Dhoka
دھوکہ

"مجھے ڈر لگتا ہے۔۔ ثناء۔۔ تم دنیا کی بھیڑ میں کھو نہ جاؤ۔۔"
اقبال نے ثنا کا ہاتھ تھام کر بڑی دل سوزی سے کہا تھا۔
"میں چھوٹی بچی نہیں ہوں۔۔ بے فکر رہو۔۔ نہیں کھوؤں گی۔۔"
ثناء اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے بولی۔
فلائیٹ اڑان بھرنے کو تیار تھا۔ ثناء نے اپنے قدم ایزل کی طرف بڑھا دئیے۔
"ثناء!"
اقبال نے پکارا اور ہاتھ میں پکڑا پیپر اس کی طرف بڑھایا۔
"یہ پیپر۔۔ تم بھول گئیں۔۔ یہ بھی میر ے ڈاکو منٹس کی فائل میں لگا دینا۔۔ یہ بہت ضروری ہے۔۔ دھیان سے رکھنا۔۔ اس کے بغیر میں وہاں۔۔ تمہارے پاس نہیں آ سکوں گا۔۔"
ثناء نے مسکراتے ہوئے پیپر اس کے ہاتھ سے لیا اور الوداعی بوسہ دےکر جہاز کی طرف چل دی۔
اقبال جب تک ثناء کو دیکھ سکتا تھا۔۔ دیکھتا رہا۔
بالاآخر وہ موڑ مڑ گئی اقبال نے واپسی کے راستے کی طرف قدم بڑھا دیئے اور۔۔
ثناء نے موڑ مڑتے ہی اقبال کا دیا ہوا پیپر مسل کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔
***
"ثناء۔۔ تم بہت حسین ہو۔۔ بے حد۔۔"
ندیم دلہن بنی ثناء کے چہرے سے نظر نہیں ہٹا پا رہا تھا۔
"میں ہمیشہ سوچتا تھا۔۔ تم دلہن بن کر کیسی لگو گی۔۔ جیسا میں نے تصور کیا تھا اس سے بڑھ کر حسین لگ رہی ہو۔۔"
ثناء کی آنکھوں آگئے۔۔ مگر ندیم نے جلدی سے اپنی رومال میں اس کے موتی جذب کر لئے۔
"نہ نہ۔۔ رونا نہیں۔۔ میک آپ خراب ہو جائے گا۔۔"
"ندیم۔۔ مجھ سے نہیں ہوگا۔۔ پلیز۔۔"
ثناء بے چینی سے اپنے حنائی ہاتھ ملنے لگی۔
"ہو جائے گا۔۔ ثناء۔۔ اپنے مقصد پر نظر رکھو۔۔ جب کوئی مقصد سامنے ہو تو بڑے بڑے کام آسانی سے ہو جاتے ہیں۔۔"
ثناء اور ندیم بڑی دیر تک ایک دوسرے کو آنکھوں میں جذب کرتے رہے۔
***
"میرا بس ایک ہی خواب ہے۔۔ جو میں نے بچپن سے دیکھا ہے۔۔"
ثناء کی حسین آنکھیں کہیں خلا میں تک رہی تھیں۔
"مجھے بتاؤ۔۔ ثناء مجھے بتاؤ۔۔ میں تمہارا ہر خواب پورا کروں گا۔۔"
اقبال بے چین سا ہوگیا۔ ثناء اس کی دلہن تھی۔۔ من چاہی دلہن۔۔ وہ اس کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔ چاند تارے تک توڑ کر لا سکتا تھا۔۔
"رہنے دیں۔۔ اقبال۔۔ آپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔۔"
ثناء نے آزردہ کی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔
***
ثناء اور ندیم یونی ورسٹی میں کلاس کے ساتھی تھے اور اب۔۔ زندگی کے ساتھی بننا چاہتے تھے۔۔
ثناء ایک خوبصورت لڑکی تھی اس کو اپنی خوبصورتی کا خوب ادارک تھا اور خود کو کسی ناول کی ہیروئن ہی سمجھتی تھی اور ندیم ہینڈسم لڑکا۔۔ باتوں کا بازی گر۔۔ مگر محنت سے کوسوں دور۔۔ شاٹ کٹس کی تلاش میں۔۔
ثناء کا خواب تھا کہ اس کا شہر ناول کے ہیرو جیسا ہو۔۔ ہینڈ سم۔۔ ڈیشنگ۔۔
ندیم کا بھی ایک خواب تھا جس کی جڑیں بھی ان کے بچپن میں ہی کہیں تھی اور اب وہ تن آور درخت بن چکا تھا۔
ملک سے باہر جانا۔۔
"یہ بھی کوئی زندگی ہے۔۔ ناانصافی۔۔ کرپشن۔۔ گندگی۔۔ بس یار ثناء۔۔ یہاں نہیں رہنا۔۔"
ندیم ایک ہی بات بار بار کہتا۔
"مگر باہر جائیں گے کیسے؟ تم تو پڑھائی میں میں صفر ہو۔۔ اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟
"بس۔۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔۔"
ندیم ہتھیلی پر مکا مار کر بولا اور اس مسئلہ کا حل محنت تھی مگر ندیم کی فطرت میں محنت نہیں تھی۔
***
اقبال ایک بزنس مین تھا۔ چھوٹے پیمانے پر کام شروع کیا تھا مگر اب کافی بہتر پوزیشن میں آ چکا تھا۔ وہ بچپن ہی سے اپنے معاشی زندگی کے بارے میں کافی سنجیدہ رہا تھا۔ روزگار اس کے لئے زندگی کی پہلی ترجیح تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ پینتیس سال کی عمر تک اکیلا ہی تھا۔۔ مگر پھر ایک دن اس نے ثناء کو دیکھ لیا۔ ثناء اس کی بھابھی کی چھوٹی بہن کی سہیلی تھی۔
"ارے اقبال۔۔ آؤ آؤ۔۔ رک کیوں گئے؟"
بھابھی نے کہا۔
وہ ڈرائنگ روم میں قدم ہی رکھ پایا تھا کہ اس کی نظر ثناء پر پڑ گئی۔۔ نجانے اس لڑکی میں کیا تھا کہ ندیم جیسا سنجیدہ و بردبار انسان بھی بے خود سا ہو کر دیکھتا چلا گیا۔
بھابھی نے بھی اس محویت کو نوٹ کیا اور مسکرا دیں۔
***
اگلے ہی ہفتے اقبال کی بھابھی ثناء کے لئے اقبال کا رشتہ لے کر اس کے گھر پہنچ گئیں۔ ثناء کی والدہ کی نظر میں اقبال ایک آئیڈیل لڑکا تھا۔
"لڑکے عمر نہیں۔۔ اس کی آمدنی دیکھی جاتی ہے۔۔ اچھا خاصا بزنس مین ہے۔۔ سلیف میڈ انسان اتنی ہی عمر میں شادی کا سوچتا ہے۔۔"
ثناء کی جان پر بن آئی تھی۔
"ندیم کچھ کرو۔۔ امی تو ہاں کہنے کو تلی بیٹھی ہیں۔۔"
مگر ندیم تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
"ثناء۔۔ تم جانتی ہو میں بے روزگار ہوں۔۔ گھر میں بڑی بہنیں موجود ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے تمہاری امی صحیح سوچ رہی ہیں۔۔ تم اقبال سے شادی کر لو۔۔"
ثناء اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔۔ وہ گھر میں سہیلی کے گھر جانے کا بہانہ بنا کر ندیم سے ملنے آئی تھی ثناء کو اس جواب کی امید ہرگز نہ تھی۔
"تم۔۔ تم پاگل ہو گئے ہو؟"
مگر ندیم نے اس کی بات نظر اندا زکر دی۔
"ہاں ثناء بس یہ ہی ایک راستہ ہے۔۔ تم اقبال سے شادی کے لئے ہاں کہہ دو۔۔ اس کے پاس بہت پیسہ ہے۔۔ شادی کے بعد تم تعلیم حاصل کرنے کے بہانے تم باہر چلی جانا۔۔ وہاں جا کر تم مجھے بلا لینا اور اقبال سے طلاق لے لینا۔۔ بس یہ ہی ایک راستہ ہے۔۔"
ثناء کی حیرت کی انتہا نہیں تھی۔
"کتنی آسانی سے یہ سب کہہ دیا۔۔ کیا یہ اتنا ہی آسان ہوگا؟"
ندیم اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر خود بھی اداس ہوگیا۔
"نہیں۔۔ اتنا آسان نہیں ہوگا۔۔ بہت۔۔ بہت مشکل ہوگا۔۔ تمہیں کسی اور کی دلہن بنے دیکھنا۔۔ مگر اس کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے۔۔"
"ندیم۔۔ تم۔۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔۔ تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟"
ثناء کی حیرت ختم نہیں ہو رہی تھی مگر ندیم کا غصہ آ رہا تھا۔
"پھر تم بتاؤ کیا کریں۔۔ چلو۔۔ ابھی نکاح کر لیتے ہیں۔۔ کرائے کے گھر میں رہیں گے اور دو وقت کی روٹی کو ترسیں گے۔۔ کہو منظور ہے؟"
ثناء کے آنسوؤں میں روانی آ گئی ندیم بے بسی سے پھر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
"تم گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہو۔۔ جوان ہو خوبصورت ہو۔۔ ایسے رشتے تو روز آئیں گے اور میں۔۔ میں مڈل چائلڈ۔۔ تمہارے ماں باپ دس سال انتظار نہیں کریں گے۔۔ سوچ سمجھ لو۔۔ ایسے مال دار رشتے بار بار نہیں آتے۔۔"
"یہ ممکن نہیں ہے۔۔"
ثناء نے صاف انکار کیا اور ایک دم اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل دی۔۔ پیچھے سے اس نے ندیم کی آواز سن لی تھی۔
"پھر ہمارا ملنا بھی ممکن نہیں۔۔"
***
وقت نے ثناء کو سخت مشکل میں ڈال دیا تھا۔ ماں کو رشتہ اتنا پسند آیا تھا کہ وہ چٹ منگنی پٹ شادی پر تیار تھیں۔ ثناء کا کوئی بہانہ کام نہیں آیا۔
"میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔۔"
مگر وہ نہ مانیں۔
"نہ بی بی۔۔ ہمیں نہیں پڑھنا۔۔ گریجویشن کافی ہے۔۔ سارا پیسہ تعلیم میں لگا دیں گے تو شادی بیاہ کہاں سے کریں گے؟
ٹکا سا جواب ملا
"میں جاب کر لوں گی۔۔"
ثناء نے حل نکالا۔
"ہرگز نہیں۔۔"
صاف انکار ہوگیا۔۔
وہ دن رات کبھی ماں سے الجھتی تو کبھی خود سے لڑتی۔۔
"وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔ ان حالات میں ہم کبھی ایک نہیں ہو پائیں گے۔۔ آج نہیں تو کل امی کہیں اور میری شادی کر دیں گی۔۔"
دو ہی کروٹیں تھیں اور دونوں طرف بے چینی تھی۔
"مگر اتنا بڑا قدم۔۔ کیسے؟"
کئی راتیں خود سے جنگ کی۔ ندیم بھی مسلسل اس کا برین واش کرتا رہا اور بلاآخر ثناء نے ہتھیار ڈال دئیے اور اقبال کی دلہن بن گئی۔۔
***
"میں یو کے کی یونیورسٹی میں پڑھنے جانا چاہتی ہوں۔۔ بلکہ میں تو چاہتی ہوں ہم وہیں شفٹ ہو جائیں۔۔ آپ وہاں کوئی بزنس اسٹارٹ کریں۔۔ چند سال کی جدو جہد ہوگی مگر لائف بن جائے گی۔۔"
اس نے آہستہ آہستہ اقبال کا ذہن بنانا شروع کر دیا۔ عورت خوبصورت ہو تو مرد کے خیالا ت بڑی جلدی تبدیل ہو جاتے ہیں۔
"آپ کا بزنس یہاں دس سال میں بھی اتنی ترقی نہیں کرے گا جتنی ترقی وہاں کر لے گا۔۔"
بزنس اقبال کی پہلی محبت تھا اس کو بڑھانا اور بڑھاتے چلے جانا ہی اس کا سپنا تھا ثناء نے اس کی کمزوری کو استعمال کیا تھا۔
"مگر۔۔ یہ سب۔۔ کیسے ہوگا۔۔ دیکھو صاف بات ہے۔۔ میں اتنا پڑھا لکھا نہیں ہوں۔۔ بزنس تو کر سکتا ہوں مگر یہ امیگریشن وغیرہ کے معاملات۔۔ یہ میری سمجھ نہیں آ ئیں گے۔۔"
اقبال بڑی آسانی سے دام میں آگیا۔
"آپ ان سب کی فکر نہ کریں۔۔ وہ میں دیکھ لوں گی۔۔ میری بہت ساری کلاس فیلوز باہر گئیں ہیں۔۔ آپ بس پیسوں کو انتظام کریں۔۔"
ثناء پر ایک ایک دن بھاری تھا وہ جلد از جلد اقبال سے دور جانا چاہتی تھی۔
"بزنس۔۔ سمیٹنے میں بھی ٹائم لگے گا۔۔ اب اتنے برسوں کی محنت۔۔ ایسے اونے پونے تو نہیں بیچ سکتا۔۔"
اقبال نے اس بزنس کو دن رات خون پسینہ سب دیا تھا اس لئے یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔
"آپ میری یونیورسٹی کی فیس اور وہاں رہنے کا خرچہ ارینج کر لیں۔۔ میں وہاں جا کر آپ کی اسپانسر شپ کا کام کرواؤں گی۔۔ کچھ ماہ تو لگ جائیں گے۔۔ جب تک آپ یہاں بزنس وائنڈ آپ کر لیں گے۔۔"
ثناء اور ندیم نے فول پروف منصوبہ بنایا تھا۔
***
"مگر ندیم۔۔ میں اقبال کے نکاح میں ہوں۔۔ پھر ہم یو کے جا کر نکاح کیسے کریں گے؟"
ثناء نے کہا
"کل ہم وکیل کے پاس جائیں گے اور تم خلع کا مقدمہ دائر کر دینا۔۔ تمہارے جانے کے بعد اقبال کو خلع کا نوٹس مل جائے گا۔۔ وکیل میرا دوست ہے وہ سب سنبھال لے گا۔۔ بہت جلد اقبال تمہاری آزادی کے پروانے پر دستخط کر دے گا۔۔"
ندیم کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود تھا اور ثناء آنکھیں بند کئے اس کے پیچھے چل رہی تھی۔
***
ثناء کو سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔
وہ یو کے میں تھی۔۔ نئی دنیا۔۔ نئے لوگ۔۔ صاف ستھرا شہر۔۔ پر سکون ماحول اور ندیم کا انتظار۔۔
اس نے یونیورسٹی جوائن کر لی اور فوراً ہی ندیم کو بلوانے کے انتظامات میں لگ گئی۔۔ اقبال نے اس کے اکاؤنٹ میں ایک موٹی رقم جمع کروا دی تھی۔۔ ثناء اور ندیم کا منصوبہ کامیاب ہوگیا تھا۔
***
"کیا۔۔ کیوں۔۔"
ثناء نے خلع کا کیس کر دیا ہے۔۔
ہر زبان پر یہ ہی سوال تھا۔
ثناء کے گھر والے حیران و شرمندہ۔۔
اقبال شاک کی کیفیت میں۔۔
"آپ۔۔ آپ مجھے اتنا بڑا دھوکہ دیں گی۔۔ میں نے سوچا بھی نہ تھا۔۔ میں نے تو آپ کو اپنی ماں سمجھا تھا۔۔"
اقبال ٹوٹا ہوا۔۔ ہارا ہوا۔۔ ثناء کی امی کے سامنے بیٹھا تھا۔ ثناء کے والد کمرے سے اٹھ کر جا چکے تھے اور اس کی ماں اشک بہا رہی تھیں۔
"مجھے معلوم ہے تم مجھ پر یقین نہیں کرو گے۔۔ مگر میرا اللہ گواہ ہے۔۔ میں اس سب میں شامل نہیں۔۔ ثناء کا نمبر بھی بند ہے۔۔ اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور اب مجھے اس سے کوئی رابطہ رکھنا بھی نہیں ہے۔۔"
اقبال کو ان کی وضاحت سے کوئی غرض نہ تھی۔۔ اس کا سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔۔ ایک بہت بڑی قم یک مشت نکال لینے کی وجہ سے بزنس تیزی سے نیچے جا رہا تھا۔۔ آفس سے فون آ رہے تھے۔۔ ورکر استعفے دے رہے تھے مگر اقبال کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا۔۔ اقبال نے ثناء کو پوری شدتوں سے چاہا تھا اور اب اس محبت کی کرچیاں ایسی بکھری تھیں کہ تلوے لہو لہو ہو گئے۔۔ مزید چلنے کی سکت کھو چکا تھا۔۔ آہ۔۔
"کیوں۔۔ ثناء۔۔ کیوں کیا ایسا۔۔"
خود سے بیگانہ وہ دن رات یہ ہی سوچتا۔۔ آنسو خاموش بد دعا ہوتے ہیں اور اقبال کی آنکھوں نے آنسو اس کے دل پر گرتے تھے۔
***
"مجھے یقین نہیں آرہا۔۔ ندیم۔۔ تم یہاں میرے پاس ہو۔۔ ہم ساتھ ہیں۔۔"
وہ خوشی سے جھوم رہی تھی۔ ندیم کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام رہی تھی۔۔ اس کے بالوں کو بگاڑ رہی تھی۔
"کتنا اچھا ملک ہے۔۔ یہاں کوئی کسی کو نہیں روکتا۔۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مگن۔۔ ورنہ اگر پاکستان میں تم میرا یہ حال کرتیں تو تماشا لگ جاتا۔۔"
ندیم اپنے بالوں کو درست کرتے ہوئے ہنسا۔
وقت کو تو جیسے پر لگ گئے۔ ندیم نے یونیورسٹی جوائن کرلی۔ دونوں صبح یونیورسٹی چلے جاتے اور اس کے بعد پارٹ ٹائم کام کرتے۔ ثناء اپنی یونیورسٹی کی لڑکیوں کے گروپ کے ساتھ رہتی تھی جب کہ ندیم نے بھی لڑکوں کے ایک گروپ کے ساتھ رہائش اختیار کر لی تھی۔ کئی ماہ گزر گئے، ثناء کو اکثر اپنے گھر والے یاد آتے تھے۔ اس نے اپنی سم آن کر لی تھی مگر گھر سے کسی نے اس کو ایک میسج تک نہیں کیا تھا وہ خود ان سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ اسے اقبال کی طرف سے بھی دھڑکا تھا۔
"اگر اس نے خلع کے خلاف مقدمہ کردیا تو؟"
ثناء کو خوف محسوس ہوتا تھا مگر ندیم لا پرواہی سے کہتا"ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ میں اپنے وکیل دوست کو فون کردوں گا۔۔ وہ سب معاملات دیکھ لے گا۔۔"
مگر اس نے کبھی ایسا نہیں کیا۔۔ ندیم کا پلان چینج ہو چکا تھا۔
دونوں یونیورسٹی میں کچھ دیر کے لئے ہی مل پاتے تھے مگر چھٹی کا دن دونوں ساتھ گزارتے۔۔ گھومنا پھرنا۔۔ کھانا پینا۔۔ بس یہ ہی زندگی تھی۔۔ ایسا ثناء کو لگتا تھا کہ یہ ہی زندگی ہے۔۔ مگر کچھ زندگیاں ایسی بھی تھیں جنہیں وہ پیچھے چھوڑ آئی تھی اور ان ہی زندگیوں میں ایک اس کا دیا ہوا صدمہ نہ جھیل پائی۔۔
"مبارک ہو ثناء۔۔ اقبال مر گیا۔۔ تمہارا دیا ہوا دھوکہ۔۔ اس کے دل پر ایسا بوجھ بنا کہ دھڑکنا بھول گیا۔۔"
ثناء کی بہن کا میسج ملا۔ ثناء سمجھ نہ پائی کہ اس خبر پر خوش ہو اداس۔
ندیم نے اس خبر پر کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا۔ ثناء کو اس کی خاموشی پر اچھنبا تھا۔"ندیم۔۔ اب ہم بے فکر ہو کر شادی کر سکتے ہیں۔۔ ہے نا؟"
"ابھی تو تمہاری عدت کے دن ہیں ثناء۔۔ ناپسندیدہ ہی سہی مگر تمہارا شوہر تو تھا۔۔"
ندیم کے لہجے میں نجانے کیا تھا ثناء شرمندہ سی ہوکر بولی۔
"میں۔۔ تو بس۔۔"
ندیم اٹھ کھڑا ہوا۔
"ثناء۔۔ میں ابھی اس سب کے لئے تیار نہیں ہوں۔۔ الگ گھر۔۔ دیگر زندگی کے اخراجات۔۔ تمہارا اکاؤنٹ بھی خالی ہو چکا ہے۔۔"
ندیم اپنی بات کہہ کر چکا تھا اور ثناء اس کے لفظوں سے زیادہ اس لہجے پر غور کرتی رہی۔
***
پانچ ماہ گزر گئے۔ ثناء ندیم کی طرف سے بہت کچھ سننے کی منتظر رہی مگر وہ ایک گہری خاموشی اوڑھے بیٹھا تھا۔ ثناء انتظار کر کرکے تھک چکی تھی۔
"ندیم۔۔ اب تو عدت کا ٹائم بھی گزر گیا۔۔ آگے کا کیا پلان ہے؟ ہم شادی کب کریں گے؟"
ندیم نے سرد سی نظر ثناء پر ڈالی
"ثناء۔۔ میں ریٹا سے شادی کر رہا ہوں۔۔"
ندیم نے بنا لگی لپٹی رکھے صاف کہہ دیا۔ ثناء کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔
"کیا۔۔ نہیں۔۔ تم۔۔ تم مذاق کر رہے ہو۔۔ ہے نا؟"
مگر ندیم سنجیدہ تھا۔
"نہیں۔۔ ثناء یہ مذاق نہیں ہے۔۔ اپنی زندگی کے یہ قیمتی سال میں۔۔
یہاں محنت مزدوری کرکے ضائع نہیں کروں گا۔۔ کئی سال ورک ویزا پر چھوٹی چھوٹی جاب کرنے بعد مجھے یہاں کی شہریت ملے گی۔۔ جب کہ ریٹا یہاں کی قانونی شہری ہے اور اس سے شادی کرنے کے بعد میں بھی یہاں کا شہری بن جاؤں گا۔۔ سوری ثناء۔۔ ہمارا ساتھ اتنا ہی تھا۔۔"
ثناء پتھر کا بت بنی بیٹھی رہ گئی۔ ندیم جا رہا تھا، اس کی پشت پر ثناء کی نظریں گڑی ہوئی تھی جس پر اس کو اپنے کئے کا انجام صاف لکھا نظر آ رہا تھا۔

