Friday, 03 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Mobile Ki Sim

Mobile Ki Sim

موبائل کی سم

"مجھے۔۔ مجھے۔۔ بس یہاں سے جانا ہے۔۔ کسی اچھی جگہ جہاں سکون ہو امن ہو۔۔ زندگی آسان ہو۔۔ یہاں تو ذہنی و جسمانی ٹارچر کے سوا کچھ نہیں۔۔"

انعم میز پر رکھے اپنے ہاتھوں کو گھورتے ہوئے بولی۔

میز کے دوسری طرف بیٹھا ظفر اس کی طرف سنجیدگی سے دیکھتا رہا۔

"سچ کہتی ہیں۔۔ ایسا ہی ہے۔۔ میں تو خود اس نظام سے بہت عاجز ہوں۔۔ اسی لئے یہ ایجنسی کھول کر بیٹھا ہوں۔۔ ورنہ مجھے پیسوں کا قطعی کوئی لالچ نہیں۔۔ میرے اپنے چاروں بیٹے امریکہ میں ہیں۔۔ خوب کماتے ہیں۔۔ مجھے بھی ڈالرز بھیجتے ہیں۔۔ کہتے ہیں ابو یہاں آ جائیں۔۔ مگر میں نہیں جاتا۔۔ میں اس ملک کے نوجونوں کی مد کرنا چاہتا ہوں۔۔ تم جیسے سب نوجون بچے بچیاں، میرے بیٹے بیٹیاں ہو۔۔ میں تم سب کے لئے یہاں بیٹھا ہوں۔۔"

ظفر کے لئے ایسے نوجون ہی اصل کمائی کا ذریعہ تھے جو اپنے گھر ماحول اور ملک سے عاجز تھے جو کہیں بھی جا کر کچھ بھی کرنے کے لئے تیار تھے اور پھر کم عمر لڑکیوں کی تو ہر جگہ ڈیمانڈ تھی۔

انعم ممنون نظروں سے تکتی رہی۔

***

"جھوٹ تو گھٹی میں پڑا ہے۔۔"

عبید نے اعلان جنگ کر دیا۔ نفیسہ خم ٹھونک کر میدان جنگ میں آ گئی اور انعم گھر کا وہ کونا ڈھوندنے لگی جہاں وہ اس جنگ کی لفظی گولہ باری سے محفوظ رہے سکے مگر دو کمروں پر مشتمل گھر میں ایسا کوئی کونا نہ تھا۔

"میری ساری زندگی برباد کر دی۔۔ اللہ سمجھے گا۔۔ عبید۔۔ تمہارے دیدے گھٹنوں کے سامنے آئے گا۔۔"

نفیسہ جھولی پھیلا پھیلا کر اپنے شوہر کو بد دعائیں دینے لگی۔

"اب کیا ہوا ہے؟"

شمائلہ ابھی ابھی ٹیوشن سے گھر آئی تھی اور دو طرفہ الزامات سن رہی تھی۔

"ابو کو پیسوں کی ضرورت تھی۔۔ امی نے منع کر دیا۔۔"

انعم کے اعصاب چٹخ سے رہے تھے حالاں کہ اس نے آنکھ کھول کر دونوں کو ایسے ہی لڑتے دیکھا تھا مگر وہ کبھی خود کو اس سب کا عادی نہ بنا سکی۔ دونوں چھوٹی بہنیں بھی ستے ہوئے چہروں کے ساتھ اس سے چپک کر بیٹھ گئیں۔

***

عبید اور نفیسہ آپس میں کزن تھے۔ انعم نے اڑتی اڑتی خبر سنی تھی کہ یہ ان کی پسند کی شادی تھی مگر اس نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے بی اے کر لینے تک اپنے ماں باپ کو ایک دوسرے سے محبت تو کیا عزت تک دیتے نہیں دیکھا۔ ان کی لڑائی کو شروع ہونے کے لئے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی مگر پیسے اس کی بنیادی و فوری وجہ بن جاتے تھے۔

انعم کو نہیں معلوم ان دونوں میں سے کس نے کس کا اثر قبول کیا مگر اس نے دونوں کو ایک جیسا ہی پایا تھا۔۔ پیسوں پر جان دینے والے۔۔

بے حس۔۔ اپنی من مانی کرنے والے

"ارے۔۔ مجھے سب معلوم ہے۔۔ بہت پیسے ہیں۔۔ چھپا کر رکھتی ہے۔۔ تُو بتا۔۔ اگر مجھے دے دے گی تو میں کاروبار میں لگا دوں گا۔۔ منافع ہوگا تو گھر میں ہی تو آئے گا نا۔۔ مگر نہیں۔۔ سینت سینت کر رکھتی ہے۔۔"

عبید کو یقین تھا کہ نفیسہ کے پاس بہت پیسے ہیں۔۔ وہ آئے دن کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی تھی۔۔ کبھی گھر گھر جا کر چیزیں سیل کرنے لگتی تو کبھی پولیو ورکرز کے ساتھ کام کرنے لگتی تھی۔ عبید کو کاروبار کرنے کا بہت شوق تھا مگر کاروبار کے لئے جس زیرک نگاہی اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے وہ عبید کو چھو کر بھی نہیں گزری۔۔ ناقابل عمل منصوبے بنانا اور ان پر پیسے ضائع کرنا ہی اس کا کام تھا سو ہمیشہ مالی تنگی کا شکار رہا اور بیوی بچے اچھا کھانے اچھا پہنے کو ترسے۔ گھر میں روز کی لڑائی کا سبب بھی یہ ہی غیر حقیقی خیالی بزنس ہی تھا۔

"کہاں سے آئیں گے میرے پاس۔۔ تھوڑی بہت محنت مزدوری کرتی ہوں تو ان بچوں کی ضروریات پوری کرتی ہوں۔۔ تمہاری طرح جمع نہیں کر رہی ہوں۔۔"

نفیسہ کو بھی اپنے پیسے سے بڑا پیار تھا۔ عبید کا شک ٹھیک تھا۔ اس نے واقعی بہت پیسے جوڑ رکھے تھے۔ وہ یہ پیسے گھر میں نہیں رکھتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کے عبید یا بچوں کو اس کی سیونگ کا علم ہو، مگر انعم، گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہونے کے ناطے، بہت سے رازوں سے آشنا تھی۔ مگر وہ آج تک اس سوچ کو نہ پا سکی کہ جس کے تحت کسی ماں کو پیسہ اپنی اولاد سے زیادہ عزیز ہو جائے۔۔ جس سوچ کے تحت ایک باپ اتنا غیر ذمہ دار ہو جائے کہ اس کو اپنی جوان ہوتی بیٹیوں کی فکر نہ ستائے۔ (آخر انسانوں کی سوچ محدود ہوتی ہے)

جب بھی اپنی دوستوں اور کزنز سے ماں باپ کی محبت کا ذکر سنتی وہ اپنا دل ٹٹولتی۔۔ مگر وہاں اس کو ایسا کوئی جذبہ نہ ملتا۔۔ جب کبھی کسی کے منہ سے سنتی کہ گھر جا کر سکون مل جاتا ہے۔۔ وہ لاشعوری طور پر اپنے گھر میں سکون ڈھونڈتی مگر وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔ وہاں صرف رکیک الزامات۔۔ چیخ پکار تھی۔۔ وجہ۔۔ صرف اور صرف پیسے۔۔ اس کا باپ اور اس کی ماں دونوں ہی اپنے پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔ یا شائد بچوں پر خرچ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ سو خواہ گھر کے راشن کی بات ہو یا عید تہوار کے کپڑوں کی۔۔ اسکول کی فیس کی بات ہو یا دوا دارو کی۔۔ ابتدا جھگڑے ہی سے ہوتی تھی۔ خاندان میں جتنی لڑکیاں انعم کی ہم عمر تھیں ان میں سے اکثر کی منگنی ہو چکی تھی۔۔ شادیاں ہو رہی تھیں لیکن اس کا دل مردہ ہو چکا تھا۔۔ وہ جانتی تھی شادی جیسا بڑا خرچہ ایک بڑا جھگڑا پیدا کرے گا۔۔ اسی جھگڑے کے ڈر سے وہ اپنی شادی کے بارے میں سوچتی بھی نہیں تھی۔ مگر جب جب وہ اپنی چھوٹی بہنوں کو دیکھتی اس کے دل سے ہوک سی اٹھتی تھی۔

"الٰہی۔۔ ہمارا کیا قصور ہے۔۔"

اس نے سوچ لیا تھا کہ میرے ساتھ جو ہو سو ہو لیکن میں اپنی بہنوں کے لئے ایک بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کردوں گی۔ اس سلسلے میں وہ زیڈ ٹریول ایجنسی تک پہنچی تھی۔

***

"دیکھو بیٹا۔۔ میں نے کل آپ کے مسئلے پر کافی غور کیا۔۔ آپ کے پاس تعلیم کی بھی کمی ہے۔۔ کوئی تجربہ یا ہنر بھی نہیں ہے اور پیسہ بھی ظاہر ہے۔۔ نہیں ہے۔۔ اس صورت میں آپ کا باہر جانا بڑا مشکل ہے۔۔"

ظفر نے گراؤنڈ تیار کرنا شروع کر دیا۔ لوہا جتنا گرم ہوگا چوٹ اتنی ہی کاری ثابت ہوگی۔ لہذا اس نے حتیٰ الامکان اپنا لہجے نرم مگر مایوس کن رکھا۔ انعم کی آنکھیں نم سی ہوگئیں۔

"سر میں بڑی امید لے کر آئی تھی۔۔"

"ایک راستہ ہے۔۔ اصل میں وہاں ایک فیملی کو اپنے والدین کی دیکھ بھال کے لئے ایک خاتون کی ضرورت ہے۔۔ ویسے تو اس کام کے لئے آپ کم عمر ہیں۔۔ مگر میں ان کو راضی کر لوں گا۔۔ وہ آپ کو اسپانسر کر دیں گے۔۔ اگر آپ راضی ہیں تو بات کروں؟"

"جی۔۔ جی۔۔ سر میں۔۔ بالکل راضی ہوں۔۔ میں سب کچھ کر لوں گی۔۔ سب کچھ۔۔"

انعم جلدی جلدی بولنے لگی وہ ہر صورت میں یہاں سے نکلنا چاہتی تھی اس گھر میں رہنا اب اس کے ناممکن ہوتا جا رہا تھا اور ظفر اس کی"سب کچھ کر لوں گی" پر مسکراتا رہا۔۔

"ٹھیک ہے۔۔ آپ اپنا پاسپورٹ وغیرہ بنوائیں اور کچھ پیسوں کا انتظام کر لیں۔۔"

تیر نشانے پر لگا تھا بڑی رقم ہاتھ آنے کی خوشی نے ظفر کا ڈھیروں خون بڑھا دیا تھا۔

***

"اتنے پیسے کہاں سےآ ئیں گے؟"

ماں کے اس سوال پر نجانے کیوں انعم کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا

ماں یہ بھی تو پوچھ سکتی تھی کہ اکیلی اتنی دور کیسے جاؤں گی

۔۔ کیسے رہوں گی۔۔

وہ صرف سوچ کر رہ گئی۔

"ارے۔۔ کچھ پیسے تم دے دو۔۔ کچھ میں ارینج کردوں گا۔۔ مگر زرا سوچو۔۔ یہ باہر چلی جائے گی تو گھر میں پاونڈز آنے لگیں گے۔۔ پاونڈ ز۔ پھر سرمایہ ہوگا تو میں کوئی کاروبار کر لوں گا۔۔ آمدنی بہت بڑھ جائے گی۔۔"

عبید نے فوراً ہی خیالی پلاؤ کی دیگ چڑھا دی۔ دونوں میں سے کسی نے ایک بار بھی انعم کے بارے بات نہیں کی بس پیسوں کی آمد کا سوچ کر خوش ہو اٹھے شائد زندگی میں پہلی بار دونوں کسی بات پر اتنی جلدی متفق ہو گئے تھے۔

***

"یہ تمہارا کمرہ ہے۔۔"

انعم کو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ یو کے میں ہے۔ وہ چھوٹا سا کمرہ جس میں ایک بیڈ اور ایک الماری بعد صرف کھڑے ہونے کی جگہ بچتی تھی، انعم کو نعمت ہی لگا۔

"گھر میں کُل چار لوگ ہیں۔۔ میں۔۔ میری بیوی۔۔ میرا بیٹا اور میرے ڈیڈ۔۔ اپنے ڈاکیومینٹ ویزا پاس پورٹ وغیرہ مجھے دے دو۔۔ ٹاؤن آفس میں تمہاری اینٹری کروانی ہے۔۔"

فیصل ایک چالیس سالہ پاکستانی شخص تھا۔ اس کی بیوی رشیدہ ایک بدمزاج کی عورت تھی جو کئی سال یو کے میں رہنے بعد بھی اپنی جہالت سے پیچھا نہ چھڑا سکی۔ ان کا ٹین ایج بیٹا طارق تھا جبکہ فیصل کے ڈیڈ ستر سالہ والد مختار تھے۔ انعم اس کی والدہ کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔

"سر ظفر نے کہا تھا آپ کی والدہ بھی ہیں۔۔ وہ کہاں ہیں؟"

فیصل نے حیرت سے اس کو دیکھا

"والدہ کا تو کئی سال پہلے انتقال ہوگیا۔۔ میں نے ظفر سے اپنے ڈیڈ کے لئے ہی کہا تھا۔۔"

انعم کچھ گھبرا سی گئی۔۔ ایک اکیلے مرد کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔۔ چلو کوئی بات نہیں۔۔ گھر میں اور لوگ بھی تو ہیں اور ویسے بھی بوڑھے لوگ تو بچوں جیسے ہوتے ہیں۔۔ بے ضرر۔۔ مگر انعم کا خیال غلط ثابت ہوا۔ مختار ایک تنو مند شخص تھا۔ جو زیادہ تر شراب کے نشے میں دھت رہتا تھا اپنے بھاری جسم کی سبب وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتا تھا اور اپنے کمرے تک ہی محدود رہتا تھا۔ انعم کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے ایسی خباثت ٹپکنے لگی کہ انعم کا رواں رواں کپکپا گیا۔

"اور سنو بی بی۔۔" رشیدہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا

"گھر کا سب کام کرنا ہوگا۔۔"

انعم افتاں خیزاں ان سب کا منہ تکنے لگی۔

***

"دیکھو۔۔ زیادہ پیسے خرچ نہیں کرنا۔۔ جمع کرنا اور میرے اکاؤنٹ میں بھیجنا۔۔ اپنے ابو کو تو ہوا تک مت لگنے دینا۔۔ ورنہ وہ پیسے سب اڑا دے گا"۔

نفیسہ اس کو بار بار یہ ہی ہدایت کرتی تھی۔

"دل لگا کر کام کرنا۔۔ ایکسٹرا کام کے لئے منع مت کرنا۔۔ بلکہ کچھ ایکسٹرا پیسے مانگ لیا کرنا۔۔"

انعم موبائل کان سے لگائے سنتی رہی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔

بات ختم ہونے کے بعد وہ فون سامنے رکھ کر بیٹھ گئی۔۔ جانتی تھی اب باپ کا فون آ ئے گا۔ ٹرن ٹرن۔۔

"ہاں بیٹا انعم۔۔ کوشش کرنا بڑا اماؤنٹ بھیجو۔۔ میں نے ایک دکان دیکھی۔۔ اس میں کاروبار خوب جمے گا۔۔ مگر بڑے سرمائے کی ضرورت ہے۔۔ دل لگا کر کام کرنا۔۔ جانتی ہو نا یہاں پیسوں کی کتنی ضرورت ہے۔۔"

دونوں میں سے کسی نے بھی ایک بار بھی نہیں پوچھا گھر کیسا ہے۔۔ ماحول کیسا ہے۔۔ کوئی پریشانی تو نہیں۔۔ ڈر تو نہیں لگ رہا۔۔

انعم خود ہی اپنے شانے پر سر رکھ کر رو دی۔

***

"میں۔۔ مجھ سے نہیں ہوگا۔۔ پلیز۔۔ مجھے واپس جانا ہے۔۔"

انعم زمین پر بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی اور رشیدہ بےزاری سے اس کو دیکھ رہی تھی۔

"او بی بی۔۔ ایک سال کی ایڈوانس تنخواہ لے کے بیٹھی ہو۔۔ ایسے کیسے واپس جانا ہے۔۔"

رشیدہ جاہلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔

"مگر مجھے تو کوئی تنخواہ نہیں ملی۔۔ میں نے ادھار پیسے لے کر یہاں آنے کا خرچہ کیا ہے۔۔"

انعم پر پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

"دیکھو۔۔ ہم نے ایک سال کی تنخواہ اور یہاں آنے کا تمام خرچہ ظفر کو دیا تھا۔۔ تم سے پانچ سال کا معاہدہ ہوا ہے۔۔ اب تمہاری اور اس کی کیا بات ہوئی۔۔ یہ ہم نہیں جانتے مگر تم پانچ سال تک کہیں نہیں جا سکتیں۔۔ تمہارے ڈاکیو منٹس میرے پاس ہیں۔۔ یہاں سے باہر نکلی تو سیدھی جیل جاؤ گی۔۔ میں تم پر چوری کا الزام لگا دوں گی۔۔ زندگی بھر سڑو گی۔۔"

انعم کو لگا وہ بے ہوش ہو جائے گی۔

"مگر سر ظفر نے کہا تھا کہ صرف دیکھ بھال کرنی ہے مم۔۔ مگر آپ کے ڈیڈ۔۔"

وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی۔۔ اس کو یہاں آئے محض ایک ہفتہ ہوا تھا اور مختار نے اس پر دست درازی کی کوشش شروع کر دی تھی۔ انعم کو اس شخص سے گھن آتی تھی اس کی حرکتیں۔۔ اس کی نظریں۔۔ انعم کے لئے ناقابل برداشت تھیں۔

"دیکھو بی بی۔۔ پاکستان میں لوگ ایسی باتوں سے اس لئے ڈرتے ہیں کہ آس پاس والے باتیں بنائیں گے۔۔ بے عزتی ہو جائے گی۔ یہاں تم پر باتیں بنانے والا کون بیٹھا ہے۔۔ ریلکس کرو۔۔ بڑے میاں کو کبھی کبھی خوش کر دیا کرو۔۔ بہت پیسہ ہے اس کے پاس۔۔ تمہارا بھی بھلا اس کا بھی بھلا۔۔" رشیدہ لاپروائی سے ہاتھ ہلا کر بولی

انعم کو لگا جیسے وہ یو کے میں نہیں بلکہ پاکستان میں کسی وڈیرے کی حویلی میں بیٹھی کوئی کمی کمین ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں۔۔ وہ لرزتے قدموں سے اپنے کمرے میں آئی اور اپنے موبائل سے سم نکال کر ڈسٹ بن میں پھینک دی۔

Check Also

Mobile Ki Sim

By Nusrat Sarfaraz