Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Badnami

Badnami

بد نامی

"زویان آئی سی یو میں ہے۔۔"

"فرحانہ کے بیٹے کا ایکسڈینٹ ہوگیا ہے۔۔"

جس نے سنا دل تھام لیا۔

ایسا زندگی سے بھر پور لڑکا

بلند عزائم۔۔ اونچے خواب۔۔

وہ تو اٹلی میں سپر اسٹور بنانے کے خواب دیکھتا تھا۔۔

"فرحانہ کا شوہر بھی نہیں آیا اب تک۔۔"

بھلا ایسا کیا ہوا کہ جس کا وہ سامنا نہ کرنا چاہتا؟

"ہائے۔۔ بے چاری۔۔ تنہا سب جھیل رہی ہے۔۔"

"سنا ہے اسکول سے بھاگ رہا تھا۔۔ کوئی تصویروں اور ویڈیو کا چکر تھا۔۔"

"سائبر کرائم کے بندے آئے تھے۔۔"

"لو بھلا لڑکوں کو تصویروں کا کیا ڈر۔۔ وہ تو لڑکیاں ہوتی ہیں جن کو تصویروں سے بلیک میل کیا جاتا ہے۔۔"

"کچھ اور ہی بات ہوگی۔۔"

جتنے منہ اتنی باتیں۔۔

بات واقعی کچھ اور ہی تھی

***

فرحانہ پتھرائی ہوئی مورتی بنی بیٹھی تھی۔ اسپتال کے چمکتے سرد فرش کو گھور رہی تھی۔

اس کا سر آخری حد تک جھکا ہوا تھا۔ تھوڑی ہنسلی کی ہڈی کو چھو رہی تھی۔ دوپٹہ منہ کے چاروں طرف لٹکایا ہوا تھا۔ اس نے اپنا چہرہ چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔

جوان بیٹے کی موت و زندگی کی کشمکش نے اس کی ساری توانائی نچوڑ لی تھی۔۔ مگر جوان بیٹے کی زندگی و موت سے بھی بڑی پریشانی اب بھی اس کی زندگی میں موجود تھی۔

"بی بی۔۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔۔ مگر ایسے معاملات میں بڑا ٹائم لگتا ہے۔۔ ہمیں آپ کی پریشانی اور دکھ کا اندازہ ہے۔۔ مگر آپ تھوڑا تعاون کریں۔۔"

سائبر کرائم کے افسر نے فرحانہ سے بات کرتے ہوئے اپنے لہجے کو نرم کرنے کی کوشش کی مگر اگلے ہی لمحے لیڈی پولیس سے اپنے مخصوص کرخت لہجے میں کہا

"شیدن۔۔ تو بات کر بی بی کے ساتھ۔۔ میں باہر کھڑا ہوں۔۔"

بات کرنے کے خیال ہی سے فرحانہ کا کلیجہ ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔ وہ خود کو غیر محفوظ اور ہراساں محسوس کر رہی تھی۔

"ہاں بی بی۔۔ بولو۔۔ سچ بولنا۔۔ کب سے شروع کیا یہ کام۔۔"

شیدن نے فرحانہ کی طرف مڑتے ہوئے خالص پولیسانہ انداز میں کہا

"کک۔۔ کون سا کام۔۔" فرحانہ برا فروختہ ہو کر بولی

"او بی بی۔۔ یہ ویڈیوز بنانے کا کام۔۔"

شیدن نے بےزاری سے کہا فرحانہ کا گلا خشک ہوگیا۔

"میں۔۔ میں نے اور میرے شوہر نے صرف۔۔ چند ویڈیوز بنائی۔۔ تھیں۔۔"

فرحانہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ بات کو کہاں سے شروع کرے۔

"کیوں بنائی تھیں؟"

شیدن بسکٹ کی پلیٹ ہاتھ میں اٹھا چکی تھی۔

"اصل۔۔ میں۔۔ وہ وہاں تنہا ہوتے ہیں۔۔ تو۔۔ آپ تو جانتی ہیں۔۔ مرد کی جسمانی ضروریات۔۔ وہ جب آتے تھے۔۔ تو۔۔ ہمارے۔۔ خاص وقت کی ویڈیوز بنا لیتے تھے۔۔"

فرحانہ ایسے ہانپنے لگی جیسے بڑی دور سے بھاگتی ہوئی آ رہی ہے۔ اس میں مزید بولنے کی ہمت نہ رہی۔

"پھر؟"

شیدن اب نمکو پر ہاتھ صاف کر رہی تھی

"وہ۔۔ وہ چاہتے تھے۔۔ کہ میں۔۔ یہاں سے انھیں اپنی ویڈیوز۔۔ خاص ویڈیوز۔۔ بنا کر بھیجوں۔۔"

فرحانہ کی آواز مزید دب گئی "اور تم بھیجتی تھیں۔۔"

شیدن نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا

"وہ میرے شوہر ہیں۔۔ اگر میں ان کی بات نہیں مانتی تھی تو وہ ناراض ہو جاتے تھے۔۔ کئی کئی دن بات نہیں کرتے تھے۔۔"

فرحانہ کو غصہ آگیا۔

***

"نہیں۔۔ نہیں۔۔ پاگل ہو گئے ہو۔۔ ہرگز نہیں۔۔"

فرحانہ پانچ سالہ شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد بھی اتنی بے باک نہ ہو سکی جتنی اس کا شوہر ضمیر چاہتا تھا۔

"تمہیں کیا پتہ۔۔ میرا کیا حال ہوتا ہے۔۔ تم تو وہاں بچوں میں گھر میں مگن ہو۔۔ تنہا تو میں ہوں۔۔ مگر تمہیں کیا مطلب۔۔"

ضمیر نے ناراض ہو کرکہا

فرحانہ کو افسوس ہونے لگا۔ مگر ضمیر کی فرمائشیں پوری کرنا اس کے لئے دن بدن مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

"واپس آ جاؤ۔۔ اپنے وطن میں کوئی کاروبار کر لو۔۔ میں بھی تمہارے بغیر نہیں رہنا چاہتی۔۔"

اس نے آہستگی سے کہا مگر ضمیر کو نہ جانے کیوں بہت غصہ آگیا۔

"واپس آ جاؤں؟ اتنے سال کی محنت پر پانی پھیر دوں؟ مگر تم میری ذرا سی بات نہ ماننا۔۔"

اس نے فون ہی بند کر دیا۔ فرحانہ کے پاس کوئی راستہ نہ بچا۔

وہ جانتی تھی کہ ضمیر اس سے بہت محبت کرتا ہے، شادی کے شروع شروع دنوں میں وہ اس کی بے تابیوں پر الجھ سی جاتی تھی۔

"ضمیر۔۔ اب تو میں زندگی بھر کے لئے تمہاری ہو چکی ہوں۔۔ پھر ہر وقت اتنے جذبات میں رہنے کی کیا ضرورت ہے؟"

"یہ ہی تو ستم ڈھایا ہے قدرت نے۔۔ تمہیں میرا کر دیا اور مجھے کہیں اور بھیج دیا۔۔ چند دن کی بات ہے۔۔ پھر میں چلا جاؤں گا۔۔ مہینوں تک تمہارے قرب کے لئے ترسوں گا۔۔ ابھی مجھے مت روکو۔۔ کچھ مت کہو۔۔"

پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔ شادی کے پندرہ سال انھوں نے ایک دوسرے کے قرب کو ترستے ہوئے گزار دئیے۔ ضمیر سال میں ایک چکر ہی لگاتا تھا وہ چند ہفتوں کے لئے۔۔ یہ وقت ضمیر کے لئے ناکافی تھا۔ واپس جا کر وہ کئی ہفتوں ڈسٹرب رہتا۔ مگر وہ واپس بھی تو نہیں آنا چاہتا تھا۔

"چند سال اور۔۔ بس چند سال اور۔۔ میں یہاں اپنا اسٹور کھولنے کی پرمیشن حاصل کر لوں گا۔۔ بس پھر میں تمہیں یہاں بلوا لوں گا۔۔"

مگر وہ چند سال پہاڑ بن گئے۔۔ کٹے ہی نہیں۔

***

"ممی۔۔ ہم اٹلی کب وہاں جائیں گے؟"

زویان ان کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ ان کی تمام تر امیدوں کا مرکز۔ اس کو بڑھتے۔۔ قد نکالتے دیکھ کر فرحانہ کا سیروں خون بڑھتا تھا۔ جوں جوں وہ بڑا ہو رہا تھا اس کے خواب بھی بڑے ہو رہے تھے۔

"میں بزنس مینجمنٹ کی ڈگری لوں گا اور اپنے پاپا کا کاروبار سنبھالوں گا۔۔ ایک دن پوری دنیا میں ہمارے اسٹور کے آوٹ لٹس ہوں گے۔۔ میں انٹر نیشنل لیول کا برانڈ بناؤں گا۔۔"

وہ ابھی میٹرک میں تھا مگر اس کے خواب بہت بلند تھے۔ فرحانہ اور ضمیر اس کی باتیں سن کر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔

"میرا بیٹا ہے۔۔ میرا۔۔ محنتی اور لگن کا پکا۔۔"

ضمیر فخر سے کہتا تھا۔

***

"پھر؟ آگے بولو۔۔"

شیدن کو فرحانہ کے آنسوؤں سے کوئی مطلب نہ تھا۔

"پھر میرے موبائل میں کچھ خرابی ہوگئی۔۔ اس کے اسپیکر خراب ہو گئے۔۔ میں نے ساری ویڈیوز تصاویر ڈیلیٹ کرکے موبائل شاپ پر دے دیا۔۔"

"کس شاپ پر دیا۔۔ پتہ بتاؤ۔۔"

فرحانہ کے پاس شاپ کا کارڈ اب تک پڑا تھا۔

"میں۔۔ شاپ کا کارڈ ڈھونڈ کر دے دوں گی۔۔"

میز پر بسکٹ نمکو اور چائے سب ختم ہو چکے تھے۔ شیدن نے بھی اٹھ جانا منا سب سمجھا۔

"چلو۔۔ بی بی۔۔ تم کارڈ ڈھونڈو۔۔ جب تک ہم بھی اپنا کام کر رہے ہیں۔۔"

فرحانہ نے پہلی بار گردن اٹھائی۔

"وہ۔۔ وہ سب۔۔ ختم تو ہو جائے گانا؟"

فرحانہ بڑی امید سے شیدن کو دیکھ رہی تھی۔ مگر شیدن کی طنزیہ مسکراہٹ نے اس کو شرمندہ کر دیا۔

***

کلاس میں داخل ہوتے ہی زویان کو اندازہ ہوگیا کہ کچھ ہوا ہے۔

مگر کیا؟

ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

کچھ کی مسکراہٹ طنزیہ تھی، کچھ کی جھینپی جھینپی سی اور کچھ کی للکارنے والی۔

"کیا ہوا؟"

زویان نے اپنے دوست رافع سے اشارے میں پوچھا

مگر رافع نظر چرا گیا اسی اثناء میں سر کلاس میں آگئے اور سب کا دھیان ان کی طرف ہوگیا۔ مگر صاف ظاہر تھا کہ کلاس مجموعی طور پر غیر حاضر دماغی کے عالم میں بیٹھی ہے۔

"کیا ہوگیا ہے آج؟ سب کیوں ایسے ہیں جیسے سو رہے ہیں؟"

سر نے بھی سرزنش کی مگر کلاس کا دھیان تو کہیں اور ہی تھا۔

زویان کی حیرت بڑھتی جار ہی تھی۔

کلاس ختم ہوتے ہی سب ایسے نکل کر بھاگے جیسے کلاس میں بھوت آ گیا ہو۔ زویان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔

"رافع۔۔ رافع۔۔ یار کیا ہوگیا ہے؟"

زویان رافع کے پیچھے بھاگا مگر رافع تیزی سے بائک چلاتا ہوا نظروں سے دور چلا گیا۔

"عجیب لوگ ہیں۔۔ پاگل سارے۔۔"

زویان کو غصہ آنے لگا۔

***

"ضمیر۔۔ یہ۔۔ یہ سب کچھ ہوگیا۔۔ تم۔۔ تم وہیں بیٹھے رہے۔۔ میں اکیلی یہ سب جھیل رہی ہوں۔۔ کیوں۔۔ کیوں ہوا؟"

غم و غصہ سے اس کا برا حال تھا۔

"مجھے معاف کردو۔۔ فرحانہ۔۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں۔۔ بس کل اگر چھٹی نہ ملی تو سب کچھ چھوڑکر آ جاؤں گا۔۔ مجھے معاف کرود۔۔ ایک دن اور دے دو۔۔"

فرحانہ کا خون کھول اٹھا۔۔ اس کو کسی پل چین نہ تھا۔ زویان کی یاد اس کی روح کا ناسور بن گئی تھی۔

"اب بھی تمہیں اپنی جاب کی فکر ہے۔۔ میرا جوان بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔۔ مرنا تو تمہیں چاہئے تھا۔۔ ڈوب مرنا چاہئے تھا۔۔ مجھے مرنا چاہئے تھا۔۔ مگر ہم کتنے بے غیرت ہیں۔۔ اب تک زندہ ہیں۔۔"

وہ رو رو کر خود کو کوس رہی تھی۔ ضمیر کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔ موبائل نجانے کب ہاتھ سے چھوٹ کر گر چکا تھا اور وہ ٹھنڈے فرش پر گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھا زار زار رو رہا تھا۔

فرحانہ موبائل پھینک کر دیوانہ وار اٹھی۔ زویان کے کمرے کی طرف بھاگی۔ وہ پاگلوں کی طرح اس کی کپڑوں کتابوں کو چوم رہی تھی۔ اس کے تکیے چادر کو سینے سے لگا رہی تھی۔

"آپی۔۔ آپی۔۔ خود کو سنبھالیں۔۔"

فرحانی کی چھوٹی بہن رضوانہ اس کو تھامنے کی کوشش کرتی رہی مگر فرحانہ آج کسی طور نہیں سنبھل رہی تھی اس کی چیخوں نے آسمان ہلا دیا تھا۔

"یا اللہ۔۔ یا اللہ مجھے معاف کر دے۔۔ یا اللہ میرا بچہ تو معصوم ہے۔۔ اس کی کوئی خطا نہیں۔۔ اصل گناہ گار تو میں ہوں۔۔"

***

کلاس کے لڑکوں کا رویہ عجیب سے عجیب تر ہوتا جا رہا تھا۔ گراؤنڈ میں، کینٹین میں، کلاس میں ہر جگہ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ زویان کو دیکھتے ہی مسکراہٹیں اور اشارے شروع ہو جاتے۔ زویان کا غصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔

آج بھی یہ ہی ہوا۔ پیچھے بیٹھا نواز مسلسل ہنس رہا تھا۔ زویان کو اس کی ہنسی سے چڑ ہو رہی تھی۔

وہ اچانک مڑا اور نواز کی طرف غصے سے دیکھ کر بولا

"کیا مسئلہ ہے۔۔ بولو۔۔ کیا مسئلہ ہے۔۔ کیوں ہنس رہے ہو؟"

نواز کسی وڈیرے کا بیٹا تھا اس کی بھی اپنی ہی الگ اکڑ تھی۔

"کیوں بابا۔۔ ہنسنے پر پابندی ہے۔۔ میرا منہ۔۔ میری مرضی۔۔ ہنسوؤں یا روؤں۔۔"

زویان کو نجانے کیا ہوا اس نے اچانک ہی نواز کے منہ پر مکا جڑ دیا۔ نواز کرسی سمیت پیچھے پلٹ گیا۔ مکا کافی اچانک اور زوردار تھا اس کا منہ خون سے بھر گیا۔ وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہوگیا۔ اساتذہ نے بمشکل انھیں الگ کیا۔ پرنسپل تک کلاس میں آ گئے۔ عدالت سی لگ گئی۔

"یہ کیا غنڈہ گردی ہے؟"

پرنسپل کا غصہ سب کی بولتی بند کر گیا۔

"یہ کلاس ہے یا میدان جنگ۔۔ کیوں ہوا یہ سب؟"

نواز اپنا زخمی منہ لئے سامنے آیا۔

"سر میں تو آرام سے بیٹھا تھا۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔۔ اس۔۔ اس زویان نے مجھے مکا مارا۔۔"

زویان بھی آگے آگیا۔

"یہ۔۔ سر یہ۔۔ مجھ پر ہنس رہا تھا۔۔"

"کس بات پر؟"

پرنسپل نے پوچھا

یہ ہی سوال زویان کو پریشان کر رہا تھا اور اس سوال کا جواب اگلے دن مل گیا۔

"یہ کس قسم کی فیملیز کے بچے آپ کے اسکول میں پڑھ رہے ہیں سائیں؟"

نواز کا وڈیرا باپ آفس میں بیٹھا تھا۔ زویان مجرموں کی طرح پرنسپل کی کرسی کے قریب کھڑا تھا اور نواز اپنے باپ کے پاس بیٹھا کینہ توز نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ نواز کے باپ نے اپنا موبائل پرنسپل کے سامنے رکھ دیا۔

"جس کی ماں پورن وڈیوز بناتی ہے۔۔"

زویان کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا مگر آنکھوں دیکھا کیسے جھٹلاتا۔۔ اس کی ماں۔۔ اس کی جنت۔۔ اس کی غیرت۔۔ وڈیرے کے موبائل کی اسکرین پر بڑی ناگفتہ بہ حالت میں نظرآ رہی تھی۔

پرنسپل نے جلدی سے موبائل کو پلٹ کر رکھ دیا اور زویان کی زندگی کا شیرازہ بھی پلٹ گیا۔ وہ آفس سے نکل کر بھاگا۔ اسکول گیٹ پر چوکیدار نے اس کو روکنے کی کوشش کی مگر زویان اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔ وہ بے حد تیز رفتاری سے بائک دوڑاتا میں روڈ تک پہنچ چکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شدید جلن تھی کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور جو نظر آرہا تھا وہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ بار بار آنکھیں بند کرتا کھولتا۔ نجانے کہاں سے ٹرک سامنے آ گیا بے قابو موٹر سائیکل پوری رفتار سے ٹرک میں جا گھسی۔

***

فرحانہ اپنے فون پر دیوانہ وار چلا رہی تھی۔

"کیا ہوا؟ زویان کو کیا ہوا؟ کون سے اسپتال میں؟"

وہ چیختی ہوئی پڑوس میں مدد مانگنے بھاگی۔ اس کو نہیں معلوم کہ وہ کیسے اسپتال پہنچی۔ ہر لمحہ قیامت تھا۔

"زویان۔۔ زویان۔۔ کہاں ہے میرا بیٹا۔۔"

وہ دیوانوں کی طرح اسپتال کے کاریڈور میں بھاگ رہی تھی۔ جب خون آلود پٹیوں میں جکڑا زویان اس کے سامنے آیا تو وہ فرحانہ کی روح فنا ہوگئی۔

اسپتال میں زویان کے اسکول کے پرنسپل اور کچھ اساتذہ موجود تھے۔ فرحانہ نے پرنسپل کا گریبان پکڑ لیا۔

"کیسے۔۔ بچے آپ کے اسکول سے نکل کیسے گیا۔۔ جواب دیں۔۔"

وہ پرنسپل پر چیخ رہی تھی تب ہی سائبر کرائم کی ایک لیڈی انسپکٹر نے اس کو جھٹکے سے ہٹایا۔

"بی بی۔۔ پورن ویڈیو آپ بنائیں اور آپ کے بچے کی حفاظت اسکول کرے۔۔ واہ جی واہ۔۔"

پورن ویڈیوز کا نام سن کر فرحانہ کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے وہ تیورا کر زمین پر گر گئی۔

***

ضمیر دو دن بعد پاکستان آیا فرحانہ دو دن تک تنہا پولیس کے سوالوں کے جواب دیتی رہی۔ زویان کی حالت اب خطرے سے باہر تھی مگر وہ اب بھی آئی سی یو ہی میں تھا۔

"ضمیر۔۔ اب کیا ہوگا۔۔ ہم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہے۔۔ ہم تو اپنے بچے کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہے۔۔"

دونوں ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر زار زار روئے۔

"ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔ بس زویان کی حالت بہتر ہو جائے۔۔ میں نے تم دونوں کے کاغذات بنو کر لایا ہوں۔۔ گھر کم قیمت میں بیچ دوں گا۔۔"

***

"بی بی۔۔ بندہ تو پکڑا گیا ہے۔۔ جس نے آپ کے موبائل کی ویڈیوز وائرل کیں ہیں۔۔"

پولیس نے فرحانہ کو بتایا مگر اس بندے کے پکڑے جانے سے فرحانہ کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

"اب وہ سب۔۔ انٹرنیٹ سے ڈیلیٹ۔۔ ہو جائے گا نا۔۔"

فرحانہ نے پوچھا

"دیکھیں۔۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔۔ ایسی چیزوں کو کنٹرول کرنا۔۔ ناممکن ہی ہے۔۔ ہم کوئی دو چار سائٹس بلاک کروا دیں گے۔۔ لاکھوں کروڑوں ویب سائٹس ہیں اور خود اس شہر بھر کے موبائلز تو ہم چیک نہیں کر سکتے نا۔۔ نجانے کس کس کے موبائل میں کیا کیا موجود ہوگا۔۔ آپ نے شاپ پر موبائل دے کر بہت بڑی غلطی کی۔۔ ڈیلیٹ ڈیٹا ریکور کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔۔ جس بندے کو ہم نے پکڑا ہے اس نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ پورن ویب سائٹس کو مواد فراہم کیا کرتا تھا۔۔ نجانے کس کس کو دیا ہوگا اس نے"۔

انسپکٹر نے بے بسی سے کہا، فرحانہ کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا۔

"اب بس ایک ہی حل ہے۔۔ آپ یہاں سے چلی جائیں۔۔ اٹلی اپنے شوہر کے پاس۔۔ تھوڑا اپنا حلیہ بدل لیں۔۔ بالوں کا کلر وغیرہ۔۔ باقی اللہ مالک ہے۔۔"

انسپکٹر کب کا جا چکا تھا مگر اس کے کانوں کی بازگشت ختم نہیں ہو رہی تھی۔

"نجانے کس کس کے موبائل میں وہ سب کچھ اب بھی موجود ہوگا۔۔ شہر بھر میں لاکھوں موبائلز ہیں۔۔ ہم کس کس کا موبائل چیک کریں گے؟"

ضمیر بھی سر جھکائے بیٹھا رہا۔ وہ پردیس میں تنہا رہنے کا عذاب نہیں جھیل پا رہا تھا اور مادہ پرستی واپسی کی راہ روکے کھڑی تھی اور اب یہ ذلت رسوائی زندگی بھر کی ساتھی بن گئی تھی۔ جس رشتے کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا تھا اس رشتے نے ان کو دنیا کے سامنے بے لباس کر دیا تھا۔۔

ضمیر اگلے دن کی روانگی کے لئے سوٹ کیسز ایک جگہ رکھ رہا تھا اور فرحانہ سوچ رہی تھی کہ ہم دنیا کی نظروں سے تو بچ جائیں گے۔۔ خود کو چھپا لیں گے مگر اپنے ہی بیٹے کی نظروں سے چھپ کر کہاں جائیں گے۔ زندگی بھر زویان سے نظر نہیں ملا پائیں گے۔

Check Also

Aabna e Hormuz: Taqat, Tijarat Aur Kasheedgi Ka Sangam

By Noorul Ain Muhammad