Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Faisla

Faisla

فیصلہ

"نہیں۔۔ یہ ناممکن ہے۔۔"

زرتاج ماں نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور زرتاج ماں کو فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے۔۔ سب جانتے ہیں۔ سعد کا دل ٹوٹ گیا۔

"دنیا کی بڑی سے بڑی عدالت فیصلہ سنانے سے پہلے فریادی کو اپنا موقف واضح کرنے کا موقع دیتی ہے۔۔ مگر یہاں۔۔ یہاں وہ بھی ممکن نہیں۔۔"

وہ سر جھکائے کمرے سے نکل گیا اور زرمینہ دل تھام کر رہ گئیں۔

"آپ زرتاج ماں سے کہیں نا۔۔ سعد کی دلی خواہش ایسے تو مسترد نہ کریں۔۔ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔۔"

اس نے اپنے شوہر مجید کی طرف شکوہ کناہ نظروں سے دیکھ کر کہا مگر مجید کے تیور کڑے تھے۔

"وہ زرتاج ماں کا سب سے چہیتا پوتا بھی ہے اور اس معاملے میں ان کے سامنے کوئی نہیں بول سکتا۔۔ تم جانتی ہو۔۔"

ہاں زرمینہ جانتی تھی۔۔ مگر ممتا بھرے دل کا کیا کرتی۔۔

***

سعد زرتاج ماں کا سب سے بڑ اور سب سے لاڈلا پوتا تھا۔ مجید کے علاوہ ان کے تین بیٹے اور تھے اور تینوں ہی کے ماشااللہ کئی کئی بیٹے اور بیٹیاں تھیں اور وہ ان سب سے پیار بھی تھا مگر جو محبت زرتاج ماں کو سعد سے تھی وہ کسی اور سے نہ تھی شائد اسی محبت نے سعد کو سرکش کر دیا تھا جب ہی تو اس نے اتنی بڑی بات کہہ دی۔۔ اپنی پسند سے شادی کا ارادہ ظاہر کر دیا اور شادی بھی کس سے۔۔ ایک پڑھی لکھی شہری لڑکی سے۔۔

"کیوں؟ سعد خان؟ کیوں؟ کیا تم اپنے خاندان کی روایات کو نہیں جانتے؟"

سعد کی ماں زرمینہ نے جز بز ہو کر پوچھا

"جانتا ہوں اور ان ہی روایات کو توڑنا چاہتا ہوں۔۔ پڑھی لکھی عورت بری عورت ہے۔۔ یہ سوچ بدلنا چاہتا ہوں۔۔ دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ ماں کی گود پہلی درس گاہ ہے۔۔ جب وہ خود ان پڑھ ہوگی تو بچے کو کیا سکھائے گی"۔

"سعد بیٹا۔۔ صدیوں سے اس خاندان کو بغیر پڑھی لکھی عورتیں پروان چڑھا رہی ہیں۔۔ آگے بھی یہ کام خاندان کی بے پڑھی لکھی عورتیں ہی کریں گی۔۔"

زرمینہ نے کہا تو سعد سانس بھر کر رہ گیا۔

"امی۔۔ سارہ خالا یاد ہیں آپ کو؟"

زرمینہ تڑپ کر رہ گئی۔

"سارہ کا یہاں کیا ذکر؟"

اپنی مرحوم بہن کا نام سن کر وہ تڑپ سی گئی۔

"امی۔۔ اگر ہماری علاقے میں لیڈی ڈاکٹر ہوتی اور سارہ خالا کو بروقت طبی امداد مل جاتی۔۔ تو وہ بچ جاتیں۔۔"

سعد نے ماں کی اداسی محسوس کرکے نرمی سے کہا زرمینہ کے اعصاب بھی ڈھیلے پڑ چکے تھے۔

"اللہ نے اس کی اتنی ہی زندگی لکھی تھی۔۔ ویسے بھی زرتاج ماں نہیں مانیں گے۔۔ غیر قوم۔۔ غیر خاندان۔۔ غیر علاقہ۔۔ پھر یونی ورسٹی کی لڑکی۔۔ سعد۔۔ ناممکن ہے۔۔"

سعد چڑ گیا

"کوئی ایک وجہ بھی معقول نہیں ہے۔۔ میں خود بات کرلوں گا۔۔"

زرتاج ماں کے لاڈ پیار نے اس کو اتنا حوصلہ دیا ورنہ کسی اور کی تو ہمت نہ تھی کہ ان کے سامنے ایسی بات کہتا۔

"سعد خان۔۔ کہنے سے پہلے آپ نے سوچا تھاکہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟"

سعد نے زرتاج ماں کا یہ روپ کم کم ہی دیکھا تھا۔

"ہمارے گھر کی عورتوں کے سائے تک پردہ کرتے ہیں اور آپ شہر کے ماحول میں رہنے والی۔۔ مردوں کے ساتھ پڑھنے والی لڑکی کو اس خاندان کی بہو بنانا چاہتے ہیں۔۔ نسل خراب کرنا چاہتے ہیں۔۔ مت بھولئیے کہ آپ ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ گدی نشین ہیں۔۔ اپنے باپ دادا کی گدی آپ کو ہی سنبھالنی ہے۔۔"

سعد ڈرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

"اسی مذہب نے ذات رنگ نسل سے بالا تر ہو کر صرف مسلمان ہونے کا درس دیا ہے۔۔ اسی مذہب نے تعلیم کو سب کے لئے فرض قرار دیا ہے۔۔"

مگر اس کے دلائل زرتاج ماں کو قائل نہ کر سکے۔

"عورتوں کی تعلیم ایک فتنہ ہے۔۔ ہم اپنے خاندان میں یہ فتنہ کبھی نہیں آنے دیں گے۔۔ آپ کی شادی اسی خاندان کی کسی لڑکی سے ہوگی۔۔"

سعد نے زرتاج ماں کی طرف دیکھے بغیر کہا"زرتاج ماں۔۔ یہ ممکن نہیں ہوگا۔۔ بطور ایک عاقل بالغ انسان۔۔ میں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتا ہوں۔۔ میرا فیصلہ ہے کہ میں کسی تعلیم یافتہ لڑکی سے شادی کروں گا۔۔"

زرتاج ماں کا جلال سرخی بن کر ان چہرے پر جمع ہوگیا۔

"جو آپ چاہتے ہیں وہ بھی ممکن نہیں۔۔ کم از کم ہماری زندگی میں تو ہرگز نہیں۔۔ اگر آپ نے ہمارے فیصلے کو چیلنج کیا تو ہم آپ کو آپ کے والدین سمیت خاندان بدر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔۔"

سعد کھڑا ہوگیا۔

"بہت خوب۔۔"

وہ زرتاج ماں کی طرف دیکھے بغیر بولا

"آپ کا حق سر آنکھوں پر۔۔"

سعد کمرے سے جا چکا تھا اگر وہ جاتے وقت مڑ کر زرتاج ماں کے چہرے پر نظر ڈالتا تو یقیناً حیران رہ جاتا۔ آنسو ان کے چہرے کو دھو رہے تھے۔ زرتاج ماں کو بھولی بسری باتیں یاد آرہی تھیں۔۔ عورتوں کی تعلیم کا ایسا ہی ایک پیغمبر ان کے خاندان میں پہلے بھی گزرا تھا۔۔ فرید چچا۔۔ زرتاج کا ہم عمر ہی تھا۔۔ دوست تھا۔۔ سارا بچپن ساتھ گزرا۔ دونوں کی شادیاں بھی آگے پیچھے ہی ہوئیں۔ زرتاج کے ہاں مجید کی پیدائش ہوئی اور فرید کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ نجانے اس پر کہاں سے عورت کی تعلیم کا بھوت سوار ہوا۔۔ وہ ببانگ دہل کہنے لگا۔

"میں اپنی بیٹی کو تعلیم دلاوں گا۔۔"

ان کے قبیلے میں لڑکی کی تعلیم سے مراد صرف قرآن پڑھنا اور نام لکھنا سیکھ لینا تھا مگر فرید اس سے آگے کی بات کرنے لگا تھا۔

"میری بیٹیاں شہر پڑھنے جائیں گی۔۔"

پھر ایک دن وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔ جرگہ بٹھایا گیا۔

"فرید خان۔۔ تم نے اپنی بیٹی کو شہر کیوں بھیجا؟"

ہر نظر میں نفرت تھی مگر فرید اپنے عزائم پر مضبوط تھا۔

"میری بیٹی شہر پڑھنے گئی ہے۔۔"

"پڑھنے گئی ہے یا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔۔"

دشمن کو وار کرنے کا موقع مل گیا۔۔ نجانے پہلا فائر کس نے کیا مگر دونوں خاندانوں کے کئی لوگ مارے گئے۔۔ فرید کو قبیلہ بدر کر دیا گیا اور اس دن کے بعد اس خاندان کے شجرہ نسب سے فرید کا نام ہمیشہ کے لئے نکال دیا گیا۔۔ کوئی بھولے سے بھی فرید کا نام نہیں لیتا تھا مگر زرتاج کے دل میں اس کی یاد اب بھی موجود تھی اور آج سعد نے ایک بار پھر پرانے زخم تازہ کر دئیے تھے۔۔ نجانے فرید کی سوچ سعد میں کیسے آ گئی جب کہ سعد نے تو کبھی فرید کا نام تک نہیں سنا تھا۔

***

سعد ایک نامی گرامی مذہبی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ پورے علاقے میں اس کے خاندان کی عزت و مرتبے چر چہ تھا۔ اس خاندان کے مرد تھوڑی بہت تعلیم حاصل کر لیتے تھے مگر عورتوں کی تعلیم پر تو سخت قدغن تھی سعد کا تعلق جس علاقے سے تھا وہاں آج بھی پڑھی لکھی عورت کا کردار مشکوک تصور کیا جاتا تھا مگر سعد کو ہمیشہ پڑھی لکھی عورت نے متاثر کیا۔ تعلیم یافتہ عورت کی وسعت نظر اور بالیدگی میں اس کے لئے بہت بڑی کشش تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جب سعد نے شازمہ کو پسند کیا۔

شازمہ ایک اعلا تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی والدہ ایک کالج میں لیکچرار تھیں جب کہ والد بزنس مین تھے۔ سعد کو شازمہ کی ذہانت و کردارنے متا ثر کیا۔ وہ ایسی بیوی چاہتا تھا۔۔ پڑھی لکھی اور پر اعتماد۔۔ جو اس کے علاقے میں انقلاب لے آئے۔۔ عورتوں اور بچیوں کے لئے انسپریشن بن جائے لیکن جب سعد نے شازمہ سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو اسے اپنے ہی خاندان کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

"سعد۔۔ ہمیں مشکل میں نہ ڈالو۔۔ ہم اپنے خاندان کے بغیر کچھ نہیں۔۔ ضد چھوڑ دو۔۔"

ماں کی آنسواس کی ارادوں کی زنجیر بن گئے۔ مگر ضد اس کے بھی خون میں شامل تھی۔

"ٹھیک ہے۔۔ شازمہ سے شادی نہیں کروں گا۔۔ مگر اس خاندان میں بھی شادی پر مجبور نہ کیا جائے۔۔"

سعد کے والدین کی درخواست پر زرتاج ماں نے خاندان میں سعد کی شادی کی بات پر کچھ عرصے خاموشی اختیار کر لی۔ سب کا خیال تھا کہ سعد کا یہ وقتی جوش جلد ٹھنڈا ہو جائے گا مگر ایسا ہو نہ سکا اور جب سعد نے مزید تعلیم کے لئے یو کے جانے کا عندیہ ظاہر کیا وہ سب حیران رہ گئے۔ ایک بار پھر مخالفت کا طوفان اٹھا مگر اس بار سعد نے ہر مخالفت کا ڈٹ کر سامنا کیا۔

***

یو کے ایک الگ ہی دنیا تھی۔ دنیا بھر سے بھانت بھانت کے لوگ جمع تھے۔ سعد کو یہاں کی ترقی نے بہت متاثر کیا تھا۔ ڈسپلن اور محنت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا معیار ان کو شاہ راہ ترقی پر آگے ہی آگے لے جا رہی تھی۔

اس نے وہاں کئی پاکستانی لوگ دیکھے جو یہاں بڑے اہم فرائض ادا کر رہے تھے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اگر اتنی محنت اور ایمانداری سے یہ لوگ پاکستان میں کام کرتے تو آج ہم بھی ایک ترقی یافتہ قوم ہوتے۔

"کاش۔۔ کاش۔۔ وہ سارا ٹیلنٹ جو پاکستان سے باہر پوری دنیا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔۔ کاش وہ پاکستان میں یہ سب کرتا۔۔"

سعد نے ردا سے کہا۔ ردا سعد کی کلاس فیلو تھی وہ پاکستان نژاد تھی مگر اس نے پاکستان کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی والدہ ایک مشہور اور قابل ڈاکٹر تھیں۔

"میں کبھی پاکستان نہیں گئی۔۔ مگر میں نے سنا ہے وہاں تعلیم کا رجحان نہیں ہے اور یہ بھی کہ وہاں ناانصافی اور کرپشن بہت ہے۔۔ اسی لئے جو لوگ پڑھ لکھ جاتے ہیں وہ یہاں آ کر اپنی زندگیوں کو بہتر بناتے ہیں۔۔"

ردا نے کہا تو سعد دکھ سے سر ہلا کر رہ گیا۔

"ہاں یہ بھی سچ ہے۔۔ مگر یہ نظام کیسے بدلے گا۔۔ جب تعلیم یافتہ اور اہل لوگ اپنا ملک چھوڑ دیں گے تو اس ملک کو جاہل اور نااہل ہی چلائیں گے نا۔۔ تم خود بتاو۔۔ تمہارے والدین یہاں کیوں آئے؟"

رداسوچ میں پڑ گئی۔

"میرے ڈیڈ تو اپنی ہائر ایجوکیشن کے لئے آئے تھے اور میری مام میرے نانا کے ساتھ اس لئے یہاں آگئی تھیں کیوں کہ وہاں کسی کے ساتھ دشمنی کا چکر تھا۔۔ اس بارے میں مجھے کچھ زیادہ معلوم نہیں ہے۔۔ ویسے میرا دل چاہتا ہے کہ میں پاکستان جاوں۔۔"

سعد ہنس دیا۔"ضرور جانا۔۔ اتنا بھی برا نہیں ہے میرا وطن جتنا یہاں کا میڈیا دکھاتا ہے۔۔"

***

سعد کو گئے چار سال گز چکے تھے۔ ادھر زرمینہ اکلوتے بیٹے کی شادی کا ارمان آنکھوں میں سجائے سعد کی راہ تکتی تھیں مگر سعد کی ایک ہی ضد تھی۔

"آپ جب کہیں گی آ جاوں گا۔۔ شکل صورت۔۔ جہیز کسی چیز کی ضرورت نہیں۔۔ مگر میری بس ایک شرط ہے۔۔ مجھے تعلیم یافتہ لڑکی سے شادی کر نی ہے۔۔"

اور ان کے خاندان تو کیا پورے علاقے میں کوئی لڑکی پرائمری سے آگے نہیں پڑھ سکی۔۔ وجہ وہی دقیانوسی سوچ۔۔ لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آوارہ ہو جاتی ہیں۔۔ عورت کو مرد کے دست تلے رہنا چا ہئے۔۔ بس سعد کو یہ ہی سوچ بدلنی تھی۔

***

"زرتاج ماں بیمار ہوگئیں۔۔"

ہر زبان پر یہ بات تھی۔ اماں قابل رشک صحت کی مالک خاتون تھیں۔ سرخ و سفید چہرہ۔۔ چوڑے شانے اور سیدھی کمر ان کی مضبوطی کا پتہ دیتی تھی مگر اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ اندر ہی اندر گھلنے لگیں۔ چند دن میں چہرے کی سرخی۔۔ سیاہی مائل زردی میں بدل گئی۔۔ چوڑے شانے جھک گئے۔

زرتاج ماں وہ ستون تھیں جس پر خاندان کی چھت قائم تھی۔ انھوں نے بھی کبھی اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔ شوہر کی وفات کے بعد گھر اور بچوں کو اسی طرح پروان چڑھایا جس طرح ان کے خاندان کی روایت تھی مگر اب یہ ستون ہلنے لگا تھا۔

"سعد۔۔ زرتاج ماں۔۔ بہت بیمار ہیں۔۔ تم جانتے ہو یہاں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔ زرتاج ماں ساری زندگی اتنی باپردہ رہی ہیں کہ اب وہ علاقے کے کسی مرد ڈاکٹر کے سامنے اپنا پردہ نہیں کھول رہیں۔۔ بڑی مشکل سے راضی کیا اور اسلام آباد لے گئے۔۔ وہاں کے ڈاکٹرز نے۔۔ کینسر۔۔"

زرمینہ اپنے آنسو نہ روک پائی۔ زرتاج ماں اس کی ساس تھیں مگر زرمینہ کو وہ اپنی سگی کی طرح ہی عزیز تھیں۔ سعد کا دل بھی پریشان ہو اٹھا۔ اس نے پاکستان سے ساری رپورٹس منگوائیں اور ردا کی والدہ سے اس بارے میں بات چیت کی۔ رداکی والدہ ڈاکٹر خالدہ ایک بہت قابل سرجن ڈاکٹر تھیں رپورٹس دیکھتے ہی بولیں"قابل علاج کینسر ہے۔۔ پاکستان میں نہیں مگر یہاں اس کا علاج با آسانی ہو سکتا ہے۔۔ آپ اپنی دادی کو یہاں بلوا لیں۔۔ میں خود ان کا علاج کروں گی۔۔"

سعد چاہے جتنا بھی خفا صحیح مگر زرتاج ماں کی بیماری کا سن کر سب بھول بھال کر فوراً پاکستان پہنچ گیا۔ زرتاج ماں کی حالت دیکھ کر وہ بھی صدمے سے گنگ ہوگیا۔

"میں زرتاج ماں کو اپنے ساتھ یو کے لے جاوں گا۔۔ وہ ان کا علاج کرواوں گا۔۔"

سعد نے فیصلہ سنا دیا زرتاج ماں نے مخالفت کی کوشش کی مگر ان کی حالت کے پیش نظر ان کے بچے اس بار نافرمانی کے مرتکب ہو ہی گئے۔

***

یو کے زرتاج ماں کے لئے حیرتوں کی سر زمین تھی۔ انھوں نے تو اپنے علاقے سے باہر کا سفر بھی شاذ و نادر ہی کیا تھا۔ جس ہوسپٹل میں ان کے علاج کا انتظام کیا گیا تھا وہ ایک بہترین ہوسپٹل تھا۔ سعد نے اس ہوسپٹل کا انتخاب محض اس لئے کیا تھا کیوں کہ اسپتال کے معالجین میں ایک پاکستانی ڈاکٹر خالدہ بھی شامل تھیں۔

ڈاکٹر خالدہ اس ہوسپٹل کی سب سے سینئر ڈاکٹر تھی۔ وہ پندرہ سال سے اس اسپتال میں اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں ان کے علم اور تجربے کے سب قائل تھے۔۔ انگریز ڈاکٹر تک ان سے ایک قدم پیچھے چلتے تھے۔۔ ہر نظر میں ان کے لئے احترام تھا۔ ماں جی بھی ان سے مل کر حیران رہ گئیں۔۔ نظر نہ ہٹا پائیں۔۔ دبلی پتلی۔۔ سر اسکارف سے ڈھکا ہوا۔۔ نیلی و سبز روشنیوں سے مزین ان کی آنکھوں میں جادو سا تھا۔۔ لہجے کی نرمی آدھی بیماری دور کر رہی تھی۔۔ وہ سعد سے انگریزی میں بات کر رہی تھیں مگر زرتاج ماں کو لگ رہا تھا جیسے وہ ان کا ہر لفظ دل پر القا ہو رہا ہے۔

"زرتاج ماں۔۔ یہ ڈاکٹر خالدہ فرید تھیں۔۔"

ان کے جانے کے بعد سعد نے بتایا"یہ پاکستان سے ہیں۔۔ کراچی کی رہنے والی ہیں مگر کئی سال سے یہاں ہیں۔۔ بہت بڑی ڈاکٹر ہیں۔۔"

سعد بتا رہا تھا مگر ان کا ذہن ان نیلی سبز آنکھوں پر لگا ہوا تھا۔۔

***

چند ہی دن میں زرتاج ماں اور ڈاکٹر خالدہ ایک دوسرے سے گھل مل گئیں۔۔ ہم وطن اور ہم زبان ہونے کے ناطے ان میں ویسے بھی ایک ہم آہنگی پائی جاتی تھی اور ڈاکٹر خالدہ کا طریقہ علاج یہ ہی تھا وہ پہلے مریض سے دوستانہ روابط پید کرتی ہیں اس کے بعد علاج شروع کرتی ہیں اور زرتاج ماں تو خود یہ ہی چاہتی تھی کہ ڈاکٹر ان کے پاس زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔۔ ایک سوال تھا جو دل میں مچل رہا تھا۔۔

"وہی نام۔۔ وہ ہی نیلی سبز آنکھیں۔۔"

بلاآخر زرتاج ماں نے پوچھ ہی لیا۔

"آپ کے والد۔۔ فرید چاغی کے رہنے والے ہیں؟"

ڈاکٹر خالدہ حیران رہ گئیں۔

"جی ہاں۔۔"

زرتاج کا دل زور زور دے دھڑکنے لگا۔

ان کا پورا نام فرید خان زرگر ہے؟

زرتاج نے پوچھا تو ڈاکٹر خالدہ حیران رہ گئیں۔

"آپ کو کیسے پتہ چلا؟"

زرتاج ماں کا شک صحیح نکلا۔۔ وہ فرید خان کی بیٹی تھی۔۔

اس کے چچا فرید کی بیٹی۔۔

سعد اور زرتاج یہ سب جان کر حیران رہ گئے۔

"فرید چچا۔۔ اب کہاں ہیں؟"

وہ جلد از جلد فرید سے ملنا چا ہتی تھی۔

"بابا۔۔ یو کے میں ہی ہیں۔۔ وہ میرے ساتھ رہتے ہیں۔۔"

زرتاج کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔

"میں انھیں۔۔ کل اپنے ساتھ لاوں گی۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا۔۔ بابا اپنے خاندان اور قبیلے کو بہت مس کرتے ہیں۔۔ خاندان سے دوری کا دکھ ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ تھا۔۔ انھوں نے ہماری تعلیم کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔۔"

ڈاکٹر خالدہ کو اپنی زندگی کا ہر وہ پل یاد آ گیا جس میں انھوں نے اپنے باپ کو اپنے خونی رشتوں سے دوری پر اداس دیکھا تھا۔

"زرتاج ماں۔۔ اگر اس وقت ہمارا قبیلہ اور خاندان فرید چچا کا ساتھ دیتا تو آج ڈاکٹر خالدہ ہمارے علاقے میں ہوتیں۔۔ ہزاروں عورتیں علاقے میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے اذیتیں اٹھاتی رہیں اور ہماری قابل ڈاکٹرز یہاں مغربی ممالک میں غیروں کی خدمت کرتی رہیں۔۔ ہمیں اس نظام کو بدلنا ہوگا زرتاج ماں۔۔"

سعد نے لوہا گرم دیکھ کر بھرپور وار کیا تھا۔

***

اسپتال کی تاریخ میں وہ پہلا کیس تھا جہاں ایک مریض کو صرف صحت نہیں بلکہ اپنا کھویا ہوا خونی رشتہ بھی مل گیا تھا۔

فرید اور زرتاج دیر تک ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے روتے رہے۔

"سب میرے دشمن ہو گئے تھے۔۔

میرا جرم کیا تھا؟

صرف یہ میں اپنی بیٹیوں کو زیور علم سے آرستہ کرنا چاہتا تھا۔۔

اپنے علاقے میں ترقی لانا چاہتا تھا۔۔

زرتاج اگر اس وقت میرے اپنوں نے میرا ساتھ دیا ہوتا تو آج ہمارا علاقہ بھی مثالی ہوتا۔۔

جہالت سے پاک ہوتا۔۔

میں چیخ چیخ کر کہتا رہا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم پوری نسل کی تعلیم ہے۔۔ یہاں کا معاشرہ دیکھو۔۔ لاکھ برائیاں سہی۔۔

مگر ترقی میں ہم سے بہت آگے ہے۔۔

مگر میری کسی نے نہ مانی۔۔"

"اب مانیں گے۔۔

اور دیکھیں گے بھی۔۔ کہ عورت تعلیم حاصل کرکے کس مقام تک پہنچ سکتی ہے۔۔ اب دیکھیں گے کہ دلاور خان زرگر کی پوتی غلط نہیں تھی۔

اب میرے قبیلے کی ہر لڑکی پڑھے گی۔۔ جو غلط فیصلہ میرے اجداد نے کیا تھا۔۔

میں اس فیصلہ کو درست کردوں گی۔۔

میرا ملک بھی ترقی کرے گا۔۔"

کمرے میں موجود ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہونٹ آمین کہہ رہے تھے۔

Check Also

Namak Haram Zehniat

By Muhammad Riaz