Sunday, 05 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Deeni Madaris Aur Ulma Par Be Bunyad Aur Mutasibana Ilzamat

Deeni Madaris Aur Ulma Par Be Bunyad Aur Mutasibana Ilzamat

دینی مدارس اور علماء پر بے بنیاد اور متعصبانہ الزامات

​فیس بک پر ایک پیج پر ایلیٹ طبقے کی دیگر اخلاقی پستیوں کی طرح ان کی ہوسناکی کے حوالے سے بات کی گئی تھی، لیکن اس پر سنجیدہ گفتگو کرنے کے بجائے بعض متعصب افراد نے بات کا رخ موڑتے ہوئے مدارس اور علماء پر یہ الزام دھر دیا کہ اس معاشرتی بگاڑ کے اصل ذمہ دار بھی "مولوی" ہیں، کیونکہ وہ ایسے کاموں سے روکتے نہیں، بلکہ خود ملوث ہیں۔ یہ الزام بحیثیت مجموعی پورے طبقے پر لگایا گیا، جو سراسر جھوٹ، بدنیتی اور تعصب پر مبنی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ مدارس اور علماء کے خلاف زہر اگلنے کو اپنا وطیرہ کیوں بنائے ہوئے ہیں؟

جس طرح دیگر طبقات معاشرے کا حصہ ہیں، اسی طرح مدارس اور علماء بھی اس معاشرے کے اہم ستون ہیں۔ بلاجواز مخالفت اور الزام تراشی کرنا ان لوگوں کی بدنیتی کو ثابت کرتا ہے۔ ​اگر واقعی دینی مدارس اور علماء کے کردار کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتراض بات ہو تو اس پر تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے، لیکن "تنقید" اور "بہتان" میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر کسی مدرسے، مسجد یا کسی مذہبی شخصیت سے وابستہ فرد نے کسی بچے کے ساتھ زیادتی جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ نہ صرف قانون، بلکہ شریعت کی نظر میں بھی سخت ترین مجرم ہے۔ ایسے شخص کو قرارِ واقعی سزا ملنی چاہیے اور اس کے جرم پر کسی قسم کی پردہ پوشی یا رعایت نہیں ہونی چاہیے۔

​اس حقیقت سے انکار نہیں کہ چند واقعات مدارس اور مساجد میں بھی پیش آئے ہیں۔ یہ واقعات انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہیں۔ چونکہ ان کا تعلق مذہبی طبقے سے ہوتا ہے، اس لیے یہ فوری طور پر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، ہر طرف ان پر بحث ہوتی ہے، سخت تنقید کی جاتی ہے اور عوامی ردِعمل بھی سامنے آتا ہے۔ خود مدارس کے ذمہ داران، علماء اور دینی قیادت ایسے مجرموں سے براءت کا اظہار کرتی ہے، ان کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ ایسے لوگوں کا دین، مدارس اور علماء سے کوئی تعلق نہیں۔ ​اگر کہیں کوئی مدرسہ، منتظم یا عالم دین ایسے مجرم کی حمایت کرتا ہے یا اس کے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی بدبختی، اخلاقی گراوٹ اور دینی بے راہ روی ہے۔ کوئی مستند عالمِ دین ایسے رویے کی تائید نہیں کرتا۔

علماء کی اکثریت ایسے جرائم کو اسلام، انسانیت اور اخلاقیات کے خلاف سمجھتی ہے اور کھل کر ان کی مذمت کرتی ہے۔ چند مجرموں کی وجہ سے پورے طبقے کو کٹہرے میں کھڑا کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ یہ کہنا کہ "مولوی بچہ بازی کو غلط نہیں سمجھتے"، "مولوی اس لیے بات نہیں کرتے کہ انہوں نے خود بچے رکھے ہوتے ہیں"، یا "مدرسے غلط کاموں کی فیکٹریاں ہیں"، نہایت سنگین اور بے بنیاد الزامات ہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی اجتماعی ثبوت ہے اور نہ ہی کسی مستند ادارے کی رپورٹ ہے۔ اسلام تو بچوں کی عزت، عصمت اور حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور علماء دین کی انہی تعلیمات کو عام کرتے ہیں۔ ​

پاکستان میں پندرہ ہزار سے زائد دینی مدارس اور لاکھوں مساجد موجود ہیں، جہاں روزانہ لاکھوں بچے اور نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر واقعی مدارس "غلط کاموں کی فیکٹریاں" ہوتے تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں واقعات سامنے آتے، پورا ملک مسلسل ہنگاموں کی زد میں ہوتا اور مدارس کے مخالفین کے پاس ہر روز نئے ثبوت ہوتے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چند افسوسناک واقعات یقیناً ہوئے ہیں، لیکن انہی کو بنیاد بنا کر پورے دینی نظام، لاکھوں طلبہ، ہزاروں اساتذہ اور تمام علماء کو مجرم ٹھہرانا انصاف کے ہر اصول کے منافی ہے۔

​یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنسی استحصال کے واقعات صرف مدارس تک محدود نہیں۔ سرکاری و نجی اسکول، کالج، جامعات، کھیلوں کی اکیڈمیاں، یتیم خانے، ہاسٹل، گھریلو ماحول اور دیگر ادارے بھی اس جرم سے محفوظ نہیں۔ یہ سب کچھ بھی انتہائی قابلِ مذمت ہے، مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ تمام جگہیں "زیادتی کی فیکٹریاں" ہیں۔ پھر مدارس کے بارے میں ایسا عمومی اور جارحانہ فیصلہ کیوں؟ بچوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی مصلحت نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں بھی جرم ہو، خواہ مدرسے میں، اسکول میں، یا کسی اور ادارے میں، مجرم کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔ یہی شریعت کا تقاضا ہے اور یہی معاشرے کی ضرورت بھی ہے۔

​اصلاح اور احتساب ضرور ہونا چاہیے، مگر انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ جرم کو جرم کہا جائے اور مجرم کو سزا دی جائے، لیکن چند افراد کے گناہ کا بوجھ لاکھوں بے گناہ علماء، اساتذہ، طلبہ اور دینی اداروں پر ڈالنا نہ عقلاً درست ہے، نہ قانوناً اور نہ اخلاقاً اس کی گنجائش ہے۔ تعصب اور نفرت کی بنیاد پر پورے طبقے کو بدنام کرنا معاشرے میں تقسیم اور بداعتمادی کو بڑھاتا ہے، جبکہ انصاف کا راستہ یہ ہے کہ فرد کے جرم کی سزا فرد کو ہی دی جائے، پورے طبقے کو اس میں ملوث نہ ٹھہرایا جائے۔

Check Also

London Ki Margaret Thatcher Se Lahore Ki Dar Family Tak

By Rauf Klasra