Friday, 27 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Bewah

Bewah

بیوہ

"اب عند لیب کیا کرے گی؟"

ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا

"اب عندلیب کیا کرے گی؟"

عندلیب، جو محض اٹھائیس سال کی عمر میں بیوہ ہوگئی ہے۔۔

پاکستان میں اس کی کئی ہم عمر کزنز ابھی ایک دوسال پہلے ہی بیاہی گئیں ہیں اور وہ ایک تیرہ سالہ بیٹی کی بیوہ ماں ہے۔۔

اب عندلیب کیا کرے گی؟

لڑکپن سے جوانی کی طرف جاتی ہوئی بیٹی کے ساتھ وہ کینیڈا میں تنہا رہ پائے گی؟

***

عندلیب جس وقت عمران کی دلہن بن کر کینیڈا آئی تھی اس وقت محض سترہ سال کی تھی۔ میٹرک کے بعد اس کی ہم جولیاں کالج میں داخلہ لینے کی تیاری میں لگیں تھیں اور وہ شادی کی تیاریاں کر رہی تھی۔ اس کی عمر لڑکیاں اس کی قسمت پر رشک کرر ہی تھیں۔

"یارررر۔ عندلیب تُو کتنی لکی ہے۔۔ ہمیں دیکھ۔۔ دس سال اسکول میں پڑھا اور اب کالج میں دماغ کھپائیں گے۔۔ اس دوران اگر شادی نہیں ہوئی تو۔۔ پھر یونی ورسٹی میں پڑھائیاں کر کرکے بال سفید کریں گے۔۔ تُو مزے میں رہی۔۔ میٹرک کرتے ہی اس پڑھائی سے چھوٹ گئی اور اب جائے گی کینیڈا۔۔ واہ یار۔۔"

کم عمری اور ناسمجھی کی یہ باتیں اس وقت عندلیب کو بہت اچھی لگتی تھیں۔۔

***

عمران اپنے زمانہ طالب علمی سے کینیڈا میں تھا اور اب وہ وہاں کا باقاعدہ شہری تھا۔ پاکستان میں اس کی پوری فیملی موجود تھی۔ عندلیب اس کی ماں کا انتخاب تھا۔ تصویر دیکھتے ہی عمران نے اپنی رضا مندی دے دی۔۔ عندلیب تھی ہی اتنی خوبصورت۔۔

عمران شادی کے لئے پاکستان آیا چند ماہ رہا اور عندلیب کو اپنے ساتھ لے کر کینیڈا آگیا۔ ایئرپورٹ سے گھر تک کا پورا راستہ عندلیب کی معصوم آنکھیں کینیڈا میں ہر شے کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں اور عمران اس کی بچوں جیسی معصومیت پر مسکرا رہا تھا۔ کینیڈا میں عمران کا اپنا فلیٹ تھا۔۔ خوبصورتی سے سجا وہ چھوٹا سا فلیٹ عندلیب کو بہت اچھا لگا۔

عمران اور عندلیب کی عمروں میں آ ٹھ سال کا فرق تھا پاکستانی معاشرے میں شوہر اور بیوی کی عمروں میں اتنا فرق معمول کی بات ہے مگر عمران عندلیب کو بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا۔۔ ایک سال میں اس نے عندلیب کو آس پاس کی تمام مشہور جگہوں کی سیر کروائی۔۔ عندلیب معصومانہ خوشی کے ساتھ اس زندگی کو بھر پور انجوائے کر رہی تھی۔ عمران نے اس کو کوئی کمی نہ ہونے دی۔

شادی کے ڈیڑھ سال بعد انھیں اولاد کی خوش خبری ملی۔ دونوں بے حد خوش تھے۔

"اگر بیٹا ہوا تو اس کا نام ہمدان رکھیں گے۔۔ میں نے کسی ناول میں یہ نام پڑھا تھا اور مجھے بہت پسند آیا تھا"۔

"اور اگر بیٹی ہوئی تو مہوش نام رکھیں گے۔۔"

عمران نے ہنستے ہوئے کہا

"تمہیں معلوم ہے۔۔ مہوش کون تھی؟"

عندلیب نے دلچسپ سے پوچھا

"کون تھی بھلا؟"

عمران نے ہنس ہنس کر کہنا شروع کیا۔

"مہوش میری ٹیچر تھیں۔۔ جب میں سکس کلاس میں تھا اور وہ میرا کرش تھیں۔۔ جب وہ پنک کلر کا سوٹ اور اونچی ہیل کی سینڈل پہن کر ٹک ٹک کرتی کلاس میں آتی تھیں۔۔ میرا تو دل ہاتھوں سے نکلا جاتا تھا۔۔"

عندلیب ہنس ہنس کر بے حال ہوگئی۔

***

عندلیب کی پریگننسی کا آخری دور چل رہا تھا جب عمران کی طبعیت خراب ہوئی۔

"یار۔۔ آج پھر اسٹمک آپ سیٹ ہوگیا۔۔"

عمران آفس سے آیا تو کافی نڈھال تھا۔ کئی دن سے اس کی یہ ہی کیفیت تھی۔ عندلیب اس کی دیکھ بھال کی پوری کوشش کرتی تھی مگر اس حالت میں وہ زیادہ کچھ کر نہیں پاتی تھی۔

"آپ مجھے فون کر دیتے۔۔ میں آپ کے لئے کچھ ہلکا پھلکا پکا دیتی۔۔ میں ابھی آپ کے لئے کھچڑی بنا دیتی ہوں"۔

عندلیب نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

وہ خود اپنی حالت سے پریشان اور ڈری ہوئی تھی۔۔ پاکستان میں ایسی حالت میں میکہ اور سسرال مل کر لڑکی کا خیال رکھتا ہے ہر اونچ نیچ سمجھاتا ہے۔۔ وہ فون پر اپنی ماں اور ساس سے مسلسل رابطے میں تھی مگر خود کو تنہا محسوس کرتی تھی۔ عمران بھی اس کی کیفیت کو سمجھ رہا تھا اسی لئے اس پر کسی بھی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چا ہتا تھا۔

"نہیں۔۔ کھچڑی کی ضرورت نہیں۔۔ میں دودھ سے بریڈ لے لوں گا اور کل ہاسپٹل جا کر چیک آپ بھی کروا لوں گا۔۔"

***

ہاسپٹل میں اپنی رپوٹس دیکھ کر عمران کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔

اس کو آنتوں کا کینسر تھا۔

"ڈرنے کی بات نہیں۔۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ بالکل ابتدا میں ہی مرض کی تشخیص ہوگئی۔۔ یہ ابھی قابل علاج ہے۔۔"

ڈاکٹر نے اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ کر تسلی دی۔

عمران کو سب سے پہلا خیال عندلیب کا آیا۔۔ وہ پورے دنوں سے تھی ایسے میں یہ خبر اس کے لئے خطرناک ثابت ہوگی۔ عمران نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ بات کسی کو نہیں بتائے گا اور اپنا علاج خاموشی سے جاری رکھے گا۔

***

"آپ نے کئی دن پہلے اپنا کوئی ٹیسٹ کروایا تھا۔۔ اس کی کیا رپورٹ آئی؟"

عندلیب کو اچانک ہی یاد آ گیا۔

"وہ۔۔ رپورٹ۔۔ تو بالکل ٹھیک تھی۔۔

ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آنتوں میں انفیکشن ہوگیا ہے۔۔ دوا لے رہا ہوں۔۔ جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔" عمران نے بات بنا دی مگر عندلیب اس کے کم ہوتے وزن اور گرتے بالوں کو دیکھ کر پریشان تھی۔

جلد ہی ولادت کا وقت آگیا اور ننھی پری۔۔ ان کی بیٹی مہوش اس دنیا میں آگئی۔ کم عمر عندلیب کے لئے نوزائیدہ بچہ اکیلے سنبھالنا بڑا مشکل تھا۔ بچی بہت کمزور تھی اور سخت نگداشت رکھنی پڑ رہی تھی۔ وہ دن رات بچی میں لگی رہی۔ اس دوران عمران بھی نہایت رازداری سے اپنا علاج جاری رکھے ہوئے تھا۔ ڈاکٹرز کو یقین تھا کہ عمران چند ماہ میں کینسر فری ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔۔ جیسے جیسے مہوش بڑی اور صحت مند ہوتی گئی ساتھ ساتھ عمران بھی زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اس کی رپورٹس کلیر آئی تھیں۔ عندلیب کو پتہ ہی نہ چلا اور ایک بہت بڑا طوفان اس کی ہنستی بستی زندگی کے قریب سے گزر گیا۔ وقت اپنی ڈگر پر چلتا رہا۔

***

"آپ کی بس ایک ہی بیٹی ہے؟"

مہوش آٹھ سال کی ہو چکی تھی۔ عندلیب کے اردگرد موجود پاکستانی خواتین اپنی عادت سے مجبور ہوکر اکثر یہ سوال پوچھتی تھیں، پاکستان سے اس کی ماں اور ساس بھی اس بارے میں بات کرتی رہتی تھیں۔ خود عندلیب بھی چاہتی تھی کہ مہوش کی بہن یا بھائی اس دنیا میں آجائے مگر عمران اس کو تسلی دے دیتا۔

"دیر سویر ہو جاتی ہے۔۔ اگر اللہ کی مرضی ہوئی تو اور بچے ہو جائیں گے ورنہ میرے لئے تم اور مہوش ہی کافی ہیں۔۔"

عمران جانتا تھا کہ کینسر کے ٹریٹمنٹ کے بعد وہ کبھی باپ نہیں بن سکتا مگر وہ یہ بات کسی سے شئیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

***

پہلی بار جب عمران کو کینسر ہوا تھا تو ابتدائی اسٹیج پر ہی پکڑا گیا تھا مگر۔۔ وہ اصل میں وہ عمران کا ازلی دشمن ہو چکا تھا۔ دوسری بار اس نے ایسے چھپ کر نقب لگائی کہ آخر تک عمران کو پتہ ہی نہ چل سکا اور جب اچانک حالت بگڑی تب تک وہ اس کے جسم کے رگ و ریشے میں سما چکا تھا۔

عندلیب کے لئے یہ خبر ایک ایٹم بم تھی جس نے اس کی ذات کے پر خچے اڑا دیئے۔ وہ تو خود کو دنیا ہی میں جنت میں پاتی تھی۔ دنیا کے دکھوں سے اس کا جیسے کوئی واسطہ ہی نہیں تھا۔۔ عمران نے اس کو ایسی پناہوں میں رکھا تھا کہ لگتا تھا کہ اس دنیا سے اچھی اور محفوظ جگہ اور کوئی نہیں۔

ایسی پرسکون زندگی میں اتنا بڑا تلاطم۔۔

وقت اس کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتا چلا گیا۔

"مما۔۔ پاپا ٹھیک ہو جائیں گے نا۔۔"

مہوش جس نے ہمیشہ باپ کے مضبوط مرد کے روپ میں دیکھا تھا اب بستر پر لاچار پڑا تھا۔

"ہاں۔۔ میری جان۔۔ بہت جلد۔۔"

عندلیب کا لہجہ امید سے خالی تھا۔ ڈاکٹرز جواب دے چکے تھے۔۔ عمران بس اپنے حصے کے درد جھیل رہا تھا۔

"وعدہ کرو۔۔ عندلیب وعدہ کرو۔۔ تم میرے بعد مہوش کا خیال رکھو گی۔۔ اس کی تعلیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کرو گی۔۔"

بستر مرگ پر پڑے عمران نے اس کا ہاتھ تھام کر امید بھری نظروں سے اس کو دیکھا۔

"وہ میری بھی بیٹی ہے۔۔ اکلوتی بیٹی۔۔ میں اس کا خیال نہیں رکھوں گی تو اور کون رکھے گا عمران۔۔"

عندلیب کی آنکھوں میں آ نسو تھے۔

"تم بہت سادہ ہو۔۔ بہت معصوم ہو اور یہ دنیا۔۔"

عمران کچھ کہتے کہتے رک گیا

"مجھے معاف کردینا۔۔ عندلیب۔۔ مجھے معاف کر دینا۔۔"

عمران رونے لگا اور عندلیب کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

***

ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ کینیڈا جیسے ملک میں جہاں ہاسپٹل جدید سہولیات و آلات سے لیس ہیں، عمران اپنی جان کی بازی ہار گیا۔

اس دن کے بعد سے عندلیب کو لگا جیسے اب اس دنیا میں کبھی سورج طلوع نہیں ہوگا۔۔ بس اندھیرا رہے گا۔۔ ایک سن کر دینے والی کیفیت کا شکار تھی۔ عمران کی خواہش تھی کہ اس کی میت پاکستان لے جائی جائے۔۔ عمران کے قریبی دوستوں نے سب انتظام کر دیا اور عندلیب۔۔ جسے چند سال پہلے عمران اپنی دلہن بنا کر لے گیا، اب اس کا جسد خاکی لے کر واپس آگئی۔

***

"پہلے ہی گھر میں جگہ کم ہے۔۔ ابھی آپ کے چھوٹے بھائی زوار کی شادی ہوگی۔۔ ایک کمرہ اس کے پاس چلا جائے گا۔۔ آپ عندلیب آپی کو کیوں پاکستان میں رکھنے کی ضد کر رہے ہیں۔۔"

بھابھی کی آواز عندلیب کے کانوں میں گئی تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دروازے کے پاس رک کر سننے لگی۔

"بے وجہ ضد نہیں کر رہا۔۔ عندلیب آپی ڈالرز کی مالک ہیں۔۔ عمران بھائی کی آمدنی بہت اچھی تھی۔۔ ہم کچھ عرصہ ان کو پیار محبت سے ساتھ رکھیں گے۔۔ جب وہ یہاں سیٹل ہو جائے گی تو میں ان کو راضی کروں گا کہ وہ اوپر اپنا پورشن بنوا لیں۔۔ ان کا ہمارے سوا کون ہے؟ ایک لڑکی ہے وہ بیاہی جائے گی۔۔ گھر تو ہمارے بچوں کے کام ہی آئے گا۔۔"

عندلیب مزید وہاں کھڑی نہ رہ سکی۔ یہ وہی بھائی تھا جو ہر وقت عندلیب کی دل جوئی کرتا رہتا تھا، وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس کی نظر محض پیسوں پر تھی۔

***

"بھابی۔۔ عمران بھائی کے اثاثے ہمارے علم میں ہونے چاہئے۔۔"

عدت ختم ہونے کے بعد وہ پہلی بار سسرال آئی تھی۔ شدت غم سے اس کا دل پھٹا جا رہا تھا ایسے میں جب اس کے دیور فہد نے عمران کے اثاثوں کے بارے میں بات شروع کی تو غم و غصے سے اس کا برا حال ہوگیا۔

"عمران کی ایک بیٹی موجود ہے۔۔ اس کی تعلیم۔۔ شادی بیاہ۔۔ اس سب کی فکر نہیں ہے تمہیں؟"

عمران کے والد نے ایک کڑی نظر عندلیب پر ڈالی اور کہا۔

"اسی کی فکر ہے ہمیں۔۔ ہم اس کو تمہارے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔۔ اسی لئے ہم تمہارے سامنے دو آپشنز رکھ رہے ہیں۔۔ پہلا آپشن یہ کہ تم ہمارے چھوٹے بیٹے فہد سے نکاح کر لو۔۔ دوسرا یہ تم عمران کے اثاثے میرے نام منتقل کردو۔۔"

سسر کی بات سن کر عندلیب حیران رہ گئی۔

"آپ۔۔ آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے؟"

"سب کچھ سوچنا پڑتا ہے۔۔ کل کلاں کو اگر تم نے کہیں اور شادی کرلی تو عمران کا سارا پیسہ کسی غیر کے پاس چلا جائے گا۔۔ ہم اپنی پوتی کا مستقبل محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔۔ امید ہے تم دو چار دن میں سوچ کر جواب دے دو گی۔۔ ہاں میں۔۔"

عندلیب کو اپنے سسر کے مہذب لفظوں کے اندر پوشیدہ دھمکی صاف نظر آ رہی تھی۔

خوف کی ایک لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسرا گئی۔ اس کو لگا جیسے یہ سب مل کر اس کو اور اس کی بیٹی کو جان سے مار دیں گے۔۔ اس نظر میں جرم کی وہ تمام خبریں دوڑ گئیں جو ایسے حالات میں رونما ہوتے ہیں اور اخباروں کی سرخی بنتے ہیں۔

اب اس کو سمجھ آ رہا تھا کہ عمران بستر مرگ پر مہوش کے بارے میں اتنا پریشان کیوں ہوتا تھا۔ کوئی قابل اعتبار نہیں رہا۔ ڈالرز کے لالچ کا زہر خونی رشتوں کو مار گیا۔ دنیا کا یہ روپ عندلیب نے پہلے کہاں دیکھا تھاوہ اب بھی خود فیصلہ کرنے سے قاصر تھی۔۔ مدد ڈھونڈ رہی تھی۔

***

"سلیم بھائی۔۔ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔۔ کیا ہم کہیں باہر مل سکتے ہیں۔۔ میں مہوش کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی۔۔"

اس نے اپنے تایا زاد بھائی کو فون کیا۔ سلیم بھائی اس کے کزنز میں سب سے بڑے تھے ان کی بڑی بیٹی عندلیب کی ہم عمر ہی تھی۔ کافی سمجھدار اور زیرک انسان تھے عندلیب بچپن میں ان سے کافی قریب رہی تھی اور اب بھی وہ ہی ایک ایسے انسان نظر آئے جن پر وہ بھروسہ کر سکتی تھی لہذا عندلیب نے ان سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اسی شام وہ ایک کافی شاپ میں بیٹھی ان کا انتظار کر رہی تھی مگر جب سلیم بھائی وہاں آئے تو وہ کچھ حیرت زدہ سی رہ گئی۔ خاصے شوخ رنگ کی شرٹ۔۔ خصاب سے سیاہ کئے بال اور تیز خوشبو والا پرفیوم۔۔

"میں خود تم سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔ مگر سوچ میں تھا کہ تم ناراض نہ ہو جاؤ۔۔"

سلیم بھائی نے آتے ہی بات شروع کردی۔

عندلیب کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی۔

"آپ۔۔ آپ کو کیا بات کرنی تھی؟"

سلیم بھائی نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور کہا

"بات تو بہت دن سے دل میں تھی۔۔ تم جانتی ہو فضیلہ کے انتقال کے بعد سے میں تنہا ہی زندگی گزار رہا ہوں۔۔ مگر اب یہ تنہائی۔۔ میں۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔"

"سس۔۔ سلیم بھائی۔۔"

عندلیب کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا

"میں۔۔ میں آپ کی بیٹی کی ہم عمر ہوں۔۔"

سلیم کچھ چڑ سا گیا

"کم عمر ہو تو کیا ہوا۔۔ ہو تو بیوہ۔۔ ایک لڑکی کی ماں۔۔"

عندلیب پر وحشت سوار ہوگئی اس نے جھپٹ کر اپنا پرس اٹھایا اور وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔

***

کیا بیوہ ہونا میرا جرم ہے؟

عندلیب ساری رات روتی رہی۔ اسے لگا اب وہ زندگی بھر کسی پر بھروسہ نہیں کر سکے گی۔ یہاں ہر طرف شکاری گھات لگائے بیٹھے تھے۔ اسے خود سے زیادہ مہوش کی فکر تھی۔ اس ماحو ل میں اس کا ذہن کس طرح اپنی تعلیم اور کرئیر پر لگےگا۔

"کہیں۔۔ یہ شکاری۔۔ میری بچی کے پیچھے لگ گئے تو۔۔"

سوچ کر ہی عندلیب کی روح لرز اٹھی۔

جب سگے رشتے دشمن ہو جائیں تو مخلص دوست کام آتے ہیں۔ عندلیب نے کینیڈا میں اپنی سہیلی سامعہ سے بات کی اور ساری صورت حال اس کی گوش گزار کر دی۔

"عندلیب۔۔ تمہارا فیصلہ بالکل صحیح ہے۔۔ میں آن لائن ٹکٹ بک کروا رہی ہوں۔۔ کسی سے ذکر نہ کرنا۔۔ خاموشی سے نکلنا۔۔"

عندلیب نے آدھی عمر کا سفر چند ماہ میں پورا کر لیا تھا۔ رشتوں کی سفاکی سے بچنے کا بس یہ ہی ایک راستہ تھا۔۔ کینیڈا واپسی۔۔

زندگی پھر سے شروع کرنی تھی۔۔

مہوش کے لئے۔۔

Check Also

Batin Ki Bedari Aur Khuda Shanasi

By Asif Masood