Sunday, 05 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Bari Beti

Bari Beti

بڑی بیٹی

دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی نے پندرہ سال پر محیط ایک تحقیق کا نتیجہ شائع کیا۔ سائنسدانوں نے ماؤں کو حمل کے زمانے سے لے کر اُن کے بچوں کی نوجوانی تک دیکھا اور ایک عجیب بات نوٹ کی: جن ماؤں نے حمل میں زیادہ تناؤ جھیلا، اُن کی پہلوٹھی بیٹیاں باقی بہن بھائیوں سے پہلے، وقت سے پہلے بڑی ہونے لگیں۔ نہ بیٹوں میں ایسا ہوا، نہ بعد میں آنے والی بیٹیوں میں۔ صرف سب سے بڑی بیٹی میں۔ گویا ماں کے پیٹ ہی میں ایک ننھے جسم کو پیغام مل چکا تھا کہ یہاں ذمہ داری بھاری ہے، جلدی تیار ہو جاؤ۔ یہ ابھی ایک ابتدائی نتیجہ ہے اور اِسے حتمی سچ نہ سمجھیں، مگر یہ اُس بوجھ کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے جو اس پورے مضمون کا موضوع ہے۔ ایک ایسا بوجھ جو ہماری زبان میں ایک معصوم سے لفظ کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے۔ بڑی بیٹی۔

ذرا ایک منظر دیکھیے۔ کسی کی شادی ہے، شاید چھوٹی بہن کی، شاید کسی کزن کی۔ ہال میں سب بیٹھے ہیں، مگر بڑی بیٹی نہیں بیٹھی۔ وہ ماں کو دوا یاد دلا رہی ہے، کسی کا گمشدہ دوپٹہ ڈھونڈ رہی ہے اور ساتھ ساتھ خالہ کا وہ پرانا گلہ بھی سن رہی ہے جو ہر تقریب میں نیا ہو جاتا ہے۔ تبھی کوئی بزرگ اُس کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے: "ماشاء اللہ، اِس گھر کا تو سارا سہارا ہی یہ ہے"۔ سب سر ہلاتے ہیں۔ وہ تھکی سی مسکرا دیتی ہے۔ یہ تعریف نہیں تھی۔ یہ ایک عہدہ تھا، جس کی نہ کوئی تنخواہ ہے، نہ چھٹی، نہ سبکدوشی۔ نفسیات میں اِس کیفیت کا ایک نام ہے: "پیرنٹیفِکیشن"، یعنی بچے کو وقت سے پہلے، چپکے سے، والدین کا کردار سونپ دینا۔ گریگری یورکووچ نے اِس پر جو کتاب لکھی، اُس کا عنوان ہی پورا قصہ کہہ دیتا ہے: "کھویا ہوا بچپن"۔ یہی وہ بوجھ ہے جس کا ہم تذکرہ کررہے ہیں۔ اس کی قیمت ہے۔ ایک بچپن جو پھر کبھی واپس نہیں آتا۔

یہ سب نو یا دس برس کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی تربیت نہیں دی جاتی، کوئی تقرری کا خط نہیں آتا۔ بس ایک دن ماں زیادہ تھک جاتی ہے، یا چھوٹا بھائی روتا رہتا ہے، یا گھر پر باپ کے غصے کا موسم اُتر آتا ہے اور ایک ننھی لڑکی خاموشی سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی نے کہا نہیں، اُس نے خود سمجھ لیا کہ یہ اب اُس کا کام ہے۔ یہ بوجھ دو شکلوں میں آتا ہے۔ ایک ہاتھ کا بوجھ ہے: کھانا، چھوٹوں کو سکول چھوڑنا، گھر کے کام، ماں کی دوائی۔ یہ نظر آتا ہے، کبھی کبھی اِس کی تعریف بھی ہو جاتی ہے۔ دوسرا بوجھ دل کا ہے: ماں کا موڈ سنبھالنا، باپ کے غصے کا موسم وقت سے پہلے بھانپ لینا، گھر کے ہر فرد کے جذبات کا توازن اپنے ننھے کندھوں پر اٹھانا۔ یہ کسی کو نظر نہیں آتا اور جو نظر نہ آئے، اُس کی تھکن کا اعتراف بھی نہیں ہوتا۔ کچھ مطالعے اشارہ کرتے ہیں کہ یہی دوسری، دل والی قسم زیادہ گہرا نشان چھوڑتی ہے، اگرچہ شواہد ابھی قطعی نہیں۔

میری ایک واقف کار اُسے صبا کہہ لیں، تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ ماں کو شوگر اور باپ برسوں سے بیرونِ ملک ہیں۔ گیارہ برس کی عمر میں صبا کے ہاتھ میں گھر کے دراز کی چابی بھی تھی اور چھوٹے بھائی کے سکول کا بستہ بھی۔ مجھے ایک منظر آج تک یاد ہے: عید سے ایک رات پہلے، جب باقی سب چوڑیاں پہن رہے تھے، صبا باورچی خانے میں کھڑی اگلے دن کے سالن کی فکر میں تھی۔ کسی نے ہنس کر کہا، "یہ تو پیدائشی ماں ہے"۔ وہ صرف مسکرا دی۔ آج صبا چونتیس برس کی ہے، اپنے گھر میں، اپنے بچوں کے ساتھ، مگر اُس کا فون آج بھی میکے کے ہر بخار اور ہر جھگڑے پر بجتا ہے۔ پچھلے سال، زندگی میں پہلی بار، جب اُس نے ایک فرمائش پر "مجھے سوچنا ہے" کہا، تو بقول اُس کے: "مجھے یوں لگا جیسے میں نے کوئی گناہ کر دیا ہو"۔

ایک اور بات ہے جو قابل غورہے۔ جو بچی روز ماں کے قدموں کی آہٹ سے اُس کا موڈ پڑھنا سیکھ جائے، اُس کا اندرونی "خطرے کا نظام" ہمیشہ کے لیے ہلکا سا جاگتا رہنے لگتا ہے۔ دماغ کا وہ حصہ جو خطرہ بھانپتا ہے، ایمیگڈالا، دوسروں کے چہروں کا موسم پڑھنے میں اِس قدر ماہر ہو جاتا ہے کہ آرام کرنا گویا بھول سا جاتا ہے۔ تناؤ کا کیمیکل، کورٹیسول، تھوڑا زیادہ، تھوڑی دیر زیادہ ٹھہرا رہتا ہے۔ نتیجہ؟ تیس برس کی عمر میں، اپنے محفوظ گھر میں بیٹھے ہوئے بھی، ساتھ والے کمرے سے اٹھتی ایک اونچی آواز اُس کے کندھے سختی سے کھینچ دیتی ہے جیسے جسم اب بھی پہرے پر ہو۔ یہ کوئی کمزوری نہیں، یہ ایک تربیت ہے، جو اُس نے کبھی مانگی نہ تھی۔

مگر ٹھہریے۔ کیا بڑی بہن کا چھوٹوں کو سنبھالنا کوئی بیماری ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ انسان کی سب سے پرانی عادتوں میں سے ہے۔ ماہرِ بشریات سارہ ہرڈی کہتی ہیں کہ ہم وہ نوع ہیں جو بچے کبھی اکیلے نہیں پالتی، ہم "مل کر پالنے والے" ہیں۔ صدیوں سے، ہر گھر میں بڑے بچے چھوٹوں کے مددگار رہے ہیں۔ تو پھر خرابی کہاں سے آتی ہے؟ خرابی دو جگہ آتی ہے۔ پہلی: جب مدد کبھی ختم نہ ہو، کوئی دوسرا ہاتھ نہ بٹائے، بوجھ کبھی نہ اترے، کوئی فارغ نہ کرے۔ دوسری: جب بچے کو صرف کام نہیں، بلکہ بڑوں کے جذبات کا انتظام بھی سونپ دیا جائے تب وہ قدیم مددگار ایک ایسا مداری بن جاتا ہے جسے کبھی دل بہلانے سے چھٹی نہیں ملتی۔

دیکھیں بہت سی بڑی بیٹیاں اِسی آگ سے ایک نایاب طاقت لے کر نکلتی ہیں تو فرق کس بات سے پڑتا ہے؟ تحقیق ایک ہی جواب کی طرف اشارہ کرتی ہے: کیا وہ بوجھ منصفانہ تھا اور دیکھا گیا، یا غیرمنصفانہ تھا اور اَن دیکھا کیا گیا۔ ہاں بس یہ مضمون اسی ان دیکھے بوجھ کا نوحہ ہے۔ جس بچی کا کام نظر آیا، سراہا گیا اور بانٹا گیا، وہ بچ جاتی ہے۔ جس کا کام "فرض" سمجھ کر خاموشی سے لے لیا گیا، وہی اندر سے خالی ہوتی ہے اور یہ خالی پن بعد میں کئی روپ بدلتا ہے۔ کبھی ڈپریشن بن کر آتا ہے تو کبھی اینگزائٹی کا روپ دھار کر اور سب سے گہرا زخم یہ کہ ایک دن جب کوئی پوچھ بیٹھے "تم خود کیا چاہتی ہو؟"، تو یہ سوال ہی اجنبی لگتا ہے۔ کیونکہ جو زندگی بھر صرف دیتا رہا، وہ یہ بھول جاتا ہے کہ خود بھی ایک برتن تھا، جسے بھرنے کی ضرورت تھی۔

بڑی بیٹی پر یہ بوجھ ہماری ثقافت کا اضافہ ہے، شریعت کا حکم نہیں۔ اِن دونوں کا فرق پہچان لینا، یہی پہلی آزادی ہے۔ اِس قید سے نکلنا ایک دن کا کام نہیں، یہ ایک سفر ہے۔ مگر اِس پنجرے کی چابی بہت چھوٹی ہے صرف ایک لمحہ۔ اگلی بار جب کوئی کہے "آپا، یہ کام کر دیں؟"، فوراً "ہاں" مت کہنا۔ کہنا: "میں سوچ کر بتاؤں گی"۔ اِس چھوٹے سے وقفے میں، شاید زندگی میں پہلی بار، تم اپنے آپ سے ایک سوال پوچھو گی: "کیا میں یہ کرنا چاہتی ہوں، یا یہ صرف عادت ہے؟" اِسی خالی جگہ میں، واقعے اور تمہارے ردِعمل کے درمیان، تمہاری آزادی رکھی ہے۔ شروع میں "نہ" نہیں آئے گی، صرف "سوچ کر بتاؤں گی" یہ بات آئے گی۔ یہ کافی ہے۔ "نہ" خود آہستہ آہستہ سیکھ کا حصہ بن جائے گی اور جب تم اپنے پچیس سالہ بھائی کے بچپن کی وہ ذمہ داری اپنے ذہن سے اُتارو گی جو اب پرانی ہو چکی، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ وہ اب بالغ ہے، اپنی زندگی کا خود ذمہ دار اور تم اُس کی بہن ہو، ماں نہیں، تو ایک گناہ سا محسوس ہوگا۔ اُس احساس سے دھوکا مت کھانا۔ وہ ضمیر نہیں، وہ پنجرے کی سلاخوں کا ہلنا ہے۔ پرانی قید ہمیشہ آزادی کو پہلے پہل "ظلم" کہہ کر ڈراتی ہے اور کبھی کبھی یہ کام اکیلے، یا گھر والوں کے ساتھ نہیں ہو پاتا، کیونکہ خاندان خود اِس کہانی کا کردار ہے اور وہ تمہیں اُسی پرانے روپ میں دیکھنے کا عادی ہے۔ تب ایک باہر کا کان چاہیے، ایک ایسی جگہ جہاں تم سے کوئی کام نہ مانگا جائے، صرف تم سنی جاؤ۔ یہی تھیراپی ہے، بڑی بیٹی کی پہلی مہلت۔ پہلی بار، جہاں تم "باجی" نہیں ہو۔

اگر یہ سطریں پڑھ کر تمہارے اندر ایک عجیب سا درد جاگا ہے، ایسا درد جس کا آج تک کوئی نام نہ تھا، تو اِس پہچان کو سنبھال لینا۔ کیونکہ جس درد کا نام مل جائے، اُس سے لڑا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی کمی نہیں تھی۔ یہ ایک کھویا ہوا بچپن تھا، جسے کسی نے دیکھا نہ تھا۔ تم نے زندگی بھر سب کو سنبھالا۔ اب اُسی گھر سے، جس کا تم سہارا ہو، یہ پوچھنے کا حق بھی تمہارا ہے: میرا سہارا کون ہے؟ جس نے ساری عمر سب کو سنبھالا، اُسے بھی کوئی سنبھالنے والا چاہیے۔

Check Also

Khushiyan Aap Ke Andar Hain

By Ayesha Batool