Sunday, 05 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Khushiyan Aap Ke Andar Hain

Khushiyan Aap Ke Andar Hain

خوشیاں آپ کے اندر ہیں

انسان کی ایک عجیب فطرت ہے کہ وہ خوشی کی تلاش میں پوری دنیا کا سفر کر لیتا ہے، مگر اکثر اپنے ہی دل میں موجود خوشیوں کو محسوس نہیں کر پاتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ خوشی صرف بڑی کامیابی، زیادہ دولت، اعلیٰ عہدے یا دوسروں جیسی زندگی حاصل کرنے میں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کا آغاز انسان کے اپنے اندر سے ہوتا ہے۔

ہم اپنی زندگی میں بہت سی نعمتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن ان پر نظر ڈالنے کے بجائے ہمیشہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں۔ یہی سوچ ہمیں بے سکون، ناشکرا اور پریشان کر دیتی ہے۔ اگر ہم ذرا ٹھہر کر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ صحت، اہلِ خانہ، ایک سچا دوست، والدین کی دعائیں، بچوں کی مسکراہٹ، سکون کی نیند، ایک وقت کی روٹی اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ایسی خوشیاں ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

دوسروں کی زندگیوں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنا بھی ہماری خوشیوں کو چھین لیتا ہے۔ آج سوشل میڈیا نے یہ احساس مزید بڑھا دیا ہے کہ دوسروں کی زندگی ہم سے بہتر ہے، حالانکہ ہر انسان اپنی اپنی آزمائشوں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی توجہ دوسروں کے پاس موجود چیزوں کے بجائے اپنی نعمتوں پر رکھیں تو دل میں شکر پیدا ہوگا اور شکر سے ہی حقیقی خوشی جنم لیتی ہے۔

اسلام بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ خوشی کا تعلق صرف دنیاوی چیزوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے اور ان پر شکر ادا کرنے سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا"۔ (سورۂ ابراہیم: 7)

رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں سکھایا کہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھو، تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تمہیں حقیر محسوس نہ ہوں۔ یہ تعلیم انسان کے دل میں قناعت، شکر اور اطمینان پیدا کرتی ہے۔

خوش رہنے کے لیے ہمیشہ بڑی کامیابیوں کا انتظار کرنا ضروری نہیں۔ کسی کی مدد کر دینا، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آنا، والدین کے ساتھ چند خوشگوار لمحے گزارنا، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھام لینا، یا اپنے رب کے سامنے دو رکعت نماز ادا کر لینا بھی ایسی خوشیاں ہیں جو دل کو حقیقی سکون عطا کرتی ہیں۔

یاد رکھیں! خوشیاں بازاروں میں نہیں ملتیں، نہ ہی دوسروں کی زندگیوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ خوشیاں ہمارے اپنے دل، ہمارے رویے، ہماری سوچ اور ہمارے رب سے تعلق میں موجود ہوتی ہیں۔ جس دن ہم اپنی نعمتوں کو پہچاننا، ان پر شکر ادا کرنا اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قدر کرنا سیکھ لیں گے، اسی دن ہماری زندگی میں سکون، اطمینان اور حقیقی مسرت آ جائے گی۔

اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے والا بنا، ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرما، ہمارے دلوں سے ناشکری، بے صبری اور دوسروں سے بے جا موازنہ کرنے کی عادت دور فرما۔ ہمیں ہر حال میں تیری رضا پر راضی رہنے، چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں بڑی خوشیاں تلاش کرنے اور دوسروں کی زندگیوں میں بھی خوشیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو سکون، اطمینان اور اپنے ذکر کی مٹھاس سے بھر دے۔

Check Also

Muhkamat o Mutshabhat

By Muhammad Hanif