Quran Ko Zindagi Ka Dastoor Banane Ki Dawat
قرآن کو زندگی کا دستور بنانے کی دعوت

قرآن مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے، سنوارنے اور مقصدِ حیات سے آشنا کرنے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کچھ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے قرآن کو صرف پڑھا نہیں بلکہ اس کے پیغام کو عام انسان تک پہنچانے کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ خرم مرادؒ انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور چوتھے اجتماعِ عام میں تنظیم کے تیسرے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ بعد ازاں ترجمان القرآن کی ادارت، جماعت اسلامی کی نائب امارت اور فکری و دعوتی میدان میں متعدد ذمہ داریوں نے ان کی شخصیت کو مزید نکھارا۔ مگر ان کی اصل پہچان ان کا اخلاص، عجز، انکساری، اخلاق اور قرآن سے غیر معمولی وابستگی تھی۔ وہ جہاں بھی رہے، قرآن کو سمجھنے اور سمجھانے کا فریضہ نبھاتے رہے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں ایک داعی کا درد، ایک معلم کی شفقت اور ایک مفکر کی گہرائی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
ان کی کتاب "آخری سورتوں کے درس" اسی جذبے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ اس کتاب میں قرآن مجید کی آخری بارہ سورتوں، یعنی سورۂ العصر سے سورۂ الناس تک، نہایت آسان، سادہ اور مؤثر انداز میں تشریح کی گئی ہے۔ خرم مرادؒ چونکہ بنیادی طور پر ایک مدرس اور مربی تھے، اس لیے انہوں نے اس کتاب میں درس کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے جیسے کوئی شفیق استاد سامنے بیٹھا قرآن کی آیات کا مفہوم سمجھا رہا ہو۔ ان کا انداز محض علمی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔ وہ آیات کی تشریح کرتے ہوئے قاری کو اس کی زندگی، اس کے حالات اور اس کے اعمال سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ قرآن کا پیغام صرف علماء اور طلبہ تک محدود نہ رہے بلکہ عام آدمی بھی اسے سمجھے، اس پر غور کرے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ اسی لیے ان کے دروس میں علمی موشگافیوں کے بجائے زندگی سے جڑی ہوئی مثالیں اور روزمرہ کے مشاہدات زیادہ ملتے ہیں۔
کتاب کا آغاز سورۂ العصر سے ہوتا ہے جسے خرم مرادؒ انسانی کامیابی کا جامع منشور قرار دیتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ اگر اپنی پوری قوت، صلاحیت اور وسائل بھی صرف کر دیں تو محض دنیاوی پیمانوں پر حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، کیونکہ قرآن کے مطابق تمام انسان خسارے میں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، حق کی تلقین کریں اور صبر کی نصیحت کریں۔ خرم مرادؒ کے نزدیک یہی وہ چار ستون ہیں جن پر کامیاب زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح سورۂ الہمزہ کی تشریح میں وہ مال و دولت کے بارے میں نہایت متوازن گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مال بذاتِ خود برائی نہیں، لیکن جب انسان اسے مقصدِ حیات بنا لے اور اسے اپنی نجات اور بقا کا ذریعہ سمجھنے لگے تو یہی مال اس کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔ مال کی حقیقت، اس کی ضرورت، اس کی حدود اور اس کے صحیح استعمال پر ان کے خیالات قاری کو گہرے غور و فکر پر مجبور کرتے ہیں۔
سورۂ الفیل کی تشریح میں خرم مرادؒ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ابرہہ کی فوج اور کعبہ کو ڈھانے کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ سبق دیتے ہیں کہ جب اللہ کسی چیز کی حفاظت کا فیصلہ کر لے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ سورۂ قریش میں وہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو یاد دلاتے ہیں جو اہلِ عرب کو عطا ہوئے تھے۔ امن، رزق اور عزت جیسی نعمتیں کسی قوم کو محض اتفاقاً نہیں ملتیں بلکہ ان کے پیچھے اللہ کا فضل کارفرما ہوتا ہے۔ اس لیے نعمتوں کا تقاضا شکر اور بندگی ہے، غرور اور ناشکری نہیں۔ اسی تسلسل میں سورۂ الکوثر کی تشریح کرتے ہوئے وہ رسول اکرم ﷺ کو عطا ہونے والی بے مثال نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوثر صرف ایک حوض یا نہر کا نام نہیں بلکہ خیرِ کثیر، دائمی عزت، ہمیشگی اور وہ عظیم مقام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو عطا فرمایا۔ آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود آپ ﷺ کا نام بلند ہے اور قیامت تک بلند رہے گا۔
خرم مرادؒ کی تشریح کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ہر نئی سورت کا درس شروع کرنے سے پہلے پچھلی سورت سے اس کا ربط بیان کرتے ہیں۔ اس طرح قاری کو قرآن کی سورتوں کے درمیان معنوی تسلسل کا احساس ہوتا ہے۔ سورۂ الکافرون کے حوالے سے وہ یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن میں یہ وہ مقام ہے جہاں کفار کو براہِ راست "کافر" کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں دعوت اور مصالحت کے بجائے عقیدے کی دوٹوک وضاحت کی گئی ہے کہ حق اور باطل کا امتزاج ممکن نہیں۔ اسی طرح سورۂ الماعون کی تشریح میں وہ عبادت اور معاشرت کے تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نماز، روزہ اور دیگر عبادات اسی وقت حقیقی معنی پیدا کرتی ہیں جب ان کے اثرات انسان کے اخلاق، رویے اور معاشرتی ذمہ داریوں میں بھی نظر آئیں۔ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی دین کا لازمی تقاضا ہے۔ وہ اس حقیقت کو بار بار اجاگر کرتے ہیں کہ دین صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں سورۂ الفلق اور سورۂ الناس کی تشریح دل کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔ ان دونوں سورتوں کو معوذتین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انسان کو ظاہری اور باطنی آفات سے پناہ مانگنے کا سبق دیتی ہیں۔ خرم مرادؒ ان سورتوں کے ذریعے یہ سمجھاتے ہیں کہ زندگی میں پیش آنے والے خوف، غم، پریشانی، حسد، وسوسوں اور مختلف قسم کے فتنوں سے بچنے کا اصل ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پناہ ہے۔ انسان اپنی عقل، دولت اور طاقت پر جتنا بھی بھروسہ کر لے، ایک مقام پر آ کر اسے اپنے رب کے سامنے جھکنا ہی پڑتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو خرم مرادؒ اپنی پوری کتاب میں بار بار دہراتے ہیں۔ ان کے دروس سے نہ صرف قرآن کا مفہوم واضح ہوتا ہے بلکہ ان کی شخصیت، لہجے، فکری گہرائی اور دعوتی بصیرت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ کہیں ان کی زبان نہایت سادہ اور رواں ہے، کہیں ادبی حسن اور فکری لطافت نمایاں ہو جاتی ہے، مگر ہر جگہ مقصد ایک ہی دکھائی دیتا ہے: قرآن کو زندگی کا دستور بنانا۔ یہی اس کتاب کی اصل خوبی ہے اور یہی خرم مرادؒ کا وہ علمی و فکری ورثہ ہے جو آج بھی قاری کو قرآن کے قریب لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

