Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Iran, America Muzakrat: Deadlock Aur Jang Ke Saaye

Iran, America Muzakrat: Deadlock Aur Jang Ke Saaye

ایران، امریکہ مذاکرات: ڈیڈلاک اور جنگ کے سائے

ایران امریکہ جنگ کے حوالے سے اس وقت جو تلاطم برپا ہے، اس کا مرکز اسلام آباد بن چکا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری مذاکرات کا دوسرا سیشن، جس سے پوری دنیا نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اب ایک ایسے خطرناک ڈیڈلاک کا شکار ہوگیا ہے جہاں سے امن کی راہیں مسدود ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ تعطل دو ممالک کی ضد نہیں بلکہ عالمی نظام کے بحران کی عکاسی کرتا ہے جہاں طاقت کا نشہ سفارتی آداب پر غالب آ چاتاہےامریکہ کی دوغلی پالیسی ایک ہاتھ میں ہاتھ، دوسرے میں خنجر۔

​اس تعطل کی سب سے بڑی وجہ ہے جو امریکی صدر کے بیانات میں صاف چھلک رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات ہمیشہ نیک نیتی کے ارادے سے "خیر سگالی" کے ماحول میں جوش و جذبے سے ہوتے ہیں، لیکن واشنگٹن نے ایک عجیب و غریب روش اختیار کر رکھی ہے۔ ایک طرف امریکی نمائندے اسلام آباد کے پرتعیش کمروں میں ایرانی وفد کے ساتھ چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے "امن" کی زبان بولتے ہیں، تو دوسری طرف وائٹ ہاؤس سے صدر کے تندوتیز بیانات بارود کی بو پھیلا دیتے ہیں۔

​امریکی صدر کا یہ کہنا کہ "ہمارے بمبار طیارے تیار ہیں" اور "مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی"، دراصل مذاکرات کی روح کو کچلنے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اسے "زبردستی کی سفارت کاری" کہتے ہیں، جہاں آپ دوسرے فریق کو قائل نہیں کرتے بلکہ اسے خوفزدہ کرکے اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے دوسرے سیشن کا رخ تبدیل ہو رہا ہے اور فضا میں تلخی پھیل رہی ہے۔

​دوسری جانب ایران، جو پہلے ہی معاشی پابندیوں کی چکی میں پس رہا ہے، اس دوسرے سیشن میں مکمل طور پر غیر دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے۔ تہران کی اس خاموش احتجاجی لہر کے پیچھے چند گہرے اسباب چھپے ہیں:

​ ایرانی قیادت کا یہ دیرینہ اصول رہا ہے کہ وہ "دباؤ" میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے ایرانی وفد کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ برابری کی سطح پر بات کرنے کے بجائے "آقاؤں والا لہجہ" اختیار کر رہا ہے، جسے ایران کی انقلابی قیادت کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ دوسری وجہ ایران کے لیے سب سے بڑا مسئلہ "اعتبار" کا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا ضمانت ہے کہ کل کو کوئی نیا امریکی صدر آ کر اس معاہدے کو دوبارہ ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکے گا واشنگٹن اس سوال کا ٹھوس جواب دینے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے ایران مذاکرات کو وقت کا ضیاع سمجھ رہا ہے۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران ہی اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور تیل کی تجارت پر پابندیوں میں نرمی کی جائے، لیکن امریکہ اسے معاہدے کے بعد کی "اجرت" کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس ترجیح کے فرق نے بات چیت کو مشکل بنا دیا ہے۔ امریکہ کا شدید اصرار ہےکہ ایران جوہری تنصیبات سے باز آجائیں اور یہ معاملہ ختم کردے۔ ​

​اس پوری کشمکش میں پاکستان کی پوزیشن ایک ایسے ملاح کی ہے جو طوفان کی لہروں میں گھری کشتی کو ساحل تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے اس بحران میں جس دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے، اس کی مثال عالمی سطح ماضی میں کم ملتی ہے۔ ​پاکستان صرف ایک میزبان ملک نہیں ہے، بلکہ اس نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک "پل" کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے دونوں فریقین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس ڈیڈلاک کا نتیجہ صرف تباہی ہے۔

پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ امن محض ایک سفارتی ترجیح نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ایران پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بدامنی، پناہ گزینوں کی آمد اور توانائی کے بحران کا باعث بنے گا۔ اس لیے پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ امریکی صدر کے لہجے کو نرم کرایا جائے اور ایران کو دوبارہ میز پر لایا جائے۔ پاکستان اس معاملے میں تنہا نہیں بلکہ وہ بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ ایک ایسا علاقائی بلاک بنایا جا سکے جو امریکہ کو یکطرفہ فوجی کارروائی سے روک سکے۔

​اسلام آباد مذاکرات کا یہ ڈیڈلاک دراصل ایک خاموش وارننگ ہے۔ اگر آنے والے چند دنوں میں امریکی قیادت نے اپنی "دھمکی آمیز" پالیسی کو تبدیل نہ کیا اور ایران کو ایک معزز فریق کے طور پر تسلیم نہ کیا، تو سفارت کاری کا یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے اپنی بساط سے بڑھ کر امن کی شمع جلانے کی کوشش کی ہے، لیکن اب یہ ان دونوں بڑے کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ میں "امن کے معمار" بننا چاہتے ہیں یا "تباہی کے ذمہ دار"۔

​یاد رہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن انہیں ختم کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا۔ اسلام آباد کی یہ میز آج بھی فریقین کا انتظار کر رہی ہے، لیکن کیا ضمیر کی آواز انا کے شور میں سنائی دے گی یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

Check Also

Auto Policy 2030

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi