Abdullah Hussain Ka Fiction
عبداللہ حسین کا فکشن

عبداللہ حسین کے ناولوں میں تاریخ، ظاہر و باہر (obvious) چیز کے طور پر موجود ہے۔ ان کے ناولوں کو برٹش انڈیا، بٹوارے اور پاکستان کے پہلے چالیس سالوں کی متوازی تاریخ کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ وہ تاریخی دستاویزات، سنین، واقعات اور بیانیوں سے کافی مدد لیتے ہیں۔ کہیں کہیں تاریخی شخصیات کا واضح یا مبہم ذکر بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے اکثر ناولوں کا آغاز، کسی حالیہ واقعے سے کرتے ہیں اور بعد میں ماضی کی طرف پلٹتے ہیں، مگر ان کا ناولاتی بیانیہ خطی (linear) ہوتا ہے، منتشر اور شکستہ (fragmented) نہیں۔
بیانیے کا یہ انداز بھی تاریخ سے ماخوذ ہے۔ تاریخ بھی سیدھے خط میں سفر کرتی ہے۔ بایں ہمہ سوال یہ ہے کہ وہ تاریخ کے کس پہلو یا کس تصور کو اپنے فکشن میں بروے کار لاتے ہیں؟ تاریخ تو خاصا عمومی اور وسیع اصطلاح ہے۔ ماضی میں رونما ہونے، محفوظ ہونے اور بیان ہونے والا ہر واقعہ تاریخ ہے۔ تاریخ مرتب بھی ہوسکتی ہے اور غیر مرتب بھی۔ اس میں شخصی و شاہی تاریخ سے، سماج و افکار وفنون و ثقافت کی تاریخ سب شامل ہے۔ قرة العین حیدر اور انتظار حسین کو بھی تاریخ سے لگاؤ ہے۔ قرة العین حیدر ثقافت و فنون وافکار اور سیاسی تاریخ سے لگاؤ رکھتی ہیں، جب کہ انتظار حسین زیادہ تر اس ثقافتی تاریخ سے دل چسپی رکھتے ہیں جس میں ہجرت وبے دخلی مشترک عنصر ہے۔
ان کے مقابلے میں عبداللہ حسین تاریخ کے ان پہلوؤں کو توجہ دیتے ہیں، جن کے ذریعے "طاقت کی ساخت" (power structure) ظاہر ہوتی ہے۔ اس سے ہمارا دھیان تاریخ کے مارکسی تصور کی طرف جاتا ہے۔ بلاشبہ عبداللہ حسین کا جھکاؤ، اس تصور کی طرف ہے، مگرصرف اس حد تک کہ وہ سماج کو مادی طاقت کی کارگاہ خیال کرتے ہیں۔ وہ ترقی پسند آئیڈیالوجی کو اپنا رہ نما نہیں بناتے جو طبقاتی جدوجہد کے ذریعے، ایک نئے سماج کی تعمیر کو ادب کا مقصود سمجھتی ہے۔
پیش نظر رہے کہ عبداللہ حسین کو طاقت سے نہیں، طاقت کی مجموعی ساخت سے دل چسپی ہے۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں جن خاندانوں (اداس نسلیں میں روشن آغا اور نیاز بیگ کا خاندان، نادار لوگ میں اعجاز اعوان کا خاندان، قید میں کرامت علی چوہان کا خاندان) کی کہانیاں لکھی ہیں، ان کی ساری جدوجہد، طاقت کی حرکیات کے تابع ہے۔
اداس نسلیں کے روشن آغا کے خاندان کی خِلقت ہی، طاقت کی ایک نئی حرکیات کو پہچاننے اور بعد میں اس کا حصہ بننے کے ذریعے ہوئی ہے۔ روشن علی، ضلع روہتک کے کلکٹر میں ایک معمولی اہلکار تھے۔ لیکن وہ طاقت کی نئی حرکیات کو سمجھنے میں معمولی سمجھ بوجھ کے حامل نہیں تھے۔ انھوں نے اٹھارہ سو ستاون کی شورش میں، ایک انگریز کی جان، اپنی جان پر کھیل کر بچائی۔ اس کے بدلے میں اسے ایک بڑی جاگیر ملی۔ اداس نسلیں، دہلی اور پنجاب کی سرحد پر واقع جس روشن پور کے ذکر سے شروع ہوتا ہے، وہ ایک گورے کی جان بچانے کا صلہ ہے۔ روشن آغا کا خاندان، برطانوی حکومت کا وفادار خاندان ہے۔ اس کا بیٹا محمدالدین نواب، جسے اپنے باپ کے مرنے کے بعد، روشن آغا کا لقب ملتا ہے، وہ پہلی عالمی جنگ میں، اپنے گاؤں سے چالیس سے زائد جوان بھرتی کرواتا ہے۔ ان میں سے واحد نوجوان نعیم، جو اپنی مرضی سے جنگ میں شریک ہوتا، بچ کے واپس آتا ہے۔ عبداللہ حسین دکھاتے ہیں کہ استعماری عہد میں ایک نیا طاقتور طبقہ پیدا ہوا۔ اس نے یہ طاقت خود تخلیق نہیں کی، اس نے بس طاقت کی نئی حرکیات کو پہچانا، اس کا ساتھ دیا اور اس میں حصہ وصول کیا۔ اداس نسلیں سے پہلے، نذیر احمدکے ابن الوقت میں، ابن الوقت ٹھیک اسی طریقے سے طاقت حاصل کرتا ہے۔
"نادار لوگ" میں پھر ایک نیا طاقتور طبقہ پیدا ہوا۔ اس کے پاس بھی زمینیں آئیں۔ یہ محنتی اور اختراع پسند طبقہ نہیں تھا۔ یہ طاقت کی نئی حر کیات کو پہچاننے والا طبقہ تھا۔ یعنی اس کے پاس نئے حالات میں دولت اور رتبہ حاصل کرنے کی چالباز ذہانت تھی۔ یہ مہاجرین کا طبقہ تھا، جنھوں نے جھوٹے کلیموں کے ذریعے بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں۔ نادار لوگ میں جہاں گیر اعوان ایک اہم کردار ہے۔ وہ انگریزی دور اور پاکستانی دور کے طاقتور طبقوں کا امتزاج ہے۔ اس کے باپ عالم جہان کو انگریز کی طرف چالیس مربع زمین ملی تھی۔ اس نے جہاں گیر کو چیف کالج میں تعلیم دلوائی۔
اس تعلیم نے اس کے اندر اس ذہانت کو پید اکیا، جو دراصل طاقت کی ساختوں کو پہچاننے اور ان میں سیندھ لگاکر، اپنی طاقت میں اضافہ کرنے میں کام آتی ہے۔ سن پچاس کی دہائی میں، جب ہندوستان نے اپر باری دوآب کا پانی بند کیا تو اس کی زمینیں بنجر ہونے لگیں۔ اس نے فلک شیر ری ہیبلی ٹیشن کمشنر کی مدد سے، کہیں دھونس دھاندلی اور کہیں کاغذات میں رد وبدل کے ذریعے، سکھوں کے چھوڑے ہوئے بڑے رقبوں پر قبضہ کر لیا۔ اس نے بیوروکریسی میں تعلقات پیدا کیے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ ایک بار اعجاز اعوان سے، اس کی ملاقات ہوتی ہے تو اعجاز اس کی اسی ذہانت کو شناخت کرتا ہے۔
"اس کو (اعجاز) پہلی بار علم ہوا تھا کہ دنیا کے بیشتر کاروبار کس اصلیت پر چلتے ہیں اور کون سی ایسی قوتیں ہیں جو زندگیوں پر قدرت حاصل کرکے ان کی سمت متعین کرتی ہیں۔ یہ انسانی ذہانت کا ایک نیا رخ تھا جس سے وہ اب تک نابلد رہاتھا۔ اب اس کے اندر دو مختلف طاقتیں برسرپیکار تھیں، ایک بشیر کی جذباتی ذہانت، جس کا منبع اس کا ماحول تھا۔ دوسری جہاں گیر کی چالاک ذہانت جو انسانی جبلت سے پھوٹتی تھی"۔ (نادار لوگ، صفحہ 174)
عبداللہ حسین، اپنے ناولوں میں ایک طرف سماج اور تاریخ میں موجود طاقت کی ساخت کی عمل آرائی (enactment) دکھاتے ہیں، دوسری طرف یہ باور کراتے ہیں کہ کس طرح طاقت، انسانوں کی داخلیت (subjectivity) کی تعمیر کرتی ہے۔ عبداللہ حسین کے کردار، جب تنہائی میں تجزیہ ذات کے عمل سے گزرتے ہیں تو وہاں اپنی جن کیفیات کو پہچانتے ہیں، ان کی تعمیر، سماج میں موجود طاقت نے کی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عبداللہ حسین کے کچھ کردار طاقت کے حامل اور کچھ اس کا ہدف ہیں؟ اس کا جواب ہم میثل فوکو کے طاقت کے تصور کی مدد سے تلاش کر سکتے ہیں۔
فوکو، طاقت کو کسی ایک جگہ، ایک شخص، ایک عہدے، ایک تصور میں مرتکز نہیں بکھرا ہوا دیکھتے ہیں۔ گویا ان کی نظر میں طاقت، اسم نہیں فعل ہے۔ ایک جاری عمل ہے۔ نیز طاقت یک طرفہ ہے، نہ محض اوپر سے نیچے کی طرف عمل کرتی ہوئی ہے۔ طاقت مسلسل عمل کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، جہاں طاقت ہے، وہاں مزاحمت بھی ہے۔ اس میں یہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کہ نہ تو طاقت کی کوئی ایک صورت ہے، نہ مزاحمت کی کوئی ایک شکل۔ عبداللہ حسین کے ناولوں میں بھی طاقت کی کئی صورتیں موجود ہیں۔ دولت، رتبے، اختیار، رائے کی طاقت کے علاوہ، ایک خاص اسلوب میں اپنی بات کہنے کی طاقت۔ یہ طاقت جہاں بھی عمل کرتی ہے، وہاں اس سے تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
لازمی نہیں کہ وہ تبدیلی، طاقتور کی منشا کے مطابق ہو۔ اداس نسلیں میں اگر روشن آغا کا خاندان، انگریز کی وفاداری کے ذریعے طاقت حاصل کرتا ہے، اورا س میں ایک حصہ وہ محمد بیگ کے خاندان کو دیتا ہے کہ روشن آغا، محمد بیگ کی بیوی کو پسند کرتا ہے، مگر اسی محمد بیگ کا فردنعیم، روشن آغا ہی نہیں، انگریز کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔ اسے جنگ میں شامل ہونے کے عوض، ایک مربع زمین ملتی ہے، لیکن جب وہ آزادی کی تحریک میں حصہ لیتا ہے تو اس سے کراس والی زمین واپس لے لی جاتی ہے۔
نادار لوگ میں اعجاز اور سرفراز دونوں، جہاں گیر ہی نہیں، عدلیہ اور فوج کی طاقت کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ جب سرفراز، کرنل اسلام الدین کو گھونسا مارتے ہوئے، اسے کہتا ہے کہ کوئی اپنے لوگوں کے ساتھ ایسا کرتا ہے تو وہ فوج کے پورے ادارے کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔ اسی طرح نادار لوگ میں کنیز اور نسرین کے نسوانی کردار، حیاتیاتی طاقت کی عمل آرائی اور ردعمل کی مثالیں ہیں۔ ان دونوں کا جنسی استعمال، ایک شے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے جسموں پر اختیار نہیں رکھتیں، مگر وہ اپنے جسموں پر مردانہ طاقت کو اس وقت چیلنج کرتی ہیں، جب وہ دو حریف مردوں سے بہ یک وقت تعلقات قائم کرتی ہیں۔

