Friday, 03 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Masoomiyat Ke Janaze

Masoomiyat Ke Janaze

معصومیت کے جنازے

دو دن سے سوشل میڈیا، اخبارات و چینلز پر گردش کرنے والی فلسطین کی ایک تصویر نے دل کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ عالمی دنیا کے ضمیروں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ایسا منظر کہ جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔ ننھی معصوم بچیاں غزہ کی سرزمین پر آپس میں کھیل کود میں مشغول ہیں اور اپنی گڑیا سے کھیل رہی ہیں اور کھیلتے کھیلتے گویا ان کی گڑیا مر گئی ہے یا زخمی ہوگئی ہے اور وہ معصوم بچیاں اسٹریچر پر اسے رکھ کر اور اپنے سروں پر رکھ کر اسے ہسپتال یا قبرستان لے جانے کی کوششوں میں نظر آ رہی ہیں۔

یہ دلخراش منظر جو کسی بھی انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ معصوم بچے جو بچپن میں اپنے کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں اور خاص طور پر بچیاں جو گڑیوں کے ساتھ کھیلنے میں نظر آتی ہیں، لیکن غزہ کے افسوسناک اور دل ہلا دینے والے واقعات اور مناظر نے ان کے ذہنوں پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ وہ اپنی معصومانہ کھیل کود میں بھی لاشوں اور زخمیوں کو دیکھتے ہیں اور اسی کو اپنا شغل بنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ترقی یافتہ معاشروں میں، یا اگر پسماندہ میں چلا جائے تو دنیا میں بچیاں جب گڑیوں کے ساتھ بچپن میں کھیلتی رہتی ہیں تو وہ ان گڑیوں کو دلہن بنانے کی کوششوں میں نظر آتی ہیں اور اسے خوبصورت بنانے کی کوششیں کرتی ہیں اور اسی سے وہ خوش ہوتی ہیں اور آپس میں کھیلتی کودتی ہیں۔ لیکن یہاں منظر بالکل اس کے برعکس ہے، یعنی اسے مزید خوبصورت بنانے کے لیے، یا گڑیا کو دلہن بنانے کے بجائے اسے ایک میت یا زخمی کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔

یہ سب کچھ ارضِ مقدس فلسطین کے ساتھ برسوں سے جاری مظالم کی ایک دردناک تصویر کشی ہیں، جس نے پوری دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک طرف دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے عالمی دنیا کی طرف سے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے ممکنہ کوششیں کر رہے ہیں، لیکن یہاں صورتِ حال دیکھ کر ان کے اس دعوے کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے۔

جب دنیا میں جنگیں بھی لڑی جاتی ہیں تو اس میں بھی خواتین اور معصوم بچوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، لیکن فلسطین کی سرزمین پر اس اصول کو بھی زمین تلے دفن کر دیا گیا ہے، نہ معصوم جانوں کی پرواہ کی جاتی ہے اور نہ خواتین کی۔

اسی وجہ سے ان معصوم بچوں کے ذہنوں میں وہی جنگ کی صورت حال سامنے آ رہی ہے۔ آنکھیں کھولتے ہی انہوں نے آگ، خون اور دھواں دیکھے ہیں اور اسی ماحول میں جب وہ آپس میں کھیلتے بھی ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہی مناظر ہوتےہیں کہ یا تو کوئی زخمی ہوگا اور یا انتقال ہوگا اور اسی خبر کو وہ اپنے حقیقی تصویر میں بھی دکھا رہی ہیں کہ ان کی معصوم گڑیا کو جس کے ساتھ وہ کھیل رہی ہیں انہیں اسٹریچر پر رکھ کر اور اپنے سروں پر اسٹریچر رکھ کر انہیں منتقل کر رہی ہیں

یہ وہ دن ہوتے ہیں جب بچوں کا ذہن بالکل خالی، صاف اور کھیلنے کا ہوتا ہے، لیکن ابھی سے ان کے ذہنوں میں یہ خطرناک مناظر موجود ہیں جو انتہائی افسوسناک اور لمحہ فکریہ بھی ہیں۔

اس تصویر کو دیکھ کر بھی اگر دنیا کا ضمیر نہیں جاگتا تو اس سے بڑی افسوس کی اور کیا بات ہوگی۔ جو دن بچوں کے کھیلنے کودنے اور مستقبل کے خواب دیکھنے اور کچھ بننے کے ہوتے ہیں، وہ دن انہیں زخمیوں اور مردوں کو یاد دلانے میں گزر رہے ہیں اور ان کے ذہن ایسے ان چیزوں سے بھرے پڑے ہیں کہ انہیں دنیاوی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں، نہ ہی انہیں دنیا کی بچکانہ زندگی کے حوالے سے کوئی چیز معلوم ہے یا اس کی خوبصورتی کا پتا ہے۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ بچیاں اس منظر کو حقیقی منظر کے طور پر پیش کر رہی ہیں اور اسے سمجھ بھی رہی ہیں تو انتہائی دکھ اور درد ہوتا ہے کہ کاش ان بچیوں کی بھی کوئی خوبصورت زندگی ہوتی، یہ بھی اپنے بچپن میں کوئی اچھی خواہشات دیکھتیں اور اسے پورا کرنے کے لیے انہیں مواقع ملتے، جس طرح باقی دنیا میں ہو رہا ہے۔

یہ منظر ہمیں آواز دے کر مجبور کر رہا ہے کہ ہم اس ماحول کے اس ظالمانہ حالات کی تبدیلی کے لیے کوئی حقیقی کردار ادا کر سکیں اور خاص طور پر امن کے دعوے کرنے والے عالمی علمبردار انہیں اس تصویر کو دیکھ کر خود کو اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا۔

آج ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ کی تو ہر کوئی بات کر رہا ہے، ساری دنیا متحرک ہو چکی ہے اور اس کے سدباب کے لیے خاطر خواہ کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن ایسے ماحول میں بھی عشروں سے جاری فلسطین پر مظالم کو سب بھولا جا رہا ہے۔ اس کی کسی کو پرواہ نہیں کہ وہاں کیا ہوا ہے اور کیا ہو رہا ہے، کیا وہاں یہ مظالم بند نہیں ہونے چاہیئں کیا ان معصوم بچوں اور خواتین کو جینے کا حق حاصل نہیں ہے جو ایران یا کسی بھی دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے ہے کیا فلسطین کے مظلوم عوام اس سے زیادہ مظالم کے شکار نہیں ہیں کیوں اس حوالے سے دنیا کی زبانوں کو تالے لگے ہوئے ہیں۔

ساری دنیا یہ ہولناک مناظر دیکھ کر بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جب ایران اور امریکہ معاہدے اور امن کی طرف بات ہو رہی ہے، پیش رفت تو ضروری ہے، تو اس حوالے سے اس معاہدے میں اسرائیل اور امریکہ ان دونوں کو پابند بنایا جائے اور بغیر اس کی ضمانت بھی لی جائے کہ آج کے بعد اگر ایران پر کوئی دہشت گردی نہیں ہوگی، نہ حملہ ہوگا، تو اس کے ساتھ ساتھ فلسطین کی سرزمین پر بھی کسی قسم کی جارحیت اور مظالم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ یہ نکتہ ان معاملات کے لیے انتہائی ناگزیر ہے، اس پر پوری دنیا کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

Check Also

New Castle Se Scotland Tak

By Muhammad Idrees Abbasi