Karachi Ko Alag Shanakht Dene Ki Bazgasht
کراچی کو الگ شناخت دینےکی بازگشت

ایک بار پھر جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ پر شب خون منڈلانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مبینہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر حکومتی یا سرکاری ذرائع سے ایسی کسی ترمیم کی تصدیق نہیں ہوئی، مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ اور ریاستی طرزِ عمل کو سامنے رکھا جائے تو یہ افواہیں اتفاقیہ محسوس نہیں ہوتیں۔ اس ملک میں عمومی طور پر یہی وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی بڑا فیصلہ، آئینی تبدیلی یا غیر معمولی اقدام کرنا مقصود ہو تو اس سے پہلے افواہوں کا بازار گرم کیا جاتا ہے، تاکہ عوامی ردعمل، سیاسی جماعتوں کی پوزیشن اور سماجی سطح پر قبولیت یا مزاحمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مبینہ اٹھائیسویں ترمیم کی افواہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔
گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق اس مجوزہ آئینی ترمیم میں صوبوں کے اختیارات محدود یا ختم کرکے دوبارہ وفاق کے ماتحت لانے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کو کم کرنے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وفاق سے الگ کرکے صوبوں کے سپرد کرنے اور بالخصوص شہری علاقوں، خصوصاً کراچی، کو الگ انتظامی حیثیت دینے جیسے معاملات زیر غور ہیں۔ اگر واقعی ایسا کوئی منصوبہ موجود ہے تو یقیناً یہ پاکستان کی سیاست، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس مرحلہ ہوگا۔
اس پورے معاملے میں سب سے کڑا امتحان پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ہوگا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایوانِ صدر میں براجمان ہیں۔ نہ صرف وہ ملک کے صدر ہیں بلکہ سیاسی طور پر ایک مرتبہ پھر طاقتور پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ریاستی ادارے کسی آئینی یا سیاسی سمت کا تعین کر لیتے ہیں تو پھر سیاسی جماعتوں کو اکثر خوشی یا مجبوری میں اس کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ آصف علی زرداری ویسے بھی "مفاہمت کے بادشاہ" سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مفاہمت اور سیاسی ایڈجسٹمنٹ کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسی کوئی آئینی ترمیم سامنے آتی ہے تو کیا صدرزرداری ایک بار پھر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں گے کیا پیپلز پارٹی اپنی اس بنیادی سیاسی شناخت سے پیچھے ہٹ جائے گی جس کی بنیاد ہی صوبائی خودمختاری، اٹھارویں ترمیم اور وفاقی توازن پر رکھی گئی تھی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی آئینی اور سیاسی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ ترمیم تھی جس نے صوبوں کو اختیارات دیے۔
اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی ایک فلاحی اسکیم نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی اور جذباتی شناخت کا حصہ ہے۔ یہ پروگرام محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے نام سے منسوب ہے۔ اگر وفاق اس پروگرام کو اپنے دائرے سے نکال کر صوبوں کے سپرد کرتا ہے تو یہ بھی پیپلز پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی اور علامتی دھچکا ہوگا۔ اس صورت حال میں آصف علی زرداری کا بطور صدر کردار کیا ہوگا اور پیپلز پارٹی بحیثیت جماعت کیا مؤقف اختیار کرے گی یہ آنے والے دنوں میں سب سے اہم سوال بن سکتا ہے۔
دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی محتاط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سندھ میں جمعیت علماء اسلام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مجوزہ ترمیم صوبوں کے مفاد میں ہوئی تو حمایت کی جائے گی اور اگر صوبائی خودمختاری کے خلاف ہوئی تو مخالفت ہوگی۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ابھی تک کوئی دوٹوک اور حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم گزشتہ روز کراچی پریس کلب کے "میٹ دی پریس" پروگرام میں جب صحافیوں نے ان سے اس مبینہ ترمیم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے یہی کہا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ چیز سامنے نہیں آئی، جب آئے گی تو اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی اہم ہے کہ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے کراچی میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ اور دیگر رہنما شریک تھے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی ملاقات تھی، مگر سیاسی حلقوں میں یہی سمجھا جا رہا ہے کہ اس مبینہ آئینی ترمیم اور سندھ کی صورت حال پر بھی گفتگو ہوئی ہوگی۔ کیونکہ سندھ اس ممکنہ ترمیم سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر کراچی کا معاملہ اس پوری بحث کا سب سے حساس پہلو ہے۔
کراچی، جسے "منی پاکستان" کہا جاتا ہے، پورے ملک کی معیشت کا مرکز ہے۔ بندرگاہیں، صنعتیں، تجارت، بینکنگ اور ٹیکس ریونیو سب کچھ اس شہر کے گرد گھومتا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ مبینہ ترمیم میں کراچی کو الگ انتظامی حیثیت دینے یا اسے کسی خصوصی وفاقی ماڈل کے تحت چلانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناً پیپلز پارٹی اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے لیے یہ ناقابلِ قبول ہوگا، کیونکہ وہ اسے سندھ کی تقسیم یا سندھ کے اختیارات کم کرنے کے مترادف سمجھیں گی۔
تاہم دوسری طرف کراچی کے عوام کی ایک بڑی تعداد شاید اس خبر کو امید کی نظر سے دیکھ رہی ہو۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ آج کراچی بدانتظامی، ٹوٹی سڑکوں، پانی کے بحران، گندگی، ٹریفک کے مسائل، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت کا شکار ہے۔ کروڑوں کی آبادی والے اس شہر میں نہ صاف پانی میسر ہے، نہ بنیادی شہری سہولتیں۔ عوام مہنگے داموں سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں، سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں اور روزمرہ زندگی ایک عذاب بنتی جا رہی ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے کراچی کے بہت سے شہری یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر اس شہر کے مسائل کا مستقل حل کب نکلے گا اور اگر کوئی نیا انتظامی ماڈل اس شہر کو بہتر سہولتیں، صاف نظام اور ترقی دے سکتا ہے تو اس پر غور کیوں نہ کیا جائے
یہ تمام صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر آئین، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور وفاقی توازن کے ایک نئے مباحثے میں داخل ہو رہا ہے۔ ابھی تک کچھ بھی حتمی نہیں، مگر اتنا ضرور واضح ہے کہ اگر واقعی ایسی کوئی آئینی ترمیم لانے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف سیاسی ایوانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک اس بحث کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ سب محض سیاسی افواہیں ہیں، یا واقعی پسِ پردہ کوئی بڑی آئینی تبدیلی تیار کی جا رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا اس سے ملک کو استحکام ملے گا یا ایک نیا سیاسی بحران جنم لے گا آنے والے دن یقیناً اس حوالے سے بہت اہم ثابت ہونے والے ہیں۔

