Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Dukh

Dukh

دکھ

"گھٹیا عورت۔۔ تم سے یہ توقع تھی۔۔"

نعیم کی زبان زہر اگل رہی تھی۔ ماریہ آنکھیں میچے اس زہر کو اپنے اندر اتاررہی تھی"میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔۔ نعیم۔۔ خدا کا واسطہ میری بات پر یقین کرو۔۔"

اس نے صفائی دینے کی کوشش کی مگر نعیم کے دماغ میں اتنی گندگی بھری جا چکی تھی کہ ماریہ کی کوشش بے کار ثابت ہوئی۔

"بکواس بند کرو۔۔ صرف اور صرف امی کے منع کرنے پر رکا ہوا ہوں۔۔ ورنہ کب کا تمہیں طلاق دے چکا ہوتا۔۔"

نعیم نے بات سننے بغیر ہی فون بند کر دیا، مگر ماریہ کے آنسو بند نہ ہو سکے۔ دروازے کے پاس کان لگائے کھڑی اس کی نند حنا اپنے منصوبے کی کامیابی پر مسکرا دی۔

***

نعیم اپنے گھر والوں کے لئے سونے کا انڈا دینے والی مرغی تھی۔ کئی سال پہلے جب نعیم فرانس جانا چاہتا تھا اس کی ماں رفعیہ نے اپنے زیورات بیچ کر بیٹے کو پیسے فراہم کئے تھے۔

"امی۔۔"جذبات سے نعیم کا آواز بھرا گئی تھی۔

"میں۔۔ میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر یاد رکھوں گا۔۔ میں۔۔ آپ کو سونے میں تول دوں گا۔۔"

وہ ماں کے گلے لگ کر بولا تھا اس وقت نعیم کیا خود رفیعہ کو بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ باقی کی ساری عمر اس احسان کا خراج ادا کرتا رہے گا۔

***

"ارے یہ بڑی گھنی ہے۔۔ اندر اندر ہی نعیم کو آپ کے خلاف کرنا چاہتی ہے۔۔ آپ تو دوا کھا کر سو جاتی ہیں۔۔ یہ اسے فون پر جھوٹی سچی باتیں بتاتی ہوگی۔۔"

حنا رفیعہ کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور ان سے بہت قریب بھی تھی۔ رفیعہ حنا کی ہر بات دل و جان سے سچ مانتی تھیں۔

"شک تو مجھے بھی تھا۔۔ نعیم کی بات چیت میں اب وہ گرم جوشی نظر نہیں آتی۔۔ اس کمینی نے بھڑکایا ہوگا۔۔"

رفیعہ کے دل میں بدگمانی بڑھتی جا رہی تھی۔ حنا دل ہی دل میں مسکرا دی۔

نعیم اپنی بڑی بہن حنا کی شادی کے فوراً بعد فرانس چلا گیا تھا۔ سسرال میں اس کا سر فخر سے اونچا ہوگیا۔ وہ آئے دن، کبھی ماں سے تو کبھی نعیم سے فرمائشیں کرکے چیزیں منگواتی۔ اردگرد کے لوگ جب حسد و رشک بھرے انداز میں اس کے پاس موجود چیزوں کی تعریفیں کرتے حنا پر ایک سرور سا طاری ہو جاتا تھا۔

اس کی بڑی بیٹی کی پیدائش پر تو نعیم نے اتنی خوبصورت فراکیں اور جدید کھلونے بھیجے تھے کہ سسرال میں واہ واہ ہوگئی تھی۔ اب جب کہ نعیم کی شادی ہو چکی تھی، حنا ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ نعیم اپنی فیملی میں لگ جائے اور اس کو بھیجے جانے والے تحائف میں کمی آئے۔ اسی لئے اس نے پوری کوشش کی کہ ماریہ شوہر اور ساس دونوں کی نظروں میں بری بن جائے۔ اپنی اس کوشش میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوگئی اور کیوں نہ ہوتی، اس کے ساتھ اس کی بہن ثنا اور بھائی دانیال بھی شامل تھے۔ مفادات سب کہ مشترک تھے۔

***

نعیم کو فرانس آئے ایک زمانہ گزر چکا تھا۔

سخت محنت اور تنہائی کا یہ سرد جہنم اس نے اپنے لئے خود ہی منتخب تھا مقصد صرف ایک تھا۔۔ بہتر زندگی اور اس بہتر زندگی کی تلاش میں وہ اتنی دور چلا آیا کہ پیچھے رہنے والے اس کی شکل تک بھولنے لگے۔ مگر فون پر رابطے سب نے بحال رکھے ہوئے تھے۔ تنہائی کے اس سرد صحرا میں اپنوں کی آواز نعیم کے لئے زندگی کی نوید تھی۔

سخت سردی میں اکڑتے ہاتھوں اور تھکن سے چور بدن کے ساتھ جب وہ گھر آتا تو کئی میسج اس کے منتظر ہوتے۔ بہن بھائیوں اور ماں باپ کی ایسی والہانہ محبت اس نے پاکستان میں کبھی نہیں دیکھی تھی مگر اب جب محبتوں بھری تعریفیں سے اس کے کانوں میں انڈیلی جاتیں تو بڑی دیر تک نشہ سا رہتا تھا۔

"نعیم بھائی۔۔ میری سہلیاں تو آپ کی دیوانی ہوگئی ہیں۔۔ رابعہ تو کہتی ہے مجھے اپنی بھابھی بنا لو۔۔ ہاہاہاہا۔۔ مگر میں نے بھی کہہ دیا۔۔ شہزادے جیسے بھائی کے لئے کوئی شہزادی ہی لاوں گی۔۔"

ثنا جدید ملبوسات کی شوقین تھی اور جانتی تھی کہ تھوڑی سی تعریف کا مطلب ہے نیا برانڈڈ ڈریس۔۔ سو اس نے کبھی کنجوسی سے کام نہ لیا اور نعیم کا پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ خود ستائشی کا اتنا عادی ہوگیا۔

***

"بیٹا چار سال ہو گئے۔۔ اب تو چکر لگا جا۔۔ ماریہ کے گھر والے بھی بار بار پوچھتے ہیں۔۔"

رفیعہ نے ایک رشتہ کروانے والی خاتون کی مدد سے ماریہ کو نعیم کے لئے منتخب کیا اور یہ انتخاب بھی بڑے مشکل مرحلے کے بعد مکمل ہو سکا تھا۔ جب بھی وہ کوئی لڑکی منتخب کرتیں، ان کے باقی بچے اس لڑکی کو مسترد کر دیتے۔

"میرے ہیرے جیسے بھائی کے لئے یہ ہی رہ گئی ہے۔۔"

کسی کو لڑکی پسند نہ آتی تو کسی کو لڑکی کی امی۔۔ کسی کو گھر پر اعتراض ہوتا تو کسی کو علاقے پر۔۔ وجہ صرف ایک تھی۔۔ نعیم کے پاس موجود پیسے کے لئے ان کا لالچ۔

"ارے۔۔ کم بختو! ہر لڑکی کو مسترد کر دیتے ہو۔۔ مجھے تو ڈر ہے نعیم اس دیر سے اکتا کر فرانس ہی میں کسی سے شادی نہ کر لے۔۔ لڑکا ہاتھ سے نکل جائے گا۔۔ پھر بیٹھے رہنا سب۔۔"

رفیعہ ماں تھیں مگر لالچ ان کے دل میں بھی گھر کر چکا تھا۔ شوہر کی محدود آمدنی میں گھر چلاتے چلاتے ساری جوانی ایندھن ہوگئی مگر جب سے نعیم نے ڈالر بھیجنے شروع کئے، ان کے تو دن پھر گئے۔ گھر کا حلیہ بدل گیا۔۔ رفیعہ پر پھر سے جوانی آ گئی۔ وہ یہ سب کھونا نہیں چاہتی تھیں۔

"بس۔۔ ماریہ ہی نعیم کی دلہن بنے گی۔۔ اب کوئی نہ بولے۔۔"

انھوں نے سختی سے کہا تو سب کو چپ ہونا ہی پڑااور یوں ماریہ نعیم کی زندگی میں دلہن بن کر آگئی۔ شادی کے موقعہ پر بھی حنا، ثنا اور دانیال نے ماریہ کو نیچا دکھانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ نعیم کا دل ماریہ کی طرف سے برا ہو چکا تھا۔

***

"تمہارے گھر والوں کو ذرا مینرز نہیں ہیں۔۔ داماد کے سامنے ایسا گھٹیا ریفرشمنٹ کون رکھتا ہے۔۔"

شادی کے تیسرے دن سے ہی نعیم اپنے ماں، بہن بھائیوں کی زبان بولنے لگا تھا۔ ماریہ کے پاس خاموشی سے سنتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ شادی کے موقعے پر نعیم تین ماہ کے لئے پاکستان آیا تھا۔ دوسرے ہی ماہ ماریہ نے اولاد کی خوش خبری سنا دی۔ شادی کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ نعیم ماریہ سے خوش نظر آ رہا تھا۔ رفعیہ ماں تھیں خوش وہ بھی تھیں مگر حنا کے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ اس نے نعیم کو ماریہ سے متنفر کرنے کی کوششوں میں اضافہ کردیا۔

"میں ماریہ کو بلانے اس کے کمرے میں گئی تو اس نے مجھے بہت ناراض نظروں سے دیکھا اور میز پر سے چاکلیٹ اٹھا کر دراز میں رکھ دی۔۔ جیسے میں اس کی چاکلیٹ کھا جاوں گی۔۔ اتنا تک نہ کہا کہ حنا آپا بیٹھ جائیں۔۔ بس نعیم۔۔ اب میں تمہارے کمرے میں قدم نہیں رکھوں گی۔۔"

حنا نے روہانسی آواز میں کہا نعیم کمرے میں واپس آیا تو چاکلیٹ واقعی دراز میں رکھی تھی۔ اس کا خون کھول اٹھا۔

"یہ چاکلیٹ دراز میں کیوں رکھ دی؟"

نعیم کے انداز سے ماریہ ڈر گئی۔

"حنا آپا۔۔ نے کہا۔۔ تھا۔۔"

"خاموش۔۔ خبردار کو میری بہن کے خلاف ایک لفظ کہا۔۔"

نعیم دانت پیس کر بولا اور دراز سے ساری چاکلیٹ نکال کر حنا کے بچوں میں تقسیم کر دی۔ آئے دن ہونے والے ایسے واقعات نے نعیم کو ماریہ سے سخت متنفر کر دیا تھا۔ نعیم اسی کھینچا تانی میں تین ماہ گزار کر واپس فرانس چلا گیا۔ اب ماریہ مکمل طور پر ساس نندوں کے رحم و کرم پر تھی۔

***

"نعیم۔۔ ماریہ کو سمجھاو۔۔ ایسی حالت میں سیر تفریح خطرناک ثابت ہو تی ہے۔۔"

حنا نے میکے آتے ہی نعیم کو کال ملا دی۔ یہ سن کر نعیم بھی حیران رہ گیا۔

"ماریہ۔۔ سیر و تفریح کرنے چلی گئی۔۔ کس کے ساتھ؟"

"اپنی بہن کے ساتھ کل سارا دن اپنے رشتے داروں میں گھومتی رہی۔۔ امی کی کوئی بات نہیں مانتی۔۔ میکے میں دو دن ہو گئے ہیں۔۔"

حنا نے نعیم کے کانوں میں زہر انڈیل دیا۔ نعیم نے ماریہ کا نمبر ملایا۔

"کہاں ہو؟"

نعیم نے سوال کا جواب دئیے بغیر پوچھا

"خالہ جان کی کی طبعیت اچانک خراب ہوگئی۔۔ مائنر اٹیک۔۔"

ماریہ نے بتانا چاہا مگر نعیم نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔

"جھوٹ مت بولو۔۔ ابھی گھر واپس جاو اور آئندہ مجھ سے اجازت لئے بغیر قدم باہر مت نکالنا۔۔"

اس نے حکم شاہی جاری کیا اور ماریہ کا جواب سننے بغیر ہی فون بند کردیا۔ ماریہ کی آنکھوں میں آنسو تھے، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا نعیم اس کی کوئی بات مکمل نہیں سننتا تھا۔ نعیم نے ایک بار بھی اس کی خالہ کی خیریت نہیں پوچھی، اس کا حال نہیں پوچھا اور اس کے بعد تو جیسے یہ سب اس کی زندگی کا حصہ بن گیا۔ اسے پتہ ہی چلتا کہ نعیم سے اس کے خلاف یہ سب باتیں کب کی جاتی تھیں۔ اسے تو صرف نعیم کی طرف سے طعنے اور احکامات موصول ہوتے رہے۔ اسی دوران اس کے ہاں جڑواں بیٹیوں کی پیدائش بھی ہوئی۔ نعیم اپنی بیٹیوں کا سن کر کافی خوش ہوا مگر نعیم کا دل اس کی طرف سے صاف نہ ہوسکا۔

***

"بھلی آدمی۔۔ کیوں اپنے ہی بیٹے کو تکلیف پہنچاتی ہو۔۔ بہو کا دل دکھاتی ہو۔۔"

رفعیہ کے شوہر سمیع کبھی کبھی اپنی بیوی کو احساس دلانے کی کوشش کرتے۔

"تم چپ کرو جی۔۔ آئے بڑے۔۔ ساری زندگی پائی پائی کو ترسایا۔۔ اب ہمارے سکھ کے دن برداشت نہیں ہو رہے۔۔"

رفعیہ بیگم ان کو ایسا جھڑکتیں کہ وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ جاتے مگر ماریہ کی حالت دیکھ دیکھ کر ان کا دل کڑھتا انھوں نے نعیم سے بھی بات کرنے کی کوشش کی مگر رفعیہ اور حنا نے اس کے دماغ کو ایسا واش کیا تھا کہ کسی کی کوئی بات سننے کو روادار نہیں تھا۔ سمیع دل سے ماریہ کی مدد کرنا چاہتے تھے مگر کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔

***

"ماریہ بیٹا کیا ہوا؟ کیوں رو رہی ہو؟"

سمیع نے ماریہ کو کبھی اپنی بیٹیوں سے کم نہیں سمجھا تھا اس کی تکلیف پر ان کا دل ایسے ہی دکھی ہوتا تھا جیسے ایک باپ کا اپنی بیٹی کے لئے ہوتا ہے۔

"ابو۔۔ نعیم ہر وقت ناراض رہتے ہیں۔۔ میں جتنی بھی کوشش کر لوں۔۔ ان کی ہر بات مان لوں۔۔ مگر کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے جو انھیں ناگوار گزرتی ہے۔۔ اتنا عرصہ گزر گیا میں آج تم سمجھ ہی پائی کہ کب کہاں غلطی ہوگئی۔۔"

ماریہ کا دل بھی آج سخت دکھی تھا۔ سمیع سر جھکا کر بیٹھ گئے۔

"بیٹا مناسب تو نہیں لگتا کہ میں اپنی بیوی اور بچوں کی برائی کروں مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ اصل ذمہ دار تم نہیں بلکہ یہ سب ہیں۔۔ میں نے نعیم کو سچائی سے روشناس کروانا چاہا مگر وہ میری اس بات پر یقین نہیں کر پا رہا کہ اس کی ماں اور بہن بھائی لالچ کے ہاتھوں کھلونا بن چکے ہیں۔۔ مگر تم فکر نہ کرو میں اس کو سمجھاوں گا۔۔"

انھوں نے شفقت سے ماریہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اور ماریہ مایوسی کی کیفیت کا شکار ہو کر بولی۔

"جو شخص اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے کا عادی ہو وہ بھلا کیسے سمجھے گا۔۔"

ماریہ کی بات نے سمیع کو کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔۔

"اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔۔ تب تو یقین کرے گا نا۔۔"

***

"ابو۔۔ یہ۔۔ یہ کیا ہے؟"

نعیم کی حیرت کی حد ختم ہو چکی تھی۔

"یہ سچائی ہے۔۔ جس کو تم نے کھوجنے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔"

سمیع نے کہا

نعیم نے کال کاٹ دی اور ایک بار پھر سمیع کی بھیجی ہوئی ویڈیو دیکھنے لگا۔

"ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ امی اور حنا آپا نے کہا تھا کہ ماریہ کچن کا رخ تک نہیں کرتی۔۔ اپنے کھانے کے گندے تک برتن سنک میں رکھ کر چلی جاتی ہے۔۔ مگر اس ویڈیو میں تو وہ مسلسل کچن میں کام کرتی نظر آ رہی ہے۔۔ اس کا انداز اور ہاتھوں کی پھرتی بتا رہی ہے جیسے یہ اس کا معمول ہے اور اور گندے برتن ثنا اور حنا آپا رکھ کر جا رہی ہیں۔۔"

نعیم اپنا ماتھا سہلانے لگا۔ اس کے بعد اس کو تقریباً روز ہی ایسی ویڈیو موصول ہونے لگیں۔

"یہ فراکیں تو میں لوں گی۔۔ ماریہ کی بچیاں بھلا کہاں جاتی ہیں۔۔ میرا تو ہر وقت کا آنا جانا ہے۔۔"

ویڈیو میں صاف نظر آرہا تھا کہ نعیم نے جو فراکیں اور کھلونے اپنی بیٹیوں کے لئے بھیجی تھیں حنا آپا نے سب کی سب اپنے بیگ میں رکھ لیں تھیں۔

نعیم کا دل دکھ سے بھر گیا۔۔ کیا لالچ انسان کے دل سے رشتوں کی محبت تک ختم کر دیتا ہے؟

ایک گھنٹے کے اندر اندر رفعیہ کی کال آ گئی۔

"بس بیٹا۔۔ میں تو کچھ کہتی ہی نہیں ہوں۔۔ ماریہ نے ساری فراکیں اٹھا کر اپنی بہن کو دے دیں۔۔ اب میں منع کرتی تو بری بنتی۔۔ مگر تمہارے خون پسینے سے کمائے پیسے یوں بے دردی سے لٹتے دیکھنا۔۔ بڑا مشکل ہے۔۔"

نعیم کچھ کہہ نہ سکا۔۔ کیا کہتا؟ اپنی ہی ماں کو جھوٹا کیسے کہہ سکتا تھا۔

اس کے سامنے ایسی کئی باتیں آئیں اور بڑی آسانی سے اپنی ماں اور بہن کے جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کہ اگر امی کو ابو کی اس کاروائی کا علم ہوگیا تو وہ ابو کو نہیں چھوڑیں گی اسی لئے اس نے ان سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ وہ اپنے باپ کا احسان مند تھا جس نے اپنی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کو سچائی سے روشناس کروایا۔ ان ہی کی وجہ سے وہ جان سکا کہ اس کے بیوی اور بیٹیاں کس قدر مشکل میں زندگی گزار رہی ہیں۔

"کیا؟"

"ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟"

"ناممکن۔۔ نعیم ایسا نہیں کر سکتا۔۔"

رفعیہ اور اس کے بچوں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔

"اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر نہیں کرسکتا۔۔ وہ ماریہ کو فرانس بلا رہا ہے۔۔ مجھ سے مشورہ کئے بغیر؟"

رفعیہ کو کسی پہلو چین نہیں تھا۔ سمیع اخبار کے پیچھے منہ چھپائے دل ہی دل میں مسکرا دئیے۔"اگر رفعیہ کو پتہ چل جائے کہ اس سب کے پیچھے میں ہوں تو یہ تو مجھے کچا ہی چبا جائے گی۔۔"

اس خیال سے ہی سمیع کو جھرجھری آ گئی مگر ان کو خوشی تھی کہ اب ماریہ ایک سکھی زندگی گزارے گی۔

Check Also

Aik Aham Sawal

By Amer Abbas