Monday, 06 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Izzat

Izzat

عزت

"علی۔۔ یا تو آپ واپس آ جائیں۔۔ یا پھر مجھے وہاں بلا لیں۔۔ پلیز۔۔ ورنہ۔۔ ورنہ۔۔ کچھ ہو جائے گا۔۔"

اریبہ دروازے کی طرف پشت کئے فون پر اپنے پردیسی شوہر سے بات کر رہی تھی۔

"کیا ہو جائے گا؟" ہادی نے ہنس کر پوچھا

"کچھ۔۔ کچھ بھی۔۔ مگر بہت برا۔۔"

اریبہ اصل بات کہہ نہ پائی اور ہادی نے اس کے دل کی بات جاننے کی کوشش بھی نہیں کی، تسلی و نصیحت کے چند حروف اس کے کان میں انڈیل کر فون بند کر دیا۔

کال ختم کرکے جب اریبہ آنسو صاف کرتی پیچھے مڑی تو اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ اس کی ساس بتول بی بی کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی اس کو گھور رہی تھیں ان کے تیور دیکھ کر ڈر سی گئی۔

"وہ۔۔ مم۔۔ میں۔۔"

اس نے وضاحت دینے کی کوشش کی مگر الفاظ اس کے ذہن سے غائب ہو گئے۔ بتول بی بی نے ایک نگاہ غلط اس پر ڈالی اور بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئیں مگر ان کی خاموشی کے پیچھے جو طوفان چھپا تھا اس کی شدت کا اریبہ کو اچھی طرح اندازہ تھا۔ اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر برسات ہونے لگی۔

***

اریبہ ایک ڈرپوک سی لڑکی تھی یا شائد بن ماں زندگی گزارنے والی سب لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں سوتیلے رشتوں کے ساتھ رہتے رہتے اس کی شخصیت ایسی مسخ ہوئی کہ اس نے کبھی اپنی حق کے لئے آواز اٹھانے کی ہمت نہ کر پائی۔ یہ شادی بھی عالیہ خالہ کی مہربانی سے ہوگئی جنہیں اپنی مرحومہ بہن کی بیٹی بہت عزیز تھی اور وہ اس کا حال دیکھ کر کڑھتی تھیں۔ جب ان کے بڑے داماد کی پھوپھی نے اپنے بیٹے ہادی کے لئے لڑکی دیکھنی شروع کی تو عالیہ کو اپنی بھانجی یاد آ گئی۔۔ مگر ہائے ری قسمت۔۔ عالیہ خالی بھی کہاں جانتی تھیں کہ ان با پردہ و با ریش چہروں کے پیچھے ریا کاری اور منافقت کے کیسے گھناؤنے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔

***

"پہلے زمانے میں عورتیں شوہر کا نام نہیں لیتی تھیں۔۔ اتنی حیا دار ہوتی تھیں اور اب رو رو کر شوہر کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری دوری سہی۔۔ نہیں جاتی۔۔"

کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اریبہ نے بتول بی بی کا آخری جملہ سن لیا۔ کمرے میں اس کے سسر، دیور اور نند سب ہی موجود تھے۔ شرمندگی کے مارے اس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ اریبہ کو اسی بات کا ڈر تھا۔ اس کو اپنی ساس کی فطرت کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے مخالفین کو محفل میں ذلیل کرنی قائل تھیں۔ باتوں کو گھما کر اپنی مرضی کا رنگ دینا، اپنے ہدف کو ایسے ٹارگٹ کرنا کہ سب جان جائیں کس کی طرف اشارہ ہے ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

آخر انسان یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ لوگوں کو اپنی باتوں کو چکر میں لینے والا کاتبِ اعمال کو اس چکر میں نہیں لے سکتا۔۔ وہاں الفاظ نہیں ارادے اور نیتیں لکھی جاتی ہیں اور لکھائی بھی ایسی جس میں غلطی بھول چوک کا کوئی امکان نہیں۔۔ مگر کئی سال کی پریکٹس نے انھیں اپنے فن میں طاق بلکہ نازاں کر دیا تھا۔

اریبہ چائے کی ٹرے رکھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ اس نے تو اپنے شوہر سے مدد مانگی تھی مگر یہاں تو۔۔ آزمائش مزید سخت ہوگئی۔

"۔۔ کس سے کہوں۔۔ کس سے مدد مانگو۔۔ کیسے اپنی عزت بچاؤں۔۔"

اریبہ کو لگا وہ پاگل ہو جائے گی۔

وہ اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ تھی اور اس کی عزت کا محافظ اسے اپنے گھر والوں کے رحم کرم پر چھوڑ کر دور دیس جا بیٹھا تھا۔

***

"بھابھی۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔"

اس کا دیور شرجیل بنا دستک دئیے بغیر اس کے کمرے میں داخل ہوگیا۔ اریبہ بیڈ پر لیٹی تھی وہ بجلی کی تیزی سے اٹھی مگر دوپٹہ کرسی پر پڑا تھا اور بیچ میں شرجیل کھڑا تھا اور اس کا سامنے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ لباس سنبھالتی خود کو بچاتی بمشکل دوپٹے تک پہنچی۔

"کچھ نہیں۔۔ بس ایسے ہی۔۔"

اریبہ نے کہا تو شرجیل کے ہونٹوں پر ایک عجیب سے مسکراہٹ دوڑ گئی۔

"بھائی کی یاد آ رہی تھی۔۔ یار۔۔ ویسے بھائی بڑا ظالم ہے۔۔ تمہیں یہاں تنہا چھوڑ کر خود وہاں مزے کرتا ہوگا۔۔"

شرجیل نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اس کی شادی کی تصویر کو ہاتھ میں اٹھا لیا۔

"ویسے۔۔ تم شادی والے دن بے حد حسین لگ رہی تھیں۔۔ نجانے کیسے چھوڑ گیا وہ تمہیں۔۔"

اریبہ کرسی کی پشت کو مضبوطی سے پکڑے کھڑی تھی شرجیل اب اس کے قریب آگیا۔۔ بہت قریب۔۔

"میں ہوتا تو آنکھوں کے سامنے سے نہ ہٹنے دیتا۔۔"

اریبہ کی ٹانگیں لرز رہی تھیں اور نگاہیں فرش پر گڑی تھیں۔ شرجیل نہایت دلچسپی سے اس کے چہرے کی لالی کو دیکھ رہا تھا۔

***

"کہاں تھیں تم؟ کب سے کال کر رہا ہوں۔۔"

ہادی خفا لہجے میں بولا

"میں کچن میں تھی۔۔ اچھا سنیں ہادی۔۔ مجھے۔۔ مجھے آپ سے۔۔ کچھ کہنا ہے۔۔"

اریبہ کے الفاظ اٹک رہے تھے۔

"ہاں۔۔ ہاں کہو۔۔ کچھ چاہئے تو بتاؤ۔۔"

ہادی نے فراخ دلی سے کہا

"نہیں۔۔ کچھ چاہئے نہیں۔۔ اصل میں۔۔ میں یہاں کمفرٹیبل نہیں ہوں۔۔ تو جب تک آپ پاکستان نہیں آجاتے میں۔۔ پاپا کے گھر چلی جاؤں۔۔"

اریبہ نے ہمت کرکے کہہ ہی دیا مگر ہادی کا ری ایکشن اس کو سن کر گیا۔

"کیوں۔۔ یہاں کیا تکلیف ہے؟ وہاں سوتیلے رشتوں میں کمفر ٹیبل ہو جاؤ گی؟ انھوں نے پلٹ کر کبھی تمہیں پوچھا؟ اور تم چلی جاؤ گی تو امی ابو کا خیال کون رکھے گا؟ ہر چیز میسر ہے۔۔ کس چیز کی کمی ہے؟"

ہادی نے پے در پے اتنے سوال کئے کہ وہ جواب نہ دے سکی۔۔ یہاں ہر شخص خوشی اور سکون کو چیزوں کے مادہ پرستی کے ترازو میں تولتا تھا۔

"نہیں کمی تو کوئی نہیں۔۔ مگر۔۔ ہادی۔۔ شرجیل۔۔ اس کا رویہ عجیب سا ہے۔۔ وہ۔۔"

"اریبہ۔۔"

ہادی نے سخت سرزشی لہجے میں اس کی بات کاٹ دی۔

"آج کے بعد کبھی مجھ سے میرے گھر والوں کی برائی مت کرنا۔۔ میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو بیوی کے آتے ہی اس کی زبان بولنے لگتے ہیں۔۔ اپنے ماں باپ اور بہن بھائی مجھے بہت عزیز ہیں اور ان کے خلاف میں ایک لفظ سن سکتا۔۔"

ہادی نے فون کاٹ دیا۔ اریبہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

***

"عالیہ بہن۔۔ میں نے تو آپ کی شرافت اور سلیقہ دیکھا تھا اور خوف خدا تھا کہ بن ماں کی بچی ہے۔۔"

بتول بیگم نے اریبہ کی خالا کو فون گھما دیا اور ڈاریکٹ بات شروع کر دی۔

"کیا ہوا بتول بہن۔۔ اریبہ سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔۔"

"غلطی اریبہ سے نہیں۔۔ غلطی مجھ سے ہوئی ہے۔۔ مگر میں نے کیا غلط ہوا ہے۔۔ یہ پتہ نہیں چل رہا۔۔"

بتول بیگم کو باتوں کا جال بننا خوب آتا تھا۔ سامنے کھڑی اریبہ افتاں و خیزاں رہ گئی۔۔ سسر نے اخبار مزید اوپر کر لیا

"پھر بھی۔۔ کچھ تو بتائیں۔۔ ہوا کیا ہے؟"

عالیہ خالہ بھی پریشان ہوگئیں

"بہن بس کیا کہوں۔۔ اریبہ یہاں نہیں رہنا چاہتی۔۔ عجیب لئے دئیے سی رہتی ہے۔۔ نہ کسی سے بات کرنا بات کرنا نہ گھلنا ملنا۔۔

اس نے ہادی سے بھی کہا ہے کہ مجھے اپنے پاس بلا لو۔۔ ہادی مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا بات ہوئی؟

اب میں بتاؤں آپ کو۔ بات یہ ہے کہ اریبہ شوہر کے بغیر نہیں رہ پا رہی۔۔"

اریبہ پتھر کی بت بنی رہ گئی۔

"آپ جانتی ہیں میرے گھر کا ماحول کیسا دین دار اور پاکیزہ ہے۔۔ میں نے اپنے بچوں کی تربیت میں اپنی ہستی مٹا دی۔۔ ان باتوں سے ہادی میں بھی جذباتی ہیجان پیدا ہوگا۔۔ اگر وہ وہاں کسی گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اور پھر۔۔ گھر میں جوان نند اور دیور کے ہوتے ہوئے اس طرح کی باتیں۔۔ زیب دیتی ہیں؟"

اریبہ لرزتے قدموں پلٹ گئی۔۔

"بھئی بیگم حد کرتی ہیں آپ بھی۔۔ کیا ضرورت تھی عالیہ بہن سے یہ سب کہنے کی۔۔"

انوار صاحب نے بیگم کو سرزنش کرنی چاہی مگر بتول بیگم نے انھیں بھی آڑے ہاتھوں لے لیا۔

"آپ چپ رہیں۔۔ گھر کے معاملات ہمیشہ میں نے ہینڈل کئے ہیں۔۔ آپ نہ بولیں۔۔"

اریبہ اپنے کمرے میں آگئی۔ دس منٹ بعد عالیہ خالہ کی کال بھی آ گئی۔ شرمندگی کے مارے اریبہ کچھ نہ کہہ پائی وہ اسے سمجھاتی رہیں

"بیٹا۔۔ اریبہ۔۔ میں تمہارے جذبات سمجھ سکتی ہوں۔۔ مگر عورت کو اللہ نے بڑی برداشت دی ہے۔۔ کچھ سال کی بات ہے۔۔ ہادی واپس آجائے گا۔۔"

"خالہ۔۔ یہ بات نہیں ہے۔۔ میں بس۔۔"

وہ شرجیل کے بارے میں بتانا چاہتی تھی مگر خوف زدہ نظروں سے دروازے کی طرف دیکھتی رہی جہاں آہٹیں تھیں۔

"ویسے ہادی کو بھی اپنی ماں سے تمہاری باتیں شئیر نہیں کرنی چاہئے۔۔ بہر حال آئندہ ہادی سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کرنا۔۔"

وہ کچھ کہہ ہی نہ پائی۔

***

"ناراض ہو؟"

وہ کئی دن سے ہادی سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہی تھی۔ جان بوجھ کر فون کمرے سے باہر چھوڑ آتی تھی۔

"نہیں۔۔ بس تھک گئی ہوں۔۔"

اب ہادی کی آواز اس کے اندر کوئی احساس پیدا نہیں کرتی۔

"میں امی سے کہوں گا تم پر سے کام کا برڈن کم کر دیں۔۔"

ہادی کی بات سن کر اریبہ کے اوسان خطا ہو گئے وہ جلدی سے بولی

"نہیں۔۔ نہیں۔۔ ایسی کوئی بات نہیں کرنا پلیز۔۔ مجھ پر کام کا کوئی برڈن نہیں ہے۔۔ یہ تو بے وجہ کی تھکن ہے۔۔"

"یہ بے وجہ کی نہیں جدائی کی تھکن ہے۔۔ میں بھی تمہیں بہت مس کرتا ہوں۔۔"

اریبہ کو ہادی کی باتوں سے کوفت ہو رہی تھی وہ ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔

***

شرجیل کی کاروائیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔

بنا دستک کمرے میں گھس آتا۔ اریبہ نے دن میں آرام کرتے وقت کنڈی لگانا شروع کر دی مگر بتول بیگم کو یہ بھی پسند نہ آیا۔

"ایسا کیا کرتی ہو کمرے میں۔۔ جو کنڈی لگانا پڑتی ہے۔۔"

اریبہ سہم گئی۔۔ مزید کوئی رسوائی نہ سہنی پڑے۔۔ اس نے دن میں کنڈی لگانا چھوڑ دی مگر گھر بھر میں اس کا کمرہ ہی اس کی جائے پناہ تھی اب وہاں جانے سے بھی ڈرنے لگی۔

جتنی دیر وہ کچن میں کام کرتی شرجیل بہانے بہانے سے چیزیں مانگتا اور ہر بار اس کا ہاتھ اریبہ کے ہاتھ سے ضرور ٹچ ہوتا۔۔ شدید ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ اریبہ کو گندگی کا احساس بھی ہونے لگتا وہ بار بار اپنے ہاتھ دھوتی۔

کس سے کہوں۔۔ کس سے مدد مانگو۔۔ یا اللہ میری عزت کی حفاظت فرما

وہ ساری ساری رات سو نہیں پاتی۔ کمرے کو اندر سے لاک کرنے کے باوجود اس کو لگتا رہتا کہ ابھی شرجیل کہیں سے آجائے گا اور اس کی عزت تار تار کر دے گا۔۔

"خدایا۔۔ محمد بن قاسم تو میلوں دور سے عزتوں کی پکار سن کر آ گیا تھا۔۔ میری عزت کا محافظ میری پکار کیوں نہیں سنتا۔۔"

***

"سنبل آپا۔۔ میں رات کو آپ کے کمرے میں سو جاؤں۔۔"

اس نے اپنی نند کی طرف بڑی امید سے دیکھا۔۔ راتیں جاگ جاگ کر اس کی حالت خراب ہو چکی تھی سارا دن شرجیل سے بچتے اور ساری رات اس کے خوف سے کانپتے گزرتی تھی۔۔ اریبہ کی ذہنی و جسمانی حالت درگوں ہو چکی تھی مگر نجانے اس گھر میں کسی کو کیوں اس کا چہرہ نظر نہیں آتا تھا۔۔ اس کی ہر کیفیت کو صرف ایک تناظر میں کیوں دیکھا جاتا تھا۔

"کیوں بھئی؟"

سنبل نے تیوری پر بل ڈال کر پوچھا

"اصل میں مجھے۔۔ اکیلے کمرے میں ڈر لگتا ہے۔۔ تو اس لئے۔۔"

سنبل کے زور دار قہقہے نے اریبہ کو حیران کر دیا۔۔

"ارے امی۔۔ ذرا ادھر تو آئیں۔۔"

اس نے سامنے سے گزرتی ماں کو آواز دی اور اریبہ سوچتی رہ گئی کہ ایسا کیا کہا اس نے جس پر سنبل آپا کو اتنی ہنسی آ رہی ہے۔

"آپ کی بہو کو اب جنات تنگ کرنے لگے ہیں۔۔ بھوت چڑیلیں ہیں ان کے کمرے میں۔۔"

اریبہ ہکا بکا رہ گئی۔۔ بات کا گھما کر کچھ کا کچھ کر دی گئی تھی۔۔

"نہیں۔۔ یہ۔۔ یہ میں نے کب کہا۔۔"

وہ ذرا تیز آواز میں بولی مگر سنبل نے اس کی ایک نہ سنی

"آپ کی بہو۔۔ میرے کمرے میں سونا چاہ رہی ہیں۔۔ اپنے کمرے میں انھیں ڈر لگتا ہے۔۔"

بتول بیگم کی جبین شکن آلود ہوگئی۔

"بی بی۔۔ ساری زندگی اسی گھر میں گزری ہے۔۔ یہ سب بچے اسی گھر میں پیدا ہوئے ہیں۔۔ ہمیں کبھی کوئی جن بھوت نظر نہیں آیا۔۔"

اریبہ سر پیٹ کر رہ گئی"جن بھوت کی بات نہیں ہے۔۔ بس ویسے ہی اکیلے کمرے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔۔"

بتول بیگم نے زور و شور سے سر ہلانا شروع کردیا۔

"سب سمجھ گئی میں۔۔ کل ہی ہادی نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ اریبہ مجھ سے ٹھیک سے بات نہیں کرتی۔۔ بی بی تمہارے یہ تریا چلتر۔۔ میں سب سمجھ گئی ہوں۔۔ تم سنبل کے کمرے میں اس لئے سونا چاہتی ہوتاکہ ہادی تم سے بات نہ کرسکے۔۔ اب بہن کی موجودگی میں وہ کیا بات کرے گا۔۔ یہ سب پلان اس کو پریشان کرنے لے لئے ہیں۔۔ تاکہ وہ تمہاری بات مان جائے۔۔"اریبہ کے دماغ میں کسی نے انگارے بھر دیئے۔۔ الٰہی۔۔ اپنی سوچ اور سازشی فطرت کی غلاظت مجھ پر لپیٹ کر انھیں کیا ملے گا۔۔

وہ جو سنبل سے مدد کی امید لے کر گئی تھی مزید بوجھ لے کر واپس آ گئی۔۔

"اریبہ۔۔ ادھر آؤ۔۔"

***

انوار صاحب نے اریبہ کو نرمی سے آواز دی۔ اس دن اتفاق سے گھر پر کوئی نہیں تھا - یوں بھی وہ اس گھر کے واحد فرد تھے جو اریبہ کے ساتھ نرمی سے پیش آتے تھے ان کی آواز سن کر اریبہ کے دل میں امید جاگی۔۔

"جی ابو۔۔"

وہ پرانی کتابوں کی الماری میں سے کچھ نکال رہے تھے۔۔

"کچھ کام کر رہی ہو؟"

انھوں نے پوچھا

"نہیں۔۔ آپ بتائیں کیا کام ہے اور مجھے آپ سے کچھ بات بھی کرنی تھی۔۔"

ان کے ہاتھ میں پرانا سا البم تھا۔

"ہاں۔۔ ہاں بات بھی کر لینا۔۔ یہ دیکھو۔۔ ہادی کے بچپن کی تصویروں کا البم۔۔ بڑا کیوٹ سا بچہ تھا ہادی۔۔"

انوار صاحب البم لے کر صوفے پر بیٹھ گئے۔ وہ ایک ایک کرکے صفحے پلٹے جا رہے تھے اور اریبہ کو تصویروں میں موجود لوگوں کے بارے بتاتے جا رہے تھے۔ اربیہ بھی دلچسپی سے تصویریں دیکھنے لگیں اس میں سب ہی کی پرانی تصویریں موجود تھیں۔ نجانے کتنے ٹائم بعد کسی نے اریبہ سے ہلکے پھلکے ماحول میں بات چیت کی تھی۔۔ مگر چند صفحے پلٹنے کے بعد جو تصویر اریبہ کے سامنے آئی اس کو دیکھ کر اریبہ کے اوسان خطا ہو گئے۔۔

نیم عریاں۔۔ بے باک۔۔ ماڈل کی تصویر

اریبہ پتھر کی بت بن گئی

"یہ میری فیورٹ ماڈل ہے اور تمہیں پتہ ہے تم کچھ کچھ اس سے ملتی جلتی ہو۔۔"

اریبہ حواس باختہ سی ان کو دیکھے جا رہی تھی

"بتول تمہارے جذبات کو نہیں سمجھتی۔۔ مگر میں سمجھتا ہوں۔۔ تم مجھ سے اپنے جذبات شئیر کر لیا کرو۔۔"

نجانے کب انوار صاحب کا ہاتھ اریبہ کے زانو تک پہنچ گیا۔ اریبہ کو کرنٹ سا لگا۔۔ وہ تڑپ کر کھڑی ہوگئی۔

"ارے بیٹھو نا۔۔ ابھی اور تصویریں باقی ہیں۔۔"

انوار صاحب نے اس کو ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ وحشت زدہ ہرنی کی طرح بھاگ کھڑی ہوئی۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے جلدی سے دروازے کی کنڈی لگائی پھر بھاگ کر میز گھسیٹی اور وہ بھی دروازے کے ساتھ لگا دی۔ اس کا دل دھڑ دھڑ دھڑک رہا تھا۔۔ لگتا تھا سینے سے باہر آ جائے گا۔۔ وہ بیڈ کے پیچھے دبک کر بیٹھ گئی۔۔ اس نے اپنا دوپٹہ مضبوطی سے مٹھیوں میں دبایا ہوا تھا۔۔ وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔۔ بے ساختہ اس کی آنکھیں اوپر کی طرف اٹھ گئیں۔

***

"اریبہ نے خود کشی کر لی۔۔"

اگلی دن اس کی چھت کے پنکھے سے جھولتی لاش ملی۔

"بس ایک افسوس ہے مجھے۔۔ میں نے اس کو بیٹی بنا کر رکھا مگر اس نے کبھی مجھے ماں نہیں سمجھا۔۔ اپنا دکھ درد نہیں بتایا۔۔"

بتول بی بی دوپٹہ منہ پر رکھ کر سسک رہی تھیں۔

"کوئی اس کو بلیک میل کر رہا تھا۔۔ ڈری سہمی رہتی تھی۔۔ بار بار کہیں جانے کی بات کرتی تھی۔۔ میں نے کئی بار پوچھا۔۔ ارے مجھے تو بتاتی۔۔ میں تو ماں ہوں۔۔ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی اس بد بخت کے۔۔ مگر اس نے کبھی د ل کی بات نہ کہی۔۔"

عورتیں بڑی ہمدردی اور عقیدت سے بتول بی بی کو دیکھتی رہیں۔

Check Also

Empathy

By Syed Jawad Hussain Rizvi