Qaumein Wasail Se Nahi, Zahanat Se Banti Hain
قومیں وسائل سے نہیں، ذہانت سے بنتی ہیں

کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے پہاڑ، دریا، معدنیات یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے باصلاحیت انسان ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں قدرت کی عطا کردہ یہی سب سے بڑی دولت ہر سال غربت، غیر مساوی نظامِ تعلیم، سفارش اور نااہلی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس ذہین بچے کم ہیں، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہم انہیں تلاش کرنے، سنوارنے اور آگے بڑھانے میں ناکام ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے اداروں کی کمزور کارکردگی محض وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس نظام کا بھی شاخسانہ ہے جہاں قابلیت سے زیادہ تعلقات، خاندانی حیثیت اور معاشی طاقت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جب اصل اہل افراد کو آگے آنے کا موقع ہی نہ ملے تو پھر اداروں سے بہترین نتائج کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
ذہانت نہ امیر کی جاگیر ہے اور نہ غریب کی محرومی۔ قدرت جب کسی بچے کو غیر معمولی صلاحیت عطا کرتی ہے تو وہ اس کے والدین کی آمدنی نہیں دیکھتی۔ ایک مزدور کا بیٹا بھی عظیم سائنس دان، انجینئر، جج یا منتظم بن سکتا ہے، اگر اسے تعلیم، تربیت اور مواقع میسر ہوں۔ لیکن ہمارے ہاں لاکھوں ایسے بچے صرف اس لیے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے کہ ان کے والدین مہنگی تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایک باصلاحیت فرد پوری قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ریاضی دان سری نواسا رامانوجن اس کی روشن مثال ہیں، جنہیں اگر بروقت پہچان نہ ملتی تو شاید دنیا ایک عظیم ذہن سے محروم رہ جاتی۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کتنے رامانوجن ایسے ہیں جو غربت، بے بسی اور نظام کی بے حسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست تعلیم کو صرف ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھے۔ ہر بچے کی ابتدائی عمر میں غیر جانبدارانہ ذہنی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے، باصلاحیت بچوں کو مفت معیاری تعلیم، وظائف، رہائش اور جدید تربیت فراہم کی جائے اور ہر شعبے میں میرٹ کو ناقابلِ سمجھوتہ اصول بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو مضبوط اداروں، بہتر معیشت اور باوقار پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اگر ہم نے آج بھی اپنی ذہانت کو غربت کی زنجیروں میں جکڑے رکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ قوموں کی ترقی قسمت سے نہیں، درست فیصلوں سے ہوتی ہے۔ پاکستان کا مستقبل بھی اسی دن بدلنا شروع ہوگا جب ہر ذہین بچے کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اس کی منزل اس کی صلاحیت طے کرے گی، اس کی غربت نہیں۔

