Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Ankaboot

Ankaboot

عنکبوت

"بھائی۔۔ مت جاؤ۔۔"

علینہ واجد کے شانے پر سر رکھ کر رو دی۔ کمرے میں موجود ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ماں نے چاہا آگے بڑھ کر علینہ کو واجد کے قریب سے ہٹا دے اور ڈانٹ بھی پلائے کہ چلتے وقت کیوں پریشان کر رہی ہو۔۔ مگر خود اس کے قدم منجمد تھے اور گلا آنسووں سے جکڑا ہوا تھا۔ باپ نے شفقت سے علینہ کو پکارنا، تسلی دینا چاہا مگر آواز بھرا جانے کے ڈر سے چپ رہا۔ مرد ہونے کا بھرم بھی تو رکھنا تھا۔ خود واجد کا دل بوجھل تھا۔ شانے پر لٹکا بیگ نجانے کیوں اتنا وزنی ہوگیا تھا۔

"اب مجھے اسکول چھوڑنے کون جائے گا؟"

علینہ نے سسکی بھر کر کہا اور آنسووں سے بھر کمرہ قہقہوں سے بھر گیا۔ واجد نے علینہ کی چٹیا پکڑ کر اس کا سر اونچا کیا اور کہا

"چڑیل۔۔ تجھے میرے جانے کا غم ہے یا اسکول جانے کی فکر۔۔"

علینہ اور شدت سے رونے لگی۔

کیسی شان سے اپنے گبھرو بھائی کے ساتھ بائک پر جاتی تھی جب کہ اس کی باقی سہلیاں پیدل مارچ کرتی تھیں۔ واجد کے ساتھ علینہ کی محبت بچپن سے ہی بہت پختہ تھی۔ وہ گھر کا سب سے بڑا بیٹا اور یہ گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی۔ باپ کی سی شفقت تو آنا ہی تھی۔ واجد نے آس پاس موجود اپنی عمر کے عام لڑکوں کی طرح کبھی اپنی بہنوں کو خود سے کم تر یا اپنے لئے کسی شرمندگی کا سبب نہیں سمجھا۔ وہ بہت شوق اور ذمہ داری سے علینہ کے کام کر دیا کرتا تھا۔ علینہ کی آنکھ میں آنسو دیکھنا اس کے لئے سب سے بڑی آزمائش تھی اور اب اسی بہن کو روتا چھوڑ کر دور دیس جانے کا کھڑا تھا۔

***

مڈل کلاس کا سب سے بڑا بیٹا ہونا بھی کٹھن آزمائش ہے۔ ان بے چاروں کی ذرا مسیں بھیگی نہیں کہ ماں باپ کی امید بھری نظروں کا مرکز بن جاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ایک ہی بات ان کے کان میں انڈیلی جاتی۔۔ بڑے بھائی ہو تم۔۔ تم نہیں کرو گے تو کون کرے گا۔۔ ان کا بچپن اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کب گزر گیا اور کب وہ گھر کے ذمہ دار بن گئے۔ واجد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ بچپن ہی میں اسے گھر کا بڑا بنا دیا گیا اور اس نے بھی ذمہ داری بخوبی اٹھانے کی ٹھان لی۔

"نہیں۔۔ یار۔۔ ایسے رو رو کر نہیں جینا۔۔ بہت بڑے خواب ہیں میرے۔۔ امی کو ہر وہ سکھ دینا ہے جس کا انھوں نے خواب دیکھا ہے۔۔ ابو کا بوجھ اٹھانا ہے۔۔ بہنوں کی خوب دھوم دھام سے شادی کرنی ہے۔۔ چھوٹے بھائی کو خوب پڑھانا ہے۔۔"

وہ جب بھی اپنے دوستوں سے مستقبل کے منصوبوں کی باتیں کرتا، خود اس کی ذات اس سارے منظر نامہ میں کہیں نہیں ہوتی تھی۔

"مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔ محنت ہی کرنی ہے تو ایسی جگہ جا کر کرو جہاں اس محنت کا اچھا صلہ ملے۔۔ یہاں تو جو ملے گا سسک سسک کر ہی ملے گا"۔

اس کی لگن سچی تھی۔ رشتوں سے محبت اور خلوص کی غیبی مدد ساتھ تھی۔ اس نے ایک دوست کی توسط سے امریکہ میں ایک جاب کے لئے اپلائی کیا اور منتخب بھی ہوگیا۔

"امی۔۔ امی۔۔"

وہ خوشی سے چیختا ہوا گھر میں داخل ہوا۔

"ارے کیا ہوا۔۔ خدا خیر کرے۔۔"

امی کا دل دہل گیا۔

"امی اللہ نے میری سن لی۔۔ امی میں امریکہ جا رہا ہوں۔۔"

گھر میں خوشی نور بن کر چھا گئی۔ چہرے دمک اٹھے۔ آنکھیں خوابوں سے بوجھل ہوگئیں۔ ماں کے چہرے پر جوانی سی لوٹ آئی اور باپ کے جھکتے شانے پھر سے سیدھے ہو گئے۔ ان سب میں ایک واحد علینہ تھی جس کا دل بھائی کی جدائی کے غم سے نم ناک تھا۔

***

"بیٹا تمہاری آپا کی شادی کی تاریخ رکھ دی ہے۔۔"

واجد کا دل ماں کی آواز سن کر ہی شاد ہوجاتا تھا۔

"اگر ہو سکے تو کچھ اضافی پیسے۔۔"

ماں کہتے کہتے رک گئی نہ جانے کیوں واجد نے لمحہ بھر پہلے سوچا تھا کہ ماں اس سے گھر آنے کے لئے کہے گی۔ مگر گھر پر تو سب کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ کئی سال تنہائی کے اس سرد صحرا میں زندگی گزار رہا تھا۔ سب سے دور۔۔ سب سے تنہا۔۔ گھر کی خوشیاں اس تک تصویروں اور ویڈیوز کی شکل میں ہی پہنچتی تھیں اور اس کی شرکت بھی ویڈیو کال کی صورت میں ہوتی تھی۔

آپا کی شادی گھر کی پہلی شادی تھی۔۔ پہلی خوشی۔۔

"بیٹا ایسا انتظام کیا ہے کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔۔ جہیز، زیور، سلامی۔۔ سب بہت اعلی۔۔ کھانا تو اتنا بہترین تھا کہ ہر کسی نے تعریف کی۔۔"

باپ کا خوشی سے بھرا لہجہ اس کے کانوں میں رس سا کھول دیتا مگر دہن اس کھانے کے ذائقے کو محسوس کرنے کی چاہ میں خشک سا ہو جاتا۔

ابتدائی چند سال رابطوں میں جو گرم جوشی تھی وہ رفتہ رفتہ کم ہوتی گئی۔ مختلف ٹائم زون میں رہنے کی وجہ سے دوری بڑھتی گئی۔ گھر میں خوش حالی آ گئی مگر وہ دیار غیر میں اسی ایک کمرے کا مقیم رہا۔

"بیٹا۔۔ تمہارے تایا کی بیٹی کی شادی پر سب سے بھاری تحفہ ہم نے ہی دیا تھا۔۔ ڈبل ڈور کا فرج۔۔ سارے خاندان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں۔۔ کل تک جو لوگ سلام نہیں کرتے تھے، آج پاس آ کرخیریت پوچھ رہے تھے۔۔ سب کچھ تمہاری بدولت ہے۔۔"

ماں کی آواز کی خوشی کئی دن تک اس کو شاد رکھتی تھی۔

"امی میں یہاں آپ لوگوں کی وجہ سے ہی آیا ہوں۔۔"

پہلی کمائی بھیجنے سے لے کر آج تک واجد نے خود اپنے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ ہاں گھر کی یاد بہت ستاتی تھی۔ سخت سردی میں سارا دن محنت کرنے کے بعد جب ٹوٹا ہوا جسم بستر پر گرتا تھا تو گھر کا خیال بند آنکھوں میں رینگنے لگتا تھا۔ مگر جب بھی وہ وطن چکر لگانے کا سوچتا کوئی نہ کوئی اضافی خرچہ اس کی بچت کھا جاتا۔ کبھی گھر بنوانا ہے تو کبھی گاڑی لینی ہے کبھی چھوٹے بھائی کی فیس دینی ہے اور اب آپا کی شادی کا معاملہ۔ اس کی ذات کہیں تھی ہی نہیں۔ بس ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں تھیں۔ وہ کبھی واپس ج ہی نہیں سکا۔

نہ جانے کب اور کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ماں باپ بھی خود غرض ہو جاتے ہیں۔ کسی ایک بچے کی قربانی دے کر وہ اپنے باقی بچوں کے لئے اچھی زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور قربانی کے چبوترے پر لیٹا ان کا بڑا بیٹا امید بھری نظروں سے دیکھتا رہ جاتا ہے مگر اس کے حصے میں شکریہ اور تعریف ہی آتے ہیں۔۔ حقیقی خوشیاں تو دوسرے بچوں کو مل جاتی ہیں۔ یاروں کی شادیاں ہوئیں۔ کزنز کی شادیاں ہوئی۔ نانی کا انتقال ہوا۔ وہ بس دور بیٹھا دیکھتا رہا۔۔ خود ہی ہنس دیا اور خود ہی رو لیا۔۔

"یار ایسا نہیں ہوتا۔۔ تُو ایسا گیا کہ لوٹا ہی نہیں۔۔ سارم کی شادی میں سب نے اتنا انجوائے کیا۔۔ تجھے بہت مس کیا۔۔"

یار دوست بھی چند سال تو رابطے میں رہے پھر رفتہ رفتہ سب اپنے اپنے گھر بساکر مگن ہو گئے اور وہ بڑا بھائی بنا رہا۔

***

"امی۔۔ علینہ اتنی بڑی ہوگئی۔۔ اس کی شادی کا ٹائم آ گیا۔۔ ابھی کچھ دن پہلے تک تو وہ اسکول جایا کرتی تھی"۔

وہ حیران رہ گیا۔ حالاں کہ ویڈیو کال پر بات ہو جاتی تھی مگر وہ علینہ کو پدرانہ شفقت کی آنکھ سے دیکھتا رہا، اس کو وہ اب تک وہی چھوٹی سی علینہ نظر آتی تھی مگر آج امی نے اس کی شادی کی اطلاع دے کر اس کو حیران کر دیا تھا۔

"کچھ دن پہلے نہیں۔۔ دس سال پہلے اسکول جاتی تھی۔۔ جب تم یہاں سے گئے تھے۔۔"

ماں ہنس دی۔

"بیٹا واجد۔۔ مجھے معلوم ہے۔۔ ہم نے تم پر بہت بوجھ ڈالا ہے۔۔ یہ بس آخری کام ہے۔۔"

ماں کا ملتجانہ لہجہ واجد کو شرمندہ کر گیا۔

"امی۔۔ کیسی باتیں کر ہی ہیں۔۔ بوجھ کیسا۔۔ میں نے تو اپنا فرض سمجھا ہے۔۔ بڑا بیٹا ہوں میں۔۔"

نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں تھکن اتر آئی تھی۔۔ دس سال۔۔ اتنا لمبا عرصہ۔۔ تنہا گزار دیا۔۔ تھکن رگ رگ میں اتر چکی تھی۔ بالوں میں چاندی آ گئی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں پکا تہیہ کر لیا۔

"ہاں۔۔ علینہ کی شادی آخری کام ہے۔۔ میں نے اپنی ہر ذمہ داری پوری کر دی ہے۔۔ اب میں وطن واپس جاوں گا۔۔ اپنی ننھی سی بہن کی شادی میں ضرور شریک ہوں گا۔۔"

"بھائی۔۔ مجھے شہر کے سب سے مہنگے ڈزائنر سے سوٹ ڈئزائن کروانا ہے۔۔"

علینہ نروٹھے لہجے میں کہتی تو وہ ہنس دیتا۔

"ہاں بھئی ہاں۔۔ آخر واجد کی بہن کی شادی ہے۔۔ کوئی معمولی بات ہے کیا؟ ذرا خاندان والوں کو بھی تو پتہ چلے کہ شادی کیسے کی جاتی ہے"

پیچھے سے باپ کی آواز آتی۔

"امی۔۔ جو یہ کہے اس کو دلوادیں۔۔"

واجد نے پورا زور لگا دیا۔ دکھتی ہڈیوں کی کوئی فریاد نہ سنی۔

"بس تھوڑا اور۔۔ بس پھر ذمہ داریاں ختم۔۔"

وہ بار بار خود کو سمجھاتا۔

***

واجد نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا تھا۔

"سوچا کیا ہے بھائی؟ واپس آ ؤ گے یا نہیں۔۔"

اس کے دوست خالد نے پوچھا

"یار ابھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔ گھر جاؤں گا۔۔ سب سے مشورہ کروں گا۔۔ سچی بات یہ ہے کہ میں سوچنا ہی نہیں چاہتا۔۔ بس گھر جا کر آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔ امی کے بستر پر سونا چاہتا ہوں۔۔ اس نیند کو ترس گیا ہوں جو ان کے بستر پر لیٹ کر آتی تھی۔۔"

خالد ہنس دیا مگر اس کی ہنسی میں آنسووں کی نمی صاف نظر آ رہی تھی۔

"میں شادی کے خرچ کے لئے کافی پیسے بھیج چکا ہوں۔۔ باقی جو پیسے رہ گئے ہیں بس اب ان کو خرچ نہیں کروں گا۔۔ میں گھر جاؤں گا۔۔"

واجد کا روم روم دکھ چکا تھا۔ گھر جانے کا خیال اتنا جاں فزا تھا کہ اس کے آگے وہ کچھ بھی نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ مگر خالد کی جہاں دیدہ آنکھیں ایسے کئی مناظر دیکھ چکی تھیں۔ وہ پندرہ بیس سال سے یہاں تھا۔ کئی بار یہ الفاظ سن چکا تھا۔ اس نے دل سے واجد کو دعا دی۔

"اللہ کرے تم گھر واپس جا سکو۔۔"

اس کے لہجے میں کچھ تھا، واجد ہاتھ روک کر اس کو دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔

***

"بس ضد کئے بیٹھی ہے۔۔ اب تم سے بار بار کہنا بھی اچھا نہیں لگتا۔۔ کتنا کرو گے تم بھی۔۔"

امی نے خفا سے لہجے میں کہا

واجد گم سم سا رہ گیا۔۔ ایک اور فرمائش۔۔۔ ایک اور آزمائش۔۔

"کیا۔۔ کیا چاہئے اس کو؟"

واجد نے ڈرتے درتے پوچھا۔

"گاڑی کی فرمائش کر رہی ہیں مہارانی۔۔ مگر میں نے صاف منع کر دیا ہے۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ بالکل نہیں۔۔"

ماں نے بناوٹی سے سخت لہجے میں کہا۔۔

***

"بھائی۔۔ یہ میرے ہونے والے شوہر کی خواہش ہے۔۔ آپ تو جانتے ہیں۔۔ ایسی باتیں۔۔ رشتے خراب ہو جاتے ہیں۔۔"

علینہ نے رات سب کے سونے کے بعد واجد کو فون کیا۔ وہ بڑے دکھی لہجے میں بول رہی تھی۔ واجد بت سا بن گیا۔

"علینہ۔۔ میرے پاس اتنے ہی پیسے ہیں کہ میں پاکستان آجاؤں۔۔ یا تمہیں گاڑی لے دوں۔۔ تم بتاو۔۔ میں کیا کرؤں؟"

واجد کو اپنی ہی آواز اجنبی لگ رہی تھی۔

"بھائی۔۔ میں کیا بتاؤں۔۔ میں نے تو امی تک کو نہیں بتایا کہ یہ فرمائش آگے سے کی گئی ہے ورنہ وہ پریشان ہو جاتیں۔۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں۔۔ تاریخ طے ہو چکی ہے۔۔ بینکوئٹ کی بکنگ ہو چکی ہے اور ادھر سے ایک ہی اصرار ہے۔۔ گاڑی۔۔ وہ کیا کہیں گے بھائی۔۔ ایک فرمائش کی وہ بھی پوری نہ ہوئی۔۔ بھائی۔۔ آپ۔۔ بعد میں چکر لگا۔۔ لیں۔۔"

علینہ کی سسکیاں واجد کا دل چیر رہی تھیں۔ بڑا کٹھن وقت تھا۔ تھکی ہوئی روح کہتی تھی اڑ کر گھر پہنچ جا اور لاڈلی بہن کہتی تھی گاڑی دو تم بھلے نہ آؤ۔

واجد کسی مردہ جسم کی طرح صوفے پر گر پڑا۔ خالد نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور زخمی لہجے میں بولا"یہ عنکبوت ہے واجد۔۔ یہاں سے باہر نکلنا آسان نہیں۔۔"

Check Also

Social Media Par Fake News Ke Muasharti Asraat

By Mohsin Khalid Mohsin