرفتہ تھے مگر بے بسی سے دیکھنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔۔ زندگی تھی کہ فرصت ہی نہیں دیتی تھی۔
***
"وحید۔۔ میں یہاں نہیں مرنا چاہتی۔۔ مجھے پاکستان لے چلو۔۔ میرے اپنوں میں۔۔"
سمیراکا ڈپریشن بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کی خوراک بہت کم ہوگئی تھی، وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا، رات رات بھر جاگتی تھی انزائٹی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اس کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ جلد مر جائے گی۔
سمیرا نے بڑی کڑی خواہش کی تھی سب کچھ چھوڑ کر جانا اتنا آسان نہ تھا۔ علی اپنی جاب اسٹارٹ کر چکا تھے۔ احمد یونی ورسٹی کے دوسرے سال میں تھا۔ نور اور دعا بھی ابھی پڑھ رہی تھیں۔ وحید کا ریسٹورینٹ بھی اچھا خاصا چلتا تھا۔۔ کہیں سے کوئی پرزہ ہٹایا نہیں جا سکتا تھا۔۔ وحید کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔
سمیرا کو اپنی عمر کے آخری حصے میں اپنے وطن کی مٹی بے طرح یاد آ رہی تھی۔ وہ مٹی جس میں اس ماں اور باپ مدفون تھے۔۔ جہاں اس کی جڑیں اب بھی پیوست تھیں۔ اس کا زیادہ تر وقت پاکستان میں موجود رشتے داروں سے بات کرتے گزرتا تھا۔
"بس بھابھی۔۔ مجھے واپس آنا ہے۔۔ آپ سب کے پاس۔۔ اس گھر میں جہاں میں دلہن بن کر آئی تھی۔۔ جہاں میرا علی پیدا ہوا تھا۔۔"
سمیرا اپنی جٹھانی رضیہ بھابھی سے بات کر رہی تھی۔
"آ جا۔۔ سمیرا۔۔ جب دل چاہےآ جا۔۔ یہاں تیرا کمرہ ویسا کا ویسا ہی ہے جیسا تو چھوڑ کر گئی تھی۔۔ کوئی چیز جگہ سے نہیں ہٹائی۔۔ آخر بار تو دس سال پہلے آئی تھی۔"
رضیہ نے نہایت ہمدردی سے کہا سمیرا کا دل بھر آیا۔
"آجاؤں گی بھابھی۔۔ یہاں نہیں مروں گی۔۔"
رضیہ دل پر ہاتھ کر بولی
"اللہ نہ کرے سمیرا۔۔ خیر مانگ۔۔ خیر۔۔"
***
"پاپا۔۔ میں اپنی اسٹڈی چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں۔۔ وہاں کیا کروں گا؟"
احمد اپنے تعلیمی سفر میں ہمیشہ سے ٹاپر رہا تھا۔ اب جب کہ منزل دو ہاتھ رہ گئی تھی، سب چھوڑ کر جانا۔۔ اس کے لئے بعید قیاس از تھا۔
"یہ ٹھیک کہہ رہا پاپا۔۔ اس کی، دعا اور نور کی اسٹڈی۔۔ میری جاب۔۔ آپ کا بزنس۔۔ ہم میں سے کوئی بھی اچانک سب کچھ چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔۔ پاکستان کے حالات آ پ کو بھی معلوم ہیں اور اگر امی کا ڈپریش وہاں جا کر بھی ٹھیک نہ ہوا تو۔۔"
علی کہتے کہتے رک گیا اس کو اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوگیا۔
"آئی ایم سوری۔۔"
وہ شر مندہ سا ہوگیا۔
"نہیں۔۔ سوری کی ضرورت نہیں۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔ ہمیں ہر پہلو سے جائزہ لینا ہوگا۔۔"
"تم لوگ میری وجہ سے اتنے پریشان نہ ہو۔۔"
کسی کو پتہ نہ چلا اور دروازے کے قریب کھڑی سمیرا ان کی بات چیت سنتی رہی۔
"امی۔۔ امی۔۔ سوری امی۔۔ مگر۔۔"
دعا اور نور سب سے پہلے ماں کی طرف بھاگیں۔ وہ آہستہ آہستہ چل کر وحید کے پاس صوفے پر آ بیٹھی۔
"سوری امی۔۔" علی بھی شرمندہ تھا وہ اس کے قدموں میں آ بیٹھا۔
"نہیں۔۔ میری جان۔۔ میں خفا نہیں ہوں۔۔ بلکہ میں تو خوش ہوں۔۔ میرے بچے اتنی مضبوط شخصیت کے مالک ہیں کہ مشکل حالات میں سخت فیصلے لے سکتے ہیں۔۔ بس میں یہ نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے تم سب کو کوئی مشکل ہو۔۔ تم میں سے کسی کا بھی مستقبل خطرے میں پڑے۔۔"
سمیرا نے علی کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
ہر آنکھ اشک بار تھی۔
***
"دعا۔۔"
بہت سوچ بچار کے بعد قرعہ فال دعا کے نام نکلا۔
"دعا اپنی ماں کے ساتھ پاکستان چلی جائے۔۔ وہاں اس کی دیکھ بھال کرے۔۔ ہم میں سے بھی جس کے لئے جب ممکن ہوا پاکستان پہنچ جائے گا۔۔"
وحید نے فیصلہ سنا دیا۔
"میں بھی ساتھ جاؤں گی۔۔"
نور نے کہا
"میں امی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔" مگر سمیرا نے اعتراض کیا۔
"گھر کی تینوں خواتین چلی جائیں گی تو پیچھے گھر کون دیکھے گا۔۔ کسی ایک کو یہاں رہنا چا ہئے۔۔"
"امی۔۔ آپ ہماری فکر نہ کریں۔۔ ہم مینیج کر لیں گے۔۔ عالیہ کا گھر بھی قریب ہی ہے وہ اور اس کی امی ہفتے دس دن میں چکر لگا لیا کریں گی۔۔ کھانا وغیرہ بنا کر فریز کر دیں گی۔"
علی نے کہا عالیہ اس کی کولیگ تھی اور اس کا انتخاب بھی۔ حالاں کہ سمیرا کی خواہش تھی کی رضیہ بھابھی کی بیٹی علی کی دلہن بنے مگر وہ بچوں پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرنا چاہتی تھی لہذا علی کی پسند کو دل سے اپنا لیا۔
***
دعا کے لئے یہ اب مشکل فیصلہ تھا۔ مگر ماں کی حالت اور باپ کا حکم مقدم تھا۔ اس کا گریز دیکھ کر وحید نے فیصلہ کا اختیار اس کے ہاتھ میں دے دیا مگر کس اور فیصلے کی گنجائش تھی ہی نہیں۔ سمیرا کی حالت دن بدن بگڑ رہی تھی۔ جسم جیسے درخت سے ٹوٹی ہوئی ٹہنی کی طرح لمحہ لمحہ خشک ہو رہا تھا۔ یوں دونوں بہنیں ماں کو ساتھ لئے پاکستان اپنے آبائی گھر آ گئیں۔ رضیہ صرف اس کی جٹھانی ہی نہیں چچا زاد بہن بھی تھی سارا بچپن ساتھ گزرا۔ وہ بڑی خوشی خوشی سمیرا کو اپنے دیور کی دلہن بنا کر لائیں تھیں۔ اس کے جانے کے بعد انھوں نے سمیرا اور وحید کا کمرہ کسی کو استعمال نہ کرنے دیا اور اب اتنے سالوں بعد سمیرا کو اس حال میں دیکھ رضیہ کے دل کو دھچکا لگا۔ دونوں بڑی دیر تک ایک دوسرے کے گلے لگی روتی رہیں۔
"تو ٹھیک ہو جائے گی۔ پریشان نہ ہو۔ یہاں بھی بڑے اچھے اچھے ڈاکٹر حکیم ہیں۔ روحانی علاج بھی کرواؤں گی۔۔ دیکھنا تو بھلی چنگی ہو جائے گی۔۔"رضیہ کی بات سن کر سمیرا کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
رضیہ اور مجید کے بھی چار بچے تھے۔ بڑی بیٹی علی کی ہم عمر تھی۔ اس کے بعد ایک بیٹا خضر اور پھر دوبیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی دوسرے شہر بیاہی تھی جبکہ چھوٹی ابھی پڑھ رہی تھیں جبکہ خضر باپ کے ساتھ بزنس سنبھال رہا تھا۔
سمیرا سے محبت ماں کی طرف سے اس کے خون میں شامل تھی خود سمیرا کو بھی وہ اپنے بچوں کی طرح کی عزیز تھا۔ اب جب کہ سمیرا بیماری کی حالت میں اس کے گھر میں مقیم تھی وہ اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
"چچی۔۔ آپ بس مجھے بتائیں۔۔ جس چیز کی بھی ضرورت ہو۔۔میں ہر وقت حاضر ہوں۔۔"
وہ سعادت مندی سے کہتا تو سمیرا کے دل سے اس کے لئے ڈھیروں دعائیں نکلتی تھیں۔ دعا تو بہت جلد گھر کے ماحول میں رچ بس گئیں مگر نور کو ایڈ جسٹ ہونے میں پرابلم ہو رہی تھی۔
"یہاں اتنی مکھیاں کیوں ہوتی ہیں۔۔"
وہ چڑ کر کہتی۔
"کیوں کہ ہم لوگ بہت میٹھے ہیں نا۔۔ اس لئے۔۔"
خضر کے جواب پر دعا ہنس پڑی۔ خضر بڑی دلچسپی سے اس کے گالوں میں پڑتے ڈمپلز کو دیکھتا رہ گیا۔
***
وحید نے جلد ہی اپنا بزنس چند وفادار ملازمین اور دونوں بیٹوں کے سپرد کرکے پاکستان کی راہ لی۔ وہ بھی اپنی زمین پر آنا چاہتا تھا۔ وحید کو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس کے بھائی بھابھی اور ان کے بچے سمیرا کی بہت اچھی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ سمیرا پاکستان آ کر بہت خوش تھی۔ روز کوئی نہ کوئی اس کی مزاج پرسی کو آجاتا اس کی تنہائی دور ہوگئی تھی۔ ہر آنے والا سمیرا کی صحت کی لئے دعا گو تھا۔ رضیہ ہر نماز کے بعد آیات شفا پڑھ پڑھ کر سمیرا پر دم کرتی۔ یوں سمیرا کی حالت پہلے سے بہت بہتر ہوتی چلی گئی تھی۔
"میں۔۔ میں آپ سب کا بہت شکر گزار ہوں۔۔ آپ سب نے اس مشکل وقت میں ہمارا بہت ساتھ دیا ہے۔۔"
وہ آبدیدہ ہوگیا مجید نے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لیا۔
"تُو میرا بھائی ہے۔۔ ماں جایا۔۔ تیرا ساتھ ہم نہیں دیں گے تو اور کون دے گا۔۔"
***
"وحید۔۔ میری خواہش تھی کی مجید بھائی کی بیٹی میری بہو بنتی اور ایسا میں اس لئے چاہتی تھی کہ میرے بچے اپنوں سے جڑے رہیں۔۔ ان کی جڑیں اپنی مٹی میں پیوست رہیں۔۔ خیر ایسا نہیں ہو سکا۔۔ مگر کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم خضر کو اپنا بیٹا بنا لیں۔۔ خضر اور نور۔۔"
سمیرا نے بات ادھوری چھوڑ کر شوہر کی طرف دیکھا۔
"سمیرا۔۔ تمہاری سوچ بہت اچھی ہے۔۔ مگر ہمیں نور کی مرضی بھی معلوم کرنی چاہئے۔۔ یہ اس کی زندگی ہے اور اس کو فیصلہ بھی اس کو ہی کرنا چاہئے۔"
سمیرا وحید کی اس بات سے متفق تھی لہذا سب سے پہلے نور سے بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نور فوری طور پر کچھ کہہ نہ سکی۔ وحید نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ یہ صرف ایک خواہش ہے۔۔ آخری فیصلہ وہ ہوگا جو تم کہوں گی۔
نور تذبذب کا شکار تھی۔
"اتنے اچھے ہیں خضر بھائی۔۔ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں۔۔"
دعا بھی کافی ایکسائیٹڈ ہوگئی تھی۔
"ان کی اچھائی میں شک نہیں۔۔ مگر میں یہاں نہیں رہنا چاہتی اور مجھے معلوم ہے خضر کبھی اپنے والدین کو چھوڑ کر نہیں جائے گا۔۔ مگر امی کی خواہش۔۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟"
ادھر جب رضیہ کے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا تو وہ خوشی سے بے حال ہوگئی۔
"سمیرا۔۔ یہ تُو نے میرے دل کی بات کہہ دی۔۔ قسم سے خود میرا دل چاہتا تھا کہ تیری دونوں بیٹیوں میں سے کسی ایک کو اپنے گھر کی رونق بنا لوں۔۔"
***
دونوں طرف سے معاملات تیزی سے طے پا گئے۔
"ایک چھوٹی سی تقریب کر لیتے ہیں۔۔ گھر میں ہلا گلا بھی ہو جائے گا۔۔"
رضیہ کے اکلوتے بیٹے کی خوشی تھی وہ دل بھر کر سیلبریٹ کرنا چاہتی تھی۔۔ مگر۔۔ خضر کی آنکھوں میں کوئی اور ہی چہرہ بسا تھا۔۔
دعا کا چہرہ۔۔
دعا پاکستان آنے کے چند دن بعد ہی ایسی گھل مل گئی جیسے وہ اس گھر کے لئے بنی ہو۔ کبھی کچن میں کھڑی پاکستانی کھانے سیکھ رہی ہے تو کبھی سلائی مشین پر جھکی کچھ سینے کی کوشش کر رہی ہے اور گھر ہی کیا اس کی تو محلے پڑوس میں بھی دوستی ہوگئی تھی۔ دوسری طرف نور لئے دئیے انداز سے رہتی تھی صاف نظر آتا تھا کہ وہ وہاں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی۔۔ مگر خضر اس بارے میں زبان نہیں کھول پایا۔۔ بڑوں کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا ان کے خاندان کی روایات رہی تھی اور وہ روایت شکن نہیں بننا چاہتا تھا۔
***
"نہیں۔۔ دعا۔۔ یہ مجھ سے نہیں ہو پائے گا۔۔ تم پلیز پاپا کو منع کردو۔"
نور نے بڑی کوشش کی مگر وہ کسی طرح خود کو اس رشتے کے لئے تیار نہ کر پائی۔
"نور۔۔ یہ۔۔ یہ تم اب کہہ رہی ہو۔۔ کل تمہاری اور خضر بھائی کی رسم ہے۔۔ سب کتنے خوش ہیں۔۔ سوری۔۔ میں پاپا کا سامنا نہیں کر سکتی"
دعا نے ہری جھنڈی دکھا دی
"اور مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا۔۔ تم انکار کر کیوں رہی ہو۔۔ یار۔۔ سب اتنے اچھے ہیں۔۔ یہ ملک اتنا اچھا ہے۔۔ کتنی محبت اور گرم جوشی ہے یہاں۔۔ خود خضر بھائی۔۔ و ہ کتنے اچھے ہیں۔۔ ہر لڑکی ان جیسے ہینڈسم اور مہذب انسان کی تمنا کرتی ہے۔۔"
دعا خضر کی تعریفوں کے پل توڑ رہی تھی مگر نور کا دھیان ایک ہی بات کی طرف تھا۔
"ہر لڑکی؟"
اس نے دعا سے پوچھا
"ہاں ہاں ہر لڑکی۔۔"
دعا نے اپنی بات پر زور دے کر کہا
"تم بھی؟"
نور سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا
"ہاں بھئی۔۔ میں بھی۔۔"
دعا روانی میں کہہ گئی مگر فوراً ہی اس کو اپنی غلطی کو احساس ہوگیا وہ گڑ بڑا سی گئی۔ نور نے ہنستے ہوئے دعا کو گلے لگا لیا۔
***
"میرے لئے دعا اور نور برابر ہیں۔۔ دعا تو یوں بھی آتے ہیں ہمارے رنگ میں رنگ گئی ہے۔۔ وحید۔۔ سمیرا۔۔ تم دونوں بھی پریشان نہ ہو۔۔ جو اللہ نے نصیب میں لکھا ہو، وہ ہی ملتا ہے۔۔"
رضیہ کی بات سن کر وحید نے سکھ کا سانس لیا مگر سمیرا اب بھی پریشان تھی۔
"خضر کیا سوچے گا۔۔ کہ چچا چچی صرف اپنی بیٹیوں کا سوچ رہے ہیں۔۔ اس کی بھی کچھ تو پسند نا پسند ہوگی"۔
اور دروازے کے قریب کھڑا خضر سوچ رہا تھا کہ کیا ان کہی تمنائیں یوں بھی پوری ہو جاتی ہیں۔۔

