Sunday, 05 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hanif
  4. Muhkamat o Mutshabhat

Muhkamat o Mutshabhat

محکامات و متشابہات

قرآن مجید کی آیت میں محکمات و متشابہات کا ذکر آیا ہے اس کا ترجمہ اس طرح ہے۔۔ وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں ایک محکمات ہیں جو کتاب کی اصل ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن جو علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے اور صرف عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں (آل عمران 07)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ محکم اور متشابہ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح علم میں پختہ کار لوگ (الراسخون فی العلم) ان لوگوں کے مقابلے میں ہیں جن کے دلوں میں کجی پائی جاتی ہے۔ اب ہم محکمات اور متشابہات کی الگ الگ تعریف کرکے ان کا باہمی فرق واضح کرتے ہیں۔

محکمات: محکم پکی اور سخت چیز کو کہتے ہیں۔ آیات محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کی زبان بالکل صاف اور واضح ہے جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے جن کے الفاظ اپنے معنی و مدعا کا صاف اور واضح پتہ دیتے ہیں جن کی تاویل کرنے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ چونکہ محکمات اپنا مطلب بیان کرنے میں واضح ہوتیں ہیں اس لئے ان میں حجت وبحث کی حاجت نہیں ہوتی۔ یہ آیات کتاب کی اصل بنیاد ہیں یعنی قرآن جس غرض کیلئے نازل کی گیا ہے اس غرض کو یہی آیات پورا کرتیں ہیں ان ہی میں اسلام کی طرف دنیا کو دعوت دی گئی ہے۔ ان ہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائیں گئیں ہیں ان ہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ان ہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امرو نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔ پس جو شخص حق کا طالب ہو اور یہ جاننے کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے۔ اس کی پیاس بجانے کے لئے آیات محکمات ہی کافی ہیں۔ اس کی توجہ ان ہی پر لگی رہے گی اور وہ زیادہ تر ان ہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔

متشابہات: یعنی وہ آیات جو اپنا مفہوم و معنی ظاہر کرنے میں واضح نہ ہوں ان میں اشتباہ کی گنجائش ہو۔ یہ ظاہر کہ جو چیزیں انسان کو حواس خمسہ کے ذریعے محسوس نہیں ہوتیں۔ جنہیں اس نے کبھی دیکھا نہ کبھی چھوا نہ چکھا ہو نہ انسانی علم کی گرفت میں آئی ہو۔ نہ آسکتیں ہیں۔ ان کے لئے انسانی زبان میں ایسے الفاظ کہاں مل سکتے ہیں۔ جو ان ہی کے لئے مقرر کئے گئے ہوں۔ انسانی لغت کے الفاظ سے مادیت کے ماحول میں پھولے بھلے ہیں کسی خالص روحانی مفہوم کی تعبیر ناممکن ہے۔ کیونکہ انسان ہر لفظ کا وہی مفہوم سمجھنے پر مجبور ہے جو ہمیشہ سے اس لفظ کے ساتھ وابستہ چلا آرہاہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں آخرت کی بعض اشیاء کو دنیاوی الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ ان کے مقصود باکل وہی نہیں ہیں جو ان لفظوں کے عادی ہیں بلکہ ان اخروی اشیاء کو ان دنیاوی الفاظ سے اس لئے ادا کی گیا ہے کہ معنوں میں وہی نسبت ہے جو ذرہ اور پہاڑ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اگر جنت کے باغوں، نہروں، میوں، غلاموں، شرابوں، ریشمی کپڑوں اور طلائی زیوروں کی وہی اخروی حقیقت ہوئی ہو جو ان لفظوں سے لغوی طور پر ہم اس دنیا میں مراد لیتے ہیں تواللہ تعالیٰ درج ذیل حدیث قدسی میں نہ فرماتا کہ جنت کی نعمتوں ایسی ہی ہیں جن کو نہ انسانی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کانوں نے سنا اور نہ ہی وہ کسی انسان کے خیال میں گزری ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا۔

اسطرح بعض پیچیدہ آیات جو ذات و صفات باری تعالیٰ کے سلسلے میں وارد ہوئیں ہیں متشابہات کی اس قسم سے تعلق رکھتیں ہیں جن کے مفہوم سے کوئی بشر آگاہ نہیں ہے۔ اس لئے سرور کائنات دعا کے وقت فرمایا کرتے تھے۔ ترجمہ تو ایسا ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے میں ﷺ تیری تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا۔

قرآن مجید خواص ہو یا عوام سب کو دعوت فکر دیتا ہے۔ عوام حقائق کی تہ تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی شخص پہلی مرتبہ یہ سنتا ہے کہ خدا کا نہ باپ ہے اور نہ ماں نہ وہ جسم رکھتا ہے اور نہ کسی جگہ میں سما سکتا ہے۔ تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ عدم محض اور نفی کی دلیل ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کو صفات سے عاری خیال کرنے لگتا ہے اس لئے بہتر یہ تھا کہ خدا کو ایسے الفاظ سے یاد کیا جائے جو لوگوں کے وہم وخیال کے مطابق ہوں تاکہ انسان ایک ممکن حد تک حقیقت کے قریب پہنچ سکے یا کم از کم ایک دھندلا سا تصور اس کے دماغ میں پیدا ہو سکے۔

متشابہات پر دین کا مدار نہیں، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب لوگ متشابہات کا یقینی مفہوم جانتے ہی نہیں تو وہ ان پر ایمان کیسے لے آئیں؟ حقیقت یہ ہے ایک معقول آدمی کو قرآن کے کلام اللہ ہونے کا یقین محکمات کے مطالعے سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ متشابہات کی تاویلوں سے اور جب آیات محکمات میں غور و فکر کرنے سے اس کو اطمنان حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب وقعی اللہ کی کتاب ہے تو پھر متشابہات اس کے دل میں کوئی خلش یا تردد پیدا نہیں کرتے۔ جہاں تک ان کاسیدھا سادھا مفہوم اس کی سمجھ میں آجاتا ہے۔ اس کو وہ لے لیتا ہے اور جہاں کوئی پیچیدگی ظاہر ہوتی ہے وہاں کھوج لگانے اور موشگافیاں کرنے کی بجائے وہ اللہ کے کلام پر مجمل ایمان لا کر اپنی توجہ کام کی باتوں کی طرف پھیر دیتا ہے۔

چنانچہ اکثر علمائے سلف کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ متشابہات پر ایمان لا کر ان کی حقیقت کا علم خدا کو سونپ دیاجانا چاہیئے۔ کیونکہ ایسی آیات کا مفہوم متعین کرنے کی جتنی کوشش کی جائے گی اتنے ہی زیادہ شبہات و احتمالات پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ حتیٰ کہ انسان حقیقت کے قریب تر ہونے کی بجائے اور زیادہ دور ہوتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ طالب حق ہیں اور ذوق فضول نہیں رکھتے وہ متشابہات سے حقیقت کے اس دھندلے تصور پر قناعت کر لیتے ہیں جو کام چلانے کے لئے کافی ہے اور اپنی تمام تر توجہ محکمات پر صرف کرتے ہیں مگر جو لوگ فتنہ جو اور کج رو ہوتے ہیں ان کا کام تو متشابہات ہی کی تاویل و بحث ہوتا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ابن صبیح نامی شخص مدینہ آیا اور متشابہات کے بارے میں لوگوں سے پوچھنے لگا۔ حضرت عمرؓ کو پتہ چلا تو آپؓ نے اسے بلا کر پوچھا تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا میرا نام عبدللہ بن صبیح ہے آپ نے کھجور کی چھڑی منگوا کر اسے اتنا مارا کہ اس کے سر سے خون بہنے لگا۔

وما یعلم تاویلہ الااللہ

(اور اس کی حقیقت نہیں جانتا مگر اللہ)

جمہور اہل سنت یہاں وقف کے قائل ہیں اور یہ رائے ابن عباسؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حسنؓ، مالک بن انسؓ، کسائی اور فر کی ہے۔ البتہ شیعہ علما اور بعض متکلمین یہاں وصل کے قائل ہیں اور وہ والراسخون فی العلم پر وقف کرتے ہیں جس سے آیت کے معنی یہ ٹھہرتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ علم میں پختہ کار لوگ بھی مشابہات کی صحیح تاویل سے آگاہ ہیں۔

اگرچہ متشابہ الفاظ کے لغوی معنوں اور ان کے قریب الفہم مجازی معنوں کے سمجھنے میں اختلاف رائے کی بڑی گنجائش ہے تاہم حق یہ ہے کہ ان پر بلا مزید تشریح کے اس طرح ایمان لایا جائے کہ ہماری تشریح سے ان کے مفہوم کی وسعت تنگ نہ ہو جائے اور ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی اجازت دی جائے جو ان الفاظ سے وہ مفہوم سمجھ کر تسلی کرناچاہتے ہیں۔

غالباً قرآن حکیم میں متشابہات کو شامل کرنے اور محکمات تک محدود نہ رہنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل اسلام اپنی تمام تر توجہات کو ایسے علوم و فنون کی جانب مبذول کریں جن سے ان میں متشابہات کے فہم و اوراک کی اہمیت و صلاحیت پیدا ہے۔ وہ تقلید کی تاریکی سے چھٹکارا حاصل کر لیں اور عجز ونیاز اور غور و فکرکے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قرآن مجید کو سمجھ کرپڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Bari Beti

By Umar Farooq