Sunday, 28 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Hussainiat, Mazhabi o Siasi Zaroorat?

Hussainiat, Mazhabi o Siasi Zaroorat?

حسنیت، مذہبی و سیاسی ضرورت؟

جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے

ہر نفس میں انشراحِ صدر کی خوشبو لیے
منزلِ حق کی مجسم جستجو سجدے میں ہے

کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا
کیا نمازی ہے کہ بے خوفِ عدو سجدے میں ہے

جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر
قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے

ابنِ زہرا اس تیری شانِ عبادت پر سلام
سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے میں ہے

سر کو سجدے میں کٹا کر کہہ گیا زہرا کا لال
کچھ اگر ہے تو بشر کی آبرو سجدے میں ہے

کون جانے، کو ن سمجھے، کون سمجھائے نصیر
عابد و معبود کی جو گفتگو سجدے میں ہے

(پیر نصیر الدین نصیر)

رموز بیخودی میں اقبال اسے یوں بیاں کرتے ہیں۔

رمز قراں از حسین آموختیم
زآتش او شعلہ ہا اندوختیم

(ہم نے قران مجید کی رمز امام حسینؑ سے سیکھی ہے

انہی کی روشن کی ہوئی آگ سے شعلے جمع کرتے رہے ہیں)۔

شہزادہ رسول پسر بتول سیدنا امام حسینؑ کی شان میں مناقب بیان کرنا آسان نہیں کہ کائنات کی واحد ہستی کہ جس کی شہادت کی خبر آپؑ کی زندگی ملی اس سے زیادہ آپ کی شان اور کیا کہ ماں سیدہ کائناتؑ، باپ شیر خدا و باب العلمؑ اور نانا رسول خدا ﷺ۔ اپنے پاس الفاظ اظہار جذبات کے لیے کم تھے سو اہل محبت کا کلام مستعار لیکر آپ کے حضور عقیدت کے پھول اس پیغام اور لمحہ فکریہ کے ساتھ!

کہ محرم ہو یا ماہ ربیع الاول کے ایام، اگر یہ ذوق و شوق سے منا کر بھی ہمارے سیرت و کردار انقلاب آشنا نہیں ہوتے اعمال و افعال نہیں بدلتے اور اپنے چند فٹ کے وجود پر شریعت کا نفاذ نہیں ہو پاتا تو کہنے دیجئیے کہ دعوی محبت کامل نہیں ہاں مذہبی ضرورت کے طور درست۔ مگر ھم اتنے بے رحم اور جری کہ حسنیت کے سیاسی استعمال سے بھی نہیں چوکتے۔ اپنی بداعمالیوں و بدکرداریوں کے ساتھ جھوٹ، بہتان، نفرت، تعصب، ہوس کے یزیدی افعال کا بوجھ اٹھائے بھی حسینی کہلانے سے نہیں ڈرتے۔ شریعت پہ عمل، طریقت کی راہ اور استقامت سے غرض نہیں مگر حسنیت کے علمبردار۔ حکومت جانے پر حسینی تو اقتدار ملنے پر یزیدی۔ اس طبقہ کی حسینیت بس یہی۔ حسنیت تو عشق سلوک، معرفت، محبت، عقیدت، تلاوت، طہارت، عبادت، طریقت، معرفت، استقامت اور عزیمت کا مقام اولی۔ مگر جب دین و مذہب کے عملی اظہار سے بیزار اپنے کو حسینی فکر کا علمبردار کہنا شروع کر دیں تو سمجھ لیجیے کہ سعادت اٹھ گئی اور شقاوت غالب۔

نسل نو کی نمائندہ سیماب سحر نے کمال اظہار کیا۔۔

حسین کو جھکا سکیں، یزیدیوں میں دم نہیں
کٹا ہوا ہے سر مگر، یہ دیکھ لے کہ خم نہیں

وہ آ نکھ خود بصارتوں پہ بوجھ ہے عذاب ہے
جو آ نکھ یا حسین تیرے سانحے پہ نم نہیں

عجیب ہے یہ معرکہ بھی حق کا یقین کا
چار سمت نگاہ کر کسی عدو میں دم نہیں

جو آ سماں کے اس طرف بھی اشکبار ہیں ملک
تو دیکھ لے زمین پر کہ کس کی آنکھ نم نہیں

جو سر کٹا جھکے نہیں اصول زندگی ہیں وہ
ہے راز کربلا سحر جو معجزے سے کم نہیں

عقیدت، ادب اور محبت تقاضا کرتی ہے کہ امام حسینؑ کا نام عقیدت و ندامت کے آنسووں سے وضو، کینہ، بغض حسد، غیبت و ہوس سے صاف دل اور جھوٹ بدزبانی، گالم گلوچ اور بداخلاقی سے پاک زبان سے لیا جائے۔ کیا ہم ان کے عاشق کہلاتے ہوئے ان آداب کا خیال رکھتے ہیں؟

محسن نقوی کے بغیر تحریر تشنہ لب ہی رہتی

جہان عزم و وفا کا پیکر خرد کا مرکز جنوں کا محور
جمال زہرا جلال حیدر، شعور امن و سکوں کا پیکر

جبین انسانیت کا جھومر، عرب کا سہرا عجم کا زیور
حسین تصویر انبیاء ہے، نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے

حسین دل ہے حسین جاں ہے، حسین قرآن کی زباں ہے۔
حسین عرفاں کی سلطنت ہے، حسین اسرار کا جہاں ہے۔

حسین سجدوں کی سرزمیں ہے، حسین زخموں بھری جبیں ہے
حسین عظمت کا آستاں ہے، نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے

ذکر حسین ہو اور حضرت اقبال پیچھے رہیں ممکن نہیں
صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق

معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق۔

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی۔

پیر نصیر الدین نصیر کا وجد آفریں کلام دلوں پہ سحر طاری کرنے اور جذبات کے طلاطم کے لیے

طاری ہے اہل جبر پہ ہیبت حسین کی
اللہ رے یہ شان جلالت حسین کی

کٹوا کے سر گواہی توحید دے گئے
بے مثل ہے جہاں میں شہادت حسینؑ کی

سونگھی تھی لے کے ہاتھ میں دشت بلا کی خاک
نانا کے سامنے تھی مصیبت حسینؑ کی

کرتے قبول بیعت فاسق وہ کس طرح
دست محمدی پہ تھی بیعت حسینؑ کی

امام کی شان میں جس نے بھی جذبات کا سپاس پیش کیا خوب کیا۔

کیسے کروں بیان میں عظمت حسینؑ کی
محبوب کبریا سے ہے نسبت حسینؑ کی

پڑھ کر تو دیکھیے ذرا سیرت حسینؑ کی
بس جائے گی دلوں میں محبت حسینؑ کی

ہرگز وہ بچ نہ پائے گا دوذخ کی آگ سے
رکھتا ہے جو بھی دل میں عداوت حسینؑ کی

شہزاد تیرے بس میں نہیں رکھ دے تو قلم
توصیف تجھ سے ہوگی نہ حضرت حسینؑ کی

میلاد النبی کا جشن ہو یا عاشورہ محرم، جذبات کے طلاطم کے لیے شاہراوں و سڑکوں کی بندش لازم نہیں۔ محبت راستے بناتی ہے اور دل کشادہ کرتی ہے اور متقاضی ہے سیرت رسول و پسر بتول پہ عمل کی۔ اگر حسینی کردار قلب و باطن کو مطہر نہیں کرتا تو دعوی محبت! اس پہ ہر مسلمان اور پاکستان کے ہر شہری کو سوچنا ہوگا۔

شہزادہ رسول کی شان میں عجز و نیاز کی آرزو بصورت اشعار ہمیشہ رہی سو کرم ہوا تو ان اشعار کی آمد باعث فخر و انبساط بنی۔

گر شبیہ رسول ہیں تو عکس زہرا بتول بھی وہ
وہ وارث شہر باب حکمت، امام عالی مقام ٹہرے

یزیدیت کے لیے وہ دہشت تو امتی کے لیے وہ رحمت
زیر خنجر سجود کرکے، امام عالی مقام ٹہرے

نبی کی آنکھوں کا نور تو چمن حیدر کا پھول ہیں وہ
دیں کی خاطر گھر لٹا کر، امام عالی مقام ٹہرے

Check Also

Tanhai Ka Barhta Hua Rujhan, Aik Khamosh Khatra

By Ayesha Batool