Dua
دعا

امریکی فصائیہ کے ہیلی کاپٹر اس کے گھر کی چھت پر منڈلا رہے تھے۔۔
وہ چھت پر بنی پانی کی ٹنکی کے نیچے رکھے ہوئے کاٹھ کباڑ میں چھپی ہوئی تھی۔۔ خوف سے اس کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔۔ اس نے اپنا حجاب ہاتھوں سے تھاما ہوا تھا۔۔ وہ خود اپنی ہی پسینے میں نہائی ہوئی تھی۔
دھم۔۔ دھم۔۔ دھم۔۔ یکے بعد دیگرے کئی امریکی فوجی جدید جنگی اسلحے اور آلات سے لیس چھت پر کود گئے۔
ہیلی کاپٹر سے فلڈ لائٹ جلا دی گئی۔ یوں لگا جیسے چھت پر سورج اتر آیا ہو۔ لاؤڈ اسپیکر پر ان کے نام پکارے جانے لگے۔
"مسز ربیعہ شفیق اور مسٹر شفیق۔۔ آپ دونوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔۔ اپنے ہاتھ سر کے اوپر رکھیں اور باہر آجائیں۔۔"
ربیعہ نے سسکی لی۔
"شفیق۔۔"
مگر اس کا شوہر آس پاس کہیں نہیں تھا۔
"مسز ربیعہ شفیق اور مسٹر شفیق۔۔ آپ دونوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔۔ اپنے ہاتھ سر کے اوپر رکھیں اور باہر آجائیں۔۔"
اعلان دہرایا جانے لگا۔۔ اب کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔۔ ربیعہ نے اپنا حجاب ایک بار پھر ٹھیک کیا۔۔ اسی حجاب کی حفاظت کرتے کرتے یہ نوبت آ گئی تھی اور آہستہ آہستہ باہر نکلنے لگی۔ اس کی ٹانگیں لرز رہی تھیں اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
"اپنے ہاتھ سر پر رکھ لیں۔۔"
اسے ہدایت دی گئی اور اس نے آہستگی سے عمل بھی کر لیا۔
تڑتڑتڑ۔۔
کئی گولیاں برسائیں گئیں۔
ایک سانس، جو وہ نہ جانے کب سے روکے بیٹھی تھی گولیوں سے بننے والے سوراخوں سے ہوتی ہوئی اس کے جسم سے نکل گئی۔۔
"افففف۔۔"
اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔۔ جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔ آنکھیں چھت پر جم گئیں تھیں۔۔ جسم لرز رہا تھا۔۔ اس نے گردن گھمائی اس کا شوہر شفیق بالکل اس کے برابر میں لیٹا گہری نیند سو رہا تھا۔ ربیعہ اٹھ بیٹھی۔
"خدایا۔۔"
اس کے جسم میں اب بھی سنسناہٹ سے دوڑ رہی تھی۔ کل رات جو الفاظ اس نے اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی زونیرہ کے منہ سے سننے تھے وہ کہیں لاشعور میں رہ گئے اور اس عجیب خواب کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ وہ اپنی کسی امریکی دوست سے بات کر رہی تھی۔
"اگر چند دن میں انھوں نے میری بات نہ مانی تو میں امریکی حکومت سے مدد مانگوں گی۔۔"
اب تک کے معاملات اور زونیرہ کی خود سری کو ربیعہ خود ہی ڈیل کرتی آئی تھی مگر اب بات بہت آگے جاتی نظر آ رہی تھی۔
"اب شفیق کو اس معاملے سے آگاہ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔۔"
ربیعہ نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔
***
شفیق جب امریکہ گیا تھا، ایک عام سا دنیا دار نوجوان تھا جس کے نزدیک امریکہ خوابوں کی سر زمین تھی۔ وہ آئی ٹی انجینئر تھا اور اس وقت امریکہ دنیا بھر سے بہترین آئی ٹی انجینئرز اپنے ملک میں جمع کر رہا تھا۔ شفیق کا تعلیمی ریکارڈ ہمیشہ بہت اچھا رہا تھا لہذا جوں ہی اس نے ایک جاب پر اپلائی کیا فوراً ہی مثبت جواب آ گیا۔ سب خوش تھے۔ اس کی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔
چند ہی سال میں اس نے اپنی کمپنی میں اپنا نام بنا لیا۔ پانچ سال بعد وہ پاکستان آیا اور ربیعہ کو بیاہ کر اپنے ساتھ امریکہ لے گیا۔
ربیعہ بھی شفیق کی طرح ہی تھی۔۔ رنگ و روشنی کے دلدادہ۔۔ امریکہ اس کے لئے بھی خواب سا ہی تھا۔۔ امپورٹڈ میک اپ، جیولری سیر و تفریح اور بس۔۔
شادی کے ابتدائی دو سال انھوں نے زندگی کو بھر پور انجوائے کیا۔
"کم سے کم چار سال بعد پہلا بچہ کرنا ہے۔۔ بس یہ ہی چار سال ہمارے ہوں گے۔۔ پھر تو ذمہ داریاں ذمہ داریاں ہوں گی۔۔"
شفیق نے کہا اور ربیعہ نے آمنا صدقنا کہہ دیا۔ مگر ان کا یہ چار سالہ منصوبہ دو سال بعد ہی فیل ہوگیا اور زونیرہ صاحبہ اس دنیا میں آ گئیں۔
ذمہ داریاں تو بڑھیں مگر طرز زندگی تقریباً وہی رہا۔ دوستیاں، دعوتیں اور پارٹیاں سب چلتی رہیں ہاں البتہ انھوں نے اپنی حد کبھی پار نہ کی مگر نشہ اور جنسی بے راہ روی سے بچتے ہوئے وہ اس زندگی کا جتنا انجوائے کر سکتے تھے، کرتے رہے۔ شائد اس کے پیچھے شفیق کی ماں کی دعائیں تھیں۔ وہ جب شفیق اور ربیعہ سے بات کرتیں ان کو دین پر قائم رہنے کی ہدایت کرتیں۔
"میں جانتی ہوں۔۔ وہ ایک الگ دنیا ہے۔۔ مگر ہم کسی بھی دنیا ہوں اپنا مذہب اپنی اقدار کو نہیں بھول سکتے۔۔ بیٹا تم بھی نماز اور قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور اپنے بچوں کو بھی راہ راست پر رکھنا۔۔"
وہ کافی عبادت گزار خاتون تھیں اور اپنی اولاد کو بھی راہ راست پر رکھنے کی خواہش مند تھیں۔ ربیعہ ان کی ہدایات سنتی تو تھی مگر عمل کم کم ہی کر پاتی تھی۔ ان کی سوچ اور طرز زندگی سب کچھ بدل چکا تھا۔۔ پاکستانی سوچ اب دقیانوسی لگتی تھی۔
"بس دو بچے ہوں گے۔۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔۔"
شفیق نے بچوں کی تعداد تک کا فیصلہ کرلیا تھا اور ربیعہ اس فیصلے میں بھی اس کے ساتھ تھی۔
"جتنے زیادہ بچے اتنی ذیادہ ذمہ داری۔۔ دو ہی بہت ہیں"۔
مگر قدرت نے ان کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جب زونیرہ کے بعد ان کے ہاں زوبیہ اس دنیا میں آئی تو بیٹے کا خواب ادھورہ ہی رہ گیا۔
"کوئی بات نہیں۔۔ آج کے دور میں بیٹیاں بھی بیٹوں کے برابر ہی ہیں۔۔"
شفیق کو وہ ننھی پری بہت پیاری لگی اور زوبیہ پیاری تو ربیعہ بھی تھی مگر بیٹے کی تمنا اب بھی اس دل میں ہمک رہی تھی۔ زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہی بچیاں کچھ بڑی ہوئیں تو اسکول جانے لگیں۔ ربیعہ نے بھی جاب کر لی۔ آئے روز ہونے والی پارٹیز اب ویک اینڈ پارٹیز میں بدل گئیں۔ خود ان کے گھر میں بھی ایسی پارٹیز رکھی جاتی تھیں۔ شفیق اور ربیعہ نے اپنا بچپن اور ابتدائی جوانی کا دور پاکستان میں گزار تھا مگر زونیرہ اور زوبیہ کے لئے یہ امریکی ماحول ہی سب کچھ تھا۔ اگرچہ ربیعہ نے ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کے لئے ایک آن لائن ٹیچر کا انتظام کر لیا تھا مگر ہفتے میں چار دن ایک گھنٹے کی آن لائن کلاس ان میں دین کی وہ سمجھ اور قبولیت اس شدت سے پیدا نہ کر سکی جس شدت سے بے راہ روی کا رجحان ان کا گھر کا ماحول دونوں بچیوں میں پیدا کر رہا تھا۔ شفیق کی والدہ کی ہدایات بھی محض فون کالز تک ہی سنی جاتی تھیں۔
***
"ربیعہ۔۔ یہ وظیفہ بیٹے کے لئے مجرب ہے۔۔ میں تو دن رات دعا کرتی ہوں کہ اللہ میرے شفیق کو بازو عطا کر دے۔۔ بیٹا تم پوری یقین سے یہ وظیفہ شروع کرو۔۔ اللہ ضرور کرم کرے گا۔۔"
ربیعہ کی ساس کو پوتے کی بڑی تمنا تھی۔
"جی امی۔۔ میں ضرور کروں گی۔۔"
تمنا تو ربیعہ کو بھی تھی مگر اس کا لائف اسٹائل اسے ان سب چیزوں سے بہت دور لے گیا تھا۔ لیکن اس بار شفیق کی والدہ نے ربیعہ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ انھوں نے اگلے دن پھر فون کرکے پوچھا اور ربیعہ شر مندہ ہوگئی۔
"امی انشااللہ کل سے شروع کروں گی۔۔" اس نے پھر وعدہ کر لیا۔
"کل سے نہیں آج سے۔۔ بیٹا سب کاموں سے فارغ ہو کر عشاء کی نماز کے بعد کرلینا۔۔ بچیاں بھی سو جائیں گی۔۔ تم یک سو ہو کر پڑھ سکو گی۔۔"
ربیعہ مارے شرمندگی کہ یہ بھی نہ کہہ سکی کہ عشاء کی نماز پڑھے تو ایک مدت ہو چکی۔۔ بلکہ اب تو اکثر جمعہ کی نماز بھی مس ہو جاتی ہے۔
"جی امی آج ضرور کر لوں گی۔۔"
***
اللہ جب کسی کو اپنی سمت پھیرنا چاہتا ہے تو اسباب بھی بنا دیتا ہے۔ بیٹے کی محرومی نے ربیعہ کو ایک بار پھر اپنے رب کے سامنے سر بسجود ہونے کی سعادت عطا کر دی اور نجانے یہ بیٹے کی تمنا تھی یا ساس کی جواب دہی کا خوف۔۔ ایک مدت بعد ربیعہ نے قرآن کھولا تھا۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔۔ ایک وقتی سے کیفیت طاری ہوئی اور جلد ہی وہ اپنی روٹین لائف کی طرف لوٹ گئی۔ وہ محض چند دن ہی اس پر عمل کر پائی اور معجزہ ہوگیا۔
"You are pregnant"
ڈاکٹر کی بات سن کر وہ حیران رہ گئی۔ اس کو بالکل اندازہ نہ ہوا کہ طبعیت کی یہ گراوٹ اور تھکاوٹ اس وجہ سے ہے۔
"دیکھا۔۔ میں نے کہا تھا نا۔۔ اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے۔۔ تم وظیفہ چھوڑنا نہیں۔۔ انشا اللہ بیٹا ہی ہوگا۔۔"
اس کی ساس نے بہت یقین سے کہا اور ربیعہ خوف و شرمندگی کے مارے یہ بھی نہ کہہ سکی کہ وہ تو کب کا چھوڑ دیا تھا۔
***
"مجھے ڈر ہے بچے پر برا اثر پڑا ہے۔۔ دماغ تک آکسیجن نہیں جا رہی ہے۔۔ فوری سیزر کرنا ہوگا۔۔ مگر اتنے ہائی بی پی میں آپریشن آپ کی مسزکے لئے بھی رسک ہے۔۔"
ڈاکٹر کی بات سن کر شفیق کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔ ربیعہ اپنے حمل کے آخری دور میں تھی اور الٹراساؤنڈ میں پہلے ہی واضح ہو چکا تھا کہ اس کے ہاں بیٹے کی ولادت متوقعہ ہے۔ سب کچھ بالکل ٹھیک تھا مگر نہ جانے کیوں آخر میں آ کر ربیعہ کا بی پی ہائی رہنے لگا تھا۔ اب پچھلے تین دن سے وہ ہاسپٹل میں تھی۔ اس کا بی پی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ یہ صورت حال ماں بچے دونوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ ربیعہ کو رہ رہ کر ایک ہی خیال ستا رہا تھا۔
"میں نے وظیفہ پورا نہیں پڑھا۔۔ چند کرکے چھوڑ دیا۔۔ کہیں اس کی سزا۔۔"
وہ ڈر جاتی۔ اس کی حالت لمحہ بہ لمحہ دگر گوں ہوتی چلی گئی۔۔
***
"بیٹا پریشان نہ ہو۔۔ اللہ کو یاد کرو۔۔ اس سے مدد مانگو۔۔"
یہ شفیق کی والدہ ہی تھیں جو بار بار اس کو اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت کرتیں تھیں اس سے پہلے تو شفیق ان کی بات سرسری سنتا اور فراموش کر دیتا تھا مگر آج جب اس کی بیوی اور بچہ تکلیف میں تھے، اس کا اپنا رب یاد آ ہی گیا۔۔ مدتوں اپنے رب سے غافل رہنے والے شفیق کے دل نے بے ساختہ ہی اپنے رب کو پکارا۔۔ نجانے کتنے عرصے بعد اس نے وضو کیاتھا۔۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔۔ وہ سر جھکائے۔۔ شرمسار۔۔ اشک ندامت بہاتا وہ پریئر روم (دعا کا کمرہ) میں پہنچا۔۔ پریئر روم کی سفید دیواریں کسی بھی مذہب کی علامتی تصویروں سے یکسر خالی تھیں۔۔ کمرے کی سفید دیواریں رب کائنات کے لامتناہی و واحد ہونے کی گواہی دیں رہی تھیں۔۔ ہر مذہب کا انسان یہاں آ کر اپنے اپنے انداز میں اس رب کے آگے سر جھکاتا تھا۔۔ شفیق وہاں رکھی کرسیوں کو چھوڑ کر زمین کے ایک کونے میں سر جھکا کر بیٹھ گیا۔۔ کیسا رحیم و کریم رب ہے۔۔ اپنے کسی بھی بندے کو کبھی اپنے در پر آنے سے نہیں روکتا۔۔ ہر وقت موجود ہے۔۔ گناگاروں کے لوٹ آنے پر خوش ہوتا ہے۔۔
شفیق کے اشک ندامت اس کے گناہوں کو دھونے لگے۔
***
ربیعہ کسی ایسی جگہ کھڑی تھی جہاں ہر طرف سفید دیواریں تھیں۔ وہ گھبرا کر چاروں طرف گھوم گئی۔۔ کلوروفارم کے زیر اثر اس کا ذہن نہ جانے کیا کیا دکھا رہا تھا۔
"میں کہاں۔۔ کہاں ہوں۔۔ میرا بچہ۔۔ میرا بیٹا۔۔"
وہ جس طرف رخ کرتی سفید دیوار سے نظر ٹکراتی تھی۔
"یا اللہ۔۔ یا اللہ۔۔ میرا بچہ۔۔ اس کا دل بے ساختہ اپنے رب کو پکارنے لگا۔
"مبارک ہو۔۔ بیٹا ہوا ہے۔۔"
کسی کی آواز آئی۔
"کہاں۔۔ کہاں ہے۔۔"
اس نے آنکھیں کھولنا چاہیں مگر پلکوں نے حکم مانے سے انکار کر دیا۔۔ ہاں البتہ ممتا کے کانوں نے کسی کے بلک بلک کر رونے کی آواز سن لی۔
***
خدا معجزے دکھا تا ہے۔
ربیعہ اور اس کے بیٹے عبداللہ کی زندگی ایک معجزہ ہی تھا۔
دوسرا معجزہ ان دو نوں کے دلوں میں وقوع پذیر ہو چکا تھا۔
"شفیق۔۔ اب یہاں نہیں رہنا۔۔ ہم کتنا بھی چاہیں، اس گناہ کے ماحول سے خود کو نہیں بچا سکتے اور ہمارے بعد ہماری اولاد تو مکمل اسی رنگ میں رنگ جائے گی۔۔ واپس پاکستان چلو۔۔ کم میں گزارا کر لیں مگر ایمان تو سلامت رہے گا ناں۔۔"
شفیق کا دل بھی یہاں سے اچاٹ ہو چکا تھا۔۔ یا شائد اس کی ماں کی دعا بھی قبول ہو چکی تھی۔۔ انھوں نے سمیٹنا شروع کر دیا ایک سال کے اندر اندر وہ امریکہ سے سب کچھ ختم کرکے پاکستان شفٹ ہو گئے۔۔ مگر آزمائش ابھی باقی تھی۔۔ زونیرہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھی اپنی زندگی کے ابتدائی اٹھارہ برس امریکہ میں گزارنے کے بعد اب یہاں قید و بند میں رہنا اس کے لئے ممکن نہ تھا۔
***
"ربیعہ۔۔ اس معاملے میں سختی نہیں کی جاسکتی۔۔ زونیرہ باغی ہو جائے گی۔۔ اس کو جانے دو۔۔ اگر اس نے واقعی امریکی حکومت سے مدد مانگ لی تب بھی تو ہمیں اس کو بھیجنا ہوگا نا۔۔"
ربیعہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
"ہر کسی کو اپنی منزل خود ہی کھوجنی پڑتی ہے۔۔ ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ وہ ہماری اولاد کو راہ راست پر رکھے۔۔ جیسے میری ماں کرتی تھی۔۔ بھروسہ رکھو۔۔ ایمان ہماری اولاد کے دل کو کبھی نہ کبھی منور کر ہی دے گا۔۔"
شفیق نے اس کو تسلی دی۔
"ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔۔ میں دعا کا دامن کبھی نہیں چھوڑوں گی اور مجھے یقین ہے اللہ میری دعا میرے بچوں کے حق میں میری دعا ضرور سن لے گا۔۔ اللہ ہماری اولاد کو گمراہ ہونے سے بچائے"۔
"آمین۔۔"
شفیق کے دل سے صدا آئی۔

