Jab Janaze Bhi Tareekh Likhne Lagen
جب جنازے بھی تاریخ لکھنے لگیں

جنگیں صرف بارود سے نہیں جیتی جاتیں اور نہ ہی قومیں صرف توپ و تفنگ کے سہارے زندہ رہتی ہیں۔ بعض اوقات ایک جنازہ بھی وہ کام کر جاتا ہے جو ایک لشکر نہیں کر پاتا۔ ایک تابوت بھی وہ پیغام پہنچا دیتا ہے جو ہزار سفارتی بیانات نہیں پہنچا سکتے۔ ایک شہید بھی وہ تاریخ لکھ دیتا ہے جسے فاتحین کی فوجیں صدیوں تک مٹا نہیں سکتیں۔
اگر آج ایران کی حکمتِ عملی کو صرف عسکری زاویے سے دیکھا جائے تو تصویر ادھوری رہے گی۔ اصل میدان صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ انسانی شعور میں آباد ہے۔ یہی وہ محاذ ہے جس پر برسوں سے کام کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مزاحمت صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک اجتماعی احساس اور ایک قومی حافظہ بن چکی ہے۔
قوموں کی نفسیات یکایک تشکیل نہیں پاتیں۔ انہیں نسلوں تک تراشا جاتا ہے۔ ایک بچہ جب اپنی پہلی کتاب میں قربانی کی داستان پڑھتا ہے، جب اس کے شہر کی دیواروں پر شہداء کی تصویریں آویزاں ہوتی ہیں، جب ہر سال یادگاریں آباد ہوتی ہیں، جب شاعری، نغمے، فلم، مسجد، درس گاہ اور ریاست ایک ہی پیغام دہراتے ہیں، تو پھر مزاحمت محض ایک لفظ نہیں رہتی، وہ اس معاشرے کی اجتماعی شخصیت بن جاتی ہے۔
اسی لیے وہاں شہادت کو شکست کا عنوان نہیں بنایا جاتا بلکہ بقا کا استعارہ بنایا جاتا ہے۔ دشمن جس لمحے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے ایک شخصیت کو ختم کردیا، اسی لمحے ریاست اس شخصیت کو ایک علامت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جسم فنا ہوتا ہے، مگر علامت اجتماعی حافظے میں زندہ رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ ریاستی مراسم کو محض تدفین کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کی ترتیب، ان کا تسلسل، مختلف شہروں تک ان کی توسیع، مذہبی مراکز سے ان کی وابستگی اور غیر ملکی وفود کی شرکت سب مل کر ایک ایسا منظر تشکیل دیتے ہیں جس کا مخاطب صرف ایران نہیں بلکہ پوری دنیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان تقریبات کو کئی روز تک جاری رکھنے اور مختلف مقامات تک لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ یہ واقعہ ایک مسلسل قومی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہے۔
جدید دنیا میں ذرائع ابلاغ بھی ایک میدانِ جنگ ہیں۔ جو خبر چند گھنٹوں میں ختم ہوجاتی ہے، وہ اثر بھی جلد کھو دیتی ہے، لیکن جس واقعے کو مسلسل کئی دن تک عالمی گفتگو کا موضوع بنایا جائے، وہ صرف خبر نہیں رہتا بلکہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے بہت سی ریاستیں سمجھتی ہیں، مگر ہر ریاست اس پر یکساں مہارت سے عمل نہیں کر پاتی۔
یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ان تقریبات میں مختلف ممالک اور مختلف مذہبی و سیاسی وفود کی شرکت کو نمایاں حیثیت دی گئی۔ سفارت کاری ہمیشہ بند کمروں میں ہونے والے مذاکرات کا نام نہیں ہوتی، بعض اوقات ایک تصویر، ایک مصافحہ، ایک تعزیتی شرکت اور ایک مشترک منظر بھی برسوں کے سیاسی پیغام سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
ایران برسوں سے یہ کوشش کرتا آیا ہے کہ اپنے قومی بیانیے کو صرف سرکاری اعلانات تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے ایک تہذیبی روایت کی شکل دے۔ اسی لیے وہاں مزاحمت صرف فوجی اصطلاح نہیں، بلکہ ادب، شاعری، مصوری، نوحہ، نغمہ، یادگار اور عوامی اجتماع میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ جب ایک ریاست اپنے ہر ثقافتی وسیلے کو ایک ہی مرکزی تصور کے گرد منظم کر دے تو اس کا اثر صرف موجودہ نسل پر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ سلطنتیں صرف معیشت سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے بیانیے سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ طاقت صرف ہتھیار میں نہیں، اس کہانی میں بھی ہوتی ہے جو قوم اپنے بارے میں خود بیان کرتی ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی قربانی کو عزت، اپنے نقصان کو استقامت اور اپنے شہداء کو اجتماعی شعور کا حصہ بنا دے تو وہ اپنی سیاسی طاقت کے ساتھ اپنی نفسیاتی قوت بھی تعمیر کر لیتی ہے۔
آخرکار جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، معاہدے بدل جاتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن جو قوم اپنے استعارے زندہ رکھتی ہے، وہ اپنی تاریخ کو بھی زندہ رکھتی ہے اور بعض اوقات تاریخ کی سب سے طاقتور تحریر کسی فاتح کے فرمان سے نہیں، بلکہ ایک جنازے کے خاموش سفر سے لکھی جاتی ہے۔

