Jab Imarat Nahi, Etemad Girta Hai
جب عمارت نہیں، اعتماد گرتا ہے
کسی بھی معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کا احساسِ تحفظ ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو اسکول یا اکیڈمی بھیجتے وقت اس خوف میں مبتلا ہوں کہ وہ شام کو خیریت سے واپس آئیں گے یا نہیں، تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
چودہ معصوم بچوں کی جانیں ایک خستہ حال عمارت کے ملبے تلے دب گئیں، مگر حقیقت میں اس ملبے کے نیچے ہماری منصوبہ بندی، نگرانی، قانون پر عمل درآمد اور جواب دہی کا پورا نظام بھی دفن ہوگیا۔ یہ سانحہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غفلت کبھی اچانک نہیں ہوتی، بلکہ برسوں تک نظر انداز کی گئی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ایک دن بڑے المیے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہر حادثے کے بعد ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ حکام جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہیں، تحقیقات کا حکم دیا جاتا ہے، معاوضے کا اعلان ہوتا ہے اور چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ نہ قوانین بدلتے ہیں، نہ نگرانی کا نظام مضبوط ہوتا ہے اور نہ ہی ایسا احتساب ہوتا ہے جو آئندہ کسی کو غفلت کرنے سے روکے۔
ریاست کی ذمہ داری صرف ترقیاتی منصوبے بنانا نہیں بلکہ ان منصوبوں اور عمارتوں کو محفوظ بنانا بھی ہے۔ اگر کسی شہر میں ایک تعلیمی ادارہ غیر محفوظ عمارت میں چل رہا تھا تو یہ صرف اس ادارے کی نہیں بلکہ متعلقہ سرکاری محکموں کی بھی ناکامی ہے۔ قانون صرف کتابوں میں موجود ہونے سے فائدہ نہیں دیتا، اس پر عمل درآمد ہی شہریوں کی جان بچاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم سانحات کو بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ جب تک عوام مستقل جواب دہی کا مطالبہ نہیں کریں گے، تب تک ہر نیا حادثہ صرف خبروں کی ایک سرخی بن کر رہ جائے گا۔ زندہ قومیں اپنے دکھوں سے سبق سیکھتی ہیں، جبکہ بے حس معاشرے ہر بار وہی غلطیاں دہراتے ہیں۔
ان معصوم بچوں کی یاد کا اصل حق صرف تعزیت نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں کوئی والدین اپنے بچے کو تعلیم کے لیے بھیجتے ہوئے خوف محسوس نہ کریں۔ اگر اس حادثے کے بعد بھی قوانین سخت نہ ہوئے، عمارتوں کی جانچ نہ ہوئی اور غفلت کرنے والوں کو سزا نہ ملی تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگلا سانحہ بھی صرف وقت کا انتظار کر رہا ہے۔
چودہ جنازے ہمیں خاموش رہنے کا نہیں، جاگنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ یہ حادثہ کیوں ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ہم اسے آخری حادثہ بنانے کے لیے کچھ کریں گے، یا ایک بار پھر وقت کے ساتھ سب کچھ بھلا دیں گے؟

